aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",eFg2"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
ناگہاں آج مرے تار نظر سے کٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمراب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہوگابجھ گئی دل کی طرح راہ وفا میرے بعددوستو قافلۂ درد کا اب کیا ہوگااب کوئی اور کرے پرورش گلشن غمدوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنمتھم گیا شور جنوں ختم ہوئی بارش سنگخاک رہ آج لیے ہے لب دلدار کا رنگکوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچمدیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد'کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق''ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد'
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہےایک نقطے پروہ اک نقطہجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کرلفظ کی تشکیل کرتا ہےوہ اک نقطہ سمٹ جائے توہونے کا ہر اک امکاںنہ ہونے تک کا سارا فاصلہپل بھر میں طے کر لےوہی نقطہ بکھر جائےتو ہر اک شےنہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دےوہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثرروشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہےمرے ادراک میں شبنم کی صورتیا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہےوہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میںجگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہےمجھے اکثر بتاتا ہےمرا ہونا نہ ہونے کا عمل سےمرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہےوہ اک نقطہ کہاں ہےکون ہےکس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کوانکار میں تبدیل کرتا ہےجو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہےیہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہےوہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میںوہ افشا ہو تو میں سمجھوںکہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
اٹھی ہے مغرب سے گھٹاپینے کا موسم آ گیاہے رقص میں اک مہ لقانازک ادا ناز آفریںہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں!تیرا تھرکنا خوب ہےتیری ادائیں دل نشیںلیکن ٹھہر تو کون ہےاو نیم عریاں نازنیںکیا مشرقی عورت ہے توہرگز نہیں ہرگز نہیںتیری ہنسی بے باک ہےتیری نظر چالاک ہےاف کس قدر دل سوز ہےتقریر بازاری تریکتنی ہوس آموز ہےیہ سادہ پرکاری تریشرم اور عزت والیاںہوتی ہیں عفت والیاںوہ حسن کی شہزادیاںپردے کی ہیں آبادیاںچشم فلک نے آج تکدیکھی نہیں ان کی جھلکسرمایۂ شرم و حیازیور ہے ان کے حسن کاشوہر کے دکھ سہتی ہیں وہمنہ سے نہیں کہتی ہیں وہکب سامنے آتی ہیں وہغیرت سے کٹ جاتی ہیں وہاعزاز ملت ان سے ہےنام شرافت ان سے ہےایمان پر قائم ہیں وہپاکیزہ و صائم ہیں وہتجھ میں نہیں شرم و حیاتجھ میں