aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "harba"
لعل و گوہر خزانےشہد و گندم سے ظروف ابلے ہوئےتخت و تاج و مہر شاہی کے نگہباںحربہ ہائے آہن و فولاداور دستے غلامان جواں کےکاہنوں کی پھونکہامانوں کی تدبیر سیاست میں زہر ہلاہلپاسبانی میں مگنسو رہے ہیں ان گنت فرعوناے باد صبا آہستہ چل
ان دنوں میرے اندر گھمسان کا رن پڑ رہا ہےاپنے خلاف اپنا ہی دفاع کر رہا ہوںجنگ میں ہر حربہ جائز ہوتا ہے
زمیں مجھے ساتھ لے کے دشوار منزلیں لاکھوں گھوم آئیکروڑوں راہوں کو چوم آئیفلک کے ساحر نے کتنے افسون مجھ پہ پھونکےمرے پس و پیش ٹمٹماتے دیے جلائےدھوئیں کے گہرے حصار باندھےخدائے موسم نے حربہ ہائے بہار سے مجھ کو آزمایاخزاں کی سفاک انگلیوں کا ہدف بنایامگر مری بے حسی نے ہر ایک حملہ آور کا سر جھکایااسی گزر گاہ پر ہوں استادہ اور شاید یہیں رہوں گاجہاں سے گزرے دھڑکتے لمحوں کے کارواںدھیمے سر میں گاتےحیات ناپائیدار کے مرثیے سناتےمرے بدن کی عمیق سردی کو سرد سے سرد تر بناتے
حربہ میں خود اپنےمحارب کایوں ڈھل جاناخود کو کھو کر غلبہ پانااے دیدۂ عبرت بیںایک طرفہ تماشا ہےمصنوعی مشینی دنیا میںمصنوعی مشینی جیت اور ہار
ایک عالم دیں نے کسی شاعر سے کہا یہانداز تکلم سے عیاں ہے ترے سرقہاشعار میں اوروں کے تو کرتا ہے تصرفیہ تیرا تخیل ہے کہ غالبؔ کا ہے چربہیہ شوخی و جدت تری قدرت سے ہے باہریہ شے تو حقیقت میں بزرگوں کا ہے ورثہشاعر نے ادب سے یہ کہا عالم دیں سےتقلید تو ہے فطرت انساں کا تقاضاتقلید سے آزاد نہیں آپ کا بھی ذہناس پر بھی حنیفہؔ و غزالیؔ کا ہے غلبہتقریر و مضامیں پہ اکابر علما کےحضرت کو بھی کیا خوب تصرف کا ہے ملکہآپ اور شریعت کے یہ پر پیچ مسائلکیا رومیؔ و رازیؔ کا نہیں یہ بھی عطیہقدرت ہو تصرف پہ تو جائز ہے تصرفنایاب ہے اقوال سلف کا یہ خزینہانسان کے اعمال تو نیت پہ ہیں موقوفنیت ہو اگر صاف تو شر کا نہیں شبہہآگاہ نہیں آپ توارد کے عمل سےافسوس ہے کہتے ہیں توارد کو بھی سرقہجائز اسے رکھا ہے ہر اک اہل نظر نےڈھل جائے نئے جام میں گر بادۂ کہنہتنقید کریں آپ ذرا سوچ سمجھ کرالٹا نہ پڑے آپ کی گردن پہ یہ حربہتنقید کا فن اس قدر آسان نہیں ہےشہرت کا اسے آپ بنائیں نہ ذریعہ
