aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "visitor"
بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبیملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے
تصور میں نہ جانے کون آیامہک اٹھے در و دیوار میرے
پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیاہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا
وکٹر ہیوگو
1802 - 1885
مصنف
خسرو وژن
ناشر
ویکٹر نیزنانو
وکٹر ویتکووچ
آزاد بک ویزن، جموں
وکٹر کلا ودینکو
وکٹر گراف سینکو
اوون وسٹر
وکاش وژن، غازی آباد
نیو ویژن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی
وژن پبلیکیشنز، علی گڑھ
وژن آرٹ گیلری، ملتان
ورڈ ویژن پبلیشرز، اسلام آباد
طالب شاہ آبادی
born.1924
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
مجھ ایسے واماندۂ جاں کو بستر وستر کیاپل دو پل کو موند لوں آنکھیں ورنہ گھر ور کیا
صاحب خانہ یا میزبان کے سلیقے کا اندازہ اعلان کر کے دی ہوئی دعوتوں اور بلا کر بنائے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت سے بطریق احسن کبھی نہیں ہو سکتا۔ آپ کے، آپ کی بیگم صاحبہ کے، آپ کے نوکروں کے حسن انتظام، خوش سلیقگی اور رکھ رکھاؤ کا صحیح...
فرحیہ متعلقہ المیہ(A Comedy apropos of tragedy)افراد(1) مادام دی بلنول(2) عسکری(3) ارگاسطے(4) مرثیہ گو(5) فلسفی(6) مردفربہ(7) مرد لاغر(8) خاتون(9) خادم
زندان کی چار دیواری میں متواتر پانچ ہفتوں سے یہی ہولناک حقیقت میرے لئے سوہانروح رہی ہے۔ اسی وحشت ناک خبر نے مجھے تنہا بے یارومددگار کو دبا رکھا ہے۔کبھی وہ بھی دن تھا۔ جب کہ میں بھی آپ ہی کی طرح تھا۔ میرا دل جس میں ہر طرح کے ولولے کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے مناظر فطرت کا متلاشی تھا۔ جب کہ ہرساعت میرے لئے مژدہ لاتی اور ننھی ننھی دو شیزگان کی یاد میرے دل میں چٹکیاں لیتیں۔ جبکہ میں ان حسن کی دیویوں کے ساتھ چھٹکی ہوئی چاندنی میں شاہ بلوط کے گھنے درختوں کی اوٹ میں گلگشت کرتا۔۔۔۔۔۔ جبکہ میں آزاد تھا۔مگر اب قید وبند میں ہوں۔ آہنی زنجیروں سے جکڑا ہوا تنگ و تار کوٹھڑی، میں بے بال و پرپرند کی طرح اسیر کیا گیا ہوں۔ یہ تو ہے جسمانی قید۔ مگر میرے خیالات بھی اسی طرح مقید ہیں۔ صرف ایک۔۔۔۔۔۔ اورصرف ایک خیال۔۔۔۔۔۔ ہیبت ناک، مہیب اور ناقابل برداشت خیال مجھ پر پوری طرح مسلط ہے جس کی خوفناک یاد ایک گھڑی یا پل کیلئے بھی میرے دل سے محو نہیں ہوتی ،جس کی صحت کا مجھے کامل یقین ہے یعنی سزائے موت۔۔۔۔۔۔ آہ! اس کا نام لیتے ہی میری رگوں میں خون منجمد ہو جاتا ہے۔میں ہزار اپنا دل بہلاؤں۔ اس کے بہلانے کیلئے اپنی آنکھیں بند کرلوں۔ مگر اس خیال۔۔۔۔۔۔ اس حقیقت نفس الامری کے دو برف ایسے ہاتھ مجھ پر اسی وحشت ناک حالت میں لے آتے ہیں۔ یہ میرے پیچھے کسی بدروح یا بھوت کی طرح پڑا ہوا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے کسی دن آنکھ لگ جاتی ہے تو یہ کمبخت ڈراؤنی اور خون سرد کردینے والے خوابوں میں خنجر کی صورت میں نمودارہوتا ہے۔میں ابھی ابھی ایک وحشت خیز خواب دیکھ کر بیدا رہوا ہوں۔ میں نے اپنے دل کو ڈھارس دیتے ہوئے کہا: حوصلہ رکھو! یہ تو محض خواب تھا۔لیکن میری خواب آلودہ آنکھوں کے سامنے خوفناک حقیقت میرا منہ چڑا رہی ہے مجھے اپنی قسمت کا فیصلہ آنکھوں کے سامنے نظر آرہاہے۔ قید خانے کی زرد اور مرطوب دیواریں۔ اندھی سی لال ٹین کی مدھم شعاعیں۔۔۔۔۔۔ لوہے کے بھاری بھر کم دروازے۔۔۔۔۔۔ جیل کے سنتری کی خوفناک صورت۔۔۔۔۔۔ میرے کپڑوں کی ہئیت کذائی۔ کیا اس گھناؤنی حقیقت کی پرزور تائید نہیں کررہی ہے۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ جو مجھے سزائے موت ایسا لرزہ خیز پیغام دے رہی ہے۔(2)اگست قریب الاختتام تھا۔ موسم سہانا اور خوشگوارمیرا مقدمہ تین یوم تک عدالت میں پیش ہوتا رہا ہرروز کمرہ عدالت تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔ جیسے کسی کی مرگ پرلوگ ماتم پرسی کرنے آئے ہوں۔ ان تین ایام میں۔ منصف، وکیل ، گواہ اور افسر ہر روز میری مصیبت زدہ آنکھوں کے سامنے گزرے۔ میرے دھندلی اور نحیف آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لاسکیں۔ خوف وہراس کے مارے میں نے دو مکمل راتیں آنکھوں میں کاٹیں۔ مگر آخر انسان تھا۔ تین دن کی متواتر ذہنی کوفت اور ماندگی نے مجھے مردہ سا کردیا تھا۔ لہٰذا نیند نے اس نیند نے جو مجھے ہفتوں سے نصیب نہ ہوئی تھی سلا دیا۔میں ابھی اس غفلت کی نیند سے بیدار نہ ہوا تھا کہ سپرنٹنڈنگ جیل نے مجھے بلا بھیجا۔ خفیف سی خفیف آہٹ آج سے پہلے مجھے گہرے خیالات سے چوکنا کردیتی تھی۔ مگر آج محافظ کے لوہے کے بوٹ کی بھاری آواز۔۔۔۔۔۔ آہنی کنجیوں کی لرزہ خیز جھنجناہٹ۔ بھاری بھر کم دروازے کی خوفناک رگڑ مجھے اس بے ہوشی سے خبردار نہ کرسکی۔ اچانک میں نے اپنے کندھوں پر کوئی سخت سا ہاتھ محسوس کیا۔ اور کانوں میں کسی شخص کو درشت لہجہ میں یہ پکارتے ہوئے سنا-:’’اٹھو! تمہیں بلایا ہے۔ انہوں نے۔‘‘میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور تنکوں کے بسترے پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ جیل کے محافظ کی ڈراؤنی شکل میرے سامنے تھی۔سامنے والی کھڑکی سے میں نے باہر دھندلی سی روشنی دیکھی۔ دن چڑھ گیا تھا۔ اور یہ روشنی سورج کی تھی۔ آہ مجھے پھر ایک دفعہ دن کی روشنی دیکھنے کی کتنی تمنا ہے!!’’موسم خوب سہانا ہے۔‘‘ میں نے محافظ سے کہا۔اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بلکہ خاموش رہا۔ شاید اس لئے کہ وہ مجھ بدبخت کی خاطر اپنی زبان سے لفظ نکالنا اس کو بے فائدہ ضائع کرنا سمجھتا تھا۔ لیکن تھوڑے عرصے کے بعد ایسے کہ جیسے اس کے ضمیر نے ملامت کی ہو۔ وہ بولا-:’’ بہت خوشگوار ہے۔‘‘میں بے حس و حرکت سورج کی ان مدھم شعاعوں کی طرف حریصانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جو میرے قفس کی چھت پر آزادانہ کھیل رہی تھیں۔’’کیا پیارا دن ہے۔‘‘ میں نے پھرمحافظ سے کہا۔’’درست ہے، مگر وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ان الفاظ نے مجھے میری اصلی حالت سے خبردار کرکے خوف وہراس کے اسی تنگ و تاریک اورعمیق گڑھے میں پھینک دیا۔۔۔۔۔۔ تب میں نے اپنے دماغ میں عدالت کی کرسیوں پر ججوں کو شاہانہ لباس پہنے ہوئے دیکھا۔ وہ میری طرف گھور رہے تھے ۔ یہ جیوری کے ارکان تھے جن کے ہاتھوں میری قسمت کا فیصلہ تھا۔ جب میں سو رہا تھا، وہ میری قسمت کا فیصلہ مرتب کرنے میں مصروف تھے۔میں اٹھا۔ مگر میری ٹانگیں جواب دے رہی تھیں۔ جسم کا ہر عضو ارتعاش پذیر تھا۔ گرتے گرتے بچا۔ مگر قہر درویش برجان درویش۔ محافظ جیل کے ساتھ ہو لیا۔ دروازے کے باہر دو اور سپاہی کھڑے تھے ان سب کی معیت میں عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ آسمان نکھرا ہوا تھا۔ سورج کی شعاعیں بلند دود کشوں سے چھن چھن کر مختلف سمتوں پر پڑ کر اس منظر میں عجیب دلفریبی پیدا کررہی تھیں۔۔۔۔۔۔ خوب پیارا دن تھا۔ہم کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ میری آمد پرہال عجیب و غریب آوازوں سے گونج اٹھا۔ تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز صرف میں ہی بدنصیب تھا۔ ہر طرف سے میری جانب انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ یہ نظارہ میرے دل و دماغ پر نشتر کا کام دے رہا تھا۔میں اپنی جگہ پربیٹھ گیا توہال پر پوری خاموشی چھا گئی۔یہ دیکھ کر میرے دل کو بھی قدرے تسکین ہوئی۔ اس وقت تک میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ میں یہاں اپنی قسمت کا فیصلہ سننے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔ اگر خیال آیا بھی تو میں اس سے خوفزدہ نہ ہوا۔ کھڑکیاں کھلی تھیں۔ تازہ ہوا آزادانہ ہال میں پھرر ہی تھی۔ ساتھ کے بازار سے لوگوں کے چلنے پھرنے کی آواز۔۔۔۔۔۔ خوشی کے قہقہے اچھی طرح سے سنے جاتے تھے۔ سامنے جیوری کے اراکین بیٹھے تھے، مگر ان کے بشرے سے تو ایسا معلوم نہ ہوتا تھا کہ وہ کسی کی موت کا فیصلہ سنانے والے ہیں۔جبکہ میرے اردگرد ایسا تسلی بخش ماحول تھا تو پھر میں کسی ہولناک خیال سے کیوں ڈرتا۔اگر میرے دل میں اس وقت کوئی خواہش تھی تو صرف ایک۔۔۔۔۔۔ آزادی کی۔امید کی آخری کرن اب میرے دل میں نمودار ہو چکی تھی۔ اور میں اپنے فیصلہ کا ایک لفظ سننے کیلئے تیار تھا۔ اب مجھ میں ایک مقابلہ کی طاقت بدرجہ اتم موجود تھی۔