نہیں مہر و وفاسچ سچ بتا تو کون ہےاو بے حیا تو کون ہےاحساس عزت کیوں نہیںشرم اور غیرت کیوں نہیںیہ پر فسوں غمزے ترےنا محرموں کے سامنےہٹ سامنے سے دور ہومردود ہو مقہور ہوتقدیر کی ہیٹی ہے توشیطان کی بیٹی ہے توجس قوم کی عورت ہے تواس قوم پر لعنت ہے تولیکن ٹھہر جانا ذراتیری نہیں کوئی خطامردوں میں غیرت ہی نہیںقومی حمیت ہی نہیںوہ ملت بیضا کہ تھیسارے جہاں کی روشنیجمعیت اسلامیاںشاہنشہ ہندوستاںاب اس میں دم کچھ بھی نہیںہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیںملی سیاست اٹھ گئیبازو کی طاقت اٹھ گئیشان حجازی اب کہاںوہ ترکتازی اب کہاںاب غزنوی ہمت گئیاب بابری شوکت گئیایمان عالمگیر کامسلم کے دل سے اٹھ گیاقوم اب جفا پیشہ ہوئیعزت گدا پیشہ ہوئیاب رنگ ہی کچھ اور ہےبے غیرتی کا دور ہےیہ قوم اب مٹنے کو ہےیہ نرد اب پٹنے کو ہےافسوس یہ ہندوستاں!یہ گلشن جنت نشاں!ایمان داروں کا وطنطاعت گزاروں کا وطنرہ جائے گا ویرانہ پھربن جائے گا بت خانہ پھرلیکن مجھے کیا خبط ہےتقریر کیوں بے ربط ہےایسا بہک جاتا ہوں میںمنہ آئی بک جاتا ہوں میںاتنا شرابی ہو گیاعقل و خرد کو کھو گیامجھ کو زمانے سے غرضمٹنے مٹانے سے غرضہندوستاں سے کام کیااندیشۂ انجام کیاجینے دو جینے دو مجھےپینے دو پینے دو مجھےجب حشر کا دن آئے گااس وقت دیکھا جائے گاہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں
ظاہر کی محبت سے مروت سے گزر جاباطن کی عداوت سے کدورت سے گزر جابے کار دل افگار قیادت سے گزر جااس دور کی بوسیدہ سیاست سے گزر جا
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
حسرت ہے ٹپکتی در و دیوار سے کیا کیاہوتا ہے اثر دل پہ ان آثار سے کیا کیانالے ہیں نکلتے دل افگار سے کیا کیااٹھتے ہیں شرر آہ شرر بار سے کیا
دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیارے کو لفظوں سے بھر دیافیصلوں اور فاصلوں کو طول دینے کا فن انہیں خوب آتا ہےجہاز بندرگاہوں میں کھڑے ہیںاور گھروں، گوداموں، دکانوں میںکسی لفظ کے لئے جگہ نہیں رہیاتنے بہت سے لفظ۔۔۔ اف خدایا!مجھے اس زمین پر چلتے ہوئے اٹھائیس برس ہو گئےباپ، ماں، بہنوں، بھائیوں اور محبوباؤں کے درمیانانسانوں کے درمیانمیں نے دیکھاان تعریفوں، تعارفوں اور تعزیتوں کے لیےان کے پاس لرزتے ہوئے ہونٹ ہیںڈبڈبائی ہوئی آنکھیں ہیںگرم ہتھیلیاں ہیںانہیں کسی ابلاغ کی ضرورت نہیںنان بائی گنگناتا ہےاسے لفظ نہیں چاہئےایک ناند۔۔۔ آٹا گوندھنے کے لئےایک تختہ۔۔۔ پیڑے بنانے کے لئےایک سلاخ تنور سے روٹی نکالنے کے لئےنان بائی کا کام ختم کر لو تو میرے پاس آنایہاں کنارے پر سرکنڈوں کا جنگل آپ ہی آپ اگ آیا ہےکچھ قلم میں نے تراشے ہیںاور ایک بانسری۔۔۔باقی سرکنڈوں سے ایک کشتی بنائی ہےگڈریا، کسان، کاشتکار، موسیقار، آہن گرسب تیار ہیںکچھ آوازیں کشتی میں رکھ لی ہیںمدرسے کی گھنٹی۔۔۔ایک لوریاور ایک دعاایک نئی زمین پر زندہ رہنے کے لئے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہئے
مجھ سے آنکھیں تو ملا اے دشمن سوز و گدازتجھ پہ کیا اضداد کی توحید کا افشا ہے راز
پیچھے پیچھے آ رہا ہے کون یہ کیا بات ہےبج رہے ہیں کان اف کیسی بھیانک رات ہے
کیا پیروں کی تھکن اس سفر کو روک سکتی ہےکیا راستے کے روڑے میرے ارادے کو توڑ سکتے ہیںکیا میں یہاں سے واپس لوٹ جاؤں گاکیا میں اور آگے چل نہیں پاؤں گانہیں نہیںشاید مجھے جانا ہے بہت دورگو ہوں میں تھکن سے چوراور بے زار ہر منظر سےجو بار بار لوٹ کر نظر کی اکتاہٹ بن جاتا ہےوہی آسمانوہی زمینوہی چاند وہی ستارےچاندنی میں چمکتے اور مہکتے وہی پھولہاتھوں میں چبھتے وہی ببولوہی میرے من کو سلاخوں میں لہو کرنے والے اقواللیکن شاید اکتاہٹ بھی مانع نہ ہوقدموں کیشاید زندگی قیدی نہ بنے لمحوں کییہ تو ہوائے برگ و بار کی طرح ہےجو کبھی نہ کبھی گزر جائے گیمیرے ذہن کے خزانے کی اوپری سطح کو بھیکبھی نہ چھو پائے گیشاید ابھی آگے بہت دور جانا ہےاور ان بار بار آتے لمحوںہر بار آنکھ کے سامنے ابھرتے منظروںدریاؤں صحراؤں جنگلوںگاؤں اور شہروںکے بھیڑ سے مجھے کوئی نیا رنگنکالنا ہوگااپنے پراگندہ ذہن کو قبر میں دفن کر کےنیا بت نیا مندر بنانا ہوگاپرانے لفظوں سے نیا لفظپرانے معانی سے نئے معانیخلق کرنے ہوں گےیہی نہیںمجھے پارینہ کانوں میںسماعتوں کے نئے پیمانےآنکھوں کے لیےنئے منظر نامے سے ترتیب دینے ہوں گےچلتے چلتے میرے جوتے بھی گھس گئے ہیںمجھے اف جوتوں کو ہی بدلنا ہوگااور آنکھوں پر نئی عینک لگانی ہوگیتاکہ پرانے شیشے میں نئے رنگپرانے نہ دکھائی دیںشاید یہ تھکن مجھے روک نہ پائےشاید میں ان روڈوں کو پھلانگ دوںشاید اپنے ہاتھوں سے ببولوں کو نوچپھینکوںشاید میں سن کی سلاخوں کو توڑ کرباہر آ جاؤںاور ملگجی چاندنی کے عکس گھراپنے لہو سے سرخ رو کر دوںاور قدم بڑھاتے آگے نگل جاؤںشاید مجھے ابھی بہت دور جانا ہے
انجینئرلکھ پڑھ کے میں تو اک دناہل ہنر بنوں گاچاہا اگر خدا نےانجینئر بنوں گاہوگی مرے ہنر سے تعمیر اس وطن کیجاگے گی میرے فن سے تقدیر اس وطن کیچلتی رہیں مشینیں صنعت تمام چمکےجس طرح صبح چمکے ویسے ہی شام چمکےاہل ہنر بنوں گاانجینئر بنوں گاڈاکٹرجسے تکلیف میں پاؤںاسے آرام پہنچاؤںجہاں غم کا اندھیرا ہوخوشی کی روشنی لاؤںجہاں آنسو برستے ہوںہنسی اس گھر میں بکھراؤںدعا ہے ڈاکٹر بن کردکھی لوگوں کے کام آؤںوطن کا سپاہیوطن کا بہادر سپاہی بنوںشجاعت کی دنیا کا راہی بنوںلیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹوطن میں جہاں ہو ضرورت مریوہیں کام آئے شجاعت مریدلیری کا میں سب کو پیغام دوںجو مشکل ہو وہ کام انجام دوںہمیشہ ترقی کی راہوں میں ہمچلیں ساتھیوں سے ملا کے قدملیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹٹیچرنا چاندی نا سونا چاہوںمیں تو ٹیچر ہونا چاہوںحاصل جو تعلیم کروں میںسب میں اسے تقسیم کروں میںننھے منے بچے آئیںعلم کی دولت لیتے جائیںکم نہ ہو یہ تقسیم کئے سےجلتا ہو جیسے دیا دئے سےپائلٹبلندی پہ جا کے سفر کرنے والاہوا باز اونچا ہوا باز اعلیٰوہ رن وے پہ آیا