aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jurra-e-aakhir-e-mai"
آئین مال پریس، حیدرآباد
ناشر
مکتبۂ مہرو ماہ، لکھنؤ
اداارہ مہر و ماہ، مظفرپور
مطبع اکسیر اعظم، بنارس
ماہ ادب، لاہور
ماہ مبیں
مصنف
ماہ مبین
بزم اردو، مئو
مولوی ماہ عالم
ماہ ناز صبرینا
ماہ کامل پبلیکیشنز، دہلی
ماہ نور پبلیکیشنز، دہلی
ادارہ تحقیقات اسلامی، مئو
اراکین غازی کمیٹی، مئو
مہ نور زمانی بیگم
جرعۂ آخر مے ہے کہ گراں خوابیٔ شبچاند سا ڈوب رہا ہے مرے اندر کوئی
اے آخر شب کے ماہ پارومجھے بھی تم اپنے ساتھ لے لوکہ دشت تنہائی میں غموں کیفصیل پر میں کھڑا ہوں تنہاکھڑا ہوں اور تک رہا ہوں انبے کراں اندھیروں میں جانے کب سےکہ آخر شب کوئی مسافربھٹک کے راہ طرب سے آئےکچھ اس گلی کا پتہ بتائےکہ جس میں ٹوٹے ہیں میری چشم امیدسے آرزؤں کے تارےجنہیں اندھیروں نے ڈس لیا تھاجو روشنی کے پیامبر تھے
منظر آخر شب یاد آیااٹھ کے جانا ترا جب یاد آیا
کہے تو کون کہے سرگذشت آخر شبجنوں ہے سر بہ گریباں خرد ہے مہر بہ لب
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شبہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
چراغ آخر شب
محمود الحسن
شاعری
متاع آخرشب
حفیظ میرٹھی
مجموعہ
متاع آخر شب
محسن زیدی
متاع آخر شب
جرعہ طہور
منشی محمد صالح
وداع آخر
آخر شب
حرف آخر
تیج بہادر
غلام سرور
اسٹیفن زوگ
بزم آخر
منشی فصیح الدین
سفیر آخر شب
فیاض الدین
ہندوستانی تاریخ
رقص مے
خمار بارہ بنکوی
غزل
قریب آخر شب ہے مرے گلے لگ جاؤوداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ
سلگ اٹھیں گی امنگیں دہک اٹھیں گے دماغنئی حیات کے بے رنگ دائروں کی قسماٹھا کے صبح تمنا کے زرفشاں پرچممقام آخر شب سے گزر رہے ہیں آج
کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والوخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا
ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلورکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناندجو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مستسبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاندغالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہبھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواندبٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میںہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماندیوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئےلاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
چرا لیں ہم سے بھی اس خود پرست نے آنکھیںدل حبیب سے آخر اگر گئے ہم بھی
دسترس آساں نہیں کچھ خرمن معنی تلکجو بھی آئے گا وہ لفظوں کے گہر لے جائے گا
دھلا سا چہرہ بھی کچھ ماند پڑ گیا آخرہوئے نہ اشک تری چشم تر کی گرد ہوئے
ہے کون سا جہاں میں وہ آداب میکشیجس سے مرا شعور غزل آشنا نہ ہو
لاکھ توبہ کی مے کشی سے نریشؔدل سے نکلی نہ یاد مے خانہ
کیف کی دریا بہا دیتی ہے ساقی کی نظرکیوں نہ ہم اے مے پرستوں اس کو مے خانہ کہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books