aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "imsaak"
صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگااس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صباپوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کااوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے
اک بھولی ہوئی بات ہے اک ٹوٹا ہوا خوابہم اہل محبت کو یہ املاک بہت ہے
ہم سے کر بے سر و سامانئ ہجرت پہ سوالاس سے مت پوچھ جو املاک بدل کر آیا
خیال ضبط گریہ ہے جو ہم کوبہت امسال ہے برسات تھوڑی
موسم نے آواز لگائی خوشبو کوتتلی کا دل پھولوں کی املاک ہوا
رکھا ہے قدم جس نے سیاست کے سفر پروہ شخص ظفرؔ صاحب املاک ہوا ہے
تمام گنبد و مینار و منبر و محرابفقیہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے
دوراںؔ سنا ہے صورت گیسوئے عنبریںامسال پھر چمن میں مہکنے لگی ہے شام
کر رہے تھے اپنا قبضہ غیر کی املاک پرغور سے دیکھا تو ہم بھی سخت بے ایمان تھے
جو کچھ ہے مرے پاس وہ میرا نہیں شایدجو میں نے گنوا دی مری املاک وہی ہے
محسوس تو ہوتی ہے اگر کوئی کرے تواجداد کی اجداد کی املاک سے خوشبو
کرے گا کیوں نہ مرے بعد حسرتوں کا شمارترا بھی حصہ ان املاک سے نکلتا ہے
ہم املاک پرست نہیں ہیں پر یوں ہے تو یوں ہی سہیاک ترے دل میں گھر ہے اپنا باقی ملک سلیماں کا
لباس دیکھ کے اتنا ہمیں غریب نہ جانہمارا غم تری املاک سے زیادہ ہے
کتنی چیزوں کے بھلا نام تجھے گنواؤںساری دنیا ہی تو شامل مری املاک میں ہے
ان کو فرصت کہاں جو یہ سوچیںبانوؔ امسال کس وبال میں ہے
امسال فصل گل میں وہ پھر چاک ہو گئےاگلے برس کے تھے جو گریباں سیے ہوئے
ہونا پڑے گا قائل تعمیر عہدنوجس دن غریب درخور املاک ہو گئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books