جو ٹیک آف کرنےتو سورج نے پہنائی کرنوں کی مالاپسنجر ہیں سیٹوں پہ بے فکر بیٹھےاڑائے لیے جا رہا ہے جیالاہماری امنگوں سے کیا کہہ رہا ہےفضاؤں میں اڑتا ہوا یہ اجالاوکیلانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںمظلوم سے ہو ہمدردیظالم کو سزا دلواؤںمجرم کے کالے دل میںقانون کی شمع جلاؤںہر بات میں سب سے آگےانصاف کی بات بڑھاؤںانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںہاریسوچا ہے میں نےہاری بنوں گاکھیتوں میں جھوموںگندم اگا کےدھرتی کو چوموںفصلیں سجا کےسارے وطن کوخوش حال کر دوںخوشیوں سے سب کےدامن کو بھر دوںہاری بنوں گا
وہ کچھ دوشیزگان ناز پرورکھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پرنظر کے سامنے ہے ایک محشراور اک محشر ہے میرے دل کے اندرسنہرا کام رنگیں ساریوں پربساط آسماں پر ماہ و اخترجمال و حسن کے پر رعب تیورنمایاں چاند سی پیشانیوں پروہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخیلبوں میں پر فشاں روح گل ترسیہ زلفوں میں روح سنبلستاںنظر سر چشمۂ تسنیم و کوثرادائے ناز غرق کیف صہباسیہ مژگاں شراب آلودہ نشترچمک تاروں کی چشم سرمگیں میںجھلک چاندی کی جسم مرمریں میںوہ خوشبو آ رہی ہے پیرہن سےفضا ہے دور تک جس سے معطرتبسم اور ہنسی کے نرم طوفاںفضاؤں میں مسلسل بارش زرنشاط رنگ و بو سے چور آنکھیںشراب ناب سے لبریز ساغروہ محرابیں سی سینوں پر نمایاںفضائے نور میں کیوپڈ کے شہ پرنفس کے آمد و شد سے تلاطمشب مہتاب میں جیسے سمندرستاروں کی نگاہیں جھک گئی ہیںزمیں پھر خندہ زن ہے آسماں پرکوئی آئینہ دار حسن فارسکسی میں حسن یونانی کے جوہرکسی میں عکس ''معصوم کلیسا''کسی میں پرتو اصنام آذریہ شیریں ہے وہ نوشابہ ہے شایدنہیں یاں فرق فرہاد و سکندریہ اپنے حسن میں عذرائے وامقوہ اپنے ناز میں سلمائے اخترؔیہ تابانی میں خورشید درخشاںوہ رعنائی میں اس سے بھی فزوں ترہنسی اس کی طلوع صبح خنداںنوا اس کی سرود کیف آوریہ شعلہ آفریں وہ برق افگنیہ آئینہ جبیں وہ ماہ پیکروہ جنبش سی ہوئی کچھ آنچلوں کووہ لہریں سی اٹھیں کچھ ساریوں پرخرام ناز سے نغمے جگاتیوہ چل دیں ایک جانب مسکرا کرکسی کی حسرتیں پامال کرتیکسی کی حسرتیں ہمراہ لے کرکبھی آنکھیں دکانوں پر جمی ہیںکبھی خود اپنی ہی برنائیوں پرادھر ہم نے اک آہ سرد کھینچیہنسی پھر آ گئی اپنے کئے پر
میں بھی اس وقت سر راہ تھا حیراں حیراںپا برہنہ نظر آوارہ تن افگار خموشدرد سے مہر بلب صورت دیوار خموشخلش حسرت جاں تھی کہ کوئی پہچانےشمع سی دل کے نہاں خانے میں لرزاں لرزاںمجھ پہ کیا بیت گئی کون سنے کیا جانےچشم خوں بستہ کو آسیب کا مامن سمجھاقافلے والوں نے شاید مجھے رہزن سمجھا
حضور حق سے چلا لے کے لولوئے لالاوہ ابر جس سے رگ گل ہے مثل تار نفسبہشت راہ ميں ديکھا تو ہو گيا بيتابعجب مقام ہے ، جي چاہتا ہے جاؤں برسصدا بہشت سے آئي کہ منتظر ہے تراہرات و کابل و غزني کا سبزئہ نورسسرشک ديدہ نادر بہ داغ لالہ فشاںچناں کہ آتش او را دگر فرونہ نشاں!
