aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Taa.nkaa"
اک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاجو پھول بکھر جائے وہ مرجھا کے نہیں کھلتاجو وقت ملا ہم کو اللہ کی امانت ہےاک خواب کا چہرا ہے تعبیر کی صورت ہےگر حکم نہ ہو اس کا پتا بھی نہیں ہلتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاموقعے کا بس اک ٹانکا تو ٹانکے بچاتا ہےادھڑے ہوئے دامن کو پھٹنے سے بچاتا ہےتاخیر جو ہو جائے پھر یوں ہی نہیں سلتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاتوقیر کرو اس کی جو لمحہ میسر ہےجو وقت پہ ہو جائے بس کام وہ بہتر ہےہاتھوں سے پھسل جائے جو بخت نہیں ملتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتا
ملائم گرم سمجھوتے کی چادریہ چادر میں نے برسوں میں بنی ہےکہیں بھی سچ کے گل بوٹے نہیں ہیںکسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے
تیز مہکارپھر لہریے دار تصویر میں ڈھل گئیایک سگریٹ تھی جل گئیدوسری تیرے ہاتھوں میں آ کے سلگنے لگیراکھ جھڑنے لگیراکھ داں اس نومبر کا بھر جائے گااور بھی آخر آخر آئے آئے گاراکھ سے اڑتی چنگاریوں سے بھرا ایک دنکب کا سورج کی آنکھوں میں رکھا ہوارات کے اس کنارے پہ ٹانکا ہوا چاند حیران ہےدھند اطراف میں تو دھوئیں ہی سے آمیز ہےآنچ کیوں تیز ہےزرد پتے دہکنے لگے چار سوپھر زمستاں کی سانسوں میںگھلنے لگی ہے کوئی آرزوتیز مہکار ہے
بیس برس وہ پرانی شرٹنکلی ہے الماری سےمیں نے تہہ کر کے اس کوالماری کے سب سے اوپر والے خانے میں رکھا تھاجیسے میری بوڑھی ماں قرآن کو چوم کے رکھتی تھیتیری یادوں کے پرفیوم کے دھبے پڑے ہیں اب تکاور میں چھو کر دیکھوں توخوشبو بھی اب تک گئی نہیں ہےوقت اس شرٹ کی آستین کا گھسا ہوا ہےبس میں آخری بار جو تیرا ٹکٹ لیا تھاجیب میں اب تک پڑا ہوا ہےتو نے آخری بار بٹن ٹانکا تھا اس میںیاد ہے جاناںدانت سے دھاگہ توڑ کے کیسےسوئی چبھوئی تھی سینے میںاس کی ٹیسیں آج بھی میرےدل میں رہ رہ کر اٹھتی ہیں
کیا میں تجھے دیکھ پاؤں گااس لن ترانی کے گنبد میںمیری صدا گونجتی ہی رہے گینہ جانے تجھے کس کے ملبوس پرخواب کی نوک سوزن سےٹانکا گیا ہے!!
کوئی ٹانکا کہیں ٹوٹا ہے سناٹے کے ہونٹوں کایہ کوئی چیخ ہے سمجھو کہیں پر مر گیا کوئیکسی افتادہ دل پر پاؤں شاید دھر گیا کوئیچلو چلتے رہو
یہ ریشمی سا حسین بندھنجو سب گواہوں کی حاضری میں رقم ہوا تھاخدا ہی جانے کہاں کہاں سے رفو کیا ہےیہ ریشمی سا گداز بندھنیہ جب بھی الجھاتو خارزاروں کی دھجیوں سے اسے سیا ہےرفو گری کا ہر ایک ٹانکا گواہ اس کابچا رہی ہوں یہ ریشمی سا حسین بندھن
اتنا چلے کہ نیم اداسی میں اس کی باتاتنا رکے کہ یاد میں ٹانکا لگا لیااتنا رہا کہ آنکھ میں جنبش بنی رہیمٹی میں ایک رنگ تھا جس کو بچا لیا
آج اس کی ڈیوٹی کا یہ پہلا دن تھااور اس کے باس کے بنگلے پرکوئی پارٹیدیر رات تک گرم رہیلیکناب بھی اس کے جوڑے کی وہ کلیاںجوں کی توں ہیںمہک رہی ہیںجن کو صبحامانت نے اپنے ہاتھوں سے ٹانکا تھا
جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکاغم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکاجب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیںپھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگاغیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگابات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیںاس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیرہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسےاس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کردوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبراس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دلیوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےیہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہےاک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکناتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئیاس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہےتم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیںکوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہےفتح كا جشن ہو کہ ہار كا سوگزندگی میتوں پہ روتی ہے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےیہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہوجگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہوانگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرفاک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرفچوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گےکانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گےپھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیںاب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیںلوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گےباتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گےان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لیناورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گےچاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سےمیرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سےبات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
اے دل پہلے بھی تنہا تھے، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیںاور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیںجو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئےاس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں کیا انشاؔ کو سمجھانا ہےاس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے گو اب کچھ اور زمانا ہےیا چھوڑیں یا تکمیل کریں یہ عشق ہے یا افسانا ہےیہ کیسا گورکھ دھندا ہے یہ کیسا تانا بانا ہےیہ باتیں کیسی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کاتنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کیخیریت جاں راحت تن صحت داماںسب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیںاتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہرچھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جالسڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلیویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکانچھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحنکچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا گلابکھلتے ہوئے گلاب میں مہکا ہوا بدنمہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دلاس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میںیوں ہے کہ اس زمیں سے بڑا ہو گیا ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books