aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khushk"
آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئیخشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیااک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
پھینک دے خشک پھول یادوں کےضد نہ کر تو بھی بے وفا ہو جا
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگیوہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔآنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا
نہ پوچھ حال مرا چوب خشک صحرا ہوںلگا کے آگ مجھے کارواں روانہ ہوا
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہےکہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
خشک خشک سی پلکیں اور سوکھ جاتی ہیںمیں تری جدائی میں اس طرح بھی روتا ہوں
دیکھا اسے تو آنکھ سے آنسو نکل پڑےدریا اگرچہ خشک تھا پانی تہوں میں تھا
اداس خشک لبوں پر لرز رہا ہوگاوہ ایک بوسہ جو اب تک مری جبیں پہ نہیں
یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پریا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے
سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دمخشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد
خشک آنکھیں لئے ہنستا ہوا دیکھو جس کواس کو صحرا نہیں کہہ دینا سمندر کہنا
خشک آنکھوں سے اٹھی موج تو دنیا ڈوبیہم جسے سمجھے تھے صحرا وہ سمندر نکلا
تار نظر بھی غم کی تمازت سے خشک ہےوہ پیاس ہے ملے تو سمندر سمیٹ لوں
شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے
ان کی یاد میں بہتے آنسو خشک اگر ہو جائیں گےسات سمندر اپنی خالی آنکھوں میں بھر لاؤں گا
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہےتب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورت
کربلا ہے یہ گلی کیا جو نہیں ملتا یاںایک قطرہ بھی لب خشک کے تر کرنے کو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books