aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saalgirah"
ایک نظم کہنی ہےدو اداس آنکھوں پرجیسے گل کھلانا ہوزرد زرد شاخوں پرمیرے کاسۂ فن میں ٹوٹے پھوٹے مصرعے ہیںاور دسترس میں دوست کچھ خیال دھندھلے ہےاور ان خیالوں میں ایک التجا بھی ہےالتجا بھی اتنی بسہونٹوں پے لگی چپ کو آپ تج دیا کیجےایک دو مہینے میں کھل کے ہنس لیا کیجےاور یہ بھی کہنا ہےجس جگہ قدم رکھیں وہ جہاں مبارک ہواک حسین پنچھی کو آسماں مبارک ہوساری خوشیاں مل جائیں جن پے آپ کا حق ہودو اداس آنکھوں کو جنم دن مبارک ہو
آج دروازے کھلے رہنے دویاد کی آگ دہک اٹھی ہےشاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیںآج دروازے کھلے رہنے دوجانتے ہو کبھی تنہا نہیں چلتے ہیں شہید؟میں نے دریا کے کنارے جو پرے دیکھے ہیںجو چراغوں کی لویں دیکھیں ہیںوہ لویں بولتی تھیں زندہ زبانوں کی طرحمیں نے سرحد پہ وہ نغمات سنے ہیں کہ جنہیںکون گائے گا شہیدوں کے سوا؟میں نے ہونٹوں پہ تبسم کی نئی تیز چمک دیکھی ہےنور جس کا تھا حلاوت سے شرابوراذانوں کی طرح!ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھی،میں ابھی ہانپ رہا ہوں مجھے دم لینے دوراز وہ ان کی نگاہوں میں نظر آیا ہےجو ہمہ گیر تھا نادیدہ زمانوں کی طرح!یاد کی آگ دہک اٹھی ہےسب تمناؤں کے شہروں میں دہک اٹھی ہےآج دروازے کھلے رہنے دوشاید اس رات ہمارے شہدا آ جائیں!وقت کے پاؤں الجھ جاتے ہیں آواز کی زنجیروں سےان کی جھنکار سے خود وقت جھنک اٹھتا ہےنغمہ مرتا ہے کبھی، نالہ بھی مرتا ہے کبھی؟سنسناہٹ کبھی جاتی ہے محبت کے بجھے تیروں سے؟میں نے دریا کے کنارے انہیں یوں دیکھا ہےمیں نے جس آن میں دیکھا ہے انہیںشاید اس رات،اس شام ہی،دروازوں پہ دستک دیں گے!شہدا اتنے سبک پا ہیں کہ جب آئیں گےنہ کسی سوئے پرندے کو خبر تک ہوگینہ درختوں سے کسی شاخ کے گرنے کی صدا گونجے گیپھڑپھڑاہٹ کسی زنبور کی بھی کم ہی سنائی دے گیآج دروازے کھلے رہنے دو!ابھی سرحد سے میں لوٹا ہوں ابھیپار جو گزرے گی اس کا ہمیں غم ہی کیوں ہو؟پار کیا گزرے گی معلوم نہیںایک شب جس میںپریشانیٔ آلام سے روحوں پہ گرانی طاریروحیں سنسان یتیمان پہ ہمیشہ کی جفائیں بھاریبوئے کافور اگر بستے گھروں سے جاریبے پناہ خوف میں رویائے شکستہ کی فغاں اٹھے گیبجھتی شمعوں کا دھواں اٹھے گاپار جو گزرے گی معلوم نہیںاپنے دروازے کھلے رہنے دو
اک مجمع رنگیں میں وہ گھبرائی ہوئی سیبیٹھی ہے عجب ناز سے شرمائی ہوئی سیآنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آئی ہوئی سی
کتنے سوکھے گلاب جن پرتمہاری ہر اک سالگرہ کادن بھی لکھا تاریخ بھی ہے
سالگرہ خرگوش منائےجنگل کے سب ساتھی آئےبھیڑ لگی ہے مہمانوں کیکچھ اپنوں کچھ بیگانوں کیشیر دہاڑیں مارتا آئےہاتھی بھی چنگھاڑتا آئےکتا بھوں بھوں کرتا آیاسانبھر چوکڑی بھرتا آیاگائے جب رمبھاتی آئیبکری کچھ شرماتی آئیناچتا گاتا آیا بھالوڈولتا آیا مینڈھا کالوگھوڑا سرپٹ دوڑا آیابھینسوں کا اک جوڑا آیاہرنی آئی لومڑی آئیبلی اپنے بچے لائیساتھ میں سب ہی لائے تحفےسب خرگوش نے پائے تحفےپھولوں کا گلدستہ لے کرچیں چیں کرتا آیا بندرکیک بنا کے لایا چیتااس نے دل خرگوش کا جیتاکیک کٹا تو سارے خوش تھےکیک بٹا تو سارے خوش تھےاک دوجے سے گلے ملے سببھول کے شکوے اور گلے سببندر ناچے بھالو گائےکالو مینڈھا ڈھول بجائےسالگرہ کا جشن بپا ہےجنگل جنگل شور ہوا ہے
