aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".rizl"
شاہ رضا حسین
مصنف
غلام مصطفیٰ رضوی
مدیر
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھیجس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
کھو گیا آج کہاں رزق کا دینے والاکوئی روٹی جو کھڑا مانگ رہا ہے مجھ سے
تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہمگھروں سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں
مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔
آرزؤں اور امیدوں کے ناکام ہونے کے بعد ان کی حسرت ہی بچتی ہے ۔ حسرت دکھ ، مایوسی ،افسوس اور احساس محرومی سے ملی جلی ایک کیفیت ہے اور ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں حسرت کی بیشتر صورتیں عشق میں ناکامی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس حسرت بھرے بیانیے کی اداسی کو محسوس کیجئے ۔
रिज़ाرِضا
रिज़्क़رِزْق
عربی
کھانے پینے کی چیز، خوراک، روزی، اناج
रिज़ा'رِضاع
ماں دائی کا بچّے کو دودھ بلانے کا عمل، نیز وہ مدت یا عمر، جس میں بچہ ماں یا دائی کا دودھ پیتا ہے، رضاعت
rillrill
چھوٹی آب جو
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
محمد ایوب خاں
خودنوشت
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
سیاسی
محمد ایوب خان
محقق غالب
محمد عارف خاں، ثاقب صدیقی
مقالات/مضامین
تناظر: کالی داس گپتا رضانمبر
بلراج ورما
تناظر
رزق ہوا
فیاض تحسین
احسن الشہادتین
اسلامیات
محقق غالب کالی داس گپتا رضا
کالی داس گپتا رضا
اعجاز سیمابی
غالبیات اور گپتا رِضا
شین کاف نظام
پیشہ رزق حلال اور ارباب علم و کمال
عبد القیوم حقانی
دانشور گپتا رِضا
ایک اور کالی داس کالی داس گپتا رضا
نذیر فتح پوری
مضامين و خاكه
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
تلاش رزق میں دریا کے پنچھیوں کی طرحتمام عمر مجھے ڈوبنا ابھرنا ہے
میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھارزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
معاش بے دلاں پوچھو نہ یارونمو پاتے رہے رزق نمو بن
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہوجنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوامنقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ
ہر نفس تم یقین منعم سےرزق اپنے گمان کا مانگو
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھرزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books