aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bachuu.n"
حضرت سلطان باہو
مصنف
تاج الفحول اکیڈمی، بدایوں
ناشر
نسیم سحر، بدایوں
حضرت سلطان باھو اکیڈمی، لاہور
بابو راؤ باگل
1930 - 2008
گوربچن سنگھ طالب
بچنت کور
باہو ولد بایزید سروری قادری
سخی سلطان باھو
باچھل انبالوی ادیب
غلام محمد خان فرحت
خرم پبلیکیشنز، بدایوں
مقامی بزم ابر، بدایوں
مطبع نصیری، بدایوں
عثمانی پریس، بدایوں
مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوںیہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیںبجھے ہوئے سے چراغ جیسےجو پھر سے چلنے کے منتظر ہوںوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںجنہوں نے پیماں کیے تھے مجھ سےرفاقتوں کے محبتوں کےکہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہ وفا کےجہاں بھی جائے گا ہم بھی آئیں گے ساتھ تیرےبنیں گے راتوں میں چاندنی ہم تو دن میں سائے بکھیر دیں گےوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںوہ اپنے پیماں رفاقتوں کے محبتوں کےشکست کر کےنہ جانے اب کس کی رہ گزر کا منارۂ روشنی ہوئے ہیںمگر مسافر کو کیا خبر ہےوہ چاند چہرہ تو بجھ گیا ہےستارہ آنکھیں تو سو گئی ہیںوہ زلفیں بے سایہ ہو گئی ہیںوہ روشنی اور وہ سائے مری عطا تھےسو میری راہوں میں آج بھی ہیںکہ میں مسافر رہ وفا کاوہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیںوہ مہرباں سایہ دار زلفیںہزاروں چہروں ہزاروں آنکھوںہزاروں زلفوں کا ایک سیلاب تند لے کرمرے تعاقب میں آ رہے ہیںہر ایک چہرہ ہے چاند چہرہہیں ساری آنکھیں ستارہ آنکھیںتمام ہیںمہرباں سایہ دار زلفیںمیں کس کو چاہوں میں کس کو چوموںمیں کس کے سائے میں بیٹھ جاؤںبچوں کہ طوفاں میں ڈوب جاؤںنہ میرا چہرہ نہ میری آنکھیںمرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں
میں شر کی شرارت سے تو ہشیار ہوں لیکناللہ بچائے تو بچوں خیر کے شر سے
دہن گرگ سے جیتا جو بچوں صحرا میںذبح کرنے کے لیے مول لے قصاب مجھے
وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںکوئی شک اس کی فضیلت میں نہیںاس کا رتبہ ہے فرشتوں سے فزوںوہ بشر کچھ بھی نہ آتا ہو جسےلیکن اس کو شوق ہو عالم بنوںاپنی بے علمی کا اس کو علم ہےنا مناسب ہے اسے جاہل گنوںوہ بشر جو ہو نرا احمق مگرخود سمجھتا ہو کہ دانش مند ہوںموت ہے اس کی حماقت کا علاجوہ رہے گا عمر بھر خوار و زبوںہر بشر اے فیضؔ یہ کوشش کرےجس طرح بھی ہو جہالت سے بچوں
فن کارکی سب سے بڑی قوت اس کا تخیل ہوتا ہے ۔ وہ اسی کے سہارے نئے جہانوں کی سیرکرتا ہے اورگزرے ہوئے وقت کی کیفیتوں کو پوری شدت کے ساتھ تخلیقی بساط پر پھیلاتا ہے ۔ بچپن ، اس کےجذبات واحساسات اوراس کی معصومیت کا جوایک سچا اظہار شاعری میں نظرآتا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے ۔ ہم بچپن اوراس کی کیفیتوں کومحسوس کرسکتے ہیں لیکن زبان نہیں دے سکتے ، بچپن کو موضوع بنانے والی یہ شاعری ہمارے اسی عجز کا بدل ہے ۔
बचाँبَچاں
بَچا (= بچّہ) کی جمع.
बाछेंباچھیں
باچھ (۱) (رک) کی جمع اور ترکیبات میں مستعمل.
बचनبچن
سنسکرت, ہندی
قول ، بات ، کلام ، بول .
बाछें आनाباچھیں آنا
باچھیں پکنا، ہون٘ٹوں کے کونوں کا پھٹنا یا پک جانا، باچھوں میں ننھی ننھی پھنسیاں نکلنا، باچھیں پھٹنا محاورہ
بچوں کے فیض احمد فیض
طہٰ نسیم
شخصیت
بچوں کی کہانیاں
عبدالواحد سندھی
افسانہ
طفلی ترانے
سید شکیل دسنوی
نظم
بچپن لڑکپن جوانی
لیو ٹالسٹائی
سوانحی
بچوں کے لیے یک بابی ڈرامے
بانو سرتاج
ڈراما
بچوں کے اقبال
اطہر پرویز
بچوں کی دنیا
تلوک چند محروم
بچوں کے لئے اردو کا آسان قاعدہ
اظہار احمد تھانوی
سیکھنے کے وسائل/ قواعد
بچوں کےحکیم محمد سعید
حکیم محمد سعید دہلوی
بچوں کی لغت
خلیق احمد صدیقی
بہترین اردو لطیفے
نامعلوم مصنف
لطیفے
گورکی کی آپ بیتی (بچپن)
میکسم گورکی
خودنوشت
بچوں کے لیے اچھے قصے
ارشد حسین ندوی
بچوں کے شاعر اسماعیل میرٹھی
نصرت شمسی
شرح
بچوں کے لئے اخلاقی حکایات
میمونہ سلطان شاہ بانو
اخلاقی کہانی
جو چاہتا ہے کہ پستی میں گرتے گرتے بچوںنظر کا اپنی عصا دے کہ میں سنبھل جاؤں
یا الٰہی مجھے توفیق عطا کر ایسیہر برائی سے بچوں عمر بسر ہونے تک
برف آلودہ ہیں آنکھیںسمت کی پہچان مشکل ہو گئیکس طرف ہیں راحتوں کے آبشارکن علاقوں میں شجر آباد ہیںکون سا رستہ ہے لرزاںآندھیوں کے شور سےہیں کہاں حسن صداقت کی سہانی وادیاںسلسلہ در سلسلہ کذب و ریا کی گھاٹیاںکس طرف ہے آنے والی ساعتوں کا کوہسارکتنے لمبے ہیں یہاں مار نشیبکس قدر اونچی ہے دیوار فرازمیں کنار عمر سے پھسلوں تو شاید ہی بچوںآ رہی ہےلمحہ لمحہبوئے برف
ساقی شتاب جام صبوحی پلا مجھےکیا جانئے بچوں نہ بچوں میں خمار تک
لاکھ چاہا کہ ضرب غم سے بچوںکوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی
چھپا کے رکھوں کہاں تیرے التفات کو میںبچوں تو کیسے بچوں اتنی بے دھیانیوں سے
میں شام ہوتے ہی سورج کے ساتھ ڈوب نہ جاؤںبچوں میں کیسے کہ یہ خوف میرے اندر ہے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books