aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "medium"
اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کر دےپہلے کوئی سرسیدؔ اعظم کو خبر دےوہ مرد خدا ہم میں نئی روح تو بھر دےوہ روح کہ موجود نہ معدوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواباس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سےپھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سےویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!اے عشق ازل گیر و ابد تابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابوہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوموہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سےآلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم!جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدومخود زیست کا مفہوم!
مری گلی کے غلیظ بچوتم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھوتمہاری آنکھیںاداسیوں سے بھری ہوئی ہیںازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیںتمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہےحیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہےتمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیںسبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ہیںتمہاری پھیکی ہتھیلیوں کی بجھی لکیریںبقا کی ابجد سے اجنبی ہیںتمہاری قسمت کی آسمانی نشانیاں اب خطوط وحدانیت کا مقسوم ہو رہی ہیںنظر سے معدوم ہو رہی ہیںمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے ماں باپ نے تمدن کا قرض لے کرتمہاری تہذیب بیچ دی ہےتمہارا استاد اپنی ٹوٹی ہوئی چھڑی لے کے چپ کھڑا ہےکہ اس کے سوکھے گلے میں نان جویں کا ٹکڑا اڑا ہوا ہےمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے میلے بدن کی ساری غلاظتیں اب گئے زمانوں کے ارمغاں ہیںتمہارے ورثے کی داستاں ہیںانہیں سنبھالوکہ آنے والا ہر ایک لمحہ تمہارے جھڑتے ہوئے پپوٹوں سے جانے والے دنوں دنوں کی اتار لے گامری گلی کے غلیظ بچوضدوں کو چھوڑوقریب آؤرتوں کی نفرت کو پیار سمجھوخزاں کو رنگ بہار سمجھوغلاظتوں کو ادھار سمجھو
زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کیمانگتا ہے دل مرا دن رات کیوںقسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھیآ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوںکیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاباس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جوابکیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کرکر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیاتکیوں نہیں آتی وہ راتجس کی خرم تر سحرآرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلامراحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمامراستہ مجھ کو نظر آتا نہیںراستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیںچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکلہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھلبے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کلچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلسینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابلچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھاور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھدل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کردیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کرچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل
میڈیا تیرا دوات اور قلم تیرے ہیںجتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیںیہ شہنشاہ یہ ارباب حرم تیرے ہیںکاش تجھ کو یقیں آ جائے کہ ہم تیرے ہیں
عجب دن تھےعجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھےزمانے مجھ سے کہتے تھے زمینیں مجھ سے کہتی تھیںمیں اک بے بس قبیلے کا بہت تنہا مسافر ہوںوہ بے منزل مسافر ہوں جسے اک گھر نہیں ملتامیں اس رستے کا راہی ہوں جسے رہبر نہیں ملتامگر کوئی مسلسل دل پہ اک دستک دیے جاتا تھا کہتا تھا مسافر!اس قدر نا مطمئن رہنے سے کیا ہوگاملال ایسا بھی کیا جو ذہن کو ہر خواب سے محروم کر دےجمال باغ آئندہ کے ہر امکان کو معدوم کر دےگل فردا کو فصل رنگ میں مسموم کر دےدلاسے کی اسی آواز سے ساری تھکن کم ہو گئی تھی اوردل کو پھر قرار آنے لگا تھاسفر زاد سفر شوق سفر پر اعتبار آنے لگا تھامیں خوش قسمت تھاکیسی ساعت خوش رنگ و خوش آثار میں مجھ کومرے بے بس بہت تنہا قبیلے کو نیا گھر مل گیا تھاایک رہبر مل گیا تھاایک منزل مل گئی تھی اور امکانوں بھرا خوابوں سے امیدوں سے روشنایک منظر مل گیا تھا
خون اب سرد ہوا جاتا ہے شریانوں میںاور بڑھتی ہوئی تعداد بھروسا توڑےنفس دوڑاتا ہے پھر جانب شہوت گھوڑےلذت شے میں ہیں معدوم چراغوں کی لویںروشنی اپنے پڑوسی کو بھی پہنچا نہ سکےروح اب شعلگی مانگے ہے ہر اک ذرے سےکوئی الیاس کی باتوں پہ ذرا کان دھرےکوئی یوسف سے شہادت کے معانی پوچھےکوئی تقسیم کرے وقت کو مسجد مسجدکوئی بیعت تو کرے دست زکریا حاضرمرکز عشق پہ پہنچو تو ہو انعام نظرایک اک لمحہ کے چہرے سے عیاں اذن سفر
تجھ سے اک عمر کا پیماں تھا مگر میرا نصیبانقلابات کا محکوم ہوا جاتا ہےوہ تصور جو کئی بار نکھارا میں نےاتنا موہوم ہے معدوم ہوا جاتا ہےتیری آنکھوں میں جگائے تھے ستارے میں نےاور چھلکائے تھے گالوں میں حیاؤں کے ایاغکوئی احساس نہ تھا وقت کی گردش کا مجھےورنہ کیا رات سے ملتا نہیں سورج کا سراغاس چکا چوند میں اب تجھ کو پکاروں کیسےسیل انوار میں تاروں کا گزر کیا ہوگاتہہ دامن جو چراغوں کو چھپائے رکھوںسوچتا ہوں کہ پھر انجام سفر کیا ہوگامجھ کو آواز نہ دے وقت کے صحراؤں میںمیں بہت دور بہت دور نکل آیا ہوںمیں افق پر بھی نہیں ہوں میں فلک پر بھی نہیںمیں ترے ماضیٔ مرحوم کا اک سایہ ہوں
انہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں ماضی میں جیتی ہوںمرے اشعار میں آسیب ہیں گزرے زمانوں کےوہ کہتے ہیں کی یادیں سائے کی مانند میرے ساتھ رہتی ہیںیہ سچ ہے اس سے کب انکار ہے مجھ کومیں اکثر جاگتے دن میں بھی آنکھیں موند لیتی ہوںکوئی صورت کوئی آواز کوئی ذائقہ یا لمس جب جادو جگاتا ہےتو گرد آلود مینا طور تصویریں اچانک بولنے لگتی ہیں ناٹک منچ سجتا ہےکسی ٹوٹے ہوئے صندوق میں رکھے ہوئےبوسیدہ مخطوطے سے کوئی داستاں تمثیل بن جاتی ہےجی اٹھتے ہیں سب کردار ماضی کےسپاہی بادشاہ خلعت نوادر رقص و موسیقیکسی کے پاؤں میں پائل دھنک آنچلکسی شمشیر کی بجلی گھنی برسات کی بدلیکسی بارہ دری میں راگ دیپک کاکسی صحن گلستاں میں کدم کے پیڑ پر بیٹھی ہوئی چڑیاںاچانک جاگ جاتی ہیںکسی گمنام قصبے