aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarhind"
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتیہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائی
بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہکنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیامرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگراکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھاسوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
جب سفینہ موج سے ٹکرا گیاناخدا کو بھی خدا یاد آ گیا
اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتاجس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں
گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کالہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا
جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئیوقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں
ڈوب جاتے ہیں امیدوں کے سفینے اس میںمیں نہ مانوں گا کہ آنسو ہے ذرا سا پانی
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھادریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنےفقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی
اٹھا دیا تو ہے لنگر ہوا کے جھونکوں میںکدھر سفینہ ہے ساحل کہاں نہیں معلوم
مرے ڈوب جانے کا باعث نہ پوچھوکنارے سے ٹکرا گیا تھا سفینہ
شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہےسرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے
شہر لاہور سے کچھ دور نہیں ہے دہلیایک سرحد ہے کسی وقت بھی مٹ سکتی ہے
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
طوفان کی زد میں تھے خیالوں کے سفینےمیں الٹا سمندر کی طرف بھاگ رہا تھا
پہچان گیا سیلاب ہے اس کے سینے میں ارمانوں کادیکھا جو سفینے کو میرے جی چھوٹ گیا طوفانوں کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books