aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "malaa"
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
نگاہوں کا مقدر آ کے چمکاتی ہے دیوالیپہن کر دیپ مالا ناز فرماتی ہے دیوالی
ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیاناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیاڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتےسارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیادادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہمنانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیابندر کو سہرا باندھ کے ہم دولہا نہ بنائیں گے امیاب گھونگھٹ کاڑھ بندریا کو ڈولی میں بٹھانا چھوڑ دیاندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیااب صبر کے میٹھے پھل آہیں بھر بھر کر کھاتے ہیںمالن کو بنا بیٹھے خالہ مالی کو رلانا چھوڑ دیاگھر میں بیٹھے سادھو بن کر اب علم کی مالا جپتے ہیںخرگوشوں کے پیچھے جنگل میں کتوں کو بھگانا چھوڑ دیاپنجروں میں بند جو رہتی تھیں وہ پھر سے اڑا دیں سب چڑیاںمرغوں میں صلح کراتے ہیں مرغوں کو لڑانا چھوڑ دیااب ہم نے کبھی کھانا کھا کر کپڑوں سے ہاتھ نہیں پونچھےدیکھو کئی دن سے دھوبی نے رونا چلانا چھوڑ دیاہر ایک بغاوت چھوڑی ہے ہر ایک شرارت رخصت ہےاب گھر میں فرشتے آتے ہیں شیطان نے آنا چھوڑ دیاہم سے پھر بھی ناراض ہو کیوں کیا تم سوتیلی امی ہواپنے ان پیارے بچوں کو اب منہ بھی لگانا چھوڑ دیاجن آنکھوں میں روز شرارت تھی ان آنکھوں میں آنسو اب دیکھوان آپ کی پیاری آنکھوں کو اب ہم نے رلانا چھوڑ دیاہے گھر کی فضا سہمی سہمی غمگین ہیں بچوں کے چہرےکب ہنس کے کہوں گی اے بچو کیوں ہم کو ستانا چھوڑ دیا
دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیںچاہے ان کا برج کوئی ہوعقرب ہی لگتے ہیںتیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہاپنی یرقانی سوچوں سےاور بھی زردی ملتے رہتے ہیںمالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹلکہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتےاوپر سے اس عمل کوفقرے بازی کہتے ہیںجس کا پہلا نشانہ عمومابل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!
خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںمسز سالا مانکا کی آنکھیںکہ جن کے افق ہیں جنوبی سمندر کی نیلی رسائی سے آگےجنوبی سمندر کی نیلی رسائیکہ جس کے جزیرے ہجوم سحر سے درخشاںدرخشاں جزیروں میں زرتاب و عناب و قرمز پرندوں کی جولاں گہیںایسے پھیلی ہوئی جیسے جنت کے داماںپرندے ازل اور ابد کے مہ و سال میں بال افشاں!خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ میں نے لیے ہیں مسز سالا مانکا کے ہونٹوں کے بوسےوہ بوسے کہ جن کی حلاوت کے چشمےشمالی زمینوں کے زرتاب و عناب و قرمز درختوںکے مدہوش باغوں سے آگےجہاں زندگی کے رسیدہ شگوفوں کے سینوںسے خوابوں کے رم دیدہ زنبور لیتے ہیں رس اور پیتے ہیں وہکہ جس کے نشے کی جلا سےزمانوں کی نادیدہ محراب کے دو کناروں کے نیچےہیں یک بارگی گونج اٹھتے خلا و ملا کے جلاجلجلاجل کے نغمے بہم ایسے پیوست ہوتے ہیں جیسےمسز سالا مانکا کے لب میرے لب سے!
دیپ مالا کی یہ بے چین بلکتی ہوئی راتاس کے دامن میں مرے اشک رواں پلتے ہیں
ناصرؔ کے سہانے شعروں میں۔۔۔۔کاغذ کے پرانے ٹکڑوں میں،یہ چند اثاثے نکلے ہیں۔۔۔۔!!!کچھ پھول کی سوکھی پتیاں ہیں،کچھ رنگ اڑی سی تحریریںیہ خط کے خالی لفافے ہیں،اور میری تمہاری تصویریں،یہ دیکھو کلائی کے گجرے۔۔۔۔یہ ٹوٹے موتی مالا کے۔۔۔۔لو آج کی ساری رات گئی!!!
