aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",bmk"
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیںمیں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسواک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوںبچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سےہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
روشنی آدھی ادھر آدھی ادھراک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ
لمحے اداس اداس فضائیں گھٹی گھٹیدنیا اگر یہی ہے تو دنیا سے بچ کے چل
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہرمنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتیکشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدنخیر یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیامیرے نزدیک خدا ہو جیسے
جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دلموقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا
جاتے جاتے دیا اس طرح دلاسا اس نےبیچ دریا میں کوئی جیسے کنارہ نکلا
اس کے ہاتھ میں غبارے تھے پھر بھی بچا گم صم تھاوہ غبارے بیچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
ہم نے دیکھا ہی تھا دنیا کو ابھی اس کے بغیرلیجئے بیچ میں پھر دیدۂ تر آ گئے ہیں
بیچ سڑک اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھابھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے
غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوابارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلافوہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہدیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books