aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Tahnii"
گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمین پر نہ گراکرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں
ٹہنی پہ خموش اک پرندہماضی کے الٹ رہا ہے دفتر
شاعری ہے سرمایا خوش نصیب لوگوں کابانس کی ہر اک ٹہنی بانسری نہیں ہوتی
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیںناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں
کسی گاؤں میں کچے گھر کی چھاؤں میں کوئی ٹہنیخوشی سے لہلہاتی ہے میاں تب شعر ہوتے ہیں
اپنے آنگن میں پرندے دیکھ کرجسم کی ٹہنی سے اڑ جاتے ہیں ہم
نہ سایہ ہے نہ ٹہنی پر ثمر ہےیہ موجودہ زمانے کا شجر ہے
دو عالم کو ابد تک اپنی خوشبو سے بساؤں گامجھے ٹہنی پہ مرجھا کر بکھر جانا نہیں آتا
سو گئے ہیں پھول بھی ٹہنی کا جھولا جھولتےلوریاں کوئی سنائے شام پیڑوں کے تلے
ادھر سے تقاضا ادھر سے تغافلعجب کھینچا تانی میں پیغام بر ہے
ہر آنکھ اک سوال تہی دست کے لئےکب تک مروں گا میرے خدا بار بار میں
اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پاراک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود
ستارے بوتی رہیں نیند سے تہی آنکھیںادھر یہ حال کہ دامن بھی تر نہیں ہوتا
دل بھی اب پہلو تہی کرنے لگاہو گیا تم سا تمہاری یاد میں
مٹی کی آواز سنی جب مٹی نےسانسوں کی سب کھینچا تانی ختم ہوئی
ہم ایسے لوگ جو آئندہ و گزشتہ ہیںہمارے عہد کو موجود سے تہی کیا جائے
کھلنے سے ایک جسم کے سو عیب ڈھک گئےعریاں تنی بھی جوش جنوں میں لباس ہے
تھا اعتماد حسن سے تو اس قدر تہیآئینہ دیکھنے کا تجھے حوصلہ نہ تھا
ہم اسے انفس و آفاق سے رکھتے ہیں پرےشام کوئی جو ترے غم سے تہی جاتی ہے
اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books