میں کوئی ٹوٹی ہوئی محراب خستہ حال ڈیوڑھی کی جھلکمعدوم کر دیتی ہے ہوٹل چائے خانے بس کے اڈے ڈھیر کوڑے کےکئی صدیاں گزر جاتی ہیں سر سےاور کوئی گم گشتہ شہر رفتگاں بیدار ہوتا ہےاسی منظر کا حصہ بن کے میں تصویر ہو جاتی ہوں کھو جاتی ہوں ماضی میںمیں اکثر آبنائے وقت پر کاغذ کی ناؤ ڈال دیتی ہوںتو پانی اپنا رستہ موڑ دیتا ہےمیں جب چاہوںسلونی سانولی نٹ کھٹ مدھر یادیں اٹھا لاؤں لڑکپن کے گھروندوں سےمیں جب چاہوں تو کالی کوٹھری میں قیدرنجیدہ پشیماں زخم خوردہ ساعتوں بیتے دنوں کو پیار سے چھو کردلاسہ دوں تھپک کر لوریاں دوںخوب روؤں خوب روؤں شانت ہو جاؤںیہ ماضی میرا ماضی ہےفقط میرے تصرف میں ہےمیری ملکیت ہے میرا ورثہ ہےنہ میرا حال پر بس ہےاور آنے والا کل بھی کس نے دیکھا ہے
اے دل افسردہ وہ اسرار باطن کیا ہوئےسوز کی راتیں کہاں ہیں ساز کے دن کیا ہوئےآنسوؤں کی وہ جھڑی وہ غم کا ساماں کیا ہواتیرا ساون کا مہینہ چشم گریاں کیا ہواکیا ہوئی بالائے سر وہ لطف یزداں کی گھٹاآسمان دل پہ وہ گھنگھور عرفاں کی گھٹااب وہ نالوں کی گرج ہے اب نہ وہ شور فغاںاب نہ اٹھتا ہے کلیجہ سے محبت کا دھواںاپنے افعال سیہ پر اب پشیمانی نہیںاب پسینے کے ستارے زیب پیشانی نہیںدرد کی مدت سے اب دل میں چمک ہوتی نہیںوہ تپک چھالوں کی کوندے کی لپک ہوتی نہیںذکر مولیٰ سے لبوں پر اب وہ نرمی ہی نہیںبھاپ سینے سے اٹھے کیا دل میں گرمی ہی نہیںاب شرارے سوز غم کے دل میں رہتے ہی نہیںاشک اب پچھلے پہر آنکھوں سے بہتے ہی نہیںمعرفت دل میں نہ اب وہ روح میں احساس ہےلوگ کہتے ہیں کہ ہے لیکن ہمیں تو یاس ہےاب نہ وہ آنکھوں میں اشک خوں نہ وہ دل میں گدازاب نہ وہ شام تمنا ہے نہ وہ صبح نیازخشک ہیں آنکھیں جبینیں تنگ سینے سرد ہیںاب نہ وہ دکھتے ہوئے دل ہیں نہ چہرے زرد ہیںآہ کی اور دل امنڈ آیا یہ ہوتا ہی نہیںڈوب کر ذوق فنا میں کوئی روتا ہی نہیںپھول داغوں سے کھلے تھے جس دل سرشار میںخاک اب مدت سے اڑتی ہے اسی گل زار میںآنسوؤں سے نم جو رہتا تھا وہ داماں جل گیالہلہاتا تھا جو سینے میں گلستاں جل گیاروح میں بالیدگی کی قوتیں معدوم ہیںدونوں آنکھیں آنسوؤں کے فیض سے محروم ہیںپیچ و خم سے بہنے والا دل کا دریا خشک ہےوہ بھری برسات یعنی چشم بینا خشک ہےخون ہے دل میں مگر پہلی سی طغیانی نہیںابر ہے باد مخالف سے مگر پانی نہیںجب یہ عالم ہے تو بارش کی شکایت کس لئےبے محل یہ حسرت باران رحمت کس لئےاک مجسم خشک سالی خود ہماری ذات ہےضد ہماری ہستیوں کی ابر ہے برسات ہےرحمتوں سے جوش میں آنے کی خواہش کیا کریںخود سراپا قحط ہیں امید بارش کیا کریں
بہت دنوں بعدجب کبھیماں سے ملتا ہوںتو باتوں ہی باتوں میںاکثر پوچھ لیتی ہےنماز پڑھتے ہوجمعہ کی ہی سہییا پھرعید کیار میںحیلوں بہانوں کے پیچجنت کی گھبرائی آنکھوں میںدوزخ کیمعدوم جھلک دیکھمسکراتا ہوںکہ کیسےتمام مامتاؤں کو سمیٹاس کی بے آوازدعامیری محافظ بن جاتی ہےسنبھال کر رکھامیرا معصوم بچپنپیش کر دیتی ہےغضب الٰہی کے آگےاور میںبخشش دیا جاتا ہوںجانے کتنی باروہفردوس دے چکی ہے مجھے
پھر خریداروں کی دنیا میں ذرا سن گن ہوئیدل دھڑکنے کی صدا معدوم ہو کر رہ گئیخوف کے گہنے سجا کراور جھجک کے بے تحاشا پھول پہنا کرخریداروں نے اس کو پھر سے اندھی کوٹھری میں قید کر ڈالاوہ جس کا خوف وہ بچپن سے سہتی آ رہی تھی