انجینئرلکھ پڑھ کے میں تو اک دناہل ہنر بنوں گاچاہا اگر خدا نےانجینئر بنوں گاہوگی مرے ہنر سے تعمیر اس وطن کیجاگے گی میرے فن سے تقدیر اس وطن کیچلتی رہیں مشینیں صنعت تمام چمکےجس طرح صبح چمکے ویسے ہی شام چمکےاہل ہنر بنوں گاانجینئر بنوں گاڈاکٹرجسے تکلیف میں پاؤںاسے آرام پہنچاؤںجہاں غم کا اندھیرا ہوخوشی کی روشنی لاؤںجہاں آنسو برستے ہوںہنسی اس گھر میں بکھراؤںدعا ہے ڈاکٹر بن کردکھی لوگوں کے کام آؤںوطن کا سپاہیوطن کا بہادر سپاہی بنوںشجاعت کی دنیا کا راہی بنوںلیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹوطن میں جہاں ہو ضرورت مریوہیں کام آئے شجاعت مریدلیری کا میں سب کو پیغام دوںجو مشکل ہو وہ کام انجام دوںہمیشہ ترقی کی راہوں میں ہمچلیں ساتھیوں سے ملا کے قدملیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹٹیچرنا چاندی نا سونا چاہوںمیں تو ٹیچر ہونا چاہوںحاصل جو تعلیم کروں میںسب میں اسے تقسیم کروں میںننھے منے بچے آئیںعلم کی دولت لیتے جائیںکم نہ ہو یہ تقسیم کئے سےجلتا ہو جیسے دیا دئے سےپائلٹبلندی پہ جا کے سفر کرنے والاہوا باز اونچا ہوا باز اعلیٰوہ رن وے پہ آیا جو ٹیک آف کرنےتو سورج نے پہنائی کرنوں کی مالاپسنجر ہیں سیٹوں پہ بے فکر بیٹھےاڑائے لیے جا رہا ہے جیالاہماری امنگوں سے کیا کہہ رہا ہےفضاؤں میں اڑتا ہوا یہ اجالاوکیلانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںمظلوم سے ہو ہمدردیظالم کو سزا دلواؤںمجرم کے کالے دل میںقانون کی شمع جلاؤںہر بات میں سب سے آگےانصاف کی بات بڑھاؤںانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںہاریسوچا ہے میں نےہاری بنوں گاکھیتوں میں جھوموںگندم اگا کےدھرتی کو چوموںفصلیں سجا کےسارے وطن کوخوش حال کر دوںخوشیوں سے سب کےدامن کو بھر دوںہاری بنوں گا
صبح صادق کا ہو گیا ہے ظہورساری دنیا پہ چھا گیا اک نورچڑیاں پیڑوں پہ چہچہانے لگیںعید کے گیت مل کے گانے لگیںشرق پر جلوہ گر ہوا سورجآج ہے کچھ نیا نیا سورجتاج خوب اس نے آج پہنا ہےسرخ کرنوں کا تاج پہنا ہےہر مسلمان باغ باغ ہے آجآسماں پر ہر اک دماغ ہے آجصبح اٹھتے ہی سب نے غسل کیاپہنا اجلا لباس عطر ملامائیں نہلا رہی ہیں بچوں کوخوب بہلا رہی ہیں بچوں کوبچے خوش ہوں یہی ہے ساری عیدان کے بچوں کی عید ان کی عید