آدم خاکی کی پیدائش سے پہلےجن کا کہنا تھا زمیں پرخون بہائے گا یہ ناحقاور مچائے گا فساداب وہی پیشین گو امیدواراس کے گن گاتے ہوئے تھکتے نہیںامتحان گاہ مقدر ہو تو ایسیجس میں پر تاب و تواں ہمکارپردازان فطرت لا جواباور آدم اس کی طینت میں تو گویاحل شدہ پہلے سے تھے سارے سوالجن مظاہر کی طرف دیکھا نظر بھر کرمعانی کے دمک اٹھے انہیں میں مضمراتحکمت اشیا کے سانچے میں ڈھلیبے ساختہ اسم آفرینی مرحباخاک بے مقدار کے ذرات میںجوہر نطق و بیاں ایسا بھی مخفی ہےکسے معلوم تھاامتحاں ختماور مسجود ملائک بن گئی انساں کی ذاتمیں نے لیکن شیوۂ انکار اپنایاکہ میں آتش نہادمرتبے میں خاک افتادہ سے برتراصل میں والا گہرچاہے افلاک و زمین پرپھیل کر چھا جائے یہ مشت غبارحربہ تسخیر لیکن کارگر مجھ پر بھی ہو اس کایہی اک مرحلہ ہے معرکے کاامتحاں یہ سخت تر ہےکامیابی اس میں بھی پائے یہیامیدوار خوش گماںآساں نہیںمیری اپنی اک لغت ہےجس میں اسما کے معانی بار باراک نئی تعبیر کے آئینہ دارمنصب آزادگی آدم کااک پروانۂ غارت گریاس میں لکھا ہےاور آگاہیتباہی کے وسائل تک رسائی کا جوازاس میں چھپا ہےالغرض اس کھیل کا مہرہ وہیعلم اسما ہے مگراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکاراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکار
یہ کڑواہٹ کی باتیں ہیں مٹھاس ان کی نہ پوچھو تمنم لب کو ترستی ہیں سو پیاس ان کی نہ پوچھو تمیہ اک دو جرعوں کی اک چہل ہے اور چہل میں کیا ہےعوام الناس سے پوچھو بھلا الکحل میں کیا ہےیہ طعن و طنز کی ہرزہ سرائی ہو نہیں سکتیکہ میری جان میرے دل سے رشتہ کھو نہیں سکتی
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں کیوں عشق ہے رسوا بے چاراہیں اور بھی وجہیں وحشت کی انسان کو رکھتیں دکھیاراہاں بے کل بے کل رہتا ہے ہو پیت میں جس نے جی ہاراپر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہیہ باتیں جھوٹی باتیں یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
عجیب قصہ ہےساری دنیا نےجب یہ جاناکہ ہم نے ساری نگاہوں سے دورایک دنیا بسائی ہے توہر ایک ابرو نے جیسے ہم پر کمان تانیتمام پیشانیوں پہ ابھریںغم اور غصے کی گہری شکنیںکسی کے لہجے سے تلخی چھلکیکسی کی باتوں میں ترشی آئیکسی نے چاہاکہ کوئی دیوار ہی اٹھا دےکسی نے چاہاہماری دنیا ہی وہ مٹا دےمگر زمانے کو ہارنا تھازمانہ ہارایہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑاہمارے خیال کی ایک سی زمیں ہےہمارے خوابوں کا ایک جیسا ہی آسماں ہےمگر پرانی یہ داستاں ہےکہ ہم پہ دنیااب ایک عرصے سے مہرباں ہےعجیب قصہ ہےجب کہ دنیا نےکب کا تسلیم کر لیا ہےہم ایک دنیا کے رہنے والے ہیںسچ تو یہ ہےتم اپنی دنیا میں جی رہی ہومیں اپنی دنیا میں جی رہا ہوں!
اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہےکوئی اجڑا ہوا، بے نور پرانا مندرڈھونڈھتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سےچاک ہر بام ہر اک در کا دم آخر ہےآسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلےجسم پر راکھ ملے ماتھے پہ سیندور ملےسرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سےاس طرح ہے کہ پس پردہ کوئی ساحر ہےجس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دامدامن وقت سے پیوست ہے یوں دامن شاماب کبھی شام بجھے گی نہ اندھیرا ہوگااب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہوگا
ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دمگردش خوں سے وہ کہرام بپا رہتا ہےجیسے رندان بلا نوش جو مل بیٹھیں بہممیکدے میں سفر جام بپا رہتا ہےسوز خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئیداغ حرمان کوئی، درد تمنا کوئیمرہم یاس سے مائل بہ شفا ہونے لگازخم امید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگاہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس کی ضد پرہم نے اس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریرجس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھاہم نے اس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیرجس میں جز صنعت خون سر پا کچھ بھی نہ تھادل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھیکلفت زیست تو منظور تھی ہر طور مگرراحت مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی
میں سپنوں میںآکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوںاور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوںمیں اپنے لفظوں کے ذریعےتمہیں سانسوں کے سیلینڈر بھیجوں گاجو تمہیں اس جنگ میں ہارنے نہیں دیں گےاور تمہاری دیکھ بھال کرنےوالوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گےآکسیجن اسٹاک ختم ہونے کیخبریں گردش بھی کریں بھی تو کیامیں تمہارے لیےاپنے نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گااسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیںکچھ لوگ تم سے بچھڑ بھی جائیںتو حوصلہ مت ہارناکیوں کہ رات جتنی چاہےمرضی کالی ہو گزر جانے کے لئے ہوتی ہےرنگ اتر جانے کے لئے ہوتے ہیںاور زخم بھر جانے کے لئے ہوتے ہیں
ہر خون جگر کے لئے تیار ہوں اب بھیہارا ہوں نہ میں اور نہ ہارے ہیں یہ آنسو
رب کا شکر ادا کر بھائیجس نے ہماری گائے بنائیاس مالک کو کیوں نہ پکاریںجس نے پلائیں دودھ کی دھاریںخاک کو اس نے سبزہ بنایاسبزے کو پھر گائے نے کھایاکل جو گھاس چری تھی بن میںدودھ بنی اب گائے کے تھن میںسبحان اللہ دودھ ہے کیساتازہ گرم سفید اور میٹھادودھ میں بھیگی روٹی میریاس کے کرم نے بخشی سیریدودھ دہی اور میٹھا مسکادے نہ خدا تو کس کے بس کاگائے کو دی کیا اچھی صورتخوبی کی ہے گویا مورتدانہ دنکا بھوسی چوکرکھا لیتی ہے سب خوش ہو کرکھا کر تنکے اور ٹھیٹھرےدودھ ہے دیتی شام سویرےکیا ہی غریب اور کیسی پیاریصبح ہوئی جنگل کو سدھاریسبزے سے میدان ہرا ہےجھیل میں پانی صاف بھرا ہےپانی موجیں مار رہا ہےچرواہا چمکار رہا ہےپانی پی کر چارا چر کرشام کو آئی اپنے گھر پردوری میں جو دن ہے کاٹابچے کو کس پیار سے چاٹاگائے ہمارے حق میں ہے نعمتدودھ ہے دیتی کھا کے بنسپتبچھڑے اس کے بیل بنائےجو کھیتی کے کام میں آئےرب کی حمد و ثنا کر بھائیجس نے ایسی گائے بنائی
دیکھ تجھ پر علم کی بھرپور پڑ جائے نہ ضرببھاگ اس پردے میں ہیں شیطان کے آلات حرب
ذرہ میرے دل کا خورشید آشنا ہونے کو تھاآئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھانخل میری آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھاآہ! کیا جانے کوئی میں کیا سے کیا ہونے کو تھا!ابر رحمت دامن ازگلزار من برچید و رفتاندکے برغنچہ ہائے آرزو بارید و رفت
مجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کوڑوں کی چھاؤں میں دنیابیچتی بھی خریدتی بھی تھیمجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کھیتوں سے ایسے باندھا تھاجیسے میں ان کا ایک حصہ تھاکھیت بکتے تو میں بھی بکتا تھامجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںکچھ مشینیں بنائیں جب میں نےان مشینوں کے مالکوں نے مجھےبے جھجک ان میں ایسے جھونک دیاجیسے میں کچھ نہیں ہوں ایندھن ہوںمجھ کو دیکھو کہ میں تھکا ہاراپھر رہا ہوں جگوں سے آوارہتم یہاں سے ہٹو تو آج کی راتسو رہوں میں اسی چبوترے پر
آئینہ بن کے شب و روز تکا کرتا ہےکیسا تالاب ہے جو اس کو ہرا کر نہ سکا
یہ بھی ہمت نہ ہوئی پاس بٹھا کے پوچھیںدل یہ کہتا تھا کوئی درد کا مارا ہوگالوٹ آیا ہے جو آواز نہ اس کی پائیجانے کس در پہ کسے جا کے پکارا ہوگایاں تو ہر روز کی باتیں ہیں یہ جیتیں ماتیںیہ بھی چاہت کے کسی کھیل میں ہارا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books