aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chire"
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
دشوار جو کر جائے جینامظلوم کا چیرے جو سینہ
ایک بار پھرآسماں نے چیخنا بند کر دیازمیں کے زائیدوں کی تھکناور اس کی کراہیںسمیٹنے کی گھڑی آئیچند پابند سلاسل باہر نکلےاور بہتوں نےزندگی کی قید سے رہا پائیویرانیوں میں بدلتی آبادیاںانسانوں سے بھری بستیاںملبوں کا ڈھیر ہوئیںٹھٹھرتی برفانی ہوائیںخون آلود بدبو دار لوتھڑےسنگلاخوں پر بکھرے بھوکے پیکرآسماں دیکھتی بے نام امیدیںافیہاں آباد خطوں پربے نشاں نسلوں کی حکمرانی ہےیہاں لرزتی ہر سانس پرلمحہ لمحہ میزائلوں کی گڑگڑاہٹروز سماعت چیرے دیتی ہےاور خدا کے سادہ دل بندےبے آب و گیاہ ہر دنخاک و خون میں لتھڑےزخمی جگر گوشوں کو اپنےکلیجے سے لگائے ہیںدھاڑیں مارتے ہیں روز و شباور اس جانبپاسبان امن عالمبقائے نسل انسانی کے نعروں کواچھالے پھرتے ہیں زوروں سےانہیں دکھتا نہیں کچھمگر اتنا سمجھ آتا ہے ان کویہ وہ خطہ ہے جس کی بازیابیضروری ہے کہ اس سےاقوام عالم کے سارے مراکزذخائر اور وسائلسب کچھانہی کے زیر پا ہوگااور دور بیٹھا سایہ سوچتا ہےہٰذا من فضل ربی کے شیداجانے کب سے سرنگوں ہیں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئےہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھاتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھاتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھایہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشتتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھادل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصلتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھاترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہومیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھااگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصلبھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہےاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھاعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبےانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھاسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نےتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میںمجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایاکہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہاسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کوفضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سےمری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دیسمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سےہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیںوہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہےاندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میںاگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہےاسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبتاسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہےتونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کومگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہےیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
یوں اچانک تری آواز کہیں سے آئیجیسے پربت کا جگر چیر کے جھرنا پھوٹےیا زمینوں کی محبت میں تڑپ کر ناگاہآسمانوں سے کوئی شوخ ستارہ ٹوٹے