ایک جسم ناتواں اتنی دباؤں کا ہجوماک چراغ صبح اور اتنی ہواؤں کا ہجوممنزلیں گم اور اتنے رہنماؤں کا ہجوماعتقاد خام اور اتنے خداؤں کا ہجومکشمکش میں اپنے ہی معبد سے کتراتا ہواآدمی پھرتا تھا در در ٹھوکریں کھاتا ہواحق کو ہوتی تھی ہر اک میداں میں باطل سے شکستسرنگوں سر در گریباں سربسر تھے زیردستفن تھا اک مطلب براری لوگ تھے مطلب پرستاسقدر بگڑا ہوا تھا زندگی کا بندوبستحامی جور و ستم ہر طرح مالا مال تھاجس کی لاٹھی تھی اسی کی بھینس تھی یہ حال تھاکیا خدا کا خوف کیسا جذبۂ حب وطنبرسر پیکار تھے آپس میں شیخ و برہمنباغباں جو تھے وہ خود تھے محو تخریب چمنالغرض بگڑی ہوئی تھی انجمن کی انجمنمذہب انسانیت کا پاسباں کوئی نہ تھاکارواں لاکھوں تھے میر کارواں کوئی نہ تھاروح انساں نے خدا کے سامنے فریاد کیجو زمیں پر ہو رہا تھا سب بیاں روداد کیاور کہا حد ہو چکی ہے کفر کی الحاد کیایک دنیا منتظر ہے آپ کے ارشاد کیتب یہ فرمایا خدا نے سب کو سمجھاؤں گا میںآدمی کا روپ دھارن کر کے خود آؤں گا میںاس طرح آخر ہوا دنیا میں نانک کا ظہورفرش تلونڈی پہ اترا عرش سے رب غفوراٹھ گیا ظلمات کا ڈیرا بڑھا ہر سمت نورمنبع انوار سے پھیلیں شعاعیں دور دورمہر تاباں نے دو عالم میں اجالا کر دیاآدمی نے آدمی کا بول بالا کر دیا
مسز بسنٹ نے اس آرزو کو پالا ہےفقیر قوم کے ہیں اور یہ راگ مالا ہے
رام کے ہجر میں اک روز بھرت نے یہ کہاقلب مضطر کو شب و روز نہیں چین ذرادل میں ارماں ہے کہ آ جائیں وطن میں رگھبریاد میں ان کی کلیجے میں چبھے ہیں نشترکوئی بھائی سے کہے زخم جگر بھر دیں مراخانۂ دل کو زیارت سے منور کر دیںرام آئیں تو دیے گھی کے جلاؤں گھر گھردیپ مالا کا سماں آج دکھاؤں گھر گھرتیغ فرقت سے جگر پاش ہوا جاتا ہےدل غم رنج سے پامال ہوا جاتا ہےداغ ہیں میرے جلے دل پہ ہزاروں لاکھوںغم کے نشتر جو چلے دل پہ ہزاروں لاکھوںکہہ رہے تھے یہ بھرت جبکہ سری رام آئےدھوم دنیا میں مچی نور کے بادل چھائےعرش تک فرش سے جے جے کی صدا جاتی تھیخرمی اشک ہر اک آنکھ سے برساتی تھیجلوۂ رخ سے ہوا رام کے عالم روشنپر امیدوں کے گلوں سے ہوا سب کا دامنموہنی شکل جو رگھبر کی نظر آتی تھیآنکھ تعظیم سے خلقت کی جھکی جاتی تھیمدتوں بعد بھرت نے یہ نظارہ دیکھاکامیابی کے فلک پر تھا ستارہ چمکادل خوشی سے کبھی پہلو میں اچھل پڑتا تھاہو مبارک یہ کبھی منہ سے نکل پڑتا تھاہوتے روشن ہیں چراغ آج جہاں میں یکساںگل ہوا آج ہی پر ایک چراغ تاباںہے مراد اس سے وہ بھارت کا چراغ روشننام ہے جس کا دیانند جو تھا فخر وطنجس دیانند نے بھارت کی پلٹ دی قسمتجس دیانند نے دنیا کی بدل دی حالتجس دیانند نے گلزار بنائے جنگلجس دیانند نے قوموں میں مچا دی ہلچلآج وہ ہند کا افسوس دلارا نہ رہاغم نصیبوں کے لئے کوئی سہارا نہ رہایاد ہے اس کی زمانے میں ہر اک سو جاریاس کی فرقت کی لگی تیغ جگر پر کاریدل یہ کہتا ہے کہ اس وقت زبانیں کھولیںآؤ مل مل کے دیانند کی ہم جے بولیں
