aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muja.ad"
سید صدام گیلانی مراد
born.1991
شاعر
عبد الحق محدث دہلوی
1551 - 1642
مصنف
مراد لکھنوی
سید مراد علی طالع
راشد مراد
محمد اقبال مجددی
موجد بدایونی
مراد مارہروی
مراد علی نور
مراد بارہ بنکوی
born.1933
مراد سعیدی
1923 - 1989
مراد بیگ چغتائی
مولانا شریف احمد مراد
محمد شفیع الدین خان مرادآبادی
پنڈت مراد لال
ناشر
یہ کیوں ہے کہ بے مزد کچھ بھی نہیں مل سکا ہےنہ کل مل سکے گا
مرے کریم عنایت سے تیری کیا نہ ملاگناہ کر کے بھی بے مزد آب و دانہ ملا
یہ مشاطہ بلائے تازہ لائیمجعّد کر دیا سر اس کا سارا
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراددنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
मुराद مُراد
وہ جس کی خواہش یا ارادہ کیا گیا ہو، وہ چیز جس کا ارادہ کیا گیا ہو، مقصود
عربی
मुज़ाद مُضاد
باہم ایک دوسرے کی ضد ، خلاف ۔
मुजा'अद مُجَعَّد
پیچ در پیچ، گھنگریالا، بل کھایا ہوا، جھنڈولے بال، گندھے ہوئے (بال)
मुराद है مُراد ہے
منشا ہے، غرض ہے، مطلب ہے
تذکرۂ اولیائے حیدرآباد
تذکرہ اولیاء حیدرآباد
حضرت مشکل آسان ثانی
استقبال رمضان
خرم مراد
اسلامیات
تحریک اسلامی کے کارکنوں کے باہمی تعلقات
مذہبی تحریکیں
ہندوستان کے شاہان مغلیہ کی بیویاں اور ہندو رانیاں
سوانح حیات
تذکرۂ اولیائے حیدرآباد
تذکرہ
محفل اولیاء
علامہ شاہ مراد سہروردی
طشت مراد
سبط علی صبا
نظام الملک آصف جاہ اول
مراد غالب
منظور احسن عباسی
نواب میر نظام علی خاں
ایات وجدانی
غزل تنقید
سکندر جاہ آصف جاہ ثالث
ہندوستانی تاریخ
رب کا پیغام
اک عبث کا وجود ہے جس سےزندگی کو مراد پانی ہے
ایک جاں سوز و نامراد خلشاس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی
دست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ
کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہمکوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے
یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکنکبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے
منزل ملی مراد ملی مدعا ملاسب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!
میں ایک ہجر بے مراد جھیلتا ہوں رات دنجو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا
برسر ساحل مراد یہاںکوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا
کس منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہماے رہروان خاک بسر پوچھتے چلو
نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیںتم کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی زیست بے اماں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گلیہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد
جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکیکسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا
جو مراد لے کے آئے وہ دعا کہاں سے لاؤں
پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامرادیہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books