aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaardaat"
اندرا ورما
born.1940
شاعر
چندر شیکھر ورما
born.1967
اسحاق وردگ
born.1977
نرمل ورما
1929 - 2005
مصنف
آنند ورما
born.1995
رام چندر ورما ساحل
born.1947
رام لال ورما ہندی
وفا نیازی
born.1936
پون ورما
born.2002
ششی کانت ورما
born.1990
ہمادری ورما
بلراج ورما
born.1923
رام کرشن ورما
ناشر
شیوبرت لال ورمن
1860 - 1939
زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہےاسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکےیزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیرمرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
واردات قلب لکھی ہم نے فرضی نام سےاور ہاتھوں ہاتھ اس کو خود ہی لے جا کر دیا
واقعات کربلا اور شہادت امام حسین کو موضوع بنا کر اردو میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ کہیں تاریخ کے طور پر، کہیں مرثیہ کی شکل میں، کہیں افسانے اور کہانی کے پیرائے میں اور کہیں تلمیح اور علامت بنا کر۔ غرضیکہ اس حق و باطل کی داستان نے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے۔ اس قسم کی تمام کتابیں ریختہ کے "واقعات کربلا" کلکشن میں موجود ہیں۔ ضرور استفادہ کریں۔
वारदातीوَاردَاتی
عربی
واردات سے منسوب، داخلی کیفیات سے متعلق، دل پر گزرے ہوئے حالات پر مبنی، واقعاتی
वहदतوَحْدَت
ایک ہونا ، واحد ہونا ، فرد ہونا (کثرت کا نقیض)
वहदतوَحْدَۃ
वारदातوارْدات
واردات کامل
مولانا سید شاہ شیخن احمد حسینی
واردات
پریم چند
افسانہ
واردات سرمد
سرمد مظاہری
مجموعہ
واردات جگر
جگر مراد آبادی
واردات ایک مطالعہ
محمد شرف الدین ساحل
واردات لاہور
سید ابو تمیم
دیگر
مشاہدات و واردات
منشی عبدالرحمن خان
واردات ایثار
محمد اقبال
مقالات/مضامین
ابو تمیم فریدآبادی
سوانح حیات
واردات ایثار اور جہات اقبال
طلسمی قفل حیرت انگیز واردات
نامعلوم مصنف
عراق میں سرکوبی اورشکنجہ کسی کی ورادات سے متعلق
وحدت الوجود اور اقبال
بشیر احمد نحوی
اقبالیات تنقید
واقعات کربلا
میر انیس
مرثیہ
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیاپھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
کچھ اپنا فرض پیار ترا فکر روزگارکتنے ہی واردات میں الجھا ہوا ہوں میں
وہ جو پہلا تھا اپنا عشق وہیآخری واردات تھی دل کی
معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہچمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے
ہاں کوئی واردات ساغر و مےکچھ سناؤ بہار کے دن ہیں
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
مسکرانا کبھی نہ راس آیاہر ہنسی ایک واردات بنی
اپنی طرف ہی رخ تھا وہاں واردات کاالزام اس کے نام پہ دھرنے کے باوجود
واردات دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہےہر حساب غم حساب دوستاں بنتا گیا
رات کی واردات مت پوچھوواقعی ایک واقعہ ہوا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books