جب کوئی وعدہ کر کے بھی نہ آئےتو مسکرا کر سو جانا چاہیےنیند عشق سے بہتر ہےاور عشق وعدے سےجب کوئی تنہا چھوڑ کر چلا جائےتو دل مہتاب کے آنگن میںاسے نقش کر لینا چاہئےجدائی کے سکوت گم گشتہ میںتم نے مجھے کیوں بھلا دیاابھی تو کئی فسانے باقی تھےیوں اچانک معدوم ہو جاناکسی کو دیوانہ بنا دیتا ہےاتنا وقت بھی نہیں ہوتاکہ جدائی کا فرمان سنایا جا سکےیا مخدوش کو دہلیز رنجیدہ میں دفن کر دیناقبل رخصت شب مدہوش کے بستر سےچاندنی کی سلوٹیں مٹا دیناکہ اس شہر کی ہوائیں بہت داغدار ہیں
آج تک یاد ہیں مجھ کو وہ نگاہیں معصومان ہی ہاتھوں نے جنہیں کر دیا بڑھ کر معدوم
چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنکوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہواکوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائےعجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کااپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہطنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن سنہواؤں سے محفوظ سانسوں میں آراستہ مختلف سگریٹوں کی مہکشام کے سرمئی بانکپن میں کسی کوٹ، مفلر، سوئیٹر سے اٹھتی ہوئیخوشبوئے آشناجوڑتی ہے ہمیں اک سمے سے جو مدت سےاک ناملائم زمانے میں محکوم ہےکون لحظے کو واپس بلائےسمے کو مکمل کرےاپنی نظمیں اسی اک تسلسل زدہ دائرے میں ہیںپرکار جن کی رہائی پہ مائل نہیںریستورانوں کے کونوں میں سہمی ہوئیکتنی شاموں کا جادو یہاں سطر در سطر محبوس ہےہم جو قید زماں و مکاں سے نکلنے کو پر مارتے ہیںبھلا شام ڈھلنے پہ الفاظ کے پنچھیوں کو جکڑتے ہیں کیوںدام تصویر میںیہ بگولے، دھواں، بھاپ اسیری کے عادی نہیںشام خود رات کی گود میں جا کے گرنے کو بے تاب ہے
تحیر خوف دہشتبربریت اور انوکھے ظلم کومانوس لفظوں کی قبا پہنا کےجب بھی میڈیا سے نشر کرتے ہیںبریکنگ نیوز کہلاتی ہےاور اس نیوز میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہوحشت زدہ ماحول میں ویڈیو کوئیایسی بنا کر پیش کی جائےکہ جس کو دیکھ کر ہم کو یقیں آئےجہاں میں اب اندھیرے ہی اندھیرے ہیںبہت نایاب اب روشن سویرے ہیںکہیں جگنو نہیں ملتےکہیں پر گل نہیں کھلتےہر اک سو چاک دامانیکہیں بخیے نہیں سلتےبریکنگ نیوز کی اک دوڑ جاری ہےکہ پہلے کون سا چینلدلوں میں درد بھرتا ہےلہو کو سرد کرتا ہےمیں سب سے پوچھتی ہوںمیری دنیا میں کوئی ایسی خبرجو آنکھ میں آنسو نہ بن پائےجو دل کو خوف کے رستے نہ لے جائےکسی انسان کی نیکی کسی بچے کی ایسی مسکراہٹجو فرشتوں جیسی لگتی ہےدیار عشق کی تسخیر یا پھر وہ مسرتجو بہت سے آنسوؤں کے بعد ملتی ہےتقدس سے بھرا کردارسچائی وفا ایمانداری صبر ہمدردیبریکنگ نیوز آخر کیوں نہیں بنتی
حدود ہستی سے ہم نکل کر کھنڈر بنے تھےمگر کھنڈر بن کے مٹ بھی جاتےکہ یہ غم زندگی کے رسیاہماری ہستی کو اپنی یادوں سے محو کر دیتے بھول جاتےنہ یہ کہ ہم کو تماشہ گاہ جہاں بناتےہمارے عبرت کدوں کو محفوظ کر کے رکھتےنہ یہ کہ آبادیوں کی خاطرہماری بربادیوں کو تاریخی یادگاریں بنائے رکھتےوہ یادگاریںجہاں پہ یہ لوگ زندگی کے اجارہ دار آ سکیں تو آئیںدنوں کو راہوں کی خاک اڑائیںوہ بارگاہیں جو عرش پایہ تھیں ادب و آداب خسروی میںوہاں یہ دراز کھسکتے جائیںجہاں بھی جی چاہے اپنا نام اور شعر لکھیںمچائیں غوغا رقیق بے معنی گیت گائیںمگر نہ اوقات پنج گانہ میںایک بھی وقت سونی مسجد میں جھانک پائیںکسی کی تربت پہ فاتحہ کے لیے نہ یہ اپنے ہاتھ اٹھائیںدنوں کو یوں ہی فسردہ راہوں کی خاک اڑائیںدیے جلے پر