aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baKHshe"
دل و جاں اور آسائش یہ اک کونی تمسخر ہےحمق کی عبقریت ہے سفاہت کا تفکر ہےحمق کی عبقریت اور سفاہت کے تفکر نےہمیں تضیع مہلت کے لیے اکوان بخشے ہیںاور افلاطون اقدس نے ہمیں اعیان بخشے ہیں
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اس جلوۂ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ!ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیںیہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیںیہ کوہ یہ صحرا یہ سمندر یہ ہوائیںتھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیںآئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ!سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے!دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے!ناپید ترے بحر تخیل کے کنارےپہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارےتعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھخورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میںآباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میںجچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میںجنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میںاے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سےتو جنس محبت کا خریدار ازل سےتو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سےمحنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سےہے راکب تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ!
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
مرے لیے کون سوچتا ہےجدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارےجدا جدا سب کی صورتیں ہیںسبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئےخواہشوں کے پنجرہوس کے ٹکڑےحواس ریزےہراس کنکر تلاشنا ہیںسبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میںقطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہےسبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھوراثت میں جھیلنا ہےمرے لئے کون سوچتا ہےسبھی کی اپنی ضرورتیں ہیںمری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشےشفا کی شبنممری اداسی کو کون بہلائےکسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھےکہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیںمری مشقت کی شاخ عریاں پرسازشوں کے عذاب کیوں ہیںمری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیںمرے سفر میں سراب کیوں ہیںمرے لیے کون سوچتا ہےسبھی کے دل میں کدورتیں ہیں
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
مسکرا کر خالق ارض و سما نے دی ندااے غزال مشرقی آ تخت کے نزدیک آنعمتیں سب بٹ چکیں لیکن نہ ہونا مضمحلسب کو بخشے ہیں دماغ اور لے تجھے دیتے ہیں دل
لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کیمگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کیوہ اک فانی بشر تھا میں یہ باور کر نہیں سکتابشر اقبال ہو جائے تو ہرگز مر نہیں سکتابہ زیر سایۂ دیوار مسجد ہے جو آسودہیہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہیہ خاکی جسم بھی اس کا بہت ہی بیش قیمت تھاجسے ہم جلوہ سمجھے تھے وہ پردہ بھی غنیمت تھااسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیماناغزل خواں اس کو جانا ہم نے شاعر اس کو گردانافقط صورت ہی دیکھی اس کے معنی ہم نہیں سمجھےنہ دیکھا رنگ تصویر آئنے کو دل نشیں سمجھےہمیں ضعف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہسکھائے اس کے پردے نے ہمیں آداب نظارایہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہائے ساز کم سمجھےرہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھےشکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخرطلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخرمقید اب نہیں اقبالؔ اپنے جسم فانی میںنہیں وہ بند حائل آج دریا کی روانی میںوجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کیتعالی اللہ اب دیکھے کوئی پائندگی اس کیجسے ہم مردہ سمجھے زندہ تر پائندہ تر نکلامہ و خورشید سے ذرے کا دل تابندہ تر نکلاابھی اندازہ ہو سکتا نہیں اس کی بلندی کاابھی دنیا کی آنکھوں پر ہے پردہ فرقہ بندی کامگر میری نگاہوں میں ہیں چہرے ان جوانوں کےجنہیں اقبالؔ نے بخشے ہیں بازو قہر مانوں کے
پژمردہ وہ گل دب کے ہوئے خاک کے نیچےخوابیدہ ہیں خار و خس و خاشاک کے نیچےرہنے کے لیے دیدہ و دل جن کے مکاں تھےجو پیکر ہستی کے لیے روح رواں تھےمحبوب دل خلق تھے جاں بخش جہاں تھےتھے یوسف ثانی کہ مسیحائے زماں تھے
