aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ugalne"
آغائے دہلوی
مصنف
ایگن لارسن
ولیم پیرسی ایکن
ایگل بکس، ممبئی
ناشر
کھیت سونا اگلنے کو بے چین ہیںوادیاں لہلہانے کو بیتاب ہیں
گفتگو زہر بھری سن لے جو انسانوں کیسانپ بھی زہر اگلنے کا ارادہ نہ کرے
شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیںگھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھبرا کر تمام
تمہیں تو سچ کو اگلنے کی تھی بڑی عادتتمہارے منہ میں ابھی تک زبان باقی ہے
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگییہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگی
توبہ خمریات کی شاعری کا ایک بنیادی لفظ ہے اس کے استعمال سے شاعروں نے نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ توبہ کے موضوع کی خشکی ایک بڑی شوخی میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ شراب پینے والا کردار ناصح کے کہنے پرشراب پینے سے توبہ کرتا ہے لیکن کبھی موسم کی خوشگواری اورکبھی ابلتی ہوئی شراب کی شدت کے سامنے یہ توبہ ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اوران شوخیوں سے لطف لیجئے ۔
उगलना اُگَلْنا
نکلی ہوئی چیز کو منھ کے زریعہ پیٹ سے نکالنا، قے کرنا
ہندی
ऊगलना اُوگَلْنا
رک : اگلنا.
उगालना اُگالْنا
chew the cud, ruminate
खाया उगलना کھایا اُگَلْنا
قے کرنا ، راز کی بات ظاہر کرنا .
قرۃ العین حیدر کے چار ناولٹ
قرۃالعین حیدر
ناول
آغاز زمستاں میں دوبارہ
منیر نیازی
مجموعہ
آغاز سفر
محمد افتخار کھوکھر
افسانہ
آغاز ہستی
برناڈ شا
ڈراما
آغاز اسلام
شبلی نعمانی
تاریخ اسلام
رود کوثر (دور متوسطین)
شیخ محمد اکرام
تاریخ تصوف
اگن برہا کی
عفت موہانی
یوگینی انیگن
الیکساندر پوشکن
آغاز اسلام میں مسلمانوں کا نظام تعلیم
سید محمد سلیم
حکایات اغانی
حکایات
تشریح وافعال اعضاء انسانی بہ اصول طب یونانی
حکیم سید غلام حسین
سائنس
آغازی نوین در فلسفہ
محمد یگانہ رانی
فلسفہ
افعال مرکبہ
تمنا عمادی مجیبی
سرگزشت وزیر خان لنکران
ڈرامہ
اخلاق نقوماجس
مرزا ہادی رسوا
ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگاوہ دیکھو دور کہیں آسماں پگھلنے لگا
یہ طرز تلخ نوائی کچھ اتنی سہل نہیںزباں پہ آبلے پڑ جائیں سچ اگلنے سے
جگرؔ پھول شعلے اگلنے لگے ہیںگلستاں کو اب چھوڑنا چاہتا ہوں
اداس شاموں کو کیا دیکھ دیکھ روتے ہوابھی تو آئیں گی راتیں لہو اگلنے کی
شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیںگھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھیرا کر تمام
یہ اور بات مٹا دیں حریف تحریریںمرا قلم تو حقیقت اگلنے والا ہے
لہجے میں سچ کا زہر اگلنے کا جرم تھامیری غزل کو دھوپ میں جھلسا دیا گیا
میں لوٹ آیا سمندر سے ڈر کے جب فیضانؔاسی گھڑی وہ خزانہ اگلنے والا تھا
عادت میں کرو فرق نہ تم اپنی نگہ سےکیوں زہر اسے آج اگلنے نہیں دیتے
کب بوسے لیے ان کے جو بل کھائے ہیں گیسوتم گالوں کو کیوں زہر اگلنے نہیں دیتے
جس کو سرگوشیوں کا اک بے کراں سمندراگلنے والا ہے
بزم میں زہر اگلنے کو عدودر پہ دربان ہے کیا مشکل ہے
اس قدر بغض دلوں میں ہے کہ معلوم نہیںلوگ کب کس کے لیے زہر اگلنے لگ جائیں
ہونٹ پر تالے لگا کر چھین لیتی ہے قلمزہر دل دنیا اگلنے ہی نہیں دیتی مجھے
یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لینا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books