aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tashaddud"
یوں ظلم و تشدد کے اندھیرے ہیں کہ توبہجینے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی
آج ہے جبر و تشدد کی حکومت ہم پرکل ہمیں بیخ کن قیصر و خاقاں ہوں گے
ظلم و تشدد کے شیدائی شاید تجھ کو علم نہیںتیرے بھی سپنے ٹوٹیں گے میرے ہر اک خواب کے ساتھ
تو آندھیوں کے تشدد کی بات کرتا ہےمیں اپنے ٹوٹے ہوئے پر تلاش کرتا ہوں
پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیںکبھی شعور کبھی لا شعور کانپ اٹھا
بھڑک رہی ہے تشدد کی آگ گلشن میںچمن یہ اپنا محبت کا جلنے والا ہے
زمانہ تشنہ کام امن ہے تسکیں کا بھوکا ہےچلو ظلم و تشدد خیز گہوارے بدل ڈالو
یہاں پہ ظلم تشدد سے آج تنگ آ کرسکوں پسند بھی اب ہم تلاش کرتے ہیں
متاع امن لٹائیں گے ہم زمانے میںنظام جبر و تشدد کچل کے دم لیں گے
قتال ظلم و تشدد فساد آگ دھواںہمارے شہر میں اب کیا مزید رکھا ہے
تمام جبر و تشدد کی حد بھی ختم ہوئیکہ جب سے صبر کو محور بنا دیا ہم نے
تیرے ظلم و تشدد کا تیری شعلہ بیانی کاگلہ کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے
غم دل کی زباں اہل تشدد کم سمجھتے ہیںنہ دل کو دل سمجھتے ہیں نہ غم کو غم سمجھتے ہیں
توانا کو بہانہ چاہئے شاید تشدد کوپھر اک مجبور پر شوریدگی کا اتہام آیا
کیا جانئے کیوں لوگ تشدد پہ اتر آئےدستار بچاتے ہیں تو سر ٹوٹ رہا ہے
توانا کو بہانہ چاہیے شاید تشدد کاپھر اک مجبور پر شوریدگی کا اتہام آیا
وہ فہم و فراست کا دیا ہاتھ میں لے کراس دور شدد سے گزر بھی نہیں جاتا
غریبی جہالت تشدد ترقیسیاست کی دنیا میں نعرے بہت ہیں
یہ رنگ و نسل اور تشدد کے سلسلےدشمن کی راحتوں کے سوا اور کچھ نہیں
جہاں سے ظلم و تشدد مٹا کے دم لیں گےاسی جنون کو اعصاب پر سوار کرو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books