استعارہ: کائنات سے عشق اور خود پرستی کی نفی
استعارے کا استعمال محض ایک ادبی حربہ نہیں، بلکہ یہ خود پرستی کے خول سے نکل کر کائنات کی رنگارنگی، تضادات اور وسعتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کا ایک صوفیانہ اور عاشقانہ عمل ہے۔
Added to your favorites
استعارے کا استعمال محض ایک ادبی حربہ نہیں، بلکہ یہ خود پرستی کے خول سے نکل کر کائنات کی رنگارنگی، تضادات اور وسعتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کا ایک صوفیانہ اور عاشقانہ عمل ہے۔
مصوری یا شاعری کے کسی بھی شاہکار سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک 'موزوں فاصلے' کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے بغیر حسن کا حقیقی ادراک ناممکن ہے۔
کوئی بھی فنی تخلیق اپنے قاری یا ناظر کے بغیر ادھوری ہے۔ قاری محض تماشائی نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے محسوسات سے فن پارے کے خالی شگافوں کو بھر کر اسے مکمل کرتا ہے۔
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔
میر تقی میر کے یہاں 'گل' اور 'چمن' کی علامتیں خود رو فطرت کی نہیں بلکہ ابھرتی ہوئی شہری تہذیب اور مغلوں کے نفاست پسند 'پائیں باغ' کی عکاس ہیں۔
پچھلی ایک صدی کے اردو ادب پر اہلِ پنجاب کی گہری چھاپ ثبت ہے، جن کے بغیر اردو شاعری اور نثر کا دامن انتہائی مفلس اور تہی دامن نظر آتا ہے۔
اردو اور پنجابی نے ایک دوسرے کو بیرونی طور پر متاثر نہیں کیا، بلکہ پنجاب کی ایک ہی روح نے اپنے جذباتی اظہار کے لیے پنجابی اور فکری اظہار کے لیے اردو کا انتخاب کیا ہے۔
اردو رسم الخط خالصتاً ہندوستانی صوتیات کے تابع ہے۔ اس میں ہندی کی ہکار اور معکوسی آوازوں کے لیے سولہ علامتوں کا اضافہ اسے عربی اور فارسی سے ممتاز اور دیسی بناتا ہے۔
انتظار حسین نے مغربی افسانے کی ہیئت کو مسترد کرتے ہوئے اردو فکشن کو داستان، حکایت اور کتھا کے مشرقی اسلوب سے روشناس کرایا، جس سے کہانی میں سننے سنانے کا لطف دوبارہ پیدا ہوا۔
آرٹ کا مقصد سستی جذباتیت یا شہوت ابھارنا نہیں بلکہ جذبات کا کتھارسس کر کے انسان کو توازن، سکون اور جمالیاتی تحیر عطا کرنا ہے۔
انتظار حسین نے اپنے دوسرے دور میں انسان کے روحانی زوال، ہوس اور جبلی دباؤ کو تمثیلوں اور دیومالائی علامتوں کے ذریعے پیش کیا، جہاں انسان بندر، کتے یا مکھی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اپنے آخری دور میں انتظار حسین نے بودھ جاتکوں، ہندو دیومالا اور سامی روایات کو ملا کر بقائے انسانی اور کائناتی سچائیوں کو ایک نئی آفاقی جہت عطا کی۔
مرثیہ اور ڈراما بظاہر دو الگ اصناف ہیں، لیکن گہرے مطالعے سے ان کے درمیان مکالمہ، تصادم اور کشمکش جیسی حیرت انگیز تکنیکی مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔
آل احمد سرور کے مطابق اردو ایک خالص ہند آریائی زبان ہے جس کی بنیاد کھڑی بولی پر ہے، اور اسے محض عربی یا فارسی کا ضمیمہ سمجھنا اس کی لسانی شناخت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
بے پناہ مقبولیت، محبت میں ناکامی اور معاشی بدحالی نے مجاز کو شراب نوشی کی طرف دھکیل دیا، مگر ان تمام تلخیوں کے باوجود ان کی وضع داری اور خلوص میں کبھی کمی نہیں آئی۔
منٹو نے اردو افسانے میں ایک نئی راہ متعین کی اور قاری کو چونکا کر معاشرے کی مردہ ضمیری کو جھنجھوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔
مائیکل اینجلو، روڈِن اور ایپسٹائن جیسے عظیم مجسمہ سازوں نے برہنگی کو انسانی جذبات کی شدت، روحانیت اور ارتقائی کشمکش کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مجاز کا رشتہ انتہائی گہرا تھا، اور ان کی نظم 'نذرِ علی گڑھ' اس تعلیمی و تہذیبی ادارے کی عظمت کا لافانی ترانہ بن گئی۔
عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں متوسط مسلم گھرانوں کی جنسی اور نفسیاتی گھٹن کو بے باکی سے پیش کیا اور فرسودہ روایات کے بوسیدہ نظام کو بے نقاب کیا۔
ترقی پسند تحریک محض ایک ادبی رجحان نہیں بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور فطرت کی رنگینیوں کو ادب کا حصہ بنانے کا ایک شعوری احتجاج تھی۔
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates