aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "message"
نہ جانے کتنے دن گزرےنہ کوئی کال نہ میسجنہ کوئی رابطہ رکھاتمہیں میں یاد تو ہوں نایا مجھ کو بھول بیٹھے ہو
کھلکھلاتے آئیکون کے ساتھ اس کا میسج نمودار ہواارے لڑکی تم میں ذرا حس مزاح نہیں ہےمذاق کو بھی تم کوڑھ مغز نہیں سمجھتییہ سب از رائے تفنن کہا ہے
اسے میسج تو بھیجا ہےکہ کافی پر ملو مجھ سےوہ آ جائے گی تو اچھامیں پہلے صرف دو کافی منگاؤں گامیں کیپیچینو پیتا ہوںوہ کیسی کافی پیتی ہےاس کا اندازہ تو اس کے آنے پر ہوگاہمارے پاس تو باتیں بھی کم ہیںسو کافی جلد پی لیں گےجو اس کے کپ میں تھوڑا جھاگ کافی کا بچا ہوگامیں اس کی شیپ کو پڑھ کر اسے فیوچر بتاؤں گابتاؤں گا اسے میںکیسے وہ مجھ جیسے اک لڑکے کی دنیا کو بدل دے گیاسے معلوم ہوگا کیا کہ کافی کپ کی ریڈنگ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا؟میں کیفے آ چکا ہوںوہ بھی رستے میں کہیں ہوگیبہت سے لوگ کیفے آ کے پڑھتے لکھتے رہتے ہیںمحمد علوی کی نظمیں تو میں بھی ساتھ لایا ہوںیہ ہوگا تو نہیں پھر بھی وہ آئی ہی نہیں تو پھرانہیں لوگوں کے جیسے میں بھی پڑھ کر وقت کاٹوں گااسے آنے میں دیری ہو رہی ہےمیں اک کافی تو تنہا پی چکا ہوںذرا سا جھاگ کپ میں ہے جسے دیکھو تو لگتا ہےکہ اک لڑکا اکیلا بیٹھ کر کچھ پڑھ رہا ہےتسلی دے رہا ہوں اب میں خود کویہ میری شام کا فیوچر نہیں ہےکہ کافی کپ کی ریڈنگ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا
تمہارا ایک میسج واٹس ایپ پر مدتوں کے بعد آیا تھایہ لکھا تھا کہبزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایاذرا اس وقت کچھ سانسوں کی طغیانی سی برپا تھیمجھے کچھ دھڑکنوں کو بھی ذرا ترتیب دینا تھاموبائل اسکرین اس وقت دھندلی ہو گئی تھی کچھبزی تھا میں سو رپلائی نہ کر پایاسو سوری اے مری سوہنیسنو تم نے یہ لکھا تھا کہمیں بالکل ٹھیک ہوں سوہنیتمہاری یاد ہی آتی نہیں مجھ کوسو بالکل ٹھیک رہتا ہوںمگر ہاں جب ذرا میں سانس لیتا ہوںذرا جب دل دھڑکتا ہےتو پھر تم یاد آتی ہومگر اس کے علاوہ ٹھیک رہتا ہوںذرا سر میں تناؤ کی سی کیفیت تو رہتی ہےرگوں میں بھی کھنچاؤ سا ذرا رہتا ہے اب اکثرمگر باقی سبھی کچھ ٹھیک ہے سوہنیذرا جب سانس لیتا ہوں تو اندر کچھ چبھن سی ہونے لگتی ہےکہیں کچھ زخم سا ہوگامگر باقی سبھی کچھ ٹھیک ہے سوہنیذرا بس دل دھڑکتا ہے تو سینے میں کسی کی سسکیاں مجھ کو سنائی دینے لگتی ہیںمگر باقی سبھی کچھ ٹھیک ہے سوہنیارے ہاں کل میں آئینے کے آگے جب ذرا آیاوہاں اک اجنبی چہرہ نظر آیابہت ہی زرد سا چہرہاور اس کی آنکھ کے حلقے میں گڈھے سے نظر آئےعجب وحشت ٹپکتی تھیوہاں سے بھاگ آیا میںمگر باقی سبھی کچھ ٹھیک ہے سوہنیسنو پھر بھی میں کل اک ڈاکٹر سے احتیاطاً مل بھی آیا ہوںوہ کہتے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات بالکل بھی نہیں اس میںذرا بس سانس تھم جائےذرا دھڑکن بھی جم جائےتو پھر سب کچھ ہمیشہ کے لیے ہی ٹھیک ہو جائے
بدن کو چیرتی تنہائی پر پھیلائےجب ہر ایک سو ہوگیتو اس لمحےفرازؔ و فیضؔ کی غزلوں پہ کس سے گفتگو ہوگیکسے جگجیتؔ کے سسکی بھرے گیتوں میں ڈھونڈو گےکسے پروینؔ کے خوشبو میں ڈوبے شعر تم میسج میں بھیجو گےکسے گلزارؔ کی الجھی ہوئی نظمیں سناؤ گےکہو پھر شب گئےمنٹوؔ کے افسانوں پہ کس سے گفتگو ہوگی
مجھے پتہ ہےمیرا دکھی ہوناتم کو بھی دکھ دیتا ہےمیری بے بسی کوتم محسوس کرتے ہومیری بھرائی آوازتم کو بھی رلاتی ہےمیں جانتا ہوںیہ سب تم کہتے نہیںبس میرا فون کاٹ دیتے ہویہ کہہ کر کہگھر سے فون آ رہا ہےبعد میں بات کرتے ہیںپھر مجھے میسج کرتے ہوکہ نیٹ ورک نہیں کام کر رہاکل بات کرتے ہیںپر مجھے پتہ ہےمیرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے ہیںاور تم باتوں کارخ موڑ دیتے ہومجھے وہیں پر چھوڑ دیتے ہو
کبھی کبھی کوئی یادکوئی بہت پرانی یاددل کو بری طرح جھکجھورتی ہےدل کے دروازے پربری طرح دستک دیتی ہےجیسے شام کو کوئی تارہ نکلا ہوجیسے صبح کوئی پھول کھلا ہوجیسے چاندنی اپنی کرنیں بکھیر رہی ہوجیسے کوئی چراغ جلا ہے ابھیجیسے روشنی پھیلی ہو ہر طرفجیسے روتے روتے کوئی ہنس پڑا ہوجیسے میری اور کوئی ہاتھ بڑھائے کھڑا ہوکبھی کبھی کسی کے بولنے کا بھرم ہوتا ہو جیسےجیسے وال پر کسی کا میسج پڑا ہوجیسے کوئی میرے درمیاں کھڑا ہوکبھی کبھی کوئی یادجھکجھورتی ہے دل کو
ہمیں تنہائی کھاتی ہےہمیں کوئی نہیں سنتاہمیں بھی بات آتی ہےکئی میسج ہمارے نوٹ پیڈوں میںپڑے بوسیدگی کی شاخ پر جھولیںمگر کب تک
میسج کرے وہ مجھ سے ملاقات کے لیےاور میں جواب میں لکھوں فرصت نہیں مجھے
تمہارا آخری میسج مرے ان باکس میں رکھا ہےاس میں تم نے لکھا ہےمجھے اب بھول جانا تمجدائی پھانس بھی ہو توصبر سے جھول جانا تممجھے اپنی قسم دی ہےمری تو جان لے لی ہےمگر میں جان دے کر بھی آخر تک نبھاؤں گامیں تجھ کو بھول جاؤں گامگر تم سے فقط میری ذرا سی یہ گزارش ہےمری آنکھوں میں مت رہنامرے دل سے اتر جانابھلانے بھول جانے میں تجھے میں یاد کر لوں تومجھے تم یاد نہ آناکبھی بھی یاد نہ آنا
ارے پگلیتجھے مجھ سے محبت تھیتو پھر مجھ سے کہا ہوتایہ کیا کہ رات بھر جگنایونہی بے چین سی رہنامگر سب کچھ چھپا لیناکبھی جانا جو سکھیوں میںمنافق بن کے ہنس لیناکسی سے یوں بھی کہہ دیناکہ دانشؔ مجھ پہ عاشق ہےبہت ہی چاہتا ہے وہمگر میں کیا کروں ہمدمکہ میں مجبور سی لڑکیزمانے کے رواجوں سے بندھی محبوس بیٹھی ہوںمیں کچھ بھی کر نہیں سکتیاگر وہ مجھ کو چاہے ہے تو پھر اس پر یہ لازم تھاکہ مجھ کو جیت لیتا آ کے میداں میں مقابل سےوہ مجھ کو کھینچ لیتا شوق سے پہلوئے اعدا سےزمانے کے رواجوں سے کبھی مجھ کو چرا لیتایا میرے ذمہ داروں سے وہ مجھ کو مانگ ہی لیتامگر وہ کچھ نہیں کہتاخفا سا مجھ سے رہتا ہےتمہاری یہ کہانی کل بیاں کی ایک لڑکی نےتو میرے دل میں بھی اک شوق کی آتش ہوئی پیدامیں اس سے قبل تم کو جانتا تک بھی نہ تھا جاناںمگر اک شوق تھا کہ کون ہے جو یوں بھی چاہے ہےکہ عاشق خود ہے لیکن مجھ کو وہ عاشق بتائے ہےسو کچھ لمحوں کی خاطر میں گلی میں