اسی اثناء میں میرا وکیل جس کی غیر حاضری سے ابھی تک کارروائی رکی ہوئی تھی نمودار ہوا۔ اور میرے قریب کی ایک کرسی پر بیٹھ کروہ میری طرف جھکا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا-: ’’ کچھ فکر نہ کرو مجھے امید ہے کہ خدا بہتر کرے گا۔‘‘میں نے بھی اسے اسی انداز میں جواب دیا۔’’یقیناً‘‘’’مجھے ابھی تک ان کے فیصلہ کے متعلق کچھ علم نہیں، تاہم میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سزائے موت نہیں دیں گے۔ اب صرف حبس دوام کی بات ہے۔‘‘’’آپ کا کیا مطلب جناب؟ میں تو موت کو ایسی ذلیل زندگی پر ترجیح دوں گا۔‘‘ میں نے وکیل سے طیش میں آکر کہا۔موت! ہاں موت! مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ سزائے موت تو آدھی رات کے وقت خوفناک ہال میں جس میں کہ گندی شمعیں جل رہی ہوں اور موسلا دھار بارش ہورہی ہو۔ سنائی جاسکتی ہے۔ مگر اس خوبصورت ہال میں، اگست کے پُر کیف مہینے میں۔ آج ایسے خوشگوار اور سہانے دن۔۔۔۔۔۔ اور ایسی شریف جیوری کے ہوتے ہوئے کیا سزائے موت سنائی جائے گی؟ نہیں! ہرگز نہیں۔ یہ خیال کرتے وقت میری آنکھیں سورج کی منور صورت دیکھنے کو ترس رہی تھیں۔اتنے میں ریڈر نے کھڑے ہوکر میرا فیصلہ جوکہ جیوری نے میرے سوتے وقت مرتب کیا تھا، سنانا شروع کیا۔ میرے تمام جسم میں خوف و ہراس کی سرد لہر دوڑ گئی۔ میں نے دیوار کا سہارا لے لیا تاکہ زمین پر نہ گر پڑوں، کیونکہ اب میری طاقت جواب دے چکی تھی۔’’ کیا آپ کو اس بارے میں کچھ کہنا ہے کہ کیوں نہ یہ سزا ملزم کو دی جائے۔ صاحب صدر نے میرے وکیل سے دریافت کیا۔مجھے بہت کچھ کہنا تھا مگر۔مگر میری زبان تالو سے چمٹ گئی۔ میں ایک حرف بھی زبان سے نہ نکال سکا۔میرا وکیل کچھ کہنے کیلئے اٹھا۔ غالباً وہ میری سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کی ناکام سعی کررہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اس کوروک دوں اور بھری عدالت میں پکار کرکہہ دوں’’ مجھے ہزار بار موت پسند ہے۔ میں عمر قید کیلئے جبہ سائی کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ مگریہ الفاظ میری زبان پر آکررہ گئے۔ میں اپنے وکیل کا بازو پکڑ کر نحیف آواز میں صرف اتنا کہہ سکا’’ جانے دیجئے۔‘‘جیوری نے میرے وکیل کی سفارش پر کوئی کان نہ د ھرا۔ بلکہ دوسرے کمرے میں تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر واپس آئے اور میری موت کا فتویٰ سنا دیا’’سزائے موت‘‘! ہجوم نے چلا کرکہا۔میں نیم بے ہوشی کی حالت میں ہجوم سے نکل کر باہر آیا۔ میرے اندر ہنگامہ سا برپا ہوگیا تھا۔ سزائے موت کا حکم سنائے جانے سے پیشتر میں اوروں کی طرح ہوش و حواس میں تھا۔ مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجھ میں اور دنیا میں اب ایک وسیع خلیج حائل ہے۔وہی دھلا ہوا آسمان، وہی اونچے اونچے دودکش، وہی خوبصورت روشنی جو اس سے چند ساعت پیشتر میرے لئے موجب فرحت تھی، اب باعث اذیت ہے۔ وہی دل خوش کن سماں بھیانک، زرد اور خوفناک۔۔۔۔۔۔جو آدمی میرے پاس سے گزر رہے تھے۔ غول بیاباں معلوم ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔ سیڑھیوں کے نیچے قید خانہ کی مہیب اور ڈراؤنی گاڑی میرا انتظار کررہی تھی۔ دو نو عمر لڑکیاں میری طرف غور سے دیکھ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک نے خوشی سے تالی بجاتے ہوئے کہا’’ باجی! اس آدمی کو چھ ہفتہ کے بعد پھانسی دی جائے گی۔ ہم بھی دیکھیں ۔ خوب تماشہ ہوگا۔(3)سزائے موت!! کیا ہوا؟ کیا دنیا فانی نہیں؟ کیاہر شخص کے لیے موت یقینی امر نہیں؟ تو پھر خوفزدہ ہونا کیا معنی؟میری موت کا حکم سنانے سے اب تک کیا ان اشخاص کی اموات نہیں ہو چکیں جو زندگی کو عزیز جانتے تھے؟کیا نوجوان، تندرست اور آزاد انسان نہیں مر چکے جو میرا سرقلم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے؟کیا اور شخص موت کے شکار نہ ہوں گے، جوکہ اب تازہ ہوا میں آزادانہ چلتے پھرتے ہیں؟تو پھر زندہ رہنے سے مجھے کیا مل جائے گا جو میں اپنی موت پر اظہار افسوس کروں۔ اگر زندہ رہوں تو سوائے اس کے کہ محافظ کا ہر روز منحوس چہرہ دیکھوں۔ ریت ملی ہوئی روٹی کو پانی ایسے شور بے سے زہر مارکروں۔ جیل کے افسروں سے دھتکارا جاؤں۔ کسی ایسے شخص سے نہ مل سکوں جس کے دل میں مجھ بد بخت کا تھوڑا سا درد بھی ہوتا کہ کہیں اس سے میں اپنا دکھ نہ بٹالوں اور کیا ہوسکتا ہے؟ایسی زندگی سے۔۔۔۔۔۔ ذلیل اور ناپاک زندگی سے موت ہزار درجہ بہتر ہے۔ آہ !! یہ زندگی ناقابل برداشت اور ہولناک ہے۔(4)قید خانے کی سیاہ ماتمی اور منحوس گاڑی مجھے اس زندان میں لے آئی جس میں کہ اب اپنی زندگی کے قلیل ایام بسر کررہا ہوں۔دور سے اگر دیکھو تویہ ایک عالی شان اور شاہی عمارت معلوم ہوتی ہے لیکن جوں جوں آپ نزدیک آتے جائیں گے آپ کو افسوسناک حقیقت معلو م ہوتی جائے گی اور شاہی عمارت ایک بدنما کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گی جس میں کھڑکیوں میں شیشے کی بجائے آپ کو لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں جڑی ہوئی نظر آئیں گی۔ جن کے پیچھے آپ کومجرموں کے بھیانک اور مردار چہرے نظر آئیں گے۔یہ زندگی ہے۔۔۔۔۔۔زندگی۔۔۔۔۔۔ جو موت کا بھیس بدل کر پھررہی ہے۔(5)اس جیل میں منتقل ہوتے ہی مجھ پربہت سی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ کھانے کے ساتھ چھری اور کانٹے آنے بند ہوگئے۔ پہلا لباس اتروا کر چھوٹی قمیض پہننے کیلئے دی گئی۔ صرف اسی خیال سے کہ میں خود کشی نہ کرلوں۔ جیل کے محافظ اب میری زندگی کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ میرا سر قلم کرنے کیلئے میری صحت اور زندگی لازمی ہے۔پہلے دو تین دنوں میں انہوں نے ہر طرح میرے آرام و آسائش کا خیال کیا۔ میرے ساتھ تہذیب یافتہ شخص ایسا سلوک کرتے۔ مگر مجھے یہ ظاہر داریاں بہت بری معلوم ہورہی تھیں۔ میں خوب جانتا تھا کہ یہ سب کچھ میرے سر کو کٹتے وقت تک محفوظ رکھنے کی خاطر کیا جارہا ہے ورنہ پھانسی کی کوٹھڑی کا محافظ دوسرے معنوں میں جلاد اور ایسی نرمیاں؟خوش قسمتی سے ان دنوں میں ایسی چاپلوسی سے مانوس ہوگیا ہوں۔ اور جیل کے پادری نے مجھے ہفتہ میں ایک بار دوسرے قیدیوں کی معیت میں باہر جانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ لکھنے کا متعلقہ سامان بھی بڑی سوچ بچار کے بعد اب مہیا کردیا گیا ہے۔ہر اتوار کو میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ جیل کے صحن میں ٹہلتا ہوں۔وہ بد بخت بہت اچھے آدمی ہیں مجھے اپنی اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔ مگر ان کی سرگزشت میرے لئے بھلا کیا دلچسپی رکھ سکتی ہے۔ میرے لئے جس کی موت تھوڑے عرصہ بعد واقع ہونی ہو۔ میرے لئے جس کے سر کو تھوڑے دنوں بعد دوسروں کو کھلونا بننا ہو۔وہ گاتے ہیں۔ راگ الاپتے ہیں۔ راگ! غلیظ راگ۔ جس کو سُن کر میری ایسی حالت ہوتی ہے جیسے کوئی گردوغبار سے اٹا ہوا قالین میری ناک کے قریب جھاڑ رہا ہو۔ لیکن باایں ہمہ وہ مجھے رحم کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔مجھے محافظ اور وارڈر سے بغض و عناد نہیں۔ لیکن پھر بھی وہ میری طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں۔ ہنستے ہیں۔ گویا میں ان کے لیے نئی چیز ہوں۔ چڑیا گھر کا عجیب وغریب جانور۔(6)جب تحریر کے تمام ذرائع مجھے میسر ہیں۔ توکیا وجہ ہے کہ میں اپنے افکار و حوادث کو صفحہ قرطاس پر نہ لاؤں۔ لیکن مجھے کس موضوع پر قلم اٹھانا چاہئے!جبکہ جیل کی چار دیواری کے اندر مقید میری حد نظر دیوارسے اس پار نہیں جاسکتی۔ میری نگاہیں نیلگوں آسمان کا تماشا نہیں کرسکتیں میرے ذہن میں ہمیشہ اور ہر وقت ایک ہی خیال موجزن ہے۔ موت کا خیال۔ جب صورت حال یہ ہے تومجھے کیا لکھنا چاہئے۔ مجھے اس دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔ میں اذیت رساں ذہن اور احساسات کو صفحہ قرطاس پر کیوں کر لا سکوں گا!کیوں نہیں؟ اگر میرا ماحول پرسکون اور خاموش ہے۔ تو کیا؟میرے دل میں درد ہے، میرے ذہن میں ہیجان ہے، میری روح بیتاب ہے۔ میں جیتی جاگتی المناک داستان ہوں۔ کیا یہی ایک خیال مجھے میرے داستان حیات بیان کرنے میں محرک نہیں ہوسکتا۔ یہ خیال تو مقررہ وقت کو قریب سے قریب تر آتے دیکھ کر مزید تقویت پکڑتا ہے۔یقیناً تمام سامان مہیا ہے۔ میری زندگی مختصر سہی، تاہم وہ ایک انسان کی پراز حسرت داستان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ناکافی نہیں۔ مصائب و نوائب میں صرف اسی صورت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے کہ میں اپنے زخم پنہاں کوہویدا کروں۔ میں اپنی ذہنی ہیجان کی تصویر کو انسانیت کے سامنے پیش کروں شاید ایسا کرنے سے میری تکالیف کی رفتار سست ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ میں جو لکھوں گا وہ بے سود نہ ہوگا۔ میں اپنی مشکلات کی تکلیف دہ داستان اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک مکمل کرنے کی کوشش کروں گا اگر یہ غیر مکمل بھی رہ گئی تو کیا خونی حکایت سبق آموز ثابت نہ ہوگی؟اس شخص کی ذہنی کیفیت۔ روحانی اذیت جسے موت کی سزا کا حکم سنایا جا چکا ہو، ان افراد کیلئے بھی جنہوں نے سزائے موت کا فتویٰ صادر کیا سبق نہ ہوگا؟ شاید اس حکایت کے تاثرات سے وہ مجرموں کی جانچ پڑتال نام نہاد ترازوئے عدل میں صحیح طور پرکرسکیں۔ شاید وہ بتدریج ارتقائے مصائب کا بغور مطالعہ نہیں کرتے۔ جب وہ اپنی عدالت سے کسی مجرم کے خلاف موت کا حکم نافذ کرتے ہیں، جب وہ کسی مجرم کو سزا دیتے ہیں تو اس وقت وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ جس شخص کی زندگی کا خاتمہ کرنے والے ہیں اس کے اندرغیر فانی روح موجود ہے جو موت کی دسترس سے بالاتر ہے۔ اس کے پیش نظر سوائے عدل و انصاف کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ مجرم کی اندرونی و بیرونی کیفیت سے بے پروا رہتے ہیں۔یہ کاغذات انہیں اس حقیقت سے آگاہ کردیں گے۔ شائع ہونے کے بعد میرے خیالات ان کے دماغوں کی عنان توجہ اپنی طرف منعطف کرائیں گے۔ وہ انسانی جسم کو خاک میں ملا کر اپنی کامرانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ذہنی پستی کی عیاں مثال۔ جسمانی اذیت ذہنی تکلیف کے مقابلہ پر کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔وہ دن آنے والا ہے جب میرے سوانح حیات لوگوں کو۔۔۔ اگر میری زندگی کے بعد تیز ہوا ان کاغذات کو عدالت میں نہ لے اڑی۔ یا یہ کاغذات محافظ جیل کے کمرہ کی بدنما کھڑکیوں پر چسپاں ہو کر ابروباراں سے ضائع نہ ہوگئے۔(7)فرض کرلیا جائے کہ میری داستان زندان ایک روز دوسروں کیلئے مفید ثابت ہو۔۔۔۔۔۔ ججوں کوسزائے موت کا فتویٰ دیتے وقت کپکپی پیدا کردے۔۔۔۔۔۔ مجرموں اور بے گناہوں دونوں کو اس مصیبت سے جس میں کہ میں ان دنوں گرفتار ہوں بچا لے، تو مجھے اس سے کیا فائدہ؟ جب کہ میرا سر تیز دھار چھرے سے کاٹا جا چکا ہوگا۔ میں کسی خاموش قبرستان میں منوں مٹی تلے سو رہا ہوں گا۔ تو پھرمجھے کیا؟ میری طرف سے وہ ہزاروں کی جانیں لیں۔ لاکھوں کے سر قلم کریں۔ میں تو اس وقت اپنی زندگی کے دن پورے کر چکا ہوں گا۔ کیا میں نے مقتل کی اس جگہ کو جس جگہ کہ میرے جسم کا خون بہے گا الٹنے کی ناکام سعی کا خیال کیا ہے؟ جبکہ سورج کی زندگی بخش روشنی، بہار کا سہانا موسم، ہرے بھرے کھیت، پرندوں کا چہچہانا، نیلگوں آسمان، لانبے لانبے درخت، برسات کی کالی کالی گھٹائیں، قدرت کی نیرنگیاں، زندگی اور موت میرے لئے نہ ہوگی۔ نہیں! نہیں یہ سب کچھ میرے لئے ہے۔ میں زندہ رہوں گا۔ زندہ رہنے کی کوشش کروں گا۔ کیا یہ سچ ہے کہ میں ضرور موت کے گھاٹ اتارا جاؤں گا؟ آہ! میرے پروردگار !! اس خیال کے آتے ہی دیوار سے سر پھوڑنے کو جی چاہتا ہے۔(8)اب مجھے یہ سوچنا چاہئے کہ میری زندگی اور موت کے درمیان کے روز باقی ہیں۔ تین دن سزائے موت کے حکم کے بعد ملزم کو رحم کی درخواست کیلئے ملتے ہیں۔ ایک ہفتہ کاغذات کی جانچ پڑتال کیلئے دو ہفتہ وہ کاغذات وزیر کی میز پر فضول پڑے رہتے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کاغذ ہیں کس بارے میں؟ حالانکہ مقدمہ کی تمام کارروائی اس کے پاس اس لئے بھیجی جاتی ہے کہ وہ اس کا مطالعہ کرکے ان پر اپنی طرف سے رائے لکھ کر بادشاہ کے پاس بھیج دے۔۔۔۔۔۔دوہفتہ اس حکم کی نظرثانی کرنے میں صرف ہوتے ہیں تاکہ کہیں کسی سے بے انصافی نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد شاہی عدالت کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں وہ عموماً ان تمام درخواستوں کو رد کردیتے ہیں جو ان کی خدمت میں رحم کیلئے گزاری گئیں۔۔۔۔۔۔ وہ ان ردی کاغذات کو وزیر کے پاس واپس بھیج دیتے ہیں جو فوری عمل درآمد کیلئے انہیں جلاد کے سپرد کردیتا ہے۔اب صرف تین دن باقی رہ گئے۔۔۔۔۔۔ چوتھے دن سرکاری وکیل اپنے دل میں کہتا ہے’’ اس معاملہ کا جلد خاتمہ ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس کے حکم سے اسی صبح بازار کے چوک میں پھانسی دینے کا چبوترہ تیار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ راہ گزاروں کیلئے خونیں چبوترہ بہت دلچسپی پیدا کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بنتے وقت بہت سے تماشائی اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں۔کل چھ ہفتہ ہوئے! زندگی اور موت کے درمیان صرف چھ ہفتہ! اس بھولی لڑکی کا اندازہ بالکل درست تھا۔
اردو ادب کا ایک انوکھا شاعر، ابن انشا۔ ہم نے ان کی کچھ نظموں کا انتخاب کیا ہے۔ پڑھئے اور لطف اٹھایئے ۔
توبہ خمریات کی شاعری کا ایک بنیادی لفظ ہے اس کے استعمال سے شاعروں نے نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ توبہ کے موضوع کی خشکی ایک بڑی شوخی میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ شراب پینے والا کردار ناصح کے کہنے پرشراب پینے سے توبہ کرتا ہے لیکن کبھی موسم کی خوشگواری اورکبھی ابلتی ہوئی شراب کی شدت کے سامنے یہ توبہ ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اوران شوخیوں سے لطف لیجئے ۔
عیادت پر کی جانے والی شاعری بہت دلچسپ اور مزے دار پہلو رکھتی ہے ۔ عاشق بیمار ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ معشوق اس کی عیادت کیلئے آئے ۔ اس لئے وہ اپنی بیماری کے طول پکڑنے کی دعا بھی مانگتا ہے لیکن معشوق ایسا جفا پیشہ ہے کہ عیادت کیلئے بھی نہیں آتا ۔ یہ رنگ ایک عاشق کا ہی ہو سکتا ہے کہ وہ سو بار بیمار پڑنے کا فریب کرتا ہے لیکن اس کا مسیح ایک بار بھی عیادت کو نہیں آتا ۔ یہ صرف ایک پہلو ہے اس کے علاوہ بھی عیادت کے تحت بہت دلچسپ مضامین باندھے گئے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
visitorvisitor
مِہْمان
victorvictor
فاتِح
victor ludorumvictor ludorum
برط فرد جو کھیلوں کے کسی مقابلے میں مجموعی طور پر چیمپئین ہو۔.
विष्टरوِشٹَر
سنسکرت
(ہندو) کوئی پھیلی ہوئی چیز
مضراب
ناول
پھانسی
معاشرتی
نیرنگ فرنگ
سوشلسٹ سماج میں عوام کی خوشحالی
سیاسی
سوویت ازبکستان کی سیر
سفر نامہ
آزادی کی طرف
بغاوت فرانس
ترجمہ
شہزادہ البرٹ وکٹر کے دلچسپ حالات
نامعلوم مصنف
سوانح حیات
فہرست ممبران و وزیٹران محمدن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس
اشاریہ
سرگذشت اسیر
آل انڈیا محمدن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس
ادارہ جاتی
جدید کلر ٹیلی ویژن گائیڈ
عبدالغفار
تفریحات
رات گئی دن نکلا
تاریخی
تاریخ کی منطق
تاریخ
اقبالس ویژن اینڈ پاکستان ٹوڈے
وی۔ ایچ۔ جعفری
تنقید
THE VISION OF CHRIST THAT THOU DOEST SEE IS MY VISIONS GREATEST ENEMY THINE HAS A GREAT HOOK NOSE LIKE THINE MINE HAS A SNUB NOSE LIKE TO MINE...
The story of Heer and Ranjha is about six centuries old now. Ranjha was the son of a landlord and lived in Takht Hazara by the river Chenab. Heer was the daughter of another prosperous person from Jhang. Both were young and beautiful but they were destined to suffer immeasurably....
کامیو کا اجنبی OUTSIDER اس لیے سنگسار کیا جاتا ہے کہ اسے پھولوں اور عورتوں سے شغف ہے۔ کافکا کا مسٹر کے اپنے کو مجرم نہیں سمجھتا مگر اس کا جیلر یہ کہہ کر اسے خاموش کرنا چاہتاہے کہ سب مجرم اپنے آپ کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ غرض مطابقت...
یہاں ’’دل نشیں‘‘ کے لغوی معنی ہیں دل میں بیٹھا ہوا، دل میں گڑا ہوا، دل میں بیٹھنے یا گڑنے کی صلاحیت رکھنے والا۔ اس کے مجازی معنی ہیں دل کو کھینچنے والا، دل کو متاثر کرنے والا۔ اب ’’نگاہوں کے تیر‘‘ کی مناسبت سے ’’دل نشیں‘‘ کے لغوی معنی...
اب یہ خیال ذہن سے نکال دینا چاہیے کہ غالبؔ کے یہاں اردوپن نہیں ہے۔ غالبؔ کے اردوپن اور آرزوؔ کے اردو پن میں فرق ہے۔ آرزوؔ کا اردو پن جذبے کا ساتھ دے سکتا ہے۔ غالبؔ کا اردو پن انفس و آفاق کے آیات تک پہنچ سکتا ہے، اس...
