aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dushyant"
دشینت کمار
1933 - 1975
شاعر
رمن لال دسنت لال ڈیسائی
مصنف
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتاایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو
میں جسے اوڑھتا بچھاتا ہوںوہ غزل آپ کو سناتا ہوں
ہو گئی ہے پیر پربت سی پگھلنی چاہئےاس ہمالے سے کوئی گنگا نکلنی چاہئے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہیہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے
وہ آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہےماتھے پہ اس کے چوٹ کا گہرا نشان ہے
ہم عام طور پر دشمن سے دشمنی کے جذبے سے ہی وابستہ ہوتے ہیں لیکن شاعری میں بات اس سے بہت آگے کی ہے ۔ ایک تخلیق کار دشمن اور دشمنی کو کس طور پر جیتا ہے ، اس کا دشمن اس کیلئے کس قسم کے دکھ اور کس قسم کی سہولتیں پیدا کرتا ہے اس کا ایک دلچسپ بیان ہمارا یہ شعری انتخاب ہے ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور اپنے دشمنوں سے اپنے رشتوں پر از سرنو غور کیجئے ۔
دوستی کی طرح دشمنی بھی ایک بہت بنیادی انسانی جذبہ ہے ۔ یہ جذبہ منفی ہی سہی لیکن بعض اوقات اس سے بچ نکلنا اور اس سے چھٹکارا پانا ناممکن سا ہوتا ہے البتہ شاعروں نے اس جذبے میں بھی خوشگواری کے کئے پہلو نکال لئے ہیں ، ان کا اندازہ آپ کو ہمارا یہ انتخاب پڑھ کر ہو گا ۔ اس دشمنی اور دشمن کا ایک خالص رومانی پہلو بھی ہے ۔ اس لحاظ سے معشوق عاشق کا دشمن ہوتا ہے جو تاعمر ایسی چالیں چلتا رہتا ہے جس سے عاشق کو تکلیف پہنچے ، رقیب سے رسم وراہ رکھتا ہے ۔ اس کی دشمنی کی اور زیادہ دلچسپ اور مزے دار صورتوں کو جاننے کیلئے ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
दुष्यंतدشینت
سنسکرت
مہابھارت میں ایک مشہور پروونشی بادشاہ کا ذکر ہے جو ایتی نامی بادشاہ کا بیٹا تھا
منٹو: میرا دشمن
اوپندر ناتھ اشک
سوانح حیات
اقبال دشمنی، ایک مطالعہ
ڈاکٹر ایوب صابر
تحقیق
من کی آنکھیں
ناول
دشمن دار آدمی
احمد داؤد
افسانہ
دوست دشمن
اشتیاق احمد
دشمن
میکسم گورکی
ترجمہ
اردو دشمن تحریک کے سو سال
خواجہ ریاض الدین عطش
زبان
موٹاپا ہماری صحت کا دشمن
ڈاکٹر عابد معز
صحت
دشمن ایمان
آغا حشر کاشمیری
ڈرامہ
زمیندار اور اسکے دشمن کیڑے
کھیتی باڑی
بادشاہ کا دشمن
مختار احمد
جنگ کی نہیں مثال کی قوت
ای۔ روزن تال
فلسفہ
دشمن سفیر
ہمایوں اقبال
دشمنوں کا دوزخ
انجم عرشی
ٹارزن کے دشمن
آصف بختیار سعید
کہاں تو طے تھا چراغاں ہر ایک گھر کے لیےکہاں چراغ میسر نہیں شہر کے لیے
یہ جو شہتیر ہے پلکوں پہ اٹھا لو یارواب کوئی ایسا طریقہ بھی نکالو یارو
تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیںکمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں
زندگی جب عذاب ہوتی ہےعاشقی کامیاب ہوتی ہے
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیںمیری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئے
کہیں پہ دھوپ کی چادر بچھا کے بیٹھ گئےکہیں پہ شام سرہانے لگا کے بیٹھ گئے
ایک عادت سی بن گئی ہے تواور عادت کبھی نہیں جاتی
تو کسی ریل سی گزرتی ہےمیں کسی پل سا تھرتھراتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books