aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khurdure"
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
سمندروں کے پانیوں سے نیل اب اتر چکاہوا کے جھونکے چھوتے ہیں تو کھردرے سے لگتے ہیںبجھے ہوئے بہت سے ٹکڑے آفتاب کےجو گرتے ہیں زمین کی طرف تو ایسا لگتا ہےکہ دانت گرنے لگ گئے ہیں بڈھے آسمان کے
وہ خود رو جھاڑیاں ہم جن میں تتلی بھی پکڑنے کو اگر جاتےتو زخمی ہو کے آتے تھےوہ راتوں رات چھت کے طور اور دیوار کی صورتکھڑی دکھلائی دیتی تھیںیہ سب بنجاروں کے ہی کھردرے ہاتھوں کی برکت تھیکہ خار و خس کو بھی چھو لیں تو وہ اس کو چمن کر دیںجہاں گردوں کے چھوٹے چھوٹے یہ ٹولےہزاروں سال سے گردش میں ہیںاور کتنی تہذیبوں کے جنگل سے یہ گزرے ہیںمگر اپنی الگ تاریخ اور تہذیب رکھتے ہیںیہ اپنے نین اپنے نقش اور آواز کا جادونہ جانے کون سا قانون ہے جس کے تحتنسلوں کی اور تہذیب کی یلغار سے یکسر بچائے ہیںجو ان میں جھانک کر دیکھو تو تہہ در تہہہزاروں رنگ تھے چھوٹی سی دنیا میں
وہ جا رہی ہیں سروں پہ پتھراٹھائے مزدور عورتیں کچھیہ کھردرے ہاتھ میلے پاؤںجمی ہیں ہونٹوں پہ پپڑیاں سیاور پسینے میں ہیں شرابورسلگتی دوپہر میں وہ مل کرایک دیوار چن رہی ہیںحصار سنگیں بنے گا کوئییہ دیکھ کر حال ان کا مجھ کوخیال رہ رہ کے آ رہا ہےکہاں ہیں وہ مرمریں سی باہیںوہ گدگدے ہاتھ نرم و نازکوہ گیسوئے عنبریں و مشکیںوہ تیر مژگاں کمان ابرووہ لعل لب اور وہ روئے زیباوہ نازنیں عورتیں کہاں ہیںوہ مہ جبیں عورتیں کہاں ہیںوہ جن کی تعریف کرتے کرتےادیب و شاعر نہیں ہیں تھکتے
ڈرتے ڈرتےحیرتی رڈ انڈین امریکیوں کی طرحدھرتی کی دھمک سنتے ہوئےتم پاس آئےپاس آکر بے یقینی سے مجھے تکنے لگے تھےمیں تمہیں تسکین دینا۔۔۔۔۔۔پھر سے بھل منسی کا رشتہ جوڑ لینا چاہتا تھااور اپنے سنگ بستہ ہاتھ سےجب تمہیں سہلا رہا تھااور تمہارے کھردرے بالوں میںاپنی انگلیاں الجھا رہا تھاایک البیلی مسرتاک نئی لذت ملیوہ جو نفرت کی کمانیدل کی تہہ میں گڑ گئی تھیٹوٹتی جاتی تھیمیرے اندر کی کلیں کھلنے لگی تھیمیں پگھلتا جا رہا تھا
قسم ان کھردرے ہاتھوں کیمیں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوںنہایت بے ایمانی سےتمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوںکہانی کاڑھتی ہوںاور سب سے جھوٹ کہتی ہوںکہ سارے حرف میرے ہیں
کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہوتمہیں کیا خبر ہےوہاں ان گنت کھردرے پتھروں کوسجل پانیوں نےملائم رسیلے، مدھر گیت گا کرامٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہےوہ پتھر نہیں تھاجسے تم نے بے ڈول، ان گھڑ سمجھ کرپرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑااب اس کے سلگتے تراشےاگر پاؤں میں چبھ گئے ہیں تو کیوں چیختے ہو؟
پہاڑوں کے بیٹےچنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں سنگ خارا کے ریزےسجل دودھیا نرم جسم اور کڑے کھردرے سانولے دلشعاعوں ہواؤں کے زخمیچٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیں
تم نے میرے لیے رکھی ہےبے کیف تنہائی کی آغوشٹھنڈے لمس سے آویزاں مسکراہٹپسینے میں بھیگے بستر کے تیورکھردرے لہجے کی کڑواہٹعریاں خواہشوں کی خراشیںگزری رات کی باسی مہکاور طلوع ہوتے پچھتاوے کی ایک صبح!