وہ ماں کہ آیت رحمت ہے جس کی چین جبیںوہ ماں کہ ہاں سے بھی ہوتی ہے بڑھ کے جس کی نہیںدم عتاب جو بنتی فرشتہ رحمت کاجو راگ چھیڑتی جھنجھلا کے بھی محبت کاوہ ماں کہ گھڑکیاں بھی جس کے گیت بن جائیںوہ ماں کہ جھڑکیاں بھی جس کی پھول برسائیںوہ ماں ہم اس سے جو دم بھر کو دشمنی کر لیںتو یہ نہ کہہ سکے اب آؤ دوستی کر لیںکبھی جو سن نہ سکی میری توتلی باتیںجو دے سکی نہ کبھی تھپڑوں کی سوغاتیںوہ ماں بہت سے کھلونے جو مجھ کو دے نہ سکیخراج سر خوشئ سرمدی جو لے نہ سکیوہ ماں میں جس سے لڑائی کبھی نہ ٹھان سکاوہ ماں میں جس پہ کبھی مٹھیاں نہ تان سکا
دھوپ ڈھلنے لگیبس ذرا دیر میں رات ہو جائے گیآرزو کے مسافر جو ہیںان کے قدموں تلےجو بھی اک راہ ہےوہ بھی شاید اندھیرے میں کھو جائے گیآرزو کے مسافر بھیاپنے تھکے ہارے بے جان پیروں پہکچھ دیر تک لڑکھڑائیں گےاور گر کے سو جائیں گےصرف سناٹا سوچے گا یہ رات بھرمنزلیں تو انہیں جانے کتنی ملیںیہ مگرمنزلوں کو سمجھتے رہے جانے کیوں راستےجانے کس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہےاور پھر اک سویرے کی اجلی کرنتیرگی چیر کےجگمگا دے گیجب ان گنت رہ گزاروں پہ بکھرے ہوئےان کے نقش قدمعافیت گاہوں میں رہنے والےیہ حیرت سے مجبور ہو کے کہیں گےیہ نقش قدم صرف نقش قدم ہی نہیںیہ تو دریافت ہیںیہ تو ایجاد ہیںیہ تو افکار ہیںیہ تو اشعار ہیںیہ کوئی رقص ہیںیہ کوئی راگ ہیںان سے ہی تو ہیں آراستہساری تہذیب و تاریخ کےوقت کےزندگی کے سبھی راستے
چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہدفن ہو جاتا ہوںگدگداتے ہیں جو سورج کے سنہرے ناخنپھر نکل آتا ہوںاب نکلتا ہوں تو اتنا کہ بٹورے جو کوئی دامن میںدامن پھٹ جائےگھر کے جس کونے میں لے جا کے کوئی رکھ دے مجھےبھوک وہاں سے ہٹ جائےپھر مجھے پیستے ہیں، گوندھتے ہیں، سینکتے ہیںگوندھنے سینکنے میں شکل بدل جاتی ہےاور ہو جاتی ہے مشکل پہچانپھر بھی رہتا ہوں کسانوہی خستہ، بد حالقرض کے پنجۂ خونیں میں نڈھالاس درانتی کے طفیلکچھ ہے ماضی سے غنیمت مرا حالحال سے ہوگا حسیں استقبالاٹھتے سورج کو ذرا دیکھو توہو گیا سارا افق لالوں لال
کہتا ہے کوئی پیاری جو کچھ کہو سو لا دیںزر دوزی ٹاٹ بافی جوتا کہو پہنا دیںپیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیںچیرا دوپٹہ جامہ جیسا کہو رنگا دیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
دل میں جتنا آئے لوٹیں قوم کو شاہ و وزیرکھینچ لے خنجر کوئی جوڑے کوئی چلے میں تیربے دھڑک پی کر غریبوں کا لہو اکڑیں امیردیوتا بن کر رہیں تو یہ غلامان حقیر
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسمقاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیآنکھ اٹھائی تو یہ دیکھا کہ زمیں ہلتی ہےجس جگہ شے کوئی رکھی ہے وہیں ہلتی ہےصحن و دیوار کی جنبش ہے تو در ہلتے ہیںباہر آیا تو یہ دیکھا کہ شجر ہلتے ہیںکوئی شے جنبش پیہم سے نہیں ہے محرومایک طاقت ہے پس پردہ مگر نامعلومچند لمحے بھی یہ نیرنگی عالم نہ رہیزلزلہ ختم ہوا جنبش پیہم نہ رہیحیرت دید سے انگشت بدنداں تھا میںشاہد جلوۂ قہاری یزداں تھا میںدفعتاً ایک صدا آہ و فغاں کی آئیمیرے اللہ یہ گھڑی کس پہ مصیبت لائیگل کیا زلزلۂ قہر نے کس گھر کا چراغکس پہ ڈھایا یہ ستم کس کو دیا ہجر کا داغجا کے نزدیک یہ نظارۂ حرماں دیکھاایک حسینہ کو بصد حال پریشاں دیکھابیضوی شکل میں تھے حسن کے جلوے پنہاںآنکھ میں سحر بھرا تھا مگر آنسو تھے رواںمیں نے