تیری در آیاتجھے دیکھا تجھے جانا تو میں نے تجھ کو پہچانایہ اچھی بات ہے کہ شرم سے تو کچھ نہ کہہ پائیمگر جاناں ذرا سا اک اشارہ کر دیا ہوتابھرم میں تیرا رکھ لیتامگر یہ کیا کہ تو نے مجھ کو مجنوں نام کر ڈالامجھے محبوب کر کے ہائے کیوں بدنام کر ڈالازمانہ مجھ سے پوچھے ہے کہ کیوں اس سے خفا ہو تمبتا میں کیا بتاؤں دوستوں کو مسئلہ کیا ہےمجھے بھی تو محبت کا بھرم رکھنا ہے نا پگلیمیں کیسے کہہ دوں لوگوں سے کہ تو ہی مجھ پہ عاشق ہےمگر سن جب تو اپنا ضبط کھو بیٹھے کبھی رو کرتو موبائل اٹھا کر ایک میسج مجھ کو کر دینامیں تجھ کو تھام بھی لوں گاتجھے لٹنے نہیں دوں گاکہ تو میرے لیے اک محترم محبوب ہستی ہےمگر یہ عشق کا سودا اور ایسے عشق کا سودامیں ہرگز کر نہیں سکتامجھے جب تک تری چاہت کا کچھ احساس ہو ہی ناتو میں کیسے بھلا تجھ سے کوئی رشتہ رکھوں پگلیغرور حسن کو تج دےتو پھر دانشؔ بھی تیرا ہےیہ لفظ و لوح تیرے ہیںزمانہ بھی محبت بھی
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
بس یونہی جیتے رہوکچھ نہ کہوصبح جب سو کے اٹھوگھر کے افراد کی گنتی کر لوٹانگ پر ٹانگ رکھے روز کا اخبار پڑھواس جگہ قحط گراجنگ وہاں پر برسیکتنے محفوظ ہو تم شکر کروریڈیو کھول کے فلموں کے نئے گیت سنوگھر سے جب نکلو توشام تک کے لیے ہونٹوں میں تبسم سی لودونوں ہاتھوں میں مصافحے بھر لومنہ میں کچھ کھوکھلے بے معنی سے جملے رکھ لومختلف ہاتھوں میں سکوں کی طرح گھستے رہوکچھ نہ کہواجلی پوشاکسماجی عزتاور کیا چاہیئے جینے کے لیےروز مل جاتی ہے پینے کے لیےبس یونہی جیتے رہوکچھ نہ کہو
سنوتم کیوں نہیں کہتےمرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے ہیںمرے دکھ سن کے تم بھی بے بسی محسوس کرتے ہومیری آواز کی لرزش تمہیں بھی خوں رلاتی ہےمیرے لہجے کی نمناکی تمہیں بے چین رکھتی ہےمجھے معلوم ہے لیکن یہ سب تم کہہ نہیں سکتےاسی لمحہ تمہیں یاد آنے لگتے ہیںکئی بے حد ضروری کام اور پھر تماچانک منقطع کرتے ہو ٹیلیفون کی لائنپھر ایک میسج میں لکھتے ہومجھے افسوس ہے پیکج اچانک ختم ہونے پرتو پھر کل بات کرتے ہیںمگر میں جانتی ہوں اس بہانے کومجھے معلوم ہے جاناںمرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے ہیں
وہ مجھ سے سخت نالاں تھیسو اس نے مجھ کو لکھ بھیجاتعلق ختم ہے ناصرمجھے اب کال مت کرناکوئی میسج اگر آیا تو تم کو بلاک کر دوں گیاگر ملنے کی سوچو گےتو پھر تم سوچ لینا اب
بتاؤں کھایا ہے کیا میں نے آج دو تھپڑدرست کر کے گئے ہیں مزاج دو تھپڑحکیم نبض مری دیکھ کر یہ کہنے لگاترے مرض کا ہے اصلی علاج دو تھپڑیہ گال گورے تھے جو آج لال لال ہوئےکہ ان پہ کر گئے ہلکا مساج دو تھپڑوہ میرا بھائی ہے اس پر بھی دھیان دو امیمیں کھاؤں چار تو کھائے سراج دو تھپڑنہ ناشتہ کرے کھائے نہ لنچ اور ڈنربجائے کھانے کے کھائی ہے تاج دو تھپڑتمام دن نہیں کچھ کام پیٹنے کے سواہماری امی کا ہے کام کاج دو تھپڑہماری اصل خطائیں تو وہ بتا نہ سکیںپر آپا دے کے گئیں ہم کو بیاج دو تھپڑبہت ہی ہم تو ہیں بے شرم ہاں مگر اکثرہمارے چہرے پہ لائے ہیں لاج دو تھپڑیہ ڈر ہے میں جو بڑا ہو کے بھی رہا جاہلنہ مار دے میرے منہ پر سماج دو تھپڑ
