aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",fiDg"
فدوی لاہوری
1729 - 1780
شاعر
راہی فدائی
born.1949
نوید فدا ستی
born.1982
احمد حسن فدا
مرزا محمد علی فدوی
died.1790
شاد فدائی دہلوی
born.1925
فدا کڑوی
ادارۂ فروغ اردو، لاہور
ناشر
فدا علی خاں
مصنف
اظہر فدائی دہلوی
born.1930
فداء المصطفیٰ فدوی
born.1952
الحاج فدا حسین
جان بی ۔ فرتھ اسکوائر
مرزا فدا علی خنجر لکھنوی
فدائی دکنی
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو سب کی جانبلوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیاخود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا
figfig
اَنْجِیر
fig leaffig leaf
فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر
محمد تقی امینی
اسلامیات
فقہ القرآن
عمر احمد عثمانی
فقہ عمر
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
تاریخ افغانستان و سندھ
سید فدا حسین
عالمی تاریخ
تاریخ مجھے بری کردیگی
فیڈل کاسٹرو
عالمی
شرح الفقہ الاکبر
سید محمد حسینی
چشتیہ
احتشام حسین
سوانح حیات
اسلامی فقہ
مجیب اللہ ندوی
تاریخ فقہ اسلامی
عبد السلام ندوی
اصول فقہ اسلام
سرعبدالرحیم
قواعد اردو
زبان
تاریخ ابوالفدا
ابوالفدا اسمٰعیل
تاریخ
تعلیم الایمان
ابو حنیفہ
سرچشمۂ قرآن
ابوالفدا محمد عبدالقادر
دیگر
بے وفائی پہ تیری جی ہے فداقہر ہوتا جو باوفا ہوتا
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلےعاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
ان اسیروں کے نامجن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہرجیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میںجل جل کے انجم نما ہوگئے ہیںآنے والے دنوں کے سفیروں کے ناموہ جو خوشبوئے گل کی طرحاپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں
رہنماؤں کی اداؤں پہ فدا ہے دنیااس بہکتی ہوئی دنیا کو سنبھالو یارو
میرا کلیجہ پھٹتا ہے اے دل ربا نہ روزہرا ہزار جان سے تجھ پہ فدا نہ روسر میں نہ درد ہو کہیں اے مہ لقا نہ روبس بس نہ رو حسین برائے خدا نہ رومیری طرف تو دیکھو کہ بیتاب ہوتی ہوںچادر سے منہ کو ڈھانپ کے لو میں بھی روتی ہوں
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسليم جاں ہے زندگیتو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپجاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگیاپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہےسر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگیزندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شير و تيشہ و سنگ گراں ہے زندگیبندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آباور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگیآشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سےگرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگیقلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباباس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگیخام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار توپختہ ہو جائے تو ہے شمشير بے زنہار توہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرےخاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے صفیررات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہےسلطنت
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
دل محبت سے بھر گیا بیخودؔاب کسی پر فدا نہیں ہوتا
دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدمسر کوئے دل فگاراں شب آرزو کا عالم
او دیس سے آنے والے بتامرجانا تھا جس کا نام بتاوہ غنچہ دہن کس حال میں ہےجس پر تھے فدا طفلان وطنوہ جان وطن کس حال میں ہےوہ سرو چمن وہ رشک سمنوہ سیم بدن کس حال میں ہےاو دیس سے آنے والے بتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books