aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tasdeeq"
تیری تخلیق نہیں ہے مری تخلیق نہیںہم اگر ضد بھی کریں اس پہ تو تصدیق نہیں
مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںکہ فصل پھر سے گناہ گاروں کی پک گئی ہےحضور کی جنبش نظر کےتمام جلاد منتظر ہیںکہ کون سی حد جناب جاری کریںتو تعمیل بندگی ہوکہاں پہ سر اور کہاں پہ دستار اتارنا احسن العمل ہےکہاں پہ ہاتھوں کہاں زبانوں کو قطع کیجئےکہاں پہ دروازہ رزق کا بند کرنا ہوگاکہاں پہ آسائشوں کی بھوکوں کو مار دیجےکہاں بٹے گی لعان کی چھوٹاور کہاں پررجم کے احکام جاری ہوں گےکہاں پہ نو سالہ بچیاں چہل سالہ مردوں کے ساتھسنگین میں پرونے کا حکم ہوگاکہاں پہ اقبالی ملزموں کوکسی طرح شک کا فائدہ ہو
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہےمیں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوںمیز پر اپنی ساری دنیاکاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیںساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیںدل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیںان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہےمجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہےمجھ کو اس راحت میں صادق پا کرسارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیںایک اگر میں سچا ہوتامیری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیںان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتےمیرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
حامد نے اک نبی کا قصہ مجھے سنایاپر بات تھی کچھ ایسی مجھ کو یقیں نہ آیاامی سے میں نے پوچھا ابو سے میں نے پوچھادادا حضور کو بھی سب واقعہ بتایااستاد محترم سے حاصل کی رہنمائیاپنے امام صاحب کا در بھی کھٹکھٹایاپھر انبیا کے قصوں والی کتاب دیکھیلیکن کہیں بھی ایسا قصہ کوئی نہ پایاسمجھایا میں نے جا کر حامد کو اس کے گھر پریوں مت سناؤ سب کو قصہ سنا سنایاجو واقعہ سناؤ تحقیق پہلے کر لویعنی سہی غلط کی تصدیق پہلے کر لو
زمانے بھر میں آئینہ صداقت کی علامت ہےمگر میں اس کا منکر ہوںبہت جھوٹا ہے آئینہکبھی وہ دیو قامت ہستیوں کو ایک دم بونا دکھاتا ہےطلسماتی ہے آئینہکبھی پستہ قدوں کا قد بہت اونچا دکھاتا ہےبہت بہروپیا ہے وہکوئی فربہ ہو تو اس کو بہت دبلا دکھاتا ہےبہت ہی مسخرہ ہے وہچلو جانے بھی دو کہ آئنہ انسان کی فطرت میں شاید ڈھل گیا ہوگامگر کچھ شعبدہ بازی کی حد بھی ہےیہ آئینہ تو مجھ سے بھی ہمیشہ مکر کرتا ہےجو میرا ہاتھ ہو سیدھا تو وہ الٹا دکھاتا ہےاگر الٹا دکھاتا ہوں تو پھر سیدھا دکھاتا ہےبہت جھوٹا ہے آئینہمگر آئینۂ ایام میں تکذیب آئینہ کی حیثیت بھلا کیا ہےخدا جانےمگر تاریخ کہتی ہےیہی تکذیب آئینہ، زمانے بھر کے شیشہ گر قبیلے کے لیے خطرات کا تصدیق نامہ ہےمری تضریب پیہم سے یہ آئینوں کے سوداگر شکستہ ہیںشکستہ کیفیت میں مجھ سے یہ دریافت کرتے ہیںکہ آخر کون ہو تم جیتمہیں ان آئنوں سے دشمنی کیوں ہےہمیشہ آئنوں کا منہ چڑھاتے ہو، سدا تضحیک کرتے ہوتم آخر چاہتے کیا ہوتو لو میں آج یہ اعلان کرتا ہوںمرے اس عہد کے شیشہ گرو، سوداگرو سن لو!سنو، آگاہ ہو جاؤمیں شاعر ہوںمیں آئینے کو آئینہ دکھاتا ہوں!
''تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم ہو''! اس نے مجھے جھنجوڑا''مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی'' میں نے احتجاج کیااس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! تم'' سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ ہو''''ٹھہرو! ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے...... تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں''اس نے گھبرا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور ذرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پرجوش ہو کر بولا''دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو''''ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں''اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا...... ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیںاس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا''دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو''''مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی'' میں نے دہائی دیوہ غصے سے کانپنے لگا..... پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا''خود کو ثابت کرو خدا را نہیں تو میں مٹ جاؤں گا!ہماری تکمیل ضروری ہے''''ناگزیر ہے! میں نے تائید کیآؤ میں تمہیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محروم ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے''''ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہوگی'' اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا......اور پھر ہم نے دیکھا... رنگ... روشنی... سبزہ... مایہ... حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی جاگیریں تھیںباہر تو صرف دھواں تھا
وہ اک شخص تھاجو اکیلا تھا اس کا کوئی بھی نہ تھااک اکائی تھا وہاور اک دن خود اپنی اکائی میں ضم ہو گیااس نے مرتے ہوئے اک وصیت لکھیجس میں لکھا تھا!اے آدمی!اے وہ اک شخصجو مرے مرنے کی پہلی خبر سن کے دوڑےاور آواز دے بھائیو آؤ اس کا جنازہ اٹھاؤاور اس آواز پہ کوئی آواز اس تک نہ پہنچےاور پھر مجھ سے بیکس اکیلے کو کاندھوں پہ اپنے دھرےاور اکیلی سی اک قبر میں مجھ کو پہنچا کے محفوظ کر دےمیرا وہ دوست اتنا سا احسان مجھ پر کرےوہ مری قبر پر ایک سادہ سا کتبہ لگائےاور اس پر مرا نام لکھ دےسچ کہوں اس سے میں اپنی شہرت نہیں چاہتاکیا مرا نام اور کیوں وہ باقی رہےمیں اس واسطے چاہتا ہوں کہ جبشہر کے لوگ یہ سن کے دوڑیںکہ دیکھو یہ مشہور ہے، لوگ کہتے ہیں وہ شخص تو مر گیاسوچتے ہیں یہ اسی کی شرارت نہ ہوتاکہ ہم لوگ اب اس سے غافل رہیںاس کے فتنے سے اپنے کو محفوظ سمجھیںبس یہی چاہتا ہوںکہ ایسا کوئی شخص ڈھونڈھے مجھےتو سہولت ہو اس کو یہ تصدیق کرنے کییہ شخص سچ مچ نہیں ہےوہ اب مر چکا ہےمیں تو اب دشمنوں کے بھی آرام کے حق میں ہوںکیوں کسی کو کسی سے خلل ہو؟کیوں کسی کو نام سے ایک دہشت ہو؟سارے انسان دنیا میں آرام سے سوئیں اور خوش رہیں
میرا یہ شعر سن کر اس نے تھوڑی دیر سوچااور پھر دھیرے سے اپنا نام ہونٹوں پر سجا کراس نے میرے شعر کی تصدیق کر دیاور مرا لکھنا مکمل ہو گیا تھا
وہ کیا سلسلہ تھاجو اک گود سے گور تک ریشمی تار سا تن گیاجس پہ چلتے زمانےخدا وند اعلیٰ کے احکام رحمت اٹھائے ہوئےرقص کرتے گزرتےتو مٹی پہ نقش و نگاران غم مسکراتےتجھے یاد آتےتجھے یاد کرتے ہوئےیوں گزرےکہ جیسے کسی بھید بھاؤ بھری چاندنی رات سےچاند کا بانکپنبادلوں کے لڑکپن کے گالے اڑاتے ہوئےخواب لبریز پریوں سےچھپ چھپ کے گزرےیہ دکھنے دکھانے کی ساری مشیعتیہ چھپنے چھپانے کی ساری اذیتکوئی جھیلتا ہےجو تو نے اکیلے میں جھیلیمیں کتنے دنوں بعد آیا ترے پاؤں چھونےحساب اس خجالت کا کرتے ہوئےکتنے آنسو گرےمیں نہیں گن سکابھیگتے پھیلتے لفظ اعداد جب بھی سمندر بناتےترے نام کی ناؤ مجھ کو کنارے لگاتیمگر یہ کنارہ کوئی کہکشاں تو نہیں تھاکہ میں تیرے لا وقت ساحل پہخود اپنے پاؤں کے مٹتے نشاں دیکھ کر مسکراتاوہ گنتی کا معکوسی زینہ تھاتحت الثری تک رواں رینگتی آبنائے تھیآنکھوں کا کاریز تھیتیری محبت کی وہ داستاںجس کو لکھنے کی کوشش میں لاکھوں ورقمیں نے کالے کیےمگر ایک لمحہ بھی میرے قلم پروہ خوش رنگ الہام بن کر نہ اتراجسے تیرے ہونٹوں کی تصدیق ملتی
لیکن یہ بات بھی ایک دن غلط ثابت ہو گئیمیرے گھر سے دفتر تک کے راستے میںکوئی درخت تھا ہی نہیںیہ مجھے کئی لوگوں نے بتایادوسرے کئی لوگوں نے اس بات کی تصدیق کیکچھ نے یہ ماننے تک سے انکار کر دیاکہ اس راستے پر کبھی کوئی درخت بھی تھااس روز جب میں اداس اور غمگیںآفس سے گھر لوٹ رہا تھامیرے راستے کے دونوں جانبدرخت سڑک پر نیچے تک جھک آئے تھےہر گھر کی چار دیواری کے اوپر سےایک نہ ایک درخت جھانک رہا تھاگھروں کی بالکنیوںاور چھتوں پر اگ آئے تھے درختکچھ درخت تو الٹے ہی کھڑے تھےکچھ آدھے دیواروں میںاور آدھے دیواروں کے شگافوں سےباہر نکل کرسڑک کو یوں تک رہے تھےجیسے راہگیروں کو گن رہے ہوں
یہ بھی کہا کہ''مطربوں کا طائفہان کے لیے ہے صرف جن کا سامعہمعتقد ہے صبح نو کے طربیہ الحان کا''اور طائروں نے یک زباںاس بات کی تصدیق کیگردن ہلائی ساق پرہر پھول نےاور پیٹھ دے کر اپنی خوشبو روک لیمنہ موڑ کر شاخوں نے روکی ہے ہوا
پہلے صفحے پر سرکاری خزانے کا حساب ہےدوسرے صفحے پر پروہت کے جاری کردہ عبادت کے احکامتیسرے صفحے پر ان مجرموں کے نام ہیںجنہیں ایک منحوس دعا کے جرم میںدوسرے دن صلیب پر چڑھایا جانا تھااس کے بعد کچھ سادہ صفحات ہیںشاید کتاب کا مصنف بھی مار دیا گیااس کی تصدیق آگے کی ان دعاؤں سے ہوتی ہےجو مرے ہوؤں کی مغفرت کے لئے سرکاری پروہتوں نے مانگیںاور جو بدلی ہوئی تحریر میں تھیں
مری مشکل کا تم ہی حل نکالوتمہیں تسلیم کر لوہاں مرے ہی نام پر دیوانے نے دیوان لکھا ہےمقدس لب سے گرتصدیق کر دو تممرے مجموعے کیاس سے زیادہ خوبصورت اور مکملرسم اجرا اور کوئی ہو نہیں سکتی
کیا ماننا جاننے کی پہلی شرط ہےاور جاننا ماننے کی محض تصدیق بھر ہے
ناحق کا یہ نام نہ دوبے جا یوں الزام نہ دوسچ کیا ہے تصدیق کرورب سے اپنے سدا ڈروآخر تم نے دنیا کویہ کیسا پیغام دیامفت مجھے بدنام کیا
بھولنے والے آؤ پھر سے تجدید وفا کرتے ہیںجہاں سے ہاتھ کی لکیریں نوچ ڈالی تھیںپھر سے ان میں رنگ بھرتے ہیںجب ڈھلنے لگے رات کا پہرہپھر صبح کا دم بھرتے ہیںتجھ کو وہ پل یاد تو ہوں گےنغمے بند آنکھوں میں تیرتے ہوں گےیاد ہے وہ سب قہر کی ٹھنڈی راتیںقوس قزح کے رنگوں سی باتیںتصور و تصویر بنی ہے تخلیق میریکچھ تعریف کچھ تصدیق تیریمیری باتوں سے کچھ موسم یاد آ جائیں گےتجھ کو سب مفہوم سمجھ آ جائیں گےیقین ہے مجھ کو ایسے ہی پھر اک دن آ ملے گا تومیری طرح کچھ سلگتا سا کچھ بجھا بجھا سابکھرا بکھرا اداسیوں میں سسکتا ساجھکی جھکی آنکھوں میں آنسو کچھ پشیمانی سیچہرے پہ خاموشی ٹھہری کچھ حیرانی سیزخم کا گھاؤ جب بھر جائے گاتب چین کہیں آ جائے گاتو بچھڑا تھا اک ضد میں آ کرخود ہی اب آتشی دیوار گرائے گا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفاتو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books