نہیں جانتی ہیں عورتیںکھردرے لفظوں سے کاٹی ہوئی زندگیتیز آنچ پر رکھے ہوئے دلآنکھوں میںبہت گہرا دیکھتی ہوئی آنکھیںاور ایک کھیلدل کی دیواروں سےاداسی کو کھرچ کرایک نظم میں اکٹھا کرنے کا
تری پرچھائیں تیرے بعد بھی گھر بھر میں پھرتی ہےکبھی گلدان میں الجھے ہوئےپھولوں کی خوشبو کیصفیں ترتیب دیتی ہےکبھی سجدے میں سر رکھےگری بکھری کتابوں کیجماعت کی جبینوں پر لگی برسوں کی گرد اور دھولپلکوں کی نمی سے ڈھوتی الماری میں قعدے بانٹی تکبیر دیتی ہےدرود دوستی سے پیشتردائیں طرف کے ہاتھ کی انگلی اٹھا کراک شہادت اک گواہینام کر دیتی ہے چاہت کےکبھی آئینے میں اپنی پرانی داستاں کی آیتوں کا ورد کرتی ہےکبھی چوکھٹ پہ آ کے یاد کی تسبیح کرتی ہےپرو لیتی ہے دانوں میںکہ ہر دانے پہ تیرا نام پڑھتی ہےمگر گنتی نہیں کرتیکہ ہر تینتیس دانوں بعد اک چھلا نہیں آتاکبھی ان پنج وقتہ کھڑکیوں سے دھوپ کے مینار پر چڑھ کریہ حی علی الصلوٰۃ دل کی گونجیں چاک کرتی ہےفضا نمناک کرتی ہےنگاہوں کے گھڑے سے پانی چھلکا کر وضویا پھر نگاہیں خشک ہو جائیںتو بیتے وقت کے اک لمس سے تدبیر کی صورتتیمم سے مری لکھی ہوئی نظمیں تلاوت کرنے لگتی ہےصبح سے شام ہونے تککسی تصویر کو کعبہ بناتی ہےطواف کرتی جاتی ہےنہ جانے کون سے کتنے مناسک یاد نےپرچھائیں کے سر باندھ رکھے ہیںیہ سارے کشٹ کرتی ہےپر آخر میںوہی اک آخری سنت نبھاتی ہےیہ اپنے آپ کو ہر شامآنگن میں گرا کرہار کو تسلیم کر کےرسم کے اک کھردرے خنجر سےبن تکبیر ہیقربان ہوتی ہے
راگ ڈوب جاتے ہیںساز ٹوٹ جاتے ہیںآسماں کے گوشوں میںان گنت ستاروں کےدیپ بجھنے لگتے ہیںدن کی دھوپ میں اکثروصل ممکنہ کے سب عہد چھوڑ دیتے ہیںباتوں میں کھنک ناپیداور چمک نگاہوں میںماند پڑتی جاتی ہےریشمین لہجے بھیکھردرے سے لگتے ہیںصحبتوں میں پہلی سیبے خودی نہیں رہتیچہرۂ رفاقت پر زردیچھانے لگتی ہےجذب عشق کو تھک کرنیند آنے لگتی ہےتجربے کی سرحد پر آ کے بھید کھلتا ہےکوئی بھی تعلق ہو، ایک سا نہیں رہتا
کھردرے جسم کے نشیب و فرازجاننے کی ہوس میں جس کی زباںاور سب ذائقے بھلا بیٹھیوہ نہتا اکیلا رات کے وقتایک دل دوز چیخ کے ہم راہجنگلوں کی طرف گیا تھا کبھیاور پھر لوٹ کر نہیں آیااب وہ شاید کبھی نہ آئے گااس کے سائے کی دونوں آنکھیں مگرموت سے اس کی بے خبر ہیں ابھیاس کی آمد کی منتظر ہیں ابھی
خیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میںجیسے گناہ پگھلتے ہوںجیسے لفظ چٹکتے ہوںجیسے روحیں بچھڑتی ہوںجیسے لاشیں پھنپھناتی ہوںجیسے لمس کھردرے ہوںجیسے لب دردرے ہوںجیسے کوئی بدن کترتا ہوجیسے کوئی سمن کچرتا ہوخیال تیرے کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میں
رات کیسی مہربان ہےروتی آنکھوں کے رازاور بھیگے تکیوں کےسارے بھرم رکھ لیتی ہےرات سیاہ ہے مگرسفید آنکھوں کا ہاتھ پکڑ کررنگین خوابوں کا راستہ دکھاتی ہےکھردرے جسم کی ساری شکنیںاپنے نازک بدن کی تہوں میں چھپا لیتی ہےکبھی اپنی گود میں لے کرتھپک تھپک کر سلاتی ہےکبھی کاندھے سے لگائےلوری سناتی ہےدن بھر کے دکھوں کی ساری گرہیںایک ایک کر کے کھولتی ہےبولتی نہیں پر سنتی ہےمیٹھی نیند کے جھولے میں سلا کربالوں میں ہاتھ پھیرتیسرہانے بیٹھی اونگھتی رہتی ہےکتنی پاگل ہے نامجھے تو رات بھی ماں لگتی ہے
