aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "paa.nsa"
خزاں کے جاتے ہی رت کا پانسہ پلٹ گیا ہےبہار کی خوشبوؤں سے گلشن کا ذرہ ذرہ مہک رہا ہےزمیں کی رنگت بدل گئی ہے
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ادھر سے آج اک کسی کے غم کیکہانی کا کارواں جو گزرایتیم آنسو نے جیسے جاناکہ اس کہانی کی سر پرستی ملےتو ممکن ہےراہ پاناتو اک کہانی کی انگلی تھامےاسی کے غم کو رومال کرتااسی کے بارے میںجھوٹے سچے سوال کرتایہ میری پلکوں تک آ گیا ہے
یہ بچہ کس کا بچہ ہےیہ بچہ کیسا بچہ ہےجو ریت پہ تنہا بیٹھا ہےنا اس کے پیٹ میں روٹی ہےنا اس کے تن پر کپڑا ہےنا اس کے سر پر ٹوپی ہےنا اس کے پیر میں جوتا ہےنا اس کے پاس کھلونوں میںکوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہےنا اس کا جی بہلانے کوکوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہےنا اس کی جیب میں دھیلا ہےنا اس کے ہاتھ میں پیسا ہےنا اس کے امی ابو ہیںنا اس کی آپا خالا ہے
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہدفن ہو جاتا ہوںگدگداتے ہیں جو سورج کے سنہرے ناخنپھر نکل آتا ہوںاب نکلتا ہوں تو اتنا کہ بٹورے جو کوئی دامن میںدامن پھٹ جائےگھر کے جس کونے میں لے جا کے کوئی رکھ دے مجھےبھوک وہاں سے ہٹ جائےپھر مجھے پیستے ہیں، گوندھتے ہیں، سینکتے ہیںگوندھنے سینکنے میں شکل بدل جاتی ہےاور ہو جاتی ہے مشکل پہچانپھر بھی رہتا ہوں کسانوہی خستہ، بد حالقرض کے پنجۂ خونیں میں نڈھالاس درانتی کے طفیلکچھ ہے ماضی سے غنیمت مرا حالحال سے ہوگا حسیں استقبالاٹھتے سورج کو ذرا دیکھو توہو گیا سارا افق لالوں لال
مرنے چلے تو سطوت قاتل کا خوف کیااتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پامقتل میں کچھ تو رنگ جمے جشن رقص کارنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہوخوں پر گواہ دامن جلاد کچھ تو ہوجب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو
میں جب بھی تیرے فراق کا نوحہ لکھ کے لاؤںسخن شناسوں کو میرا طرز عمل نہ بھائےتری محبت کا درد ہو جس غزل میں شاملکسی کو ایسی غزل نہ بھائےجواب آئےکہ جانے والوں کو یاد کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں تیری یادوں کو گوندھ کر اپنی حسرتوں میںتراشتا ہوں اگر ترا دل نواز پیکروہ لوگ دیتے ہیں مجھ کو بت پرستی کا طعنہجڑے ہیں جن کے دلوں میں پتھروہی صنم گرکریں نصیحت بتوں پہ مرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےمیں ذکر کرتا ہوں جب وصل کی رتوں کاتو شہر کے سارے پارسا مجھ کو ٹوکتے ہیںخلاف اخلاق جن کے نزدیک ہے محبتوفاؤں سے مجھ کو روکتے ہیںکچوکتے ہیںکہ اپنی عزت پہ نام دھرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاگر کبھی میں جدائیوں کا سبب بتاؤںتو میری نظموں سے خوف کھانے لگیں جریدےسماج پر احتجاج کرنے کا حق جو مانگوںکوئی یہ کہہ کر زبان سی دےلکھو قصیدےکہ خود کو یوں بے لگام کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہےاسی لیے تو حبیب میرےیہ میری غزلیں یہ میری نظمیںجو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیںانہیں کوئی چھاپتا نہیں ہے
برسو رام دھڑاکے سےبڑھیا مر گئی فاقے سےکل جگ میں بھی مرتی ہے ست جگ میں بھی مرتی تھییہ بڑھیا اس دنیا میں سدا ہی فاقے کرتی تھیجینا اس کو راس نہ تھاپیسا اس کے پاس نہ تھااس کے گھر کو دیکھ کے لکشمی مڑ جاتی تھی ناکے سےبرسو رام دھڑاکے سےجھوٹے ٹکڑے کھا کے بڑھیا تپتا پانی پیتی تھیمرتی ہے تو مر جانے دو پہلے بھی کب جیتی تھیجے ہو پیسے والوں کیگیہوں کے دلالوں کیان کا حد سے بڑھا منافع کچھ ہی کم ہے ڈاکے سےبرسو رام دھڑاکے سے
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
تم جو آ جاؤ آج دلی میںخود کو پاؤ گے اجنبی کی طرحتم پھرو گے بھٹکتے رستوں میںایک بے چہرہ زندگی کی طرحدن ہے دست خسیس کی مانندرات ہے دامن تہی کی طرحپنجۂ زر گری و زر گیریعام ہے رسم رہزنی کی طرحآج ہر میکدے میں ہے کہرامہر گلی ہے تری گلی کی طرحوہ زباں جس کا نام ہے اردواٹھ نہ جائے کہیں خوشی کی طرحہم زباں کچھ ادھر ادھر سائےنظر آئیں گے آدمی کی طرحتم تھے اپنی شکست کی آوازآج سب چپ ہیں منصفی کی طرحآ رہی ہے ندا بہاروں سےایک گمنام روشنی کی طرحاس اندھیرے میں اک روپہلی لکیرایک آواز حق نبی کی طرح!
تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہویا فقط امن کے پیمبر ہویا کسی کا حسیں تخیل ہوجو بھی ہو مجھ کو اچھے لگتے ہومجھ کو سچے لگتے ہواس ستارے میں جس میں صدیوں کےجھوٹ اور کذب کا اندھیرا ہےاس ستارے میں جس کو ہر رخ سےرینگتی سرحدوں نے گھیرا ہےاس ستارے میں جس کی آبادیامن بوتی ہے جنگ کاٹتی ہےرات پیتی ہے نور مکھڑوں کاصبح سینوں کا خون چاٹتی ہےتم نہ ہوتے تو جانے کیا ہوتاتم نہ ہوتے تو اس ستارے میںدیوتا راکشش غلام امامپارسا رند راہ بر رہزنبرہمن شیخ پادری، بھکشوسبھی ہوتے مگر ہمارے لیےکون چڑھتا خوشی سے سولی پر
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
یہ وقت آئے تو بے ارادہکبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوںاتار کر ذات کا لبادہکہیں سیاہی ملامتوں کیکہیں پہ گل بوٹے الفتوں کےکہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کیکہیں پہ خون جگر کے دھبےیہ چاک ہے پنجۂ عدو کایہ مہر ہے یار مہرباں کییہ لعل لب ہائے مہوشاں کےیہ مرحمت شیخ بد زباں کی
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہےآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہےبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہےشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجےاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجےاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجےاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہےچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلاموہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کامبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دامخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمامجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجےاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجےگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضیپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجےہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجےمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجےبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاججو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاجہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاجکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواججو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجےاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجےپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجےکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہےغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہےماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہےنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤںساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤںخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤںسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسےڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسےاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجےنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجےساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجےپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساںجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراںہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماںجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجےلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجےاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجےنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھیپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھیدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھیعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھیجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہےجواریا چور دغاباز خراباتی ہےماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہےیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجےکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجےجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجےسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیرجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیرسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیرتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
ماتھے پہ سخت کوشئ پیہم کی داستاںآنکھوں میں حزن و یاس کی گھنگھور بدلیاںچہروں پہ تازیانۂ افلاس کے نشاںہر ہر ادا سے بھوک کی بیتابیاں عیاںپیسہ اگر ملے تو حمیت بھی بیچ دیںروٹی کا آسرا ہو تو عزت بھی بیچ دیں
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
میں اس کو پانا بھی چاہوںتو یہ میرے لیے نا ممکن ہےوہ آگے آگے تیز خراممیں اس کے پیچھے پیچھےافتاں خیزاںآوازیں دیتاشور مچاتاکب سے رواں ہوںبرگ خزاں ہوںجب میں اکتا کر رک جاؤں گاوہ بھی پل بھر کو ٹھہر کرمجھ سے آنکھیں چار کرے گاپھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گاپھر میںمنہ توڑ کےتیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گااپنے نقش قدم روندوں گااب وہ دل تھام کےمیرے پیچھے لپکتا آئے گاندی نالےپتھر پربت پھاند آ جائے گامیں آگے آگےوہ پیچھے پیچھےدونوں کی رفتار ہے اک جیسیپھر یہ کیسے ہو سکتا ہےوہ مجھ کو یا میں اس کو پا لوں
وہ چاہتی ہے ایک سپنا پاناپھر سے اپنے سپنے جیناپھر سے ہر اک خواب بنناپھر سے ہر اک کانٹا چننا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books