میرے آزاد وطن تیری بہاروں کو سلامتیری پر کیف فضا تیرے نظاروں کو سلامجن کی خدمات سے چمکی ہے وطن کی قسمتجگمگاتے ہوئے ان چاند ستاروں کو سلامکارواں جن کا لٹا راہ میں آزادی کیقوم کا ملک کا ان درد کے ماروں کو سلاملکھ گئے اپنے لہو سے جو وفا کے قصےان شہیدوں پہ درود ان کے مزاروں کو سلامطاہرہؔ سالگرہ آج ہے آزادی کیہند کے خورد و کلاں ساتھیوں پیاروں کو سلام
اپنی پچھلی سالگرہ پر میں یہ سوچ رہا تھاکتنے دیے جلاؤں میں؟کتنے دیے بجھاؤں میں؟میرے اندر دیوؤں کا ایسا کب کوئی ہنگامہ تھا؟میں تو سر سے پانو تلک خود ایک دیے کا سایہ تھاعمر کی گنتی کے وہ دیے سبجھوٹے تھےبے معنی تھےایک دیا ہی سچا تھااور وہ میری روح کے اندر جلتا تھا
گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںکیک کے زینے پہ چڑھتی ہےذرا سی پھونک پر ہم راہیوں کے ساتھ بجھتی ہےدھواں چکرا کے روشن دان سے باہر نکلتا ہےچھری کی دھار سے کتنے برس کاٹوں!ہوا کا آشنا چہرہ مری آنکھوں میں رہتا ہےگئے لمحوں کو دہراتی ہوا طرز محبت ہےوہ آئے تو نئے لمحوں کی رسی تھام کر چل دوںکہیں اندر رکی پھونکیں لبوں تک آئیںتو یہ بتیاں گل ہوںابھی کل کے دریچے کھل نہیں پائےمناظر دھند میں ہیںآنسوؤں سے دھل نہیں پائے
کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکواپنی بندوقوں کی نالی سے ڈراؤ اس کواور اس پر جو نہ مانے اسے توپوں کی سلامی دے دوجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےآج محلوں میں جلیں گے مہ و انجم کے چراغآج بجھتے ہوئے چہروں کی ضرورت کیا ہےآج مایوس نگاہوں کی ضرورت کیا ہےکون بے باک ہے بڑھتا ہی چلا آتا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکوآدمی ہے کہ مرا وہم ہے آسیب ہے یہاس کے چہرے پہ تو زخموں کے نشاں تک بھی نہیںگولیاں اس کے سیہ سینے سے ٹکرا کے چلی آتی ہیںاس کے ہونٹوں پہ تبسم ہے کہ منہ کھولے ہوئےاژدہا تخت نگلنے کو چلا آتا ہےموت کس بھیس میں آئی ہے مجھے لینے کوآج کیوں آئی ہے کیوں آئی ہے کیوں آئی ہےمیں تجھے گوہر و الماس دئے دیتا ہوںتیرے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں کو حرارت دوں گاجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےکون ہو کون ہو تماے غریبوں کے خداوند امیروں کے رفیقمیں سمجھتا تھا مجھے آپ نہ پہچانیں گےمیں نے انگریز کی جیلوں میں جوانی کاٹیمیں نے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں سے جلائے ہیں دئےجن کی لو آج بھی طوفانوں سے ٹکراتی ہےجن کو انگریز کی پھونکوں نے بجھانا چاہااور خود ان کی زباں جل کے سیہ فام ہوئیوہ دیے آج بھی برلاؤں کی چیخوں سے لڑے جاتے ہیںآپ کو یاد نہ ہوگا شایدکون ہو کون ہو تممیں نے تاریخ کی لہروں میں روانی دے دیمیں نے بوڑھوں کی رگ و پے میں جوانی دے دیمیں نے جھکتے ہوئے شانوں کو توانائی دیکارخانے مری آواز سے بیدار ہوئےاور اک میری ہی آواز نہیں گونجی تھیسیکڑوں وقت سے ہارے ہوئے انسان اٹھےکہرۂ وقت پہ چھانے کے لئےکون ہو کون ہو تماوراق میں ہی نہیں آیا ہوںسیکڑوں وقت کے مارے ہوئے انسان بھی ہیںسیکڑوں وقت پہ چھائے ہوئے انسان بھی ہیںکون ہو کون ہو تمآج بھی کھیتیوں میں بھوک اگا کرتی ہےکارخانوں میں دھوئیں کے بادلطوق اور آہنی زنجیروں میں ڈھل جاتے ہیںکون ہو کون ہو تمآپ انسان کی عظمت پہ یقیں رکھتے ہیںآپ کے حکم نے کتنوں کی زبانیں سی دیںآپ کی مملکت عدل میں کتنے بیمارقید تنہائی میں دم توڑ چکےکون ہو کون ہو تمآپ کی بیڑیاں افراد کو پابند بنا سکتی ہیںآپ کی بیڑیاں انسان کو پابند نہیں کر سکتیںکل یہی شمع جو سینے میں فروزاں ہے آجآپ کے سارے طلسمات جلا ڈالے گیکل انہیں کھیتوں میں اجڑے ہوئے کھلیانوں میںسالہا سال کی پامال زمیںاپنے سینے کے خزانوں کو لٹاتی ہوگیکارخانے بھی سیہ کار خداؤں سے رہائی پا کرلاکھوں انسانوں کی تسکین کا ساماں ہوں گےاک نئے عہد نئی زیست کا عنواں ہوں گےاور پھر وقت کا بے باک مورخ آ کرسرخ پرچم کو سلامی دے گاکون ہو کون ہو تمبھاردواج
شام سے میرے سامنےٹیبل پر اک کیک رکھا تھاشمعیں بھی کتنی تھیں لیکناب کے جلنا مجھ کو پڑا تھاتنہا بیٹھ کے سوچ رہا تھااب تو شام کے آخری پل ہیںاب کی بار وہ یہ دن کیسے بھول گیا ہےکیا وہ آنے سے قاصر ہےلیکن فون تو کر سکتا تھاایس ایم ایس تو کر سکتا تھاپھر میں نے دل کو سمجھایاشاید کوئی مجبوری ہوآخر آنکھوں کے پانی سے خود کو بجھا کرسالگرہ کا کیک بھی میں نے کاٹ دیا ہےچھری چلی ہے کیک پہ لیکندل پر گہرا زخم لگا ہے
اس کے نیچےسالگرہ کا کیک سجا تھاغباروں اور تحفوں سےسارا کمرہ بھرا ہوا تھایہاں بھی لائیک لکھا ہوا تھا
میرے گھر کی دیواریں اب مجھ کو چاٹ رہی ہیںسارے شہر کی مٹی میں جو میرا حصہ تھاوہ بھی لوگوں میں تقسیم ہوا ہے اپنی اس کی قبر پر میری آنکھیںاڑتی دھول کیخوشبو تھامے لٹک کر لیٹ گئی ہیںایسے سمے اب کون آتا ہےٹیڑھی ترچھی انگلیوں میں سارے وفا کے دھاگے ہلکے ہلکے ٹوٹ رہے ہیںہڈیوں کے جلنے کی بو بستر کی شکنوں میں گھلنے لگی ہےدروازوں کو بند کرو یا کھولوہوا میں شعلے مدھم مدھم راکھ کی صورت سوتے جاتے ہیںاور ہم اکھڑی سانس کے وقفے میں لفظوں کے تعویذ گلے میں ڈالےتصویروں سے پوچھتے ہیں تم آؤ گےآؤ گے تو اپنی آوازوں کے سائے بھی لے جاناسارے خواب اور پرچھائیں تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہیںان پر نئے چمکیلے ورق لگا کرایسی ہی لڑکی کو بھجوانا جس کو تم نے اپنا کہا ہووہ لڑکی بھی دروازوں کی دروازوں سے اب حرف وفا کو سننے لگی ہےاس کو تم مت ترسانا اس کے پاس چلے جانایا اس کو پاس بلا لینا وہ آ جائے گیلڑکی ہے نا کہنا کیسے ٹالے گی
آج اس دل ربا کی سال گرہ ہےلیکن میں اس حسین شام کا انتظار نہیں کر سکاکل رات ہی جشن منانے اس کے در پر پہنچ گیامیرے ہاتھوں میں سرخ گلاب تھےاور بہار کی خوش بوآنکھوں میں پیار تھااور بہت سے سوالہونٹوں پر خوشیوں کے گیت تھےاور تھوڑی سی پیاسدل ربا کے سامنے اک شمع جل رہی تھیخوشی کے اس موقع پرٹھیک بارہ بجےاس نے وہی کیا جو سال گرہ منانے والے کرتے ہیںقاتل اداؤں والی نےبے نیازی سے پھونک مار کےمیری محبت کی شمع گل کر دی