قافیوں سے کوئی چھٹکارا دلائےبن گئی تکلیف جاں مجھ کو ردیفبحر ہے ہر وقت دل میں موجزن(قافیے کی آزمائش سے گزرقافیہ پیما نہ بنقافیے نے آ دبوچا قافیہ پیما نہ ہو)کھردرے پن کو ترستی ہے زباںکیوں منجھی ہیں اس قدر نظمیں مریکیوں سجی ہے اس قدر میری غزل(قافیے کو روک پھر آنے لگا)ذہن ہے مجنون آداب سخندل پرانے رس کا رسیا ہے ابھینکہت ماضی کا بسیا ہے ابھی(قافیہ پھر آ گیا مجبور ہوںقافیے کو روک پھر آنے لگا)سوچتا ہوں بحر کی موجوں میں جکڑا ہوں ابھیقافیہ تو خیر کافی رک گیابحر تو ٹوٹی نہیںبحر اک بحر بسیطبحر اک دیو تنومند و محیطاس قدر جدت سے کیوں ہے کد مجھےذہن و دل ہیں کیوں روایت کے اسیر
مرے خواب سو جامری آنکھ میں تیرتی خانقاہوں میںاب سانس لیتے ہوئے سارے درویشمٹی کی خوشبو کو ترسے ہوئے ہیںمجھے تو نے جتنے زمانوں کی دھوپوں سے دھویا ہے اب تکوہ نفرت عداوت سے گوندھی ہوئی ہیںجو صدیوں کے چہرے دکھائے ہیں تو نےوہ سب کھردرے ہیںمری نیندیں ان سے ادھڑنے لگی ہیںمرے خواب سو جا کہ تو نےمرے اشک نوچےاور ان کی صداؤں کو بھی خوب روندامیں اب تیرے غاروں سے باہرنہ جھانکوں تو میرینئی نسل اندھے کنوئیں میں گرے گیمرے خواب سو جا مجھے جاگنے دےکہ اب میں تری سلوٹوں میںگھٹن کا سفر طے کروں گا تو مر جاوں گا
وہ جوتیز دھوپ کےکھردرے راستوں پربے رنگ ہو گئی تھیایک وقت کیست رنگیاوڑھنی تھیبے رنگ کو دنیاکسی بھی رنگ میںرنگ دیتی ہےایک دنوہ بھیرنگریز کے ہاتھوںرنگ گئیاوراوڑھنی پھٹ گئی
موٹر کے پہیے بجلی کے کھمبے پہ چند چھینٹے کچھچکنی سڑک پہ دور تک اک سرخ سی لکیرفٹ پاتھ پہ کچھ جا بجا دھبے سیاہ و سرخنالی کے گدلے پانی کے سینے پہ چند داغباؤنڈری وال پر بھی کچھ اسپاٹ کھردرےچہروں پہ راہگیروں کے ناخوش گوار نقشماحول میں اک لمحہ کو بے نام سا تناؤآنکھیں مری ابل پڑیں حیران رہ گیاگویا کہ آج تک کا کیا رائیگاں گیادریا اگر نہیں تو رواں جوئے خوں سہی
صبح کا ہنستا ستارہ تنہاکون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہےان گھنے پیڑوں سے لمبے تیز دانتوں والے عفریت نکل کرٹیڑھی ٹانگوں بد نما پیروں سے کومل چاندنی کے فرش پر ناچےکھردرے ہاتھوں سے پھولوں کے جگر چاک کئےاپنی نظروں کی سیاہی سے نکھرتے ہوئے رنگوں کے چراغوں کو بجھایااپنے نفرت بھرے سانسوں کی بھڑکتی ہوئی آتش میں محبت کی مہکتیہوئی صندل کو بھسم کر ڈالاصبح کا ہنستا ستارہ تنہاکون جانے دن بھر اب کس آگ کے دریا سے گزرےآفتاب اپنی دمکتی رتھ میںشب کے عفریتوں کو مسند پر بٹھائے گاتو سچائی کے پھولوں پر بھی موٹی دھول جم جائے گیآنکھیں پتھرا جائیں گیرنگوں کا تماشا تو رہے گاباس اڑ جائے گیکوئی زہر کا پیالہ نہ ہونٹوں سے لگائے گاستارہ شام کو اپنے لہو میں پھر نہائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books