فرش گل کی جا ہے بستر خار کارنگ فق ہے ہر جگر افگار کاصدمہ ہے اندوہ کے آزار کادل فسردہ حال ہے بیمار کاپا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زنلوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن
لق و دق صحرا میں یا میدان میںیا عرب کے گرم ریگستان میںسایہ افگن ہے نہ واں کوئی چٹانسرد پانی کا نہ دریا کا نشانچلچلاتی دھوپ ہے اور چپ ہواواں پرندہ بھی نہیں پر مارتاتو وہاں کے مرحلے کرتا ہے طےدن بہ دن اور ہفتہ ہفتہ پے بہ پےقیمتی اشیا ہیں تیری پشت پرتاجروں کا ریشم اور شاہوں کا زرتودہ تودہ تیرے اوپر لد رہاہے بھرا گویا جہاز پر بہاچند ہفتے جب کہ جاتے ہیں گزراور تھکا دیتا ہے راکب کو سفراونٹ! گھبراتا نہیں تو بار سےدیکھتا ہے اس کی جانب پیار سےگویا کہتا ہے کہ اے میرے سوارایک دن تو اور بھی ہمت نہ ہارہاں نہ بے دل ہو نہ رستے میں ٹھٹکصاف سر چشمہ ہے آگے دھر لپکمجھ کو آتی ہے ہوا سے بوئے آبناامیدی سے نہ کر تو اضطراباونٹ تو کرتا ہے اس کی رہبرییوں بنا دیتا ہے راکب کو جریآخرش منزل پہ پہنچاتا ہے تواور سوکھے خار و خس کھاتا ہے توصبر سے کرتا ہے طے راہ درازسچ کہا ہے تو ہے خشکی کا جہازالغرض تو ہے حلیم و خوش خصالتربیت میں چھوٹے بچوں کی مثال
ریل گاڑی یہ گھمسان الٰہی توبہنہ مروت نہ تکلف نہ تبسم نہ ادایوں ہی اک غیر شعوری سی خشونت کا خروشبے ارادہ ہے تو کیا غیر شعوری ہے تو کیایہ نئے دور کے احساس غلامی کا ظہورانتقامانہ تحکم کی نموداس میں اک اظہار بغاوت بھی تو ہےیوں ہی یوں ہی سہیاک شائبہ داد شجاعت بھی تو ہےچاک تو کرتا ہوں میں اپنا گریباں ہی سہیکلبلاتی ہوئی مخلوق کی اس دلدل میںسینہ تانے ہوئے کچھ لوگ بڑھے جاتے ہیںخوب پھنکارتے پھن پھیلائےلوگ وہ لوگ نہیںجن کو ٹھکراتے ہوئے جاتے ہیںیہ لوگ بڑے صاحب لوگیہ جو حکام ہمارے ہیں یہ حکام نہیںجو ہمیں سے ہیں مگر ہم میں نہیںیہ جو بندوں کے ہیں آقا مگر آقا کے غلامبا وفا ہوں تو ہوں بے دام نہیںتو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھاان پہ دنیا کی ہر اک راہ کشادہ ہے مگرآج اک سنگ راں حائل ہےکہ اٹھائے نہ اٹھے اور ہلائے نہ ہلےدوسرے درجے کے دروازے میںان کے آقاؤں کا اک فرد فرنگی گوراباہیں پھیلائے ہوئے راستہ روکے ہے کھڑاکون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشقسیٹیاں بجنے لگیں خدمت سرکار بجا لانا ہےاور سرکار ہی خود سنگ رہ منزل ہےزندگی آ گئی دوراہے پردیر کیوں کرتے ہو بھاگو بھاگودوڑ کر تھرڈ کے ڈربے میں گھسواپنے ہم جنس غلاموں میں ملوزندگی آ گئی دوراہے پر
اس خبر کے آنے کے بعدمیں اپنے گھر کی کھڑکیاںبند کرتی ہوںبجلی کے تار سوئچ آف کر دیتی ہوںفریج میں رکھا کھاناپڑوس میں دے دیتی ہوںبچا ہوا دودھ گلی کی بلی کے آگےڈال دیتی ہوںاور ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیتی ہوںتمام دروازے لاک کر کےسڑک پر نکل جاتی ہوںدوپہر سے پہلےیا رات کے کسی پہرسرکاری گاڑی میںسرکاری مردہ خانے میںمجھے باقی جلا وطنوں کے ساتھپھینک دیا جائے گااور ایک خبر چھپے گیملزمہ فلاں بنت فلاں کے گھرپرانے صندوق میںپرانے کپڑوں کی تہوں میںبہت سی نظمیںقابل اعتراض حالت میں پائی گئیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books