aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aamlii"
آ گئی پھر وو ایک گھڑیپتہ لگا وو بھی تھی ایک لڑکیاتنا ہی تو پتہ تھا بسپھر نہ جانے کیوں نئی تھے سب خوشوو پوچھ اچانک تانے بن گئیاملی کی پھلی نیم کی چھڑی بن گئیکوئی چاہتا نہیں تھا مجھ سے پھر ایک میں آؤںسب کی ضد تھی میں گربھ پات کراؤںکیوں آخر کیوںپھر ایک لڑکی سے چھننے والا اوس کا گھر بار تھاکیا یہی میرے سپنو کا سنسار تھا
سنتے ہیں شہر میں جو خواتین کا ہے بینکپرویز کا نہیں ہے یہ پروین کا ہے بینکرکھی ہیں اس لیے یہاں خاتون منیجراس محکمے کو چاہئے باتون منیجرلیڈیز اتحاد جو بیگانگی سے ہےکیا جانے خوف کیا انہیں مردانگی سے ہےنوک زباں بھی چلنے لگی ہے زباں کے ساتھبیٹی بھی ہے شریک لڑائی میں ماں کے ساتھہر نازنیں کے سامنے اک بیوٹی بکس ہےباقی رکھا ہے گھر میں یہ تھوڑا سا عکس ہےبیٹھی ہیں اپنے سامنے گیسو سنوار کےلاکر میں رکھ دیا ہے دوپٹہ اتار کےچٹخارے ہیں زباں پہ نظر میں اشارے ہیںہر ماہ وش کے پرس میں املی کٹارے ہیںجو بات کر رہی ہیں کمائی کے شعبے کیوہ ہیڈ ہیں لگائی بجھائی کے شعبے کیکل ساس سے زبان کے بل پر لڑی ہیں یہعلم لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں یہکھاتے کی ان کو فکر نہ لیجر کی فکر ہےنندوں کی غیبتیں ہیں تو دیور کا ذکر ہےشادی کے بعد نقطہ بنیں ڈیش ہو گئیںپہلے جو چیک بک تھیں وہ اب کیش ہو گئیںہر نازنیں کی عمر بھی خفیہ اکاؤنٹ ہےکیا جانے ان کی عمر میں کتنا اماؤنٹ ہےیہ حسن کا خزانہ کوئی کیا دبوچے گاڈاکو بھی ڈاکہ ڈالنے سے پہلے سوچے گاناکارہ شوہروں کو بھی ڈیبٹ کرائیےنسوانیت یہاں سے کریڈٹ کرائیے
شام کے دھندلے سائے میںاملی کے اک پیڑ کے نیچےمیری پیشانی پہ لکھا تھا تماپنے سرخ لبوں کا نامسارے بدن میںستار کے تاروں نے چھیڑا اک نغمہوہی نام ابمیرے لہو کی تنگ گلی میں گانے لگا ہے!
ہری مرچاملی کی چٹنیکچی پیازاور سوکھی روٹیجی بھر کےچشمے کا پانیسر پہ جنگلی پیڑ کا سایااوریہ دنیا جنت ہے
مری جاں یہ مدت سے میں جانتی ہوںتمہارا یہ دل کوئی پتھر نہیں ہےدھڑکتا تو ہے اس کی دھڑکن میں لیکنکہیں کوئی لمحہ مرے نام پر ختم ہوتا نہیں ہےتمہاری یہ آنکھیں چھلکتی ہیں لیکنیہ آنسو جو پلکوں پہ ٹھہرے ہیں ان میںکوئی بھی تو میری جدائی میں ٹپکا نہیں ہےبسے ہیں کئی خواب ان میں یہ سچ ہےمگر ایک بھی خواب میرے تصور سے آباد کب ہےتمہارے لبوں پر یہ نغمے بھلا کب مری شان میں ہیںیہ میں جانتی ہوں کہیں دور املی کے اک پیڑ کی اوٹ سےکوئی اونچی حویلی کے کوٹھے سے ملہار گا کر بلاتا ہے تم کوجسے سن کے تم مضطرب اور بے چین ہوتے ہو بے حدمری جانمجھ سے یہ جھوٹی محبت کا اظہار کرنے پہ پھر اتنے مجبور کیوں ہومیں سچ کہہ رہی ہوںاگر لوٹ کر تم چلے بھی گئے اس صدا پر مجھے غم نہ ہوگابزرگوں کی خواہش پہ تم نےمری مانگ میں یہ جو افشاں بھری ہے قسم ہے اسی کیکہ ماتھے پہ میرے تمہارا ہی تو نام لکھا رہے گاجو مل جل کے ہم نے کبھی بھی کہیں بھیکسی پیڑ کی جڑ میں لکھا نہیں تھا
تمہیں اک بات کہنی تھیاجازت ہو تو کہہ دوں میں
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
اور امی نے سمجھائی نہیںمیں کیسے میٹھی بات کروںجب میں نے مٹھائی کھائی نہیںآپی بھی پکاتی ہیں حلوہپھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں
بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخضر کا پیغام کیا ہے یہ پيام کائناتاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمايہ دار حيلہ گرشاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہیاہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشيشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نباتنسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگخواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکراتکٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیاتمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور ماتاٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہےہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلکنغمۂ بيداریٔ جمہور ہے سامان عیشقصۂ خواب آور اسکندر و جم کب تلکآفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہواآسمان ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلکتوڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمامدوریٔ جنت سے روتی چشم آدم کب تلکباغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلککرمک ناداں طواف شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہودنیائے اسلام
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
''خواب لے لو خواب۔۔۔۔''صبح ہوتے چوک میں جا کر لگاتا ہوں صداخواب اصلی ہیں کہ نقلی؟''یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کرخواب داں کوئی نہ ہو!