انتقام اسیر(Glaude Cueux)آج سے آٹھ سال قبل پیرس کے خوبصورت شہر میں ایک غریب مزدوررہتا تھا اپنےعلاوہ اسے دو پیٹ اور پالنے پڑتے۔۔۔۔۔۔ اس کی مالکہ یعنی بیوی اور ننھا سا بچہ۔میں ناظرین کی خدمت میں حقیقت بیان کررہا ہوں جس میں کسی قسم کے تصنع کو دخل نہیں۔ جو کچھ بھی ہے صداقت پر مبنی ہے۔ اس سے سبق حاصل کرنا اس کے پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔بچپن ہی سے وہ پردہ غفلت میں رہا۔ آغوش جہالت میں پرورش پاتا رہا، مگر باایں ہمہ وہ ایک اچھے دماغ کا مالک تھا۔ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے حادثہ پر گھنٹوں فکر کرتا۔موسم سرما آیا۔ حسب معمول تکالیف و مصائب کے سازوسامان سے آراستہ! ایندھن کی کمی۔۔۔۔۔۔ روٹی کی کمی۔۔۔۔۔۔ مزدور کی کمی!! وہ شخص، اس کی بیوی اور بچہ فاقوں پر فاقے کرتے۔ مگر انجام کار اس ذلیل زندگی سے تنگ آگئے۔۔۔۔۔۔ مزدور چور بن گیا۔مجھے معلوم نہیں اس نے کیا چرایا۔ مگر اتنا معلوم ہے کہ لڑکے اور اس کی ماں کیلئے تین دن کا خوردونوش مہیا ہوگیا، اور اس کیلئے پانچ سال کی سزا۔اس کو سزا کے ایام پورے کرنے کے لئے زندان میں بھیج دیا گیا۔ زندان جو گرجا گھر کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اب اس معبد کے کمرے تنگ وتار کوٹھڑیاں۔ اس کی قربان گاہ و چوبی کٹہرہ جس میں پھانسی دی جاتی ہے۔بعض اصحاب کے نزدیک یہ ترقی ہے۔ تمدنی ترقی۔خیر! زندان میں رات تو وہ کوٹھڑی میں بسر کرتا اور دن بھر کارخانہ میں۔ مجھے کارخانہ سے کوئی نفرت نہیں۔کلا دے گیو(یہ مجرم کا نام تھا) ایسا ایمان دار مزدور اگر چوری کرنے پرمجبورہواتو اپنی مشکلات کی بناپر۔ ورنہ وہ سلیم الدماغ نیک اور رحم دل تھا۔ وہ نہایت ہی اچھے دماغ کا مالک تھا۔اب آپ دیکھیں ۔ کہ سوسائٹی نے اس دماغ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اپنے کام کے دوران میں شاید ہی وہ کسی سے ہمکلام ہوتا۔ مگر اس کے چہرے سے وقار اور وفاداری عیاں تھی۔جیل کے اندر کلادے گیو کو کارخانہ میں کام کرنا پڑتا۔ اسکی نگرانی کیلئے ایک نائب ناظم مقرر تھا۔ وہ بیک وقت داروغہ اور سوداگر تھا۔وہ ظالم تھا۔ اس نے کبھی ادراک سے کام نہ لیا۔ وہ تند خوہونے کے بجائے سخت دل تھا۔ اگر ایک لمحہ وہ خوش مذاق مزاحیہ اور شادماں ہوتا۔ تو دوسرے لمحہ وہ تند خو اور بدمزاج ہوتا۔ اس کا تعلق نسل ا نسانی کی اس جماعت سے تھا جس کے افراد میں نئے خیالات جذب کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ جو بظاہر حوادت سے متاثر نہیں ہوتے۔ نفرت وحقارت کے ناپاک جذبات جن کے قلوب میں پرورش پاتے ہیں جو اس چُوب خشک کی مانند ہیں جس کا ایک سرا جل رہا ہو۔ مگر دوسرا برف کی مانند سرد۔اس داروغہ کی سیرت میں ہٹ دھرمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنی ضدی فطرت پر اس قدر نازاں تھا کہ اپنے تئیں نپولین تصورکرتا۔ یہ محض فریب نظر تھا۔ وہ شمع کو درخشندہ ستارہ سمجھے بیٹھا تھا۔ جب کبھی وہ ذلیل حرکت پر آمادہ ہوتا تووہ ضرور اسے پایہ تکمیل تک پہنچاتا بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کبھی ہم افتاد بلا کے اسباب و علل پر غور کرتے ہیں توہم سب اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ اس کی ابتدا ضد اور اعتماد نفس سے ہوئی۔ہمارا ناظم اس سیرت کا حامل تھا۔ اسے سوسائٹی نے دوسروں پر حکمران کررکھا تھا۔ اس کی مثال بعینہ اس شخص کی مانند تھی جو دبی ہوئی راکھ سے چنگاریوں کی جستجوکرتا ہو۔ مگر اکثر اس قسم کی چنگاریاں برق کی صورت میں نمودار ہو کرگلشن ہستی کو بیابانوں میں تبدیل کردیتی ہیں۔جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں کلادے گیو کے زندان میں داخل ہوتے ہی اسے مجرموں کا لباس پہنا دیا گیا اور ورکشاپ میں کسی کام پر لگا دیا گیا۔ ناظم کی نگاہوں نے تھوڑے دنوں کے بعد ہی تاڑ لیا کہ کلادے گیو دیگر مجرموں کی طرح نہ تھا۔ اس لئے اس نے اس کی اچھی طرح نگہداشت کرنی شروع کردی۔کلادے زندان میں بہت مغموم سا رہتا۔ اس کا نقطہ نظر صرف اس کی بیوی اور بچے کی یاد تھی جس کی امید پروہ زندگی کی تاریک گھڑیاں صبروتحمل سے گزار دینے پر آمادہ تھا۔ کلادے کو حسرت ویاس کا مجسمہ دیکھ کر ناظم نے اسکا غم غلط کرنے اور حوصلہ افزائی کے لیے اسے بتلایا کہ اس کی عورت بیسوا طبقہ میں شامل ہو چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیسوا کا لباس پہن چکی ہے۔’’ اور لڑکا‘‘ قیدی نے پوچھا۔اس کے متعلق ناظم کو کچھ علم نہ تھا۔کچھ عرصہ کے بعد کلادے اس زندگی سے مانوس ہوگیا۔ اور رفتہ رفتہ وہ خیالات جواس کی پریشانی کا باعث تھے محو ہوگئے۔۔۔۔۔۔ اس کے چہرے سے اب آہنی ارادہ کے آثار نمایاں تھے۔ وہ اس زندگی اور اس عرصہ کو خندہ پیشانی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔ خواہ وہ کیسی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔کلادے کی ہستی جیل میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی۔ اپنے ہم اسیر قیدیوں کے درمیان اس کا بہت رتبہ تھا۔ وہ تمام اس کی عزت کرتے اور اس سے اپنی اپنی مشکلات بیان کرکے مشورہ لیتے۔تین ماہ سے کم عرصہ میں کلادے نے ہر شخص کے دل میں جگہ کرلی اور اسی عرصہ میں ورکشاپ کے قیدیوں کا لیڈر بن گیا۔ وہ سب اس کی پرستش کرتے، حتیٰ کہ کئی دفعہ وہ گمان کرنے لگتا کہ وہ بادشاہ ہے۔ ایک اسیر پادری ہے اپنے معتقدوں کے درمیان! یہ لازمی امر تھا کہ یہ ہر دلعزیزی اور شہرت دیگر افراد کے دلوں میں حسد کی چنگاریاں پیدا کرتی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ محافظوں کے دلوں میں کلادے کا وجود خار کی طرح کھٹکنے لگا۔۔۔۔۔۔یہ اجنبی بات نہ تھی۔۔۔۔۔۔ ہر دلعزیزی اور نفرت کا چولی د امن کا ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔ مگر غلاموں کی محبت آقا کی حقارت اور نفرت سے زیادہ مستحکم ہوتی ہے۔بدقسمتی سے کلادے بسیار خور واقع ہوا تھا۔ اس کی بھوک مٹانے کے لیے اس کی اپنی غذا ناکافی تھی۔ آزادی کے ایام میں وہ محنت سے اپنی پوری غذا مہیا کرلیتا، مگر دوران اسیری وہ دن بھر کام کرتا تو بھی اسے پیٹ بھر کے کھانا ملتا۔ وہ ہمیشہ بھوکا رہتا، مگر اسکی شکایت کے الفاظ اس کی زبان پرہرگز نہ آئے۔ وہ اسی خصلت کا مالک تھا۔ایک روز جب کہ کلادے اپنا کھانا ختم کرکے کام میں مشغول ہوا چاہتا تھا، اس’’ قحط‘‘ کو اپنے کام میں محوکرنا چاہتا تھا کہ ایک دبلا پتلا قیدی ایک ہاتھ میں چاقو دوسرے میں کھانا پکڑے ہوئے اس کی جانب آیا، کچھ کہنا چاہتا تھا کہ جھجک گیا۔’’ کیا چاہتے ہو تم۔‘‘ کلادے اس سے درشت لہجے میں دریافت کیا۔’’ ایک عنایت۔‘‘’’عنایت؟‘‘’’میرے پاس ضرورت سے زیادہ کھانا ہوتا ہے۔ مہربانی فرما کر اس میں سے تھوڑا سا آپ لے لیا کریں۔‘‘کلادے کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔ بغیر کسی تکلیف کئے اس نے کھانے کے دو حصے کئے۔ اور اپنا حصہ کھانا شروع کردیا۔’’ شکریہ! مگر کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ہرروز اسی طرح میرے کھانے میں حصہ لے لیا کریں۔‘‘ اس لڑکے نے مودبانہ کہا۔’’تمہارا نام۔‘‘’’ایلبن۔‘‘’’ تم یہاں کس طرح آئے۔‘‘’’ چوری کے جرم میں۔‘‘’’ خیر میرا بھی یہی جرم ہے۔‘‘ایلبن بیس سال کا نوجوان تھا۔۔۔۔۔۔ مگر غیر معمولی کمزوری اور اور زردی سے پندرہ سال کا معلوم دیتا ۔ کلادے گو35 سال کا تھا۔مگر بسا اوقات پچاس سے بھی زیادہ عمر کا معلوم دیتا۔ان دونوں کا رشتہ آپس میں باپ بیٹے کا تھا۔ایلبن ابھی بچہ تھا۔ اور کلادے پیش از وقت بوڑھا۔ وہ دونوں ایک ہی جگہ مشقت کرتے، ایک ہی جگہ سوتے۔ وہ بہت خوش تھے۔۔۔۔۔۔ وہ ایک دوسرے کے لیے دنیا تھے۔ہم جیل کے ناظم کے متعلق اس سے پیشتر بھی یہی ذکرکرچکے ہیں کہ کلادے کا وجود اس کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کلادے قیدیوں کی نظروں میں بہت وقعت رکھتا، اوروہ اس کا ہر حکم ماننے کے لیے بسر و چشم حاضر رہتے۔ایک دن جیل میں کسی قسم کی شورش پیدا ہوگئی اور قیدیوں نے ناظم کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ ناظم اورمحافظوں نے لاکھ سرپٹکا مگر کچھ بن نہ ائی۔ لیکن کلادے کے دو الفاظ نے ان سب کو جھکا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حسد کی چنگاری نے اب آگ کی صورت اختیار کرلی۔ اصلاح شدہ مجرم کی صورت سے اسے نفرت پیدا ہوگئی۔۔۔۔۔۔ حق پر قوت کے غلبہ کی عیاں مثال۔اس نوعیت کی نفرت جو سینہ میں خفیہ طور پر پرورش پاتی رہے اس آتش فشاں پہاڑ کی طرح جس نے برسوں آگ نہ اگلی ہو۔ایلبن کی رفاقت نے کلادے کو ناظم کے وقار سے بالکل غافل کردیا تھا۔ ایک روز جبکہ دونوں کام میں مشغول تھے ایک وارڈر آیا اور ایلبن سے ناظم کے روبرو پیش ہونے کو کہا۔’’تمہیں ناظم نے کیوں بلا بھیجا ہے؟‘‘ کلادے نے ایلبن سے پوچھا۔’’معلوم نہیں۔‘‘ایلبن وارڈر کی معیت میں ناظم کے پاس چلا گیا۔ سارا دن گزر گیا مگر ایلبن واپس نہ آیا۔۔۔۔۔۔ بے سود اس کا انتظار کرتا رہا۔ رات ہونے پر بھی جب وہ نہ آیا تو نہایت بے قراری کی حالت میں اپنے محافظ سے پوچھا۔’’ایلبن بیمار ہے کیا؟‘‘’’نہیں تو!‘‘ محافظ نے جواب دیا۔’’ تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ دن بھر سے غائب ہے۔‘‘’’ تمہیں معلوم نہیں اس کا کمرہ تبدیل کردیا گیا ہے۔‘‘ محافظ نے لاپروائی سے کہا۔محافظ کے اس جواب پر کلادے کاہاتھ جس میں وہ شمع پکڑے ہوئے تھا۔کانپا۔’’کس کے حکم سے؟‘‘ کلادے نے تحمل سے کہا۔’’موسیوڈی‘‘۔۔۔۔۔۔کے حکم سے۔۔۔۔۔۔ یہ ناظم کا نام تھا۔دوسرے روز شام کو ناظم حسب معمول کام کی دیکھ بھال کے لیے آیا۔ کلادے نے اسے دیکھتے ہی اپنی اونی ٹوپی سنبھالی اور کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ایک بینچ کے قریب کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔۔ یہ زندان کے آدابوں میں سے ایک آداب ہے۔جب ناظم اس کے قریب سے گزرا تو کلادے نے مودبانہ لہجے میں کہا:’’جناب۔‘‘ناظم مڑا۔’’جناب! کیا واقعی آپ نے ایلبن کو دوسرے کمرے میں منتقل کردیا ہے۔‘‘’’ہاں۔‘‘ ناظم نے جواب دیا۔’’ جناب! میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرے لئے اپنا کھانا ناکافی ہوتا ہے۔ اس لئے ایلبن اپنے کھانے سے کچھ حصہ مجھے دے دیا کرتا تھا۔‘‘’’ مگر مجھے اس سے کیا سروکار؟جناب! کیا آپ اتنی عنایت نہیں کرسکتے کہ ایلبن کو پھر میرے پاس واس بھیج دیں۔‘‘’’ناممکن! میرے احکام میں تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی!‘‘’’یہ حکم کس کا ہے؟‘‘’’میرا !‘‘’’تو پھر جناب ہی پر میری زندگی کا انحصار ہے۔‘‘’’میرا حکم تبدیل نہیں ہوسکتا ہے۔‘‘’’جناب! کیا آپ کو مجھ سے عداوت ہے؟‘‘’’نہیں۔‘‘’’تو پھر آپ ایلبن کو مجھ سے کیوں جدا کررہے ہیں۔‘‘’’ اس لئے کہ یہ میری خواہش ہے۔‘‘یہ کہہ کر ناظم چلا گیا۔ کلادے اس شیر کی مانند جو اپنے شکار سے محروم کردیا گیا ہو سر جھکائے کھڑا ہے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ غم کلادے کی بھوک میں کوئی تبدیلی واقع نہ کرسکا۔ وہ پہلے کی طرح ہی بھوکا رہا۔ اور بہت سے قیدیوں نے برضا و رغبت اپنا کھانا اسے پیش کرنا چاہا۔ مگر اس نے خندہ پیشانی سے انکار کردیا۔کلادے حسب معمول اپنا کام خاموشی سے کرتا ۔ اور ہرروز شام کو ناظم سے پُر درد اور غصّہ آمیز لہجہ میں۔۔۔۔۔۔ دعا اور دھمکی کے مابین صرف دو الفاظ کہتا۔۔۔۔۔۔’’اور ایلبن۔‘‘مگر اس کے جواب میں ناظم کا یہ طرز عمل کسی حالت میں بھی قابل ستائش نہ تھا۔ اور یہ بھی صاف عیاں تھا کہ کلادے نے اس طرز عمل کے انسداد کے لیے کوئی تہیہ کرلیا ہوا ہے۔ تمام زندان ہٹ دھرمی اور آہنی ارادہ کے درمیان فیصلہ کن جنگ دیکھنے کا منتظر تھا۔ایک روز وہ ناظم سے یہ کہتا ہوا سنا گیا-:’’جناب! ایلبن کو میرے پاس بھیج دیجئے۔ کیونکہ آپ کی اسی میں بہتری ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ میرے الفاظ کو مت بھولئے آپ!‘‘ایک اتوار کووہ گھنٹوں سرکو زانوؤں میں دیئے صحن میں بیٹھا رہا ، اور جب ایک قیدی فیلٹ نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں مغموم سا ہے تو کلادے نے سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے جواب دیا:’’میں کسی شخص کا فیصلہ مرتب کرنے میں مصروف ہوں۔‘‘25 اکتوبر1831ء کی شام کو کلادے نے اپنی گھڑی کا شیشہ زمین پر اس غرض سے پھینکا کہ ناظم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے۔وہ اس مقصد میں کامیاب ہوگیا۔۔۔۔۔۔ ناظم آیا۔’’ یہ شیشہ میں نے پھینکا تھا۔۔۔۔۔۔ جناب! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے رفیق کو میرے پاس بھیج دیجئے۔‘‘ غلام نے کہا۔’’ نا ممکن ہے۔‘‘ آقا نے جواب دیا۔’’ آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔‘‘ کلادے نے کہا۔ اور ناظم کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے نہایت استقلال سے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔’’ دیکھئے آج اکتوبر کی25 ہے۔ میں آپ کو 4 نومبر تک اس معاملہ پر سوچنے کی مہلت دیتا ہوں۔‘‘ایک وارڈر جس نے یہ الفاظ سنے دھمکی پر تعبیر کئے۔ اور ناظم سے کلادے کے لئے سزائے تخلیہ تجویز کی۔ مگر ناظم نے اس بات کی کوئی پروا نہ کی۔ وہ ان الفاظ سے خائف نہ ہوا۔دوسرے روز ایک اور قیدی نے کلادے کی مغمومی طبع کے بارے میں سوال کیا’’ کلادے تم کن خیالات میں غرق رہتے ہو۔‘‘’’مجھے ڈر ہے کہ ہمارے اچھے ناظم پر کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آنے والا ہے۔‘‘ کلادے نے جواب دیا۔25 اکتوبر اور4 نومبر میں پورے نو دن باقی تھے۔۔۔۔۔۔ اس قلیل مدت کے بعد ناظم کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا۔کلادے ہر روز ناظم کے گوش گزار کردیتا کہ وہ ایلبن کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان گزارشوں سے ناظم تنگ آگیا۔ اور ایک روز اسے چوبیس گھنٹہ کی سزائے تخلیہ دے دی۔۔۔۔۔۔ روزانہ عجز و انکسار کا جواب۔4 نومبر آپہنچا۔۔۔۔۔۔ اس دن کلادے نہایت اطمینان قلب سے خواب سے بیدار ہوا۔ گزشتہ ایام کی یادگارایں نکالیں تاکہ انہیں جی بھر کے ایک دفعہ دیکھ لے: ایک قینچی اور ایک کتاب جو اس ہستی کی ملکیت تھی، جسے وہ جان سے عزیز جانتا تھا، یعنی اس کی بیوی۔ ان عزیز چیزوں کو جیب میں رکھ کر وہ صحن میں ٹہلنے لگا کہ ایک قیدی اس کی نظر پڑا جو موٹی موٹی آہنی سلاخوں کے درمیان سے اس کی طرف متجسسانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔’’ آج رات کو میں ان سلاخوں کو قینچی سے کاٹ ڈالوں گا۔‘‘ کلادے نے قینچی دکھاتے ہوئے کہا۔ قیدی اس ناممکن اور محیرالعقول بات سن کر ہنسنے لگا۔ کلادے بھی اس ہنسی میں شامل ہوگیا۔اس دن اس نے غیرمعمولی انہماک سے کام کیا تاکہ اس چیز کی تیاری میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے جس کے عوض اسے کھانا ملتا تھا۔دوپہر سے کچھ پہلے وہ کسی بہانہ سے چُوب سازوں کے کمروں میں چلا گیا جہاں قیدیوں نے اس کا پُرجوش استقبال کیا۔۔۔۔ کلادے کی ہر جگہ عزت تھی۔وہ اس کے گرد جمع ہوگئے جیسے وہ اس کے منہ سے کوئی کلمہ سننے کے لیے بیتاب ہوں۔کلادے نے کمرہ میں نگاہیں دوڑائیں اور مطمئن ہو کرکہ جیل کا کوئی وارڈر اس وقت موجود نہ تھا، یوں گویا ہوا’’ کیا تم میں سے کوئی مجھے اپنی کلہاڑی دے سکتا ہے؟’’ کس غرض کے لئے۔‘‘ انہوں نے دریافت کیا۔’’ ناظم کو قتل کرنے کی خاطر‘‘ اس نے فوراً جواب دیا۔اس پر سب نے اپنی اپنی کلہاڑیاں پیش کیں۔ کلادے نے اب سب میں سے چھوٹی کلہاڑی منتخب کرکے اسے اپنے کوٹ کے دامن میں چھپا لیا۔اس وقت ستائیس قیدی موجود تھے۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی اس راز کو افشا نہ کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اس واقع کے بعد اس موضوع پر گفتگو تک نہ کی۔۔۔۔۔۔ مگر وہ آنے والے حادثہ کے منتظر تھے۔ وہ حادثہ گوہولناک تھا، مگر بہت آسان۔صحن سے گزرتے ہوئے کلادے کو ایک قیدی ٹہلتا ہوا ملا جس نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کوٹ میں کیا چھپائے ہوئے ہے۔’’ ایک کلہاڑی! موسیوڈی۔۔۔۔۔۔ کے قتل کرنے کے لئے! تمہیں نظر آرہی ہے کیا؟ کلادے نے کہا۔’’ بہت کم۔‘‘ قیدی نے جواب دیا۔دن کا بقایا حصہ حسب معمول مصروفیتوں میں گزر گیا۔ سات بجے شام قیدی اپنے اپنے ورکشاپوں میں منتقل کردیئے گئے تاکہ ناظم ان کی حاضری لے سکے۔کلادے روزمرہ کی طرح اپنے ہم اسیروں کے ساتھ ایک بڑے سے ورکشاپ میں بند تھا۔ اس وقت اپنی قسم کا واحد واقعہ پیش آیا۔۔۔۔۔۔ کلادے نے اپنی جگہ پرکھڑے ہو کر مندرجہ ذیل تقریر شروع کی۔’’ تمہیں معلوم ہے کہ ایلبن اور مجھ میں ایک بھائی کا رشتہ تھا۔ اولاً میری پسندیدگی کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اپنا کھانا میرے ساتھ تقسیم کرتا۔ مگر بعد ازاں وہ پسندیدگی محبت میں تبدیل ہوگئی جب وہ میرے ساتھ الفت کا اظہار کرنے لگاہم دونوں کی وابستگی موسیوڈی۔۔۔۔۔۔ کے لئے کسی حالت میں بار خاطر نہ تھی۔ مگر اس نے صرف ہٹ دھرمی اور حسد کی خاطر ہمیں ایک دوسرے سے جدا کردیا۔۔۔۔۔۔ صرف اس لئے کہ وہ بدخصلت ہے۔میں نے اس سے بارہا التجا کی کہ وہ ایلبن کو میرے پاس واپس بھیجے دے۔ مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ آخر کار میں نے اسے4 نومبر تک اس معاملہ پر سوچنے کے لئے کہا، جس پر مجھے سزائے تخلیہ دی گئی۔ میں نے اسے ترازوئے عدل میں تولا تو اسے سزائے موت کا مستحق پایا۔ چنانچہ میں نے اس کی موت کا دن 4 نومبر مقرر کیا ہے۔ وہ ابھی ابھی یہاں آئے گا۔ میں پھر تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اس کی جان لینے پر تلا ہوا ہوں۔۔۔۔۔۔ کیا تمہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟‘‘قبر کی خاموشی چھا گئی۔کلادے نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور اپنے رفیقوں۔۔۔۔۔۔ اکیاسی چوروں سے وجوہات بیان کرنی شروع کیں جو اس عمل کی محرک ہوئی تھیں۔’’ میں اس خطرناک اقدام پر اس لئے مجبور ہوں کہ راستی پر ہوں۔ اس لئے کہ اس نے مجھے سخت روحانی تکلیف پہنچائی ہے۔ اس لئے کہ میں دو ماہ کے غور و فکر کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اس اقدام کے معنے میری موت ہے، چونکہ میں راستی پر ہوں اس لئے مجھے اپنی قربانی کی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی اس کے خلاف کہنا چاہتا ہے تو وہ اعلانیہ کہے۔‘‘اس قبر ایسی خاموشی میں صرف ایک آواز نے چلا کرکہا’’ مگر قتل کرنے سے پیشتر تمہیں پھر اسے ایک دفعہ متنبہ کردینا چاہئے۔‘‘’’ درست ہے! میرے دوست!میں اس کو مہلت دے دوں گا۔‘‘یہ کہہ کر اس نے اپنی چند ایک ملکیتیں جو اسے نہایت عزیز تھیں، ان قیدیوں میں تقسیم کردیں لیکن قینچی اپنے پاس رکھ لی۔ ہر ایک قیدی سے بغلگیر ہوا۔ ان میں سے اکثر اس منظر کو بغیر آنسو بہائے نہ دیکھ سکے۔کلادے حسب معمول خوش گپیوں میں مشغول ہوگیا اس کو اس طرح دیکھ کر بعض نے خیال کہ وہ اس خوفناک ارادہ سے باز آگیا ہے۔ایک نوجوان قیدی کلادے کے خوفناک ارادہ سے ابھی تک خائف ایک کونے میں کھڑا کانپ رہا تھا۔’’ نوجوان آدمی! ہمت کرو۔ بس ایک لمحہ کا کام ہے۔‘‘کلادے نے اسے کہا۔کلادے نے ہر ایک سے مصافحہ کرلینے اور الوداع کہنے کے بعد سب کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہو جائیں۔۔۔۔۔۔ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ وہ خود بھی اپنے کام میں منہمک ہوگیا۔ اچانک گھڑی کے گجر کی آواز سنائی دی۔ اس پروہ اٹھا اور دروازے کے قریب خاموش کھڑا ہوگیا۔دروازہ کھلا اور ناظم کمرے کے اندر داخل ہوا۔ وہ حسب معمول نہایت اطمینان سے کسی حادثہ سے بے خبر گزررہا تھا کہ اپنے پیچھے کسی کی آہٹ سن کر مڑا تو کلادے کو کھڑا پایا۔’’ تم اس جگہ کیا کررہے ہو۔ اپنی جگہ پر کیوں نہیں جاتے؟ ناظم نے پوچھا۔’’ میں جناب سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ کلادے نے مودبانہ کہا۔’’ وہ کیا ؟‘‘’’ایلبن کی واپسی۔۔۔۔۔۔‘‘’’پھر وہی ضد‘‘’’ ہمیشہ ہوگی۔‘‘’’معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے لئے24 گھنٹہ سزائے تخلیہ ناکافی تھی۔‘‘ ناظم نے وہاں سے چلتے ہوئے کہا۔’’ جناب! میرا رفیق مجھے واپس عنایت کیجئے۔ کلادے نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے کہا۔’’ ایسا ہونا ناممکنات سے ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔ ناظم نے جواب دیا۔’’ جناب میں پھر ایک دفعہ التجا کرتا ہوں کہ میرے رفیق کو میرے پاس بھیج دیجئے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ میں کس طرح دل لگا کر کام کرتا ہوں۔ آپ آزاد ہیں۔ اس لئے آپ اس شخص کے احساسات قلب کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس کا دنیا میں ایک ہی دوست ہو۔ ایک ہی رہا سہا سہارا ہو۔ زندان کی چار دیوار ی میں اس رفیق کی موجودگی ہی میرے لئے سب کچھ ہے۔ وہی میرے لئے دنیا کی عزیز ترین نعمت ہے۔ آپ آزادانہ چل پھر سکتے ہیں۔ آپ کے لیے دنیا میں سب کچھ موجود ہے۔ مگرے میرے لئے ایلبن ہی دنیا ہے۔ خدا کے لئے!۔۔۔۔۔۔ اسے میرے پاس بھیج دیجئے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ وہ اپنا کھانا میرے ساتھ تقسیم کیا کرتا تھا۔ اگر ایک تیرہ بخت انسان کلادے اس جگہ اپنے رفیق کے ساتھ تنہائی کے ایام بسر کرے تو اس میں آپ کا کیاحرج ہے۔ آپ سے صرف اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ صرف’’ ہاں‘‘جناب! میرے اچھے جناب! میں خدا کے نام پر ملتجی ہوں کہ میری گزارش کو قبول فرمائیے۔‘‘یہ کہہ کرکلادے جذبات کا طوفان سینہ میں دبائے ناظم کے جواب کا منتظر تھا۔’’ یہ کبھی نہ ہوگا! میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں کہ میرے احکام میں تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ جاؤ تم مجھے ستا رہے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر ناظم نے دروازہ کی جانب رخ کیا۔اکیاسی چوروں پر قبر ایسی خاموشی طاری تھی۔کلادے نے ناظم کے کندھے کو چُھوا اور کہا’’ مجھے یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ آخر کن وجوہ کی بنا پر آپ میرے ساتھ ظلم کررہے ہیں؟‘‘’’اس لئے کہ یہ میری مرضی ہے۔‘‘ ناظم نے جواب دیا۔یہ جواب سن کرکلادے ایک قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔۔ ایک سو باسٹھ آنکھوں نے اسے کوٹ سے کلہاڑی نکالتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔ ایک لمحہ میں ناظم کی لاش زمین پر بے جان پڑی تھی۔ تین ضربوں نے اس کے سر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تھے۔ کلہاڑی کی چوتھی ضرب سے اس کی شکل پہچاننی مشکل تھی۔کلادے نے جو غصہ و انتقام سے اندھا ہورہا تھا ایک اور کلہاڑی ناظم کی بے جان لاش پرپورے زور سے ماری مگر بے فائدہ۔ ناظم پہلے وار سے ہی سرد ہو چکا تھا۔ کلہاڑی کو ایک طرف پھینکتے ہوئے کلادے چلایا۔’’ اب دوسرا۔‘‘۔۔۔۔۔۔ دوسرا وہ خود آپ تھا۔ اپنی بیوی کی قینچی نکال کر اس نے اپنی چھاتی میں پیوست کرلی۔ مگر حسب مقصود نتیجہ نہ نکلا۔ قینچی اس کی مضبوط چھاتی میں اچھی طرح نہ جاسکی۔قینچی سے بیس وار اور کئے مگر بے سود۔ آخر کار چلایا۔’’ لعنت!! دل کی جگہ ہی نہیں ملتی۔‘‘ اتنا کہا اور خون آلود بے ہوشی کے عالم میں زمین پر گر پڑا۔بتائیے ان دونوں میں سے کون کس کا شکار تھا؟جب کلادے نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو پٹیوں سے ملبوس ہسپتال میں پایا۔ اس کے آس پاس ہسپتال کی نرسیں کھڑی تھیں ان میں سے ہر ایک نے اس کی طبعیت کا حال پوچھا۔خون کی کافی مقدار اس کے بدن سے خارج ہو چکی تھی۔ اور قینچی کے زخم بہت خطرناک صورت اختیار کرگئے تھے۔ مگر سب سے مہلک ضربات وہ تھیں۔ جوموسیوڈی۔۔۔۔۔۔ کے جسم پر پڑیں۔ہوش آنے پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ ناظم کے قتل کے بارے میں اس سے سوالات کئے جانے لگے۔ ان کے جواب میں اس نے بہادرانہ طور پر اعتراف جرم کیا۔تھوڑے دنوں بعد اس کے زخموں نے نہایت خوفناک صورت اختیار کرلی جس کی وجہ سے اس کے جسم کی حرارت بہت تیز ہوگئینومبر۔دسمبر۔جنوری اور فروری علاج معالجہ میں ہی گزر گئے۔ معالج اور منصف دونوں اس کی حالت دیکھنے آتے۔۔۔۔۔۔ معالج اس کا علاج کرنے۔۔۔۔۔۔ اور منصف تختہ دار مہیا کرنے کے لئے۔خیر16 مارچ1832ء کو جب کلادے بالکل روبہ صحت ہوگیا، تو اس کا مقدمہ ٹرائے کی عدالت میں پیش ہوا۔ کمرہ عدالت تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔کلادے کی ظاہری صورت نے ججوں کے دل میں اس کی نسبت اچھی رائے قائم کردی۔ اس کا خط بنا ہوا تھا۔ اور ننگے سر مجرموں کے لباس میں کٹہرے کے نزدیک کھڑا تھا۔سرکاری وکیل نے بطور حفظ ماتقدم دروازوں پر پولیس افسر مقرر کردیئے تھے تاکہ ان قیدیوں کے درمیان جو اس مقدمہ کے گواہ تھے کوئی گڑ بڑ واقع نہ ہو جائے۔ دوران مقدمہ ایک نئی مشکل پیش آئی۔ ان گواہوں یعنی قیدیوں میں سے کوئی شخص بھی اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنے کو تیار نہ تھا۔ ججوں اور انسپکٹروں نے دھمکیاں دیں مگر بے سود۔ وہ کلادے کے خلاف ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نکالنے کے لیے تیار نہ تھے۔کلادے کا اصرار اور ہدایت ہی صرف ان کی زبان کھلوا سکی جس پر انہوں نے چشم دید حالات کو من و عن سنا دیا۔۔۔۔۔۔ جہاں کہیں وہ اس خونی داستان کے بیان کرنے میں رک جاتے کلادے ان کو صحیح واقعہ بتلا دیتا۔اس منظر کو دیکھ کر کمرۂ عدالت میں موجود عورتوں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اب نقیب نے ایلبن کو پکارا۔ایلبن وفور جذبات سے متاثر سرتاپا تھرتھراتا ہوا آیا اور آتے ہی اپنے آپ کو کلادے کی بانھوں میں ڈال دیا۔’’ یہ وہی بد بخت انسان ہے جس نے ایک بھوکے کوروٹی کھلائی۔۔۔۔۔۔‘‘ کلادے نے سرکاری وکیل کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔یہ کہہ وہ ایلبن کی طرف بڑھا اور اس کے ہاتھوں کا بڑی محبت سے بوسہ لیا۔جب سب گواہوں کا بیان ہو چکا تو سرکاری وکیل اٹھا اور جیوری کی طرف مخاطب ہوکر کہنے لگا:’’جیوری کے جملہ معزز اراکین!سوسائٹی کو بہت رنج ہوگا اگر اس قسم کے قاتلوں کو سزائے موت نہ دی گئی۔جس نے۔۔۔۔۔۔‘‘سرکاری وکیل کے بیان کے بعد کلادے کے وکیل نے جرح کی۔۔۔۔۔۔ جرح جوعموماً ایسی نام نہاد عدالتوں میں اس موقع پر ہوا کرتی ہے۔کلادے کا بیان ہوا تو حاضرین کی آنکھیں فرط حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جب انہوں نے ایک غریب اور جاہل مزدور سے ایک فاضل مقرر کے سے الفاظ سنے۔ بغیر کسی لغزش کے کلادے نے تمام واقعات کمال راستبازی سے بیان کردیئے۔ وہ کٹہرے میں اس انداز سے کھڑا تھا جیسے وہ سچ بولنے پر تلا ہوا ہے۔دوران بیان بعض دفعہ ایسا موقع آتا کہ ہجوم پر اس کے ہر لفظ کا اثر دکھائی دیتا۔ اس شخص۔۔۔۔۔۔ علم سے محض نابلد شخص نے اس جواز میں بہت سے وزنی دلائل پیش کئے، جن کی اس سے توقع نہ تھی۔ مگر دوران گفتگو اس نے ادب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ لیکن جب سرکاری وکیل نے یہ کہا کہ قتل کی واردات فوری غصہ اور رنج کا باعث نہ تھی تو کلادے کے غصہ کی کوئی انتہا نہ رہی۔’’مجھے رنج نہ پہنچا تھا کیا؟؟ درست ہے! اگر کوئی شراب سے مخمور مجھ پر حملہ کرتا اور میں اسے جان سے ہلاک کردیتا تو تم اس فعل کو فوری غصہ پر تعبیر کرتے۔ سزائے موت کو حبس دوام میں تبدیل کردیتے۔ مگر ایک شخص نے جس نے ہر ممکن طریقہ سے مجھے مجروح کرنا چاہا، جو متواتر چار سال میری ذہنی اذیت کا باعث رہا، جس نے اسی قدر عرصہ تک مجھے ذلیل سمجھے رکھا، جوہر روز میرا تمسخر اڑاتا، جس کا دن کے چوبیس گھنٹے اور چار سال تک یہی مشغلہ رہا کہ وہ اپنے ترکش کے تیر مجھ پر خالی کرتا رہے۔۔۔۔۔۔ جب میں نے اپنے مصائب و نوائب کے منبع کو بند کیا تو تم کہتے ہو کہ وہ عمل فوری غصہ سے محرک نہ ہوا۔میرے ساتھ ایک عورت کا دامن وابستہ تھا جس کی خاطر میں نے چوری کی۔ وہ اس کی بابت میرے احساسات مجروح کرتا تھا۔ میں ایک بچے کا باپ تھا جس کی خاطر میں نے ایسا رذیل کام کیا۔ وہ اس بچے کی باتیں سنا سنا کر میرے زخموں پر نمک پاشی کرتا رہا۔ میں بھوکا تھا، ایک دوست نے مجھے اپنا کھانا پیش کیا وہ اس دوست کو مجھ سے جُدا کر لے گیا۔میں نے اس کی خدمت میں التجا کی۔ اس نے مجھے اندھیری کوٹھڑی میں دھکیل دیا۔ جب میں نے اپنی تکلیفات کا اظہار کیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کے کان ایسی باتوں کی سماعت کے لئے تیار نہیں۔اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟میں نے ان مصیبتوں کا خاتمہ کردیا۔ اس شخص کو جو میری قلبی تکلیفات کا باعث تھا قتل کردیا۔ تم اس قتل کو وحشیانہ عمل گردانتے ہو۔ کہتے ہو کہ مجھے صعوبات نہیں پہنچائی گئیں۔ سو تم میرا سر قلم کرنے کے در پے ہو، بصد خوشی کرو۔ میرا سر تمہارے ہاتھوں کا کھلونا بننے کے لیے حاضر ہے۔‘‘انسانی قانون اس نوعیت کے فوری غصہ کو اس قسم کے مظالم کو فیصلہ کرتے وقت پیش نظر نہیں رکھتا۔ صرف اس لئے کہ اس وار کے نشانات غیر مرئی ہوتے ہیں۔جیوری بحث ختم ہوتے ہی فیصلہ مرتب کرنے میں مصروف ہوگئی اور کلادے کے اس فعل کو خونریزی کا ایک ہیبت ناک عمل قرار دیا۔ اور اس کی زندگی کا نقشہ یوں کھینچا:کلادے کی زندگی کی ابتدا ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو اس کی بیاہتا نہ تھی۔ اس نے چوری کی، پھر قتل کیا۔ یہ سب کچھ سچ تھا۔فتویٰ صادر کرنے سے پیشتر جیوری نے کلادے سے دریافت کیا کہ آیا اسے اس بارے میں کچھ اور کہنا ہے۔’’بہت کم! میں چور ہوں قاتل ہوں۔ میں جملہ اراکین جوری سے صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کون سا امر تھا جس نے مجھے چوری کرنے پر مجبور کیا؟ وہ کون سی شے تھی جو میرے قاتلانہ حملہ میں محرک ہوئی۔‘‘جیوری بغیر جواب دیئے دوسرے کمرے میں فیصلہ مرتب کرنے کی خاطر چلی گئی۔ شہر کے ان بارہ معززین۔ ان نام نہاد اراکین نے کلادے پر موت کا فتویٰ صادر کردیا۔فیصلہ مرتب کرتے وقت ان کے پیش نظر کلادے کا دوسرا نام’’گیو‘‘ یعنی بدمعاش بھی تھا جو خاص طور پر ان کے فیصلہ صادر کرنے میں محرک ہوا۔جب حکم سنایا جا چکا تو کلادے نے صرف اس قدر کہا’’ مجھے یہ سزا قبول ہے، مگر مقام تاسف ہے کہ انہوں نے میرے دو سوالات کا جواب نہیں دیا۔ میں نے چوری کیوں کی؟ اور میں نے قتل کیا بنا پر کیا؟زندان میں اس رات کو اس نے خوب سیر ہو کرکھانا کھایا۔کلادے نے رحم کی درخواست کرنے سے انکار کردیا، مگر جب اس نرس نے جس نے اس کی تیمار داری کی تھی اس بات پر اصرار کیا تو وہ رضا مند ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رضا مندی صرف نرس کی خوشنودی کی خاطر تھی کیونکہ جس وقت اس کی درخواست پیش ہوئی تو رحم کی درخواست کی میعاد ختم ہوچکی تھی۔ کلادے نے عمداً دیر لگا دی تھی۔جس وقت نرس اسے یہ خبر سنانے کے لیے آئی تو وفور جوش اور محبت سے اسے پانچ فرانک کا نوٹ دیا جسے کلادے نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے پاس رکھ لیا۔اس کے ہم اسیروں نے جو سب کے سب اس کے دام الفت میں گرفتار تھے۔ ہر ممکن ذریعہ سے اس کی فراری کے لیے کوشش کی۔انہوں نے روشندان کے ذریعے کلادے کی کوٹھڑی میں ایک کیل کچھ تار اور ایک لوہے کا ٹکرا پھینکا۔ ان چیزوں میں سے کوئی ایک بھی اس کی فراری کا موجب ہو سکتی تھی۔ مگر اس نے وہ سب چیزیں وارڈر کے حوالے کردیں۔8 جون1832ء کو قتل کے واقع سے پورے سات ماہ چار دن بعد محافظ جیل کلادے کے پاس آیا۔ اور اسے مطلع کردیا کہ اس کی زندگی میں اب صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اس کی درخواست رحم مسترد کردی گئی تھی۔’’ میں نے نہایت اطمینان سے آج کی رات بسر کی ہے۔ اور امید کرتا ہوں کہ اسی طرح آخری لمحات بھی گزار دوں گا۔‘‘ کلادے نے محافظ سے کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے آہنی ارادہ رکھنے والے انسان موت سے کبھی خائف نہیں ہوتے بلکہ موت کی آمد پر نہایت عالی حوصلگی سے گفتگو کرتے ہیں۔کلادے کی کوٹھڑی میں پہلے پادری آیا۔ بعد ازاں جلاد۔ پادری کے ساتھ کلادے نہایت ادب اور خلوص سے پیش آیا۔ اور بہت عرصہ تک دینی علوم سے نااہل ہونے پر اظہار تاسف کرتا رہا۔ اپنے آپ کو دینی معلومات سے فائدہ نہ حاصل کرنے کی بنا پر لعنت ملامت کرتا رہا۔جلاد کے ساتھ بھی وہ ایسے ہی خلوص سے پیش آیا۔ در حقیقت اس نے اپنی روح پادری کے حوالے کردی تھی اور اپنا جسم جلاد کے۔جب اس کے بال تراشے جارہے تھے تو کسی نے ذکر کیا کہ اس گردونواح میں ہیضہ پھیل رہا ہے اور امکان ہے کہ بہت تھوڑے عرصہ میں ٹرائے بھی اس موذی مرض کا شکار ہو جائے گا۔’’ مجھے اس سے کیا تعلق۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ہیضہ کیا کوئی مرض بھی مجھ پر اثر نہ کرسکے گا۔‘‘ کلادے نے متبسمانہ لہجے میں کہا۔خود کشی کے وقت کلادے سے قینچی ٹوٹ گئی تھی۔ بقایا حصہ اس کے پاس ابھی تک موجود تھا۔ اس نے وصیت کی وہ حصہ اس کے رفیق ایلبن کو دے دیا جائے۔ اس کا آدھا حصہ اس کی چھاتی میں زخموں کی صورت میں پنہاں تھا۔ یہ بھی خواہش کی کہ اس کا شام کا کھانا بھی اس کے دوست کو دے دیا جائے۔اگر کچھ چیز اپنے پاس رکھی تو پانچ فرانک کا نوٹ جوکہ اسے نرس نے دیا تھا۔ وہ اسے دائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا۔ جب اسے رسی سے باندھا گیا۔پونے آٹھ بجے یہ ماتمی جلوس زندان سے گلوبریدی کے چبوترہ کی طرف روانہ ہوا۔ کلادے نہایت استقلال کے ساتھ اس چبوترہ پر چڑھا۔ اس کی آنکھوں پادری کی صلیب پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ صلیب اس کے پنہاں زخموں پر مرہم کا کام دے رہی تھی۔ اس ہیبت ناک مشین پر باندھے جانے سے پیشتر اس نے پادری کو پانچ فرانک کا نوٹ پکڑاتے ہوئے کہا’’ غریبوں کے لئے۔‘‘مگر چونکہ آٹھ بجے کا گجر بج رہا تھا اس لئے پادری اس شور میں کلادے کی آواز کو نہ سن سکا۔ کلادے نے گھنٹہ کا شور ختم ہوتے ہی پھر ایک دفعہ پادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’’ غریبوں کے لئے۔‘‘ابھی یہ لفظ اس کی زبان پرہی تھے کہ یہ شریف اور حساس سر جسم سے علیحدہ ہو چکا تھا۔سزائے موت کے لئے یوم السّوق مقرر کیا گیا تھا۔ تمام روز گلوبریدی کی مشین لوگوں کے خیالات و حسّیات کو مشتعل کرتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہجوم کے ہاتھوں ایک ٹیکس وصول کرنے والے کا قتل ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کیا ان کے پیش نظر یہی نظریہ عبرت ہےءمحولہ بالا واقعات صرف اس واحد غرض سے صفحہ قرطاس پر لائے گئے کہ وہ تنسیخ سزائے موت ایسے مشکل اور نازک موضوع کی گتھی سلجھانے میں مدد دیں۔ کیونکہ ہمیں یقین واثق ہے کہ اس داستان کا ہر لفظ بذات خود ہمارے نظریہ کے مخالفین کا جواب ہے اور یہ کہ انیسویں صدی عیسوی کے اہم ترین مسئلہ کا حل اسی داستان میں موجود ہے۔کلادے کی زندگی میں صرف دو امر قابل غور و فکر ہیں۔ اولاً اس کی تعلیم ثانیاً اس سزا کی نوعیت جو اس پر عائد کی گئی۔مجلسی دائرہ کے لئے یہ امر باعث دلچسپی ہوگا کہ کلادے ایک اچھے فہم و فراست کا مالک تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس میں کسی چیز کی کمی تھی۔ اس مسئلہ عظیم پر انسانی معاشرے کی بلندی کا انحصار ہے۔ جو چیز فطرت نے انسان کو بخشی سوسائٹی کا فرض ہے کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔کلادے کی طرف دیکھئے۔ ایک بہترین دماغ اور شریف زادہ محض گناہ آلود فضا میں پرورش پانے کے باعث چور بن گیا۔ سوسائٹی نے اسے ایسے زندان میں رکھا جہاں گناہ پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چور سے قاتل بن گیا۔ وہ قابل گرفت ہے؟یا ہم؟یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ ہم اس کے عواقب و عواطف سے غافل رہ کر اس پر غور نہیں کرسکتے۔ حقائق ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر حکومت ان پر غور نہ کرے تو حکام کس لئے ہیں؟ ایوانہائے سلطنت ہر سال اراکین کی نشست گاہ بنتے ہیں۔ وہاں مداخل و مخارج پربحث ہوتی ہے۔ ذاتی مفاد کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشے جاتے ہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وزراء و اراکین سلطنت کو ہر ایک موضوع سے باخبر کر دیں۔ خواہ ان کا انجام کچھ نہ ہو۔مقننین! تم اپنا وقت محض گفتار میں بسر کرتے ہو۔ تمہاری گفتار ایک دیہاتی مدرس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ لے آتی ہے۔ تم کہتے ہو کہ موجودہ زمانے کے عیوب خود تمدن کے پیدا کردہ ہیں۔ گویا تم جو کیٹا فدرا۔ اوڈی پس۔ میڈیا اور روڈوگونا سے واقف تک نہیں۔ایوان کے بڑے بڑے خطیب جس وقت سرگرم مباحثہ ہوتے ہیں تو فرانسیسی زبان ان کی قابلیت اور علمیت زبان پر نوحہ خوانی کرتی ہے۔ ہم اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اس سے زیادہ اہم مضامین آغوش عدم میں پڑے رہتے ہیں۔ ان فضول مناظروں کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ اراکین اس وقت کیا جواب دے سکتے ہیں، جب ان میں سے ایک مندرجہ ذیل سوال کرے۔’’ خاموش! ہر وہ شخص جواس سے قبل گفتگو کرچکا ہے خاموش رہے! آپ کو اس پرز عم ہے کہ آپ مسئلہ کے ہر پہلو سے واقف ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بالکل تاریکی میں ہیں۔‘‘وہ مسئلہ یہ ہے ! ایک سال ہوا’’ عدل و انصاف‘‘ کے نام پر بالبرس میں ایک شخص کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔ جون میں ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پیرس میں لاتعداد افراد قتل کئے گئے۔یہ مسئلہ ہے۔ آؤ اس پرغورکرو۔تم! تم وہ ہو۔ جو صرف قلی محافظ کی وردیوں پر غور کرتے ہو۔ صرف ایک نکمی بحث پر وقت ضائع کرتے ہوکہ سپاہیوں کی وردیوں کے بٹن سفید ہوں یا زرد۔حضرات! صرف عوام الناس تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ خواہ حکومت شخصی ہو یا جمہوری۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غربا بدستور مصائب کا شکار رہتے ہیں۔ لوگ مفلسی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ ان کا خون رگوں میں سرد ہو چکا ہے۔ وہ زندہ درگور ہیں۔ یہی سیاہ بختی انہیں جرائم کی طرف کشاں کشاں لے جاتی ہے۔ بیٹے جیلوں کو آباد کرتے ہیں ۔اور لڑکیاں عشرت کدوں کی زینت بڑھاتی ہیں۔تمہارے ہاں لاتعداد مجرم اور بے شمار عصمت فروش موجود ہیں۔ مجلسی بدن کی رگوں میں بدی کا خون موجزن ہے۔ تم بیمار کے قریب ہو۔ اس کی عیادت کرو۔ اس کی صحت کے لئے کوئی نسخہ تیار کرو۔تم سب غلطی پر ہو۔ مسئلہ پر نہایت غور و فکر سے سوچو۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے قوانین کا نصف حصہ ہے تمہارے روز مرہ کا کاروبارکا اور دوسرا نصف تمہاری جاہ طلبی کا۔تم مجرموں کے جسموں پر داغ دیتے وقت ان کے مکتوب حیات پر جرائم کی مہر لگاتے ہو۔ تم اس سزا کے دو رفیق پیدا کرتے ہو۔ کبھی جدا نہ ہونے والے ساتھی۔۔۔۔۔۔ داغ اورجرم۔جیل خانے اصلاح کی بہ نسبت افساد کا مرکز ہیں۔ جہاں تک سزائے موت کا تعلق ہے وہ ازمنہ بربریت کی آخری یادگار ہیں اس لئے داغ دینا، زندان اور سزائے موت سب ایک ہی شجر کے اثمار ہیں۔ تم نے داغ کی سزا موقوف کردی ہے۔ مگر باقی ماندہ سزاؤں کا بھی خاتمہ کرو۔جب تم نے آہنی سلاخ کو توڑ دیا تو پھر جلاد اور زندان کی کیا ضرورت ہے۔ اس زینہ کو جو بامِ جرم کی طرف لئے جاتا ہو تو اتار دو۔ اپنے قوانین پر نظرثانی کرو۔ قانونی کتب کو نئے سرے سے مرتب کرو۔ زندانوں کو ازسر نو تعمیر کرو۔ عدالتوں میں نئے ججوں کا تقرر عمل میں لاؤ۔ قوانین کو عصر حاضر کے مطابق بناؤ۔آپ لوگوں کے پیش نظر کفایت شعاری ہے۔ مگر خدارا اس کی خاطر تمہیں لوگوں کے سروں کو اس بے دردی سے ان کے تنوں سے جدا نہیں کرنا چاہئے۔اگر تم فی الحقیقت سختی پر تلے ہوئے ہو تو جلاد پر سختی کرو۔ اسی مشاہرہ پر جو تم اپنے80 جلادوں کو دیتے ہو، تم چھ سو مدرس قائم کرسکتے ہو جو ان ہونے والے مجرموں کے اذہان کی اصلاح کریں۔کیا تم نے کبھی اس امر پر بھی غورو پرداخت کی ہے کہ تمہارے ملک فرانس میں تعلیم یافتہ شخص کے کیا اعداد و شمارہیں۔ یورپ کے چپہ چپہ پرعلم کی شعاعیں پہنچ چکی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں قریباً تمام افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ بیلجیئم میں ہر شخص پڑھا ہواہے۔ تمام یونان تعلیم یافتہ افراد سے بھرا ہوا ہے۔ اگر علم سے بے بہرہ ہے تو تمہارا فرانس۔ کیا یہ امر تمہارے لئے باعث شرم نہیں۔زندانوں میں جاؤ مجرموں کا بغور مطالعہ کرو۔ تمہیں اپنے رد کئے ہوئے شخصوں میں کئی ایسی شخصیتیں پنہاں نظر آئیں گی جو تھوڑی سی تعلیم حاصل کرنے پر تمہارے ملک کے درخشاں ستارے بن سکتیں، مگر ان کی موجودہ حالت حیوانوں سے بدتر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرت بھی قابل الزام ہے مگر تعلیم کی کمی کا، ان اذہان کو آغوش جرم کی طرف لے جانے میں بیش از بیش حصہ ہے۔اس لئے تمہیں چاہئے کہ ان اذہان کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کرو۔ ان پودوں کو جو عدم نگہداشت کی نذر ہورہے ہیں سینچو اور ان کو علم کے سایہ میں پرورش پا کر پھیلنے کا موقع دو۔اقوام کی قابلیت کا اندازہ ان غیر معمولی افراد سے ہوتا ہے جنہیں وہ پیدا کرتی ہیں۔ جب روم اور یونان ایسے ممالک تعلیم یافتہ ہوگئے تو کیا تم اپنی مادر وطن کے فرزندوں کو علم سے مستفید نہیں کرسکتے؟جب فرانس میں تعلیم عام ہو جائے تب عوام کو اخلاقی بلندی تک لے جاؤ۔ عدم علمیت گمراہ کن تعلیم سے بہتر ہے۔1830 کے پروانہ آزادی اور دیگر فرانسیسی کتب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی ایک اور کتاب ہے:وہ بائبل ہے۔تم جمہور کے لئے جو چاہو کرو۔ ان کی اکثریت کا دامن مفلسی اور تباہی سے وابستہ رہے گا۔ ان کی زندگی کشمکش پیہم۔ ان تھک محنت اور قوت برداشت سے مرکب ہے۔ترازوئے عدل کی طرف دیکھو۔ تمام مصائب غرباکے لئے اور تمام مسرتیں امراء کے لئے دونوں پلڑے غیر مساوی ہیں۔ ترازوئے عدل کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ اور نہ ہی حکومت کو اس دھوکا دہی میں مدد کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے غربا، کے مصائب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔تم عدل و انصاف کو کام میں لاؤ تاکہ غریب کو معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے نیلگوں آسمان کے نیچے کوئی جائے پناہ ہے۔ ایک ارضی جنت ہے جس کی لطیف فضاؤں سے وہ بھی متمتع ہو سکتا ہے۔ اس کا مرتبہ بلند کرو تاکہ اسے بھی معلوم ہو کہ امراء کی تعیش پسندی میں وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ یہ مسیح کی تعلیم تھی جو والٹیر سے زیادہ علم رکھتے تھے۔تب ان لوگوں کو جو یہاں کام کرتے ہیں آئندہ دنیا میں حصول اجر کی امید دلاؤ۔ وہ صبر اور شکر سے ایام زیست بسر کریں گے۔ پس انجیل کی اشاعت کرو۔ اس کی تعلیم کو ہر مقام پر پہنچاؤ تاکہ لوگوں کی سیرت بہتر اور ارفع ہو سکے۔ عوام کے سروں میں سودائے خام کی بجائے تابناک جوہر موجود ہیں، انہیں نیکی طرف بلاؤ اور پھر دیکھو کہ ان کی خوابیدہ قوتیں کس طرح بیدار ہوتی ہیں۔حالات کے ماتحت کلادے کو قاتل بننا پڑا ۔اگر اس کی تربیت بہتر طریقوں سے کی جاتی تو وہ اپنی ملت کا بہترین خادم ثابت ہوتا۔ظلمت کدۂ ضمیر منور کرو، عوام کی حالت بہتر بناؤ، انہیں تعلیم دو، ان کے اخلاق کی حفاظت کرو۔۔۔۔۔۔ پھر تمہیں ایسے انسانی سر کاٹنے کے لیے تیغ ستم کی ضرورت نہ ہوگی۔
ریاست بھوپال اپنی تشکیل کے اولین دور سے ہی اہل علم و ادب کی قدردان رہی ہے خصوصاً نواب صدیق حسن خاں کا دوربھوپال کی علمی وجاہت کا انتہائی سنہرا دور تھا۔ قال اللہ اور قال رسول کے اسباق کے درمیان میر و مصحفی اور غالب و مومن کی شعری...
Savitri was the only daughter of king Asvapati of Madra Kingdom. She was exceedingly beautiful and the word of her beauty had reached far and wide. When she grew up, her father thought of finding a bridegroom for her. He sent his Brahmins and messengers all around in his kingdom...
کچھ ادیب تو ایسے موقعوں کو یا ان خرابیوں کو اپنا موضوع بنا سکتے ہیں اور جب تک وہ چیز نہ پیدا ہو جائے جس کو انگریزی میں Vision کہتے ہیں اثر نہیں پیدا ہو سکتا، وہ افسانے کے پردے میں پروپگنڈا ہو جاتا ہے، صحافت نگاری ہو جاتی ہے۔...
Bilqees was the Queen of Saba (also known as Sheba). Her kingdom, situated in Yemen, had its heydays during the 8th century BC. While she is not always mentioned by name but scholars point out that she existed during the time of Prophet Suleiman (Solomon). Although Bilqees was known for...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books