aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "traffic"
نہ پوچھ اے ہم نشیں کالج میں آ کر ہم نے کیا دیکھازمیں بدلی ہوئی دیکھی فلک بدلا ہوا دیکھانہ وہ پہلی سی محفل ہے نہ مینا ہے نہ ساقی ہےکتب خانے میں لیکن اب تلک تلوار باقی ہےوہی تلوار جو بابر کے وقتوں کی نشانی ہےوہی مرحوم بابر یاد جس کی غیر فانی ہےزمیں پر لیکچرر کچھ تیرتے پھرتے نظر آئےاور ان کی ''گاؤن'' سے کندھوں پہ دو شہ پر نظر آئےمگر ان میں مرے استاد دیرینہ بہت کم تھےجو دو اک تھے بھی وہ مصروف صد افکار پیہم تھےوہ زینے ہی میں ٹکرانے کی حسرت رہ گئی دل میںسنا ون وے ٹریفک ہو گئی اوپر کی منزل میںاگرچہ آج کل کالج میں واقف ہیں ہمارے کمہمیں دیوار و در پہچانتے ہیں اور ان کو ہمبلندی پر الگ سب سے کھڑا ''ٹاور' یہ کہتا ہےبدلتا ہے زمانہ میرا انداز ایک رہتا ہےفنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پرمگر ''ٹاور'' کی ساعت کے بھی بازو خوب چلتے ہیںکبوتر بیٹھ کر سوئیوں پہ وقت اس کا بدلتے ہیںاسی مالک کو پھر حلوے کی دعوت پر بلاتے ہیںوہ حلوہ خوب کھاتے ہیں اسے بھی کچھ کھلاتے ہیںاگر وہ یہ کہے اس میں تو زہریلی دوائی ہےمرا دل جانتا ہے اس میں انڈے کی مٹھائی ہےپھر اس کے بعد بہر خودکشی تیار ہوتے ہیںوہ حلوہ بیچ میں اور گرد اس کے یار ہوتے ہیںوہ پوچھے گر کہاں سے کس طرح آیا ہے یہ حلوہتو ڈبہ پیش کر کے کہہ دیا اس کا ہے سب جلوہکسی کنجوس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیںاور اس کے نام پر ٹک شاپ سے چیزیں منگاتے ہیںبچارہ جعفریؔ مدت کے بعد آیا ہے کالج میںاضافہ چاہتا ہے اپنی انگریزی کی نالج میںترے سینے پہ جب یاران خوش آئیں کی محفل ہوتو اے 'اوول' اسے مت بھول جانا وہ بھی شامل ہو
چشم بد دور کراچی میں ٹریفک کا نظاماونٹ گاڑی کی گدھا گاڑی کی ٹک ٹک کا نظامراہگیروں سے پولس والوں کی جھک جھک کا نظامکتنا چوکس ہے یہ پسماندہ ممالک کا نظامراہ روکے ہے پولس ''کارگزاری'' دیکھوکس طرح جاتی ہے شاہوں کی سواری دیکھو
چولھے سے دیر تک آتی رہیںدھنکی ہوئی آوازیںاور رنگین چہرے والی نیوز کاسٹر نےدہرائی وہی باسی خبرکہ سردی کی شدت کے باعثمہنگی ہو گئی ہے آگاس لئے پرہیز کیا جائے عورتیں جلانے سےپل پر اژدہام تھا ٹریفک کالیکن کسی حادثے کو دکھائی نہیں دیہماری صورتاور ہم نیچے اتر آئے چور دروازے سےدریا کو خالی دیکھ کر
ہماری گاڑی کو ٹریفک جام میںپھنسا دیکھ کریہ ہنستے ہیں تو ہمیںاپنے آپ پر رونا آتا ہے
جو صدیاں بچھڑ چکی ہیںمیں ان میں زندہ رہتی ہوںاور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتیسڑکوں پر تانگے کی ٹاپوں کی صدا اب بھی سنتی ہوںجیسے محو سفر ہوںاور ہوا میرے کانوں میں کچھ راز کہتی ہےپھر کسی گاڑی کے ہارن کی صدا پرچونک جاتی ہوںمیں جنگلوں کو تاراج کر کے سڑکیں بنتے دیکھتی ہوںاور بے جان بدن لیےجنگلوں کے نشان ڈھونڈھتی چلی جاتی ہوںیہ راتوں رات کنکریٹ سے بنتے ہوئے دیو ہیکل پلسڑکوں کو کشادہ کرنے کی خواہش میںتنگ ہوتا ہوا عرصۂ حیاتترقی کی آڑ میںروح کو گھائل کرنے والے سودےقطرہ قطرہ زندگی پینے والےبے بسی سے دہائی دیتے ہوئے انگنت لوگجن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روندتے ہوئےبڑے بڑے بلڈوزراور اب تو گٹر کی طرحابلے پڑے ٹریفک کے اس تعفن زدہ ہجوم میںکہیں پٹری کی سانسیں بھی اکھڑ رہی ہیںریل گاڑی کا انجن جانے کہاں رہ گیا ہےچپ چاپ بچھڑی صدیوں میں پناہ لیتے ہوئےمجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی
میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوںنئی کتابوں کے معبدوں میںپرانے لفظوں کو پوجتا ہوںمیں منظر ہوں بشارتوں کامری زبان پر میں صبح نو کے افق کے نئے جہاں کےنئے ترانےپرانی قبریں چٹخ رہی ہیںدیے بجھاؤ کہ سرخ سورج ابھر رہا ہےدلوں میں کوئی اتر رہا ہےنئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکنمیں ان کی لذت سے بے خبر ہوںمیں بے ہنر ہوںمیں سرخ بھی ہوں میں سبز بھی ہوںمیں کچھ نہیں ہوں
میرے سامنے بیٹھا اجنبی مجھے دیکھتا تھاشاید کوئی آبلہ پا تھامیری آنکھوں سے ہو کر گزراشاید کوئی دریا تھاکوئی سراب تھاسبھی منظروں سے اوجھلٹریفک کے دھویں میں گم ہوتا ہوا کوئی ہجوم تھاجیسے کوئی پر سکون سااماوس راتوں کا درد دیکھتے دیکھتےاپنی صورت بدلنے لگا تھامیں کہنے ہی والی تھی کہمجھے تم چاہتے ہو عمر بھر کے لئےاور اتنے میں میرے سیارے نےاس کے سیارے میں اپنی مدت پوری کیاور ایک ایلین فورس کی طرحکسی اور دنیا کی اور مجھے اڑا لے گیامیں نے کہا تھا ناوقت پھسل جاتا ہے ہاتھوں سےجواں راتیں زمانوں کی آغوش میںاک دن تھک کر سو جاتی ہیں
کبھی میری مصروفیتتو کبھی تیرے پاؤں کی موچکبھی چیونٹی کی طرح رینگتا ٹریفککبھی نکھٹو زمانے کی سوچ
یہ شہر ستم مار دیتا ہے مجھ کوسر راہ شام و سحر کے کنارےنظار و پریشاں میں شوریدہ سرازدحام کسالت میں گماپنے چاروں طرف اک نظر ڈالتا ہوںتو یہ سوچتا ہوںکہ یہ گاڑیاں ہیںیا گاڑی نما وحشتیں رینگتی ہیںمجھے وحشتیں ڈس رہی ہیںتھکن سے بدن میں دراڑیں پڑیں ہیںکوئی منزل بے نشاں تک نہیں ہےقدم میرے بوجھلمرے دست و پا شل
چار برس کےمیلے کچلےدبلے پتلے لڑکے میں تھیغضب کی پھرتیچوراہے پر ایک طرف کی ہری لائٹ سےدوسری سمت کی لال لائٹ تکبجلی کی تیزی سے وہ آتا جاتا تھاجو مل جائے اس کے آگےپھیلاتا تھا اپنی ہتھیلیجس میںخوشحالی اور لمبے جیون کیریکھائیں تھیںچوراہے تک ہی محدود تھی اس کی دنیاجس کو اس نے نہیں چنا تھاٹریفک لائٹ کے ارد گرد تھا اس کا جیونوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاٹوٹے پل کے نیچے اس کا جنم ہوا تھاوہ بھی اس نے نہیں چنا تھاکل شبٹریفک لائٹ کو توڑنے والے ٹرک سے دب کرموت ہو گئی اس کیوہ بھی اس نے نہیں چنی تھی
ٹریفک وارڈن سے پوچھنا قصے حسینوں کےجو جھرمٹ میں گزرتی ہیںدلاسے دل کے لاکر میں چھپائے ہنستی رہتی ہیںکسی دکھ کی اگر وہ چابیاں دیکھیں تو ڈر جائیں
پھر وہ ٹریفک کا دھواں پھر وہ شانوں کی رگڑپھر پسینے کی وہ بورکشے والے سے ذرا سی تکرار چند سکوں کے لیےاور پاکٹ میں وہ جھنکار انہیں سکوں کیاک گزرتی ہوئی لوکل بس سے کچھ دھواںاور وہ ڈیزل کی بوجسم میں چبھتی ہوئی دن کی بلا کی گرمی
میں کسی شہر میںٹریفک ہورڈنگ کے ایک طرفکسی بڑے اشتہار میں اوپرہنستا مسکراتا چہرہ دیکھتا ہوںمیں دیکھتا ہوںاس کے ہاتھ میںکسی دم کٹے چتکبرے کتے کیدونوں اگلی ٹانگیںاس کا چہرہ اور کتے کی ناکمتوازیکتے کی آنکھوں میں چمکاس کے ہونٹوں کی خوشیایک سیسبز بتی جل گئی ہےٹریفک فلو جاری ہوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books