ترے پاس ایسی بھی کوئی کرن ہےجو ایسے درختوں میں بھی راہ پائےجو ٹھہرے ہوؤں کو جو سمٹے ہوؤں کوحرارت بھی بخشے گلے بھی لگائےبڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورجہمالہ کے اونچے کلس جگمگائے
محبتوں کے بہت جام تو نے بخشے ہیںفروغ عشق علی کا بھی جام پیدا کر
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
وہ فروغ بخش ہر انجمن کہ زمانہ بھر میں تھا ضو فگنوہ چراغ بزم گہ وطن کسی تیرہ دل نے بجھا دیا
زندگانی کی کڑی شرطیں ہیںیہ عبادت ہے تمہاری کہ مرے بخشے ہوئے دکھ جھیلوان پرندوں کا، بہائم کا تصوف دیکھوکیسے منقار شکستہ طائردانے دانے کو ترس جاتا ہے دانوں میں گھرامشت پر خاک میں ڈھل جاتی ہے رفتہ رفتہجان کھو دینے کے بے زار ارادے کے بغیرکسی شکوے کے بغیر''
شیریں نرمل جھرنے جیسیٹھنڈی تازہ ہوا کے ایسیرم جھم اور برکھا کی طرح توسورج اور چندا سی سخی ہےجلتی دھوپ میں بادل ہے تورب کے پیار کی چھاگل ہے توہاں ماں بالکل ایسی ہے توتو سیتا تو مریم ہے ماںرابعہ اور صفیہ ہےتو ہے یشودھا تو ہے حلیمہزینب تو ہے فاطمہؓ ہے توپاروتی اور دیوکی ہےآمنہ اور حوا ہے تویہ دھرتی یہ دنیا تجھ سےدنیا کی سب رونق تجھ سےتو دنیا کی مالک ہےیہ دنیا تیری ہے ماںتو نے ہم کو کیا کیا بخشےپیر پیمبر بھائی دوستاور پھولوں سی بہنا دیہر سکھ اور ہر غم کی ساتھیبالکل اپنی ہی جیسیمحبوبہ بھی تو نے دیتو سچ مچ دیوی ہے ماںسارے رشتے ناتے تجھ سےرشتوں کی جننی ہے توہاں ماں بالکل ایسی ہے توتو ہے کریم اور تو ہے حلیمخالق تو ہے رازق ہے توستاری غفاری تجھ میںرحمت اور عظمت کی مورترب کے سارے گن ہیں تجھ میںماں بالکل تو رب جیسی ہےیا شاید رب تیرے جیساکیوں کہ ماں اب رب بھی توتیری طرح مجبور بہت ہےاپنوں کے زخموں سے وہ بھیلگتا ہے کہ چور بہت ہےماں بالکل تو رب جیسی ہےیا شاید رب تیرے جیسا
چھوٹا سا اک بچہ ہوں میںباتیں بھی چھوٹی ہیں میریکرنا چاہوں ایک وضاحتبتلاؤں میں ایک حقیقتمسجد مندر ماں ہوتی ہےپیار سمندر ماں ہوتی ہےاک سرمایہ ماں ہوتی ہےٹھنڈی چھایا ماں ہوتی ہےخود دکھ سہہ کر سکھ دیتی ہےحق کہتی ہے سچ کہتی ہےڈھال کی صورت وہ رہتی ہےسب کچھ خود ہی وہ سہتی ہےماں کا پیار محبت چاہتہر اک دل کو بخشے راحتماں تو ایک نرالی دولتماں کے قدموں نیچے جنتجس نے ماں کا رتبہ جانااس نے رب کو ہے پہچاناماں کا رشتہ جاننے والےعظمت کو پہچاننے والےغور سے سن لیں میرا کہناماں ہیرا ہے ماں اک گہنارب اک روپ ہے ماں ممتا کاماں میوہ ہے اس دنیا کا
ابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچوابھی تو اس کہانی میںمحبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تکنظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کےسارے ذائقے تبدیل ہونے تکبہت سے موڑ آنے ہیںمجھے ان سے گزرنے دوذرا محسوس کرنے دوکہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہےمرے لہجے میں اپنا کس طرح آہنگ بدلا ہےمجھے تھوڑا سنبھلنے دو ابھی ٹھہروابھی ٹھہرو کہ وہ خوش بخت ساعت بھی ابھیمجھ تک نہیں پہنچیجو دل کے آئینے کو وہم کی اندھی گلی سےاعتبار ذات کی سرحد پہ لاتی ہےاسے رستہ بتاتی ہےابھی ان راستوں پر تم مجھے کچھ دیر چلنے دوابھی ٹھہروکوئی خواہش امید و بیم کے مابین اب بھیسانس لیتی ہےاسے اس کرب سے آزاد کرنے دووہ سارے خوابجن کو دیکھنے کا قرض میں لوٹا نہیں پائیمجھے ان کے لیے تعبیر کا صفحہ پلٹنے دوابھی ٹھہروکسی بیتے ہوئے موسم کے بخشے زخماب بھی آنکھ کی پتلی میں روشن ہیںذرا یہ زخم بھرنے دومسیحائی تمہاریروح کی پاتال تک کیسے پہنچتی ہےمجھے اندازہ کرنے دوابھی ٹھہروابھی سے اس تعلق کاکوئی عنوان مت سوچو
دبی ہوئی ہے مرے لبوں میں کہیں پہ وہ آہ بھی جو اب تکنہ شعلہ بن کے بھڑک سکی ہے نہ اشک بے سود بن کے نکلیگھٹی ہوئی ہے نفس کی حد میں جلا دیا جو جلا سکی ہےنہ شمع بن کر پگھل سکی ہے نہ آج تک دود بن کے نکلیدیا ہے بے شک مری نظر کو وہ ایک پرتو جو درد بخشےنہ مجھ پہ غالب ہی آ سکی ہے نہ میرا مسجود بن کے نکلی
پھر آگیا جہاں میں رمضان کا مہینہاللہ کے کرم اور احسان کا مہینہاللہ کی عنایت اور اس کی خاص رحمتہم کو عطا کیا ہے قرآن کا مہینہدی ہے ہمیں خدا نے روزے کی ایسی نعمتاہل خرد سمجھتے ہیں اس کی قدر و قیمتشیطانی حرکتوں سے رکھے ہے دور روزہبخشے ہے آدمی کو دل کا سرور روزہاحکام پر خدا کے ہم کو چلائے روزہہم کو فرشتوں سے بھی افضل بنائے روزہحکم خدا کی جس نے تعمیل کر لی بچواس کی عنایتوں سے جھولی بھی بھر لی بچویہ ضبط نفس کا ہے اور صبر کا مہینہہم کو سکھا رہا ہے جینے کا اک قرینہہیں کس قدر منور راتیں عبادتوں سےاور عطر بار سے ہیں دن بھی ریاضتوں سےرب نے عطا کی ہم کو افطار کی فضیلتآئی سمجھ میں کھانے پینے کی قدر و قیمتاے رب قبول کر لے مومن کی یہ ریاضتاپنے نبیؐ کے صدقے میں دے دے سب کو جنت
نیا زمانہ جو دنیا کو روشنی بخشےہر آدمی کو نئی ایک زندگی بخشے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books