ہاں اے مصاف ہستی! مت پوچھ مجھ سے کیا ہوںاک عرصۂ بلا ہوں اک لقمۂ فنا ہوںمجبوریوں نے ڈالا گردن میں میری پھنداخود کردۂ وفا ہوں جاں دادۂ رضا ہوںصیاد حادثے کا کرتا ہے میرا پیچھامرغ بریدہ پر ہوں صید شکستہ پا ہوںہے ذات میری مجمع ساری برائیوں کاکہنے کو میں بڑا ہوں لیکن بہت برا ہوںآزادیوں کی مجھ پر تہمت ہی ہے سراسرمیں قیدیٔ ہوس ہوں میں بندۂ ہوا ہوںاک بات ہو بتاؤں اک درد ہو سناؤںروؤں بھلا کہاں تک کب تک پڑا کراہوںکم بخت دل کچھ ایسا میں ساتھ لے کے آیااک لمحہ جس کے ہاتھوں دنیا میں سکھ نہ پایاجو جوش اس میں اٹھا حالات نے دبایاجو شعلہ اس میں بھڑکا تقدیر نے بجھایاامید کا یہ غنچہ کھلتے کبھی نہ دیکھایہ آرزو کا پودا پھلتا نظر نہ آیاگو اس میں موجزن تھی قوم و وطن کی الفتلیکن غرض نے اس کو کچھ اور ہی سکھایاہوتی نہیں رسائی امید کے افق تکطول امل نے اس کو اک جال میں پھنسایاکی رہبری خرد نے ہر چند رہنمائیاس جہد پر بھی لیکن کھلتی نہیں سچائیپایا نہ میں نے اب تک مقصد کا اپنے ساحلکی بحر معرفت میں دن رات آشنائیاس جستجو میں میں نے کی سیر طور و ایمنپربت کو گھر بنایا جنگل سے لو لگائیمندر کو جا کے دیکھا گرجا میں جا کے ڈھونڈامسجد کو چھان مارا اس کی نہ دید پائیجوگی کا روپ دھارا بن میں کیا گزاراتن پر بھبھوت مل کر دھونی بہت رمائیجپ تپ میں عمر اپنی میں نے بسر کی اکثربن بن کے پیر راہب جا خانقاہ بسائیصوفی بھی بن کے دیکھا اور رند بے ریا بھیکر نعرۂ انا الحق اک کھلبلی مچائیپھرتی ہیں ماری ماری مشتاق جلوہ آنکھیںپر اک جھلک سے بڑھ کر دیتا نہیں دکھائیاٹھ جا نظر سے میری ہاں اے حجاب ہستیحسن ازل نہاں ہے زیر نقاب ہستییہ زندگیٔ انساں اک خواب ہے پریشاںبیدارئ عدم ہے تعبیر خواب ہستیدیکھیں اگر تو کیوں کر ہم جلوۂ معارفتو ظلمت نظر ہے اے آفتاب ہستیتسکیں کو زہر قاتل آب و ہوائے عالمراحت کا دشمن جاں ہر انقلاب ہستیاے تشنۂ حقیقت دھوکے میں تو نہ آنااک دام پر خطر ہے موج سراب ہستیچاہے اگر رہائی پیش از فنا فنا ہوپاداش جرم ہستی ہے یہ عذاب ہستی
تیل دوائیں اور مصالحے ان سے ملتے ہیںرنگ برنگے پھول چمن میں ان پر کھلتے ہیںہم اپنی دھرتی کو پھولوں سے مہکائیں گےہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے
میں نے اس کو میسج بھیجاجس میں میں نےپیار محبت کے کچھ جملے درج کیے اورنیچے اپنا نام بھی لکھاوہ بھی عجلت میں تھی شایداس نے ٹو کا اضافہ کر کےمیسج مجھ کو واپس بھیجاجلدی میں وہ اپنا نام ہی بھول گئی تھیاس نے اپنا نام نہ لکھانیچے میرا نام لکھا تھا
تمام دن تمہارے میسیجز میرے دل کی منڈیروں پر کبوتروں کی طرح اترتے ہیںسفید دودھیا سیاہ چشم شربتی اور سرمئی مائل جنگلی کبوتر جن کے سینے کے بالکئی رنگوں میں دمکتے ہیںسبز گوں نیلگوں اور تابدار تپتے ہوئے تانبے کے جیسے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books