گھبرا کے یہ پوچھا کہ یہ حالت کیوں ہےتیری ہستی ہدف رنج و مصیبت کیوں ہےبولی اے شاعر رنگین طبیعت مت پوچھروز و شب دل پہ گزرتی ہے قیامت مت پوچھلوگ دنیا کو تری مجھ کو زمیں کہتے ہیںاہل زر مجھ کو محبت میں حسیں کہتے ہیںمیں انہیں حسن پرستوں کی ہوں تڑپائی ہوئیتجھ سے کہنے کو یہ راز آئی ہوں گھبرائی ہوئیزرپرستوں سے ہیں بد دل مری دنیا کے غریبہیں گرفتار سلاسل مری دنیا کے غریبمجھ سے یہ تازہ بلائیں نہیں دیکھی جاتیظالموں کی یہ جفائیں نہیں دیکھی جاتیںچاہتی ہوں مرے عشاق میں کچھ فرق نہ ہومفت میں کشتیٔ احساس وفا غرق نہ ہوایک وہ جس کو میسر ہوں عمارات و نقیبایک وہ جس کو نہ ہو پھونس کا چھپر بھی نصیبصاحب دولت و ذی رتبہ و زردار ہو ایکبے نوا غمزدہ و بیکس و لاچار ہو ایکایک مختار ہو، اورنگ جہاں بانی کااک مرقع ہو غم و رنج و پریشانی کاسخت نفرت ہے مجھے اپنے پرستاروں سےچھین لیتے ہیں مجھے میرے طلب گاروں سےچیرہ دستی کا مٹا دیتی ہیں سب جاہ و جلالحیف صد حیف کہ حائل ہے غریبوں کا خیالیہ نہ ہوتے تو دکھاتی میں قیامت کا سماںیہ نہ ہوتے تو مٹاتی میں غرور انساںایک کروٹ میں بدل دیتی نظام عالماک اشارے ہی میں ہو جاتی ہے یہ محفل برہماک تبسم سے جہاں برق بہ داماں ہوتانہ یہ آرائشیں ہوتیں نہ یہ ساماں ہوتاہر ادا پوچھتی سرمایہ پرستوں کے مزاجکچھ تو فرمائیے حضرت کہ ہیں کس حال میں آجلکھ پتی سنکھ پتی بے سر و ساماں ہوتےجان بچ جائے بس اس بات کے خواہاں ہوتےبرسر خاک نظر آتے ہیں قصر و ایواںاشک خونیں سے مرے اور بھی اٹھتے طوفاںمیری آغوش میں سب اہل ستم آ جاتےمیرے برتاؤ سے بس ناک میں دم آ جاتےبعض کے منہ غم آلام سے کالے کرتیبعض کو موت کی دیوی کے حوالے کرتیخون زردار ہی مزدور کی مزدوری ہےمیں جو خاموش ہوں یہ باعث مجبوری ہےمیری آغوش میں جابر بھی ہیں مجبور بھی ہیںمیرے دامن ہی سے وابستہ یہ مزدور بھی ہیںضبط کرتی ہوں جو غم آتا ہے سہ جاتی ہوںجوش آتا ہے مگر کانپ کے رہ جاتی ہوں
جب رات کی ناگن ڈستی ہےنس نس میں زہر اترتا ہےجب چاند کی کرنیں تیزی سےاس دل کو چیر کے آتی ہیںجب آنکھ کے اندر ہی آنسوسب جذبوں پر چھا جاتے ہوتب یاد بہت تم آتے ہوجب درد کی جھانجر بجتی ہےجب رقص غموں کا ہوتا ہےخوابوں کی تال پہ سارے دکھوحشت کے ساز بجاتے ہیںگاتے ہیں خواہش کی لے میںمستی میں جھومتے جاتے ہیںسب جذبوں پر چھا جاتے ہوتب یاد بہت تم آتے ہو
ہر جگہ پھر سینۂ نخچیر میںاک نیا ارماں نئی امید پیدا ہو چلیحجلۂ سیمیں سے تو بھی پیلۂ ریشم نکلوہ حسیں اور دور افتادہ فرنگی عورتیںتو نے جن کے حسن روز افزوں کی زینت کے لئےسالہا بے دست و پا ہو کر بنے ہیں تار ہائے سیم و زران کے مردوں کے لئے بھی آج اک سنگین جالہو سکے تو اپنے پیکر سے نکالشکر ہے دنبالۂ زنجیر میںاک نئی جنبش نئی لرزش ہویدا ہو چلیکوہساروں ریگ زاروں سے صدا آنے لگیظلم پروردہ غلامو بھاگ جاؤپردۂ شبگیر میں اپنے سلاسل توڑ کرچار سو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤاور اس ہنگام باد آور کوحیلۂ شب خوں بناؤ
اپنے کمزور ایمان کیپختگی کے لیےاپنے اندھے خیالات کیروشنی کے لیےاپنے بوسیدہ افکار کیتازگی کے لیےدھونس سےزور سےاور بندوق سےبے گناہوں کے مقتل سجائے گئےنوجوانوں کے شفاف چہروں پہجنگل اگائے گئےمدرسے لڑکیوں کے جلائے گئےاب انہیں زندہ درگور کرنے کا اک مرحلہ اور ہےامن کاپیار کابھائی چارے کااخلاص کااور تحمل کا زخمی پرندہآج بندوق کی نالیوں میں پڑا سو رہا ہےتذکرہ صرف ایمان کا ہو رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books