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضازیادہ کس سے کہوں اور کس کو کم بولوتم اہل خانہ رہے اور میں یتیم ہواتمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو
یہ بچہ کس کا بچہ ہےیہ بچہ کیسا بچہ ہےجو ریت پہ تنہا بیٹھا ہےنا اس کے پیٹ میں روٹی ہےنا اس کے تن پر کپڑا ہےنا اس کے سر پر ٹوپی ہےنا اس کے پیر میں جوتا ہےنا اس کے پاس کھلونوں میںکوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہےنا اس کا جی بہلانے کوکوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہےنا اس کی جیب میں دھیلا ہےنا اس کے ہاتھ میں پیسا ہےنا اس کے امی ابو ہیںنا اس کی آپا خالا ہے
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
اب یہی ہے تجھے منظور تو اے جان قرارمیں تری راہ نہ دیکھوں گا سیہ راتوں میںڈھونڈھ لیں گی مری ترسی ہوئی نظریں تجھ کونغمہ و شعر کی امڈی ہوئی برساتوں میں
سر پہ اپنے جوڑا باندھےمانجھی کی امید لگائےبھیگی اجلی صبح میں تمکہرے کی چادر میں لپٹیندی کنارے سوچ میں گمتاج محل سی لگتی ہو
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنیمنظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانیمدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےتھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانیحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھااقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانیپابندئ احکام شریعت میں ہے کیساگو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانیسنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانیہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا ساتفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانیسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانیکچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہےعادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانیگانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوتاس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانیلیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نےبے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانیمجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانیرندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقفپوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانیاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتیہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانیالقصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنےتا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانیاس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میںمیں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانیاک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہدپھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانیفرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھیتھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانیمیں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہےیہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانیخم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانیگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقتپیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانیمیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناساگہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانیمجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوںکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانیاقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہےکچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
کبھی ہم خوبصورت تھےکتابوں میں بسیخوشبو کی صورتسانس ساکن تھیبہت سے ان کہے لفظوں سےتصویریں بناتے تھےپرندوں کے پروں پر نظم لکھ کردور کی جھیلوں میں بسنے والےلوگوں کو سناتے تھےجو ہم سے دور تھےلیکن ہمارے پاس رہتے تھےنئے دن کی مسافتجب کرن کے ساتھآنگن میں اترتی تھیتو ہم کہتے تھےامی تتلیوں کے پربہت ہی خوبصورت ہیںہمیں ماتھے پہ بوسا دوکہ ہم کو تتلیوں کےجگنوؤں کے دیس جانا ہےہمیں رنگوں کے جگنوروشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیںنئے دن کی مسافترنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھکھڑکی سے بلاتی ہےہمیں ماتھے پہ بوسا دوہمیں ماتھے پہ بوسا دو
(۲)مت رو بچےرو رو کے ابھیتیری امی کی آنکھ لگی ہےمت رو بچےکچھ ہی پہلےتیرے ابا نےاپنے غم سے رخصت لی ہےمت رو بچےتیرا بھائیاپنے خواب کی تتلی پیچھےدور کہیں پردیس گیا ہےمت رو بچےتیری باجی کاڈولا پرائے دیس گیا ہےمت رو بچےتیرے آنگن میںمردہ سورج نہلا کے گئے ہیںچندرما دفنا کے گئے ہیںمت رو بچےامی، ابا، باجی، بھائیچاند اور سورجتو گر روئے گا تو یہ سباور بھی تجھ کو رلوائیں گےتو مسکائے گا تو شایدسارے اک دن بھیس بدل کرتجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books