دم عمر رواں کا دائرہرکتا ہے اک لمحے پہ شاید ہر برسوہ میری پیدائش کی ساعت ہےتمہاری یا ہمارے ننھے بچوں کیہمارے رشتۂ انداراج میںیا شعلۂ گل سےمنور غیر رسمی اجنبی وابستگی کیجو رگ و پے میں مسلسل ہو گئیمیں روکتا ہوں بے وفا لمحے کوپیہم سینچتا ہوں خون سے اس کودریدہ انگلیوں سےکاٹ کر اس کو کھلاتا ہوں میں دل کا خوشۂ نازکمگر یہ طائر رعناپریشاں فاصلوں کے نور کا رسیازمینوں آسمانوں اور خلاؤںسے بھی شاید ماورا ہےمختصر سے جشن پر ہنستا ہواہر سرحد امکاں سے میری تیرگی سےدور جاتا ہےفلک کی روشنی کیوادیوں میںمنتظر ہےکوئی انجانا انوکھا خوب صورت اجنبی اس کا
وقت کی بات ہے ہر غنچۂ سربستہ مگروقت کیا چیز ہے بے پیمانۂ ساختہ ہے
سارا کمرا سجا ہوا تھابیچ میں تھا اک کیک دھراپورے گھر میں شور مچا تھاخالد کی تھی سال گرہپہلا مہماں ساتھ میں لایاغبارہ اک گیس بھرادوسرے نے بھی آ کے تھمایاغبارہ اک گیس بھراتیسرے مہماں نے پکڑایاغبارہ اک گیس بھراچوتھا مہماں لے کر آیاغبارہ اک گیس بھراپانچویں نے بھی اسے دیا تھاغبارہ اک گیس بھراخالد نے مٹھی میں پکڑےاتنے سارے غبارےغباروں میں گیس بھری تھیسب اوپر کو اڑنے لگےبیچارہ خالد بھی ان کےساتھ ہوا میں اڑنے لگانیچے سے مہماں چلائےکیک تو کاٹتے جاؤ ذرا
دن آیا نہ ملبوس بدل کے نہ نکھر کےاور لوگ بھی نکلے نہ شگفتہ نہ چمکدارتب میں نے سوچا مرے کاغذ کے غبارے نہ ناچیں تو بہتر ہےاک عمر کا صدمہ ہے بہت تلخ زمیں کونہ سالگرہ آج مناؤں میں تو بہتروہ بھی نہیں خوش اور نہ خوش دن کا گزر ہےاے عمر ترا سخت اکیلے کا سفر ہےتب میں نے کہا چاند اگر اپنے بدن کوعورت کا بدن دے تو میں کانٹوں کے ترازودل دے کے بدل لوںدل دے کے بدل لوں میں قیامت بھی گہن بھیاور ان کے عوض اس سے کہوں آج کے دن تورک میری زمیں پرتقدیر ہوا بن کے درختوں میں کھڑی ہےاور میں اے عجب چیز چٹانوں پہ گرا ہوں
مری اچھی وجیہہمیں تجھ سے خوش ہوں اتناکہ اکثر سوچتا ہوںاگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلےخالق مجھ سے کہتاکہ چن لے ان ہزاروں لاکھوں بچوں میں سےاک اپنے لیےتو میں تجھے ہی منتخب کرتامیں خوش قسمت ہوں کتنادعا گو ہوںسدا جیتی رہےاور ایسی ہی اچھی رہے تو
یاد نہیں کیابھرے پرے بازار سے جب میںخالی خالی لوٹ آیا تھااور اک پھولتیرے چمکتے ہاتھ پہ رکھ کرمیں نے کہا تھاتیری پسند کے رنگ کا کپڑامل نہ سکے تومیرے کوٹ کیجیب میں رکھےنوٹ کیقیمت گر جاتی ہے
میری بارہویں سال گرہ پرسب نے نوازا تحفے دے کرابا اک سائیکل لے آئےامی نے لڈو بنوائےدیدی نے کپڑے سلوائےبھیا گیند اور بلا لائےہر اک کچھ نہ کچھ لایا تھااک تحفہ تھا ماسٹر جی کاماسٹر جی لائے تھے کھلوناسب سے الگ سب سے نرالااک قطار میں تین تھے بندرکیا خوبی تھی ان کے اندراک تھا ہاتھ سے آنکھیں موندےدوسرا منہ پر ہاتھ تھا رکھےاور جو تیسرا بندر دیکھاہاتھ جو تھا کانوں پر رکھاماسٹر جی سے پوچھا میں نےکیسا کھلونا ہے کیا جانےکہنے لگے لو غور سے سن لوپہلے سن لو پھر منہ کھولواک کہتا ہے برا نہ دیکھودوسرا بولے برا نہ بولواور تیسرے کا یہ ہے کہنابرا کسی سے کبھی نہ سنناکیوں بھئی کیسا ہے یہ تحفہہے کہ نہیں یہ سب کی پسند کاماسٹر جی کی باتیں سن کرملی نصیحت سال گرہ پرخوش تھے میرے امی اباتحفہ دیکھ کے ماسٹر جی کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books