میں کیسے بتاؤںوہ عرصہ جو دوری میں گزراحضوری میں گزرامیں اس کی وضاحت نہیں کر سکوں گاسر شام ہیکوئی لا شکل کوتمجھے اپنے نرغے میں رکھتیمزا لیتی میرے نمک کاکبھی میری شیرینی چکھتیکبھی مجھ کو قطرےکبھی مجھ کو ذرے میں تبدیل کرتیکبھی مجھ کو ہیئت میں لاتیکبھی میری ہیئت کو تحلیل کرتیادھورا سمجھتیکبھی مجھ کو پورا سمجھتیاسی گو مگو میں مجھے توڑ دیتیمری ٹکڑیوں کو ملاتیمجھے جوڑ دیتی
اے دل کافر عجز سے منکر آج ترا سر خم کیوں ہےتیری ہٹیلی شریانوں میں یہ بے بس ماتم کیوں ہےآنکھ تو رونا بھول گئی تھی پھر ہر منظر نم کیوں ہےمت روکو بہنے دو آنسو کسی کو کرتے ہیں پرنامآپ جھکا ہے جھکنے دو سر چھپا تھا اس میں کوئی سلامشاید اس کے حضور میں ہو تم جس کو کہتے ہیں انجاموہ ہستی کی سرحد آخر ہوا جہاں ہر سفر تمامبے بس ہے انساں بے بس ہے تکتی رہ گئی روتی شاماٹھ گیا کوئی بھری دنیا سے باقی رہے خدا کا نامیا پھر کاغذ پر پرچھائیں ملے گا جس کو ثبت دوامیہ ٹکڑے انسانی دل کے شاعر اور شاعر کا کلامناز کروں گی خوش بختی میں میں نے فراقؔ کو دیکھا تھااجڑے گھر میں وہ تہذیبوں کے سنگم پر بیٹھا تھاگرم ہم آغوشی صدیوں کی ہوگی کتنی پیار بھریجس کی بانہوں میں کھیلی تھی اس کی سوچ کی سندرتاشعر کا دل شفاف تھا اتنا' جیسے آئینۂ تاریخکیا بھر پور وصال تھا جس نے اس شاعر کو جنم دیاگر تاریخ نے پاگل ہو کر خود اپنا سر پھوڑا ہےخون اچھالا ہے گلیوں میں اپنا ہنڈولہ توڑا ہےچھینٹ نہ تھی دامن پر اس کے کون گھاٹ دھو بیٹھا تھاجسے سمجھتے ہو نا ممکن وہ اس انساں جیسا تھاانساں بھی اتنا معمولی جیسے اپنا ہمسایہاپنے شعر سنانا اس کا اور خود حیراں ہو جاناباتوں میں معصوم مہک تھی آنکھوں میں بے چین لپکخاموشی کے وقفے یوں' جیسے اس نے کچھ دیکھا تھاپیڑ بہت جھیلی تھی اس نے اتنی بات تو ظاہر تھیلہجہ میں شوخی تھی جیسے راکھ میں چمکے انگارہسنگم کے پانی پر میں نے دیکھی تھی کیسی تصویراڑا لہک کر اک جل پنچھی کھینچ گیا پانی پہ لکیرجمنا کی نیلی گہرائی بھید بھری چپ سے بوجھلگنگا کے دھارے کی جنبش اجلی طاقت اور بے کلاس پانی میں عکس ڈالتا آسمان کا اک ٹکڑامٹی کے بت ہرے ناریل چندن لگا کوئی مکھڑاوہ دھاروں پر ناؤ کھیتا سوکھا پنجر مانجھی کادان کے پیسے گنتا پنڈت تانبہ سورج سانجھی کاجمنا' پر مینار قلعہ کے گنبد کا ترچھا سایہپاکستان سے آئے مہاجر گیندے کی ٹوٹی مالاپانی میں چپو کی شپ شپ باتوں کے ٹوٹے ٹکڑےیہیں کہیں پر ہم سے اوجھل سرسوتی بھی بہتی ہےجو سمجھی جو آگے سمجھوں چھلک رہا ہے دل کا جاموہ منظر جو خود سے بڑا تھا اس کا گھیرا تمہارے نامیہ کمرے کا ماند اجالا باہر ہوک پپہیے کیکھڑکی پر بوندوں کی دستک سانسیں بھرتی خاموشیپوری بات نہیں بتلاتا گونگے آنسو رو دیناتیری دھرتی سہہ نہ سکے گی اتنے حسن کو کھو دیناتنہا اور اپاہج بوڑھے تجھے نہ مرنے دیں گے لوگابھی تو جیون بانجھ نہیں ہے پھر تجھ کو جنمیں گے لوگ
آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤاندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤسیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامبازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہکوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالاکوئی خریدے آتش بازی کوئی گلوں کی مالاچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامدلہن کی مانند سجے ہیں مندر اور شوالےپوجا کا سامان سجائے آئے ہیں متوالےدیا دھرم کا دان کریں گے آج یہاں دل والےچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامہر مذہب ہر دھرم کے بندے گلے ملن کو آئیںذات پات کے مت بھیدوں کو دل سے آج مٹائیںایک ہیں سارے بھارت واسی دنیا کو دکھلائیںچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام
میں تمہارے لیے لے کے آیا ہوںبے ترتیب سانسوں کی مالادہکتے ہاتھوں کی سرسراہٹآنکھوں میں دور تک گونجتی ہوئی خاموشیاور وجدان میںایک بھولی ہوئی مسکراہٹ!
جمیلہ شکیلہ کی تھی اک سہیلیسہیلی بھی اک عمر کی ساتھ کھیلیبہت ہی تھا اخلاص اور پیار ان میںہوئی تھی نہ جھوٹوں بھی تکرار ان میںتھی یوں تو ہر اک کھیل سے ان کو رغبتمگر سب سے بڑھ کر تھی گڑیوں کی چاہتجمیلہ کی گڑیا تھی چینی کی مورتشکیلہ کا گڈا بھی تھا خوب صورتشکیلہ نے سوچا کہ شادی رچائیںجمیلہ سہیلی کو سمدھن بنائیںشکیلہ بڑے چاؤ سے چل کے آئیوہ گڈے کی منگنی کا پیغام لائیکئی لڑکیاں اور بھی ساتھ آئیںجمیلہ کے گھر آ کے باتیں بنائیںادھر کی ادھر کی ہوئیں خوب باتیںیہ منگنی کی باتیں رہیں چند راتیںیہ بات اور وہ بات اور کبھی ہاں کبھی ناںکئی دن رہیں بی شکیلہ پریشاںپر آخر وہ آ ہی گئی نیک ساعتنہ باقی رہی کوئی جھگڑے کی صورتجمیلہ نے منظور کر لی یہ شادیخبر سارے بچوں کو اس کی سنا دیاجازت انہوں نے بڑوں سے بھی لے لیپھر اچھی سی تاریخ شادی کی طے کیقریب آئے شادی کی تقریب کے دنتو کاٹے یہ دن سارے بچوں نے گن گنوہ شادی کی تاریخ جس روز آئیمسرت نے دنیا میں نوبت بجائیشکیلہ نے گڈے کو دولہا بنایااسے ایک بڑھیا سا جوڑا پہنایاوہ کرتا وہ اچکن وہ پگڑی وہ پٹکاوہ ریشم کی شلوار وصلی کا جوتاوہ منا سا رومال موزے ٹسر کےجھمکتی کلا اس کے سلمے ستارےجڑاؤ انگوٹھی وہ موتی کی مالاوہ رنگین جامہ وہ پھولوں کا