aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".aidh"
ادا جعفری
1924 - 2015
شاعر
سراج اورنگ آبادی
1712 - 1764
بیخود دہلوی
1863 - 1955
مظفر وارثی
1933 - 2011
جمیل الدین عالی
1925 - 2015
آہ سنبھلی
مصنف
عیش دہلوی
1779 - 1874
اشونی متل عیش
born.1992
معین نظامی
born.1965
حکیم آغا جان عیش
بیگم سلطانہ ذاکر ادا
born.1929
فرید جاوید
1927 - 1977
سلطان اورنگ زیب عالمیر
1618 - 1658
صفدر آہ سیتاپوری
1903 - 1980
عیش برنی
born.1936
ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیںہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوںپھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں
پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہےپھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں
اوڑھ کر کفن پڑے مزار دیکھتے رہےکارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے
اے چرخ بے مدار یہ کیسا ستم ہے آہشمشیر شمر اور محمد کی بوسہ گاہ
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ओढ़اوڑھ
ہندی
ڈھاکنا، لپیٹنا
आगآگ
سنسکرت
نار، آتش، شعلہ، عناصر اربعہ میں سے ایک عنصر کا نام
उड़ीاُڑی
اُڑنا سے حالیۂ تمام اور ترکیبات میں مستعمل
उड़ेاُڑے
اُڑ جائے
ادھ کھلا دریچہ
شہزاد احمد
غزل
کنہیا لال کپور نمبر: شمارہ نمبر-012
احمد جمال پاشا
اودھ پنچ
شمارہ نمبر۔018
منشی سجاد حسین
شمارہ نمبر 029
شمارہ نمبر 019
شمارہ نمبر 014
شمارہ نمبر-019
حکیم محمد ممتاز حسین
May 1923اودھ پنچ
شمارہ نمبر ـ 009
شمارہ نمبر 004
شمارہ نمبر 035
شمارہ نمبر ـ 010
شمارہ نمبر۔001
شمارہ نمبر 001
شمارہ نمبر۔045
شمارہ نمبر۔040
رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھیسو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی
اندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانیمگر کچھ یاد ماضی اوڑھ کے سوئے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاںیہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسااوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے
تھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئےہم اپنی قبر مقرر میں جا کے لیٹ گئے
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعراس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں
پہلے حقیقتوں ہی سے مطلب تھا اور ابایک آدھ بات فرض بھی کرنے لگا ہوں میں
دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔآہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کواب ضرورت نہیں رضائی کی
یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاںکاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books