تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "mai-e-mohabbat"
غزل کے متعلقہ نتیجہ "mai-e-mohabbat"
غزل
ہیں غرق بحر مے محبت وہاں ہے کیفیؔ یہ سب کی حالت
ہے دخل ساقی کی بزم میں کیا صراحی و ساغر و سبو کا
دتا تریہ کیفی
غزل
پری کی مجلس میں تجھ کوں زاہد ہنوز پروانگی نہیں ہے
مئے محبت کوں نوش کر توں کہ اب تلک مجھ کوں خام دستا
سراج اورنگ آبادی
غزل
جو پاتا لذت بسان ساقی مے محبت سے تیری زاہد
نکل حرم سے وہ بت کدے میں مقام اپنا مدام کرتا
میر محمدی بیدار
غزل
ارے شراب خرد کے کیفی نہ کر توں دعوائے پختہ مغزی
مے محبت کا جام پی توں کہ اب تلک ظرف خام ہے گا
سراج اورنگ آبادی
غزل
ابھی تو گم کردہ راہ خود ہیں مئے محبت کی بے خودی میں
اگر کبھی آپ میں ہم آئے تو اس کی بھی جستجو کریں گے