صحرابٹھا اس کو گھوڑے پہ وہ ساتھ لائیبرات اس نے گڈے کی اپنی سجائیچلے ساتھ بن بن کے بچے براتیچلی پارٹی ایک گاتی بجاتیتڑاتڑ وہ تاشوں کی باجوں کی ٹیں ٹیںمجیرے کی ٹن ٹن نفیری کی پیں پیںوہ لوگوں کا چلنا پٹاخوں کا چھٹناہوا میں اناروں کے پھولوں کا لٹنااسی ٹھاٹھ سے چل کے بارات آئیدلہن کی طرف سے ہوئی پیشوائیجمیلہ نے سب کا کیا خیر مقدمملے ہو کے باہم وہ سب شاد و خرمجہاں فرش اک چاندنی کا بچھا تھاتھی مسند نئی گاؤ تکیہ نیا تھاوہاں مہمانوں کو لاکر بٹھایادئے پان اور سب کو شربت پلایابلائے گئے شہر سے ایک قاضیدلہن اور دولہا ہوئے دونوں راضیذرا دیر میں ہو گئی ان کی شادیسبھی اہل محفل نے دل سے دعا دیچھوارے لٹے پھر بٹی کچھ مٹھائیمٹھائی یہ سب نے مزے لے کے کھائیہوئے شاد مہمان چھوٹے بڑے کلمبارک سلامت کا پس مچ گیا غلہوا وقت گڑیا کی رخصت کا جس دمجمیلہ کے چہرے پہ تھا غم کا عالمشکیلہ نے جھٹ پالکی اک منگائیبٹھا اس میں گڑیا کو گھر اپنے لائیہوئی خوب شہرت ہوا خوب خرچہرہا شہر میں مدتوں اس کا چرچاغرض بیاہ گڈے کا گڑیا کا جیساہوا یہ ہوا ہوگا نیرؔ نہ ایسا
میں اپنی قیمتی چیزیں بھی اکثر بھول جاتی ہوںکہیں بھی جا کے ٹھہروں میںکسی کے پاس بھی جاؤںکبھی ٹیرس کبھی آنگن کبھی کمرے میں بھی اکثرکچھ اپنی پچھلی یادوں کو کبھی کچھ چاند راتوں کواور اکثر ادھ بنے سے کچھ ادھورے خواب کے گچھےوہیں پر چھوڑ آتی ہوںمیں اکثر بھول جاتی ہوںوہ جو میں آخری موسم میں تم سے ملنے آئی تھیتو کچھ تارے چنبیلی کی بہت تھوڑی سی وہ خوشبومحبت کے سنہری نرم ریشم سے بنے بے ساختہ جملےیہیں پر رہ گئے میرےیہاں دیوار پر میں نے چمکتا چاند چھوڑا تھاہنسی کے موتیوں کی ایک مالا تھی جو تم نے گفٹ میں دی تھییہیں پر رہ گئی وہ بھیمیں ٹھہروں گی نہیں مجھ کو بس اپنی قیمتی چیزیں ہی لینی ہیںتمہیں زحمت بہت ہوگی مگر یہ سب مجھے دے دوتمہارے پاس تو دنیا کے اب سارے خزانے ہیںمیں خالی ہاتھ بیٹھی ہوں یہی میرا اثاثہ ہے
پریت نگر سے پھیری والا میری گلی میں آیاچوڑی، لونگ، انگوٹھی، چھلے رنگ برنگے لایامیں نے پوچھا اور بھی کچھ ہے، بولا میٹھا سپناجس کو لے کر جیون بھر اک نام کی مالا جپنا
میں ایک پجارن دیو داسیچپکے سے باہر آتی ہوںاور کرنوں کی اس برکھا میںاپنا تن من نہلاتی ہوںتم جیون جوت جگاتے ہواور مجھ کو بھی چمکاتے ہوتم رنگ بھرا مدھو شالہ ہواور میں تو خالی پیالہ ہوںتم دھرتی کا اجیالا ہومیں رات کا گہرا سناٹاتم جھلمل جھلمل مالا ہومیں پیر میں چبھتا اک کانٹاہر موسم کا ہو روپ بھی تمسایہ بھی تم ہو دھوپ بھی تم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books