aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "inhisaar"
انتظار حسین
1925 - 2016
مصنف
ابھیسار گیتا شکل
born.1994
شاعر
حامد اللہ افسر
1895 - 1974
انیس الرحمان
born.1950
گلنار آفرین
born.1942
انصار کمبری
افسر الہ آبادی
اعظم کریوی
1898 - 1955
افسر ماہ پوری
1918 - 1995
افسر آذری
انیسہ ہارون شروانیہ
حرمت الااکرام
1928 - 1983
افسر سیمابی احمد نگری
سید نواب افسر لکھنوی
1909 - 1981
انتظار غازی پوری
ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کامگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر
وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیابس اب تمہیں پہ چلو ہم نے انحصار کیا
تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنادیئے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کرہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر
مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنیسو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا
انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔
इंहिसार اِنْحِصار
دارومدار، حصر، موقوف ہونا
عربی
इंहिसार اِنْحِسار
बाल झड़ जाना।
इंहिसारी اِنْحِصاری
انحصار (رک) سے منسوب۔
فارسی
इंकिसार اِنْکِسار
فروتنی، خاکساری، عاجزی
چراغوں کا دھواں
مضامین
جستجو کیا ہے؟
خود نوشت
حیات ز۔ خ۔ ش۔
خواتین کی تحریریں
انتظار حسین کے سترہ افسانے
افسانہ
انتظار حسین : حیات و فن
نعیم انیس
شہر زاد کے نام
انتظار حسین اور ان کے افسانے
گوپی چند نارنگ
افسانہ تنقید
علامتوں کا زوال
شہر افسوس
مجالس النساء
الطاف حسین حالی
قصہ / داستان
جنم کہانیاں
سوانح زیب النساء بیگم
سیماب اکبرآبادی
سوانح حیات
قصہ کہانیاں
چاند گہن
ناول
غزلیات غالب کا عروضی تجزیہ
صغیر النساء بیگم
تنقید
نماز عشق کا ہے انحصار اشکوں تکیہ بے نیاز سجود و قیام ہوتی ہے
مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرحمیں انحصار بزرگوں کے سائے پر کرتا
وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیںانہی پر انحصار زندگی ہے
تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیںمری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا
خواہشیں انتظار اور یقینوسوسے بے شمار اور یقین
ہے مکمل وقت کے سورج پہ میرا انحصارزندگی کے پاؤں سے لپٹا ہوا سایہ ہوں میں
لمحہ لمحہ شمار کون کرےعمر بھر انتظار کون کرے
انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھااعتبار کی حد تک اعتبار کرنا تھا
بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیںوہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیں
ہے اب تو سارے مراسم کا انحصار اس پرکسی کی ذات سے ہم کو مفاد کتنا ہے
اپنا دار و مدار دل پر ہےآپ کا انحصار دنیا پر
ہم کتنے اور کس قسم کے الفاظ پر قابو حاصل کر سکتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمیں زندگی سے ربط کتنا ہے۔...
اپنی پرواز بھول جاؤ گےغیر پر انحصار مت کرنا
مانگو شبیر کی شناسائیغم پہ مت انحصار کر دیکھو
دل کو ذرا قرار تھا وہ بھی نہیں رہاآنکھوں کو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books