گھروں کو جائیںہماری ویرانیوں کو ویران تر بنا کر چلے ہی جائیںیہاں پہ چھا جائے اندھی اندھیاریوں کا پھر وہ سکوت جامدکہ یوم و سپر ہی جس کے ہم راز و ہم نفس ہیںنہ دن کی وحشت میں کچھ کمی تھیکہ شب کی دہشت میں کچھ کسر ہوہمارے دن رات ایک سے ہیںہمارے دن رات اسی وجود و عدم کے اک وقفۂ مسلسل میںہستی و نیستی کے برزخ میں پا بہ گل ہیںہمارے دن رات اسی درائے زمان وقفے سے متصل ہیںمگر ہمیں کب ملے گی اس دام سے رہائیہمیں ملے گا عدم کی معدوم و بے نشاں گود کا سکون ابد خدایاہمیں ازل اور ابد کے چکر سے کب عطا ہوگی رستگاریخدائے قیوم و حی و قائمجناب باری
میری نظروں کے سہمے ہوئے آئینےمیری امی کے ابا کے آپا کے اور میرے ننھے سے معصوم بھیا کے خوں سےہیں دہشت زدہآج میری نگاہوں کی ویرانیاں چند مجروح یادوں سے آباد ہیںآج میری امنگوں کے سوکھے کنول میرے اشکوں کے پانی سے شاداب ہیںآج میری تڑپتی ہوئی سسکیاں ایک ساز شکستہ کی فریاد ہیںاور کچھ بھی نہیںبھوک مٹتی نہیںتن پہ کپڑا نہیںآس معدوم ہےآج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیںآج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیںاجنبی اپنے قدموں کو روکو ذراسنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاںسنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاںساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاںمیری امی بنومیرے ابا بنومیری آپا بنومیرے ننھے سے معصوم بھیا بنومیرے عصمت کی مغرور کرنیں بنومیرے کچھ تو بنومیرے کچھ تو بنومیرے کچھ تو بنو
تحسین کے طالب نہیں اوصاف خدادادآفاق ہلا دیتی ہے حق کیش کی فریادآباد کہاں حلقۂ شعری کی فضا میںبت خانۂ مانی کہ صنم خانۂ بہزادمٹ جائے گا ایوان تفاخر کا تکلفیک شعلۂ جوالہ ہے آہ دل ناشادضرغام ہے روباہ کے زرین قفس میںآزاد ہیں پابند گرفتار ہیں آزادغازی نے کہا لوٹ لو بت خانۂ دولتصوفی نے کہا چھوڑ دو عشرت گہ شدادتیزاب سیاست میں خودی جس کی ہوئی غرقوہ کاغذی لعبت بنے کیا پیکر فولادحاجات کے بت خانۂ تزویر ہزاروںبندوں نے ترے نام پہ کر ڈالے ہیں ایجادلٹ جاتا ہے ہر گام پہ عصمت کا خزانہدل کش بہت ہے مانا کہ ہر رقص پری زادجمہور کی تہذیب سے اخلاص ہے معدومامروز نئی نسل کو اللہ نہیں یادجمہور کی برکت سے ہوئے آدمی ننگےسائنس نے سو فتنۂ محشر کئے ایجاد
پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تکاپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والیسر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائےآج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماںایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہےاس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنےکھلونوں سے محروم بچپن کے ساتھ ساتھ وہ بہاریں بھی یاد دلا جاتی ہےجب کسی ان دیکھے جھونکے سے مہک اٹھنے کی خواہش میں اس کے سپنےپس دیوار مرجھا گئے اور اس کے بال چنبیلی کے پھول بنتے گئےاور پھر اس کی کلائیوں میں پہنی ہوئی جھریوں میں طلائی چوڑیوںکے عکس جھلملانے لگےابھی ابھی ایک بے ترتیب ساہوکار اپنے بکھرے ہوئے نوٹوںکو ترتیب دینے کا جاں گسل فریضہ سرانجام دیتے دیتے تھک گیامائی مریم نے پہلے تو نوٹوں میں مقید ضرورتوں سے ملاقاتکی ایک اور کوشش کیاور پھر ایک نظر آسمان پر ڈالی جیسے وہاں بھی کوئی رہتا ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books