aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "uluu"
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
ہند کا آزاد ہو جانا کوئی آساں نہیںدیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایا جائے گادیکھنا تم سے ابھی کتنے کئے جائیں گے مکرکس طرح تم کو ابھی چکر میں لایا جائے گاتم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہتم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گاپیشوایان مذاہب کو ملیں گی رشوتیںڈھونگ تبلیغ اور شدھی کا رچایا جائے گادھرم رکشا کے لئے تم سے لئے جائیں گے عہدتم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گالیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کےقلت و کثرت کا ہنگامہ اٹھایا جائے گاتم کو پروانہ عطا ہوگا خطاب و جاہ کاتم کو عہدے دے کے لالچ میں پھنسایا جائے گاگر یہ تدبیریں مقدر سے نہ راس آئیں تو پھردوسری صورت سے تم کو ڈگمگایا جائے گاانتہائی بربریت سے لیا جائے گا کامبند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گادانہ پانی کر دیا جائے گا بالکل تم پہ بندتم کو بھوکوں مار کے قبضے میں لایا جائے گاگرم لوہے سے تمہارے جسم داغے جائیں گےتم کو کوڑے مار کر الو بنایا جائے گاجائیدادیں سب تمہاری ضبط کر لی جائیں گیبال بچوں پر تمہارے ظلم ڈھایا جائے گاباوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگربے تأمل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گااس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکنسر تمہارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا
پہلے ایسا ہوتا تھابھانت بھانت کے بندرشہر کی فصیلوں پرمحفلیں جماتے تھےگھر میں کود آتے تھےہاتھ میں سے بچوں کےروٹی نوچ جاتے تھےاب تو وہ مداری بھیخالی ہاتھ آتا ہےبھیک مانگ کر گھر گھرگھر کو لوٹ جاتا ہےاب گھروں میں چڑیوں کاشور کیوں نہیں ہوتارات کو کوئی الوپیڑ پر نہیں روتاپیڑ پر نہیں روتالڑتے لڑتے چڑیاں کیوںفرش پر نہیں گرتیںبلیاں چھتوں پر کیوںگھومتی نہیں پھرتیںاب نہ کوئی بلبل ہےاور نہ کوئی مینا ہےاب نہ کوئی تیتر ہےاور نہ کوئی طوطا ہےکس سے پوچھنے جائیںمور کیسا ہوتا ہےٹولیاں کبوتر کیکھو گئیں فضاؤں میںتتلیوں کے رنگیں پربہہ گئے ہواؤں میںمنہ اندھیرے اب مرغابانگ کیوں نہیں دیتاگھر میں کوئی بکری کانام کیوں نہیں لیتاکیا ہوئے درختوں پرگھونسلے پرندوں کےکوئی بھی نہیں کہتاقصے اب درندوں کےننھے ننھے چوزوں پرچیل کا جھپٹنا ابدیکھنے کہاں جائیںراستے میں سانڈوں کاپہروں لڑتے رہنا ابدیکھنے کہاں جائیںچھپکلی کی جیتی دماب تھرکتی کیا پائیںرنگ بدلتے گرگٹ کومارتے کہاں جائیںگائے بھینس کا ریوڑاب ادھر نہیں آتااونٹ ٹیڑھا میڑھا سااب نظر نہیں آتااب نہ گھوڑے ہاتھی ہیںاور نہ وہ براتی ہیںاب گلی میں کتوں کابھونکنا نہیں ہوتارات چھت پہ سوتے ہیںبھوت دیکھ کر کوئیچونکنا نہیں ہوتااب جدھر بھی جاتے ہیںآدمی کو پاتے ہیں
الف جو آلو کھائے گاوہ موٹا ہو جائے گاب بارش جب آتی ہےکوئل شور مچاتی ہےپ پالی میں نے بلیچل دی چھوڑ کے وہ دلیت تتلی ہے زندہ پھولجو نہ مانے نامعقولٹ ٹٹو پر چڑھ بھیاڈر مت آگے بڑھ بھیاث ثابت ہے یہ لٹوچنو جا لے آ پٹوج میں جوتے کھاؤں گارو کر چپ ہو جاؤں گاچ چنو ہے اک لڑکاننھا منا چھوٹا ساح وہ حا تو آیا ہےہینگ اور پٹو لایا ہےخ خچر میں لاؤں گااپنے گھر میں نچاؤں گاد نہ دال پکا امیبرفی مجھے کھلا امیڈ ڈروں میں بھالو سےمیں نہیں ڈرتا خالو سےر رونا مجھے آتا ہےجب مرا بھیا گاتا ہےس سروتا لا امیمجھ کو پان کھلا امیبس بھائی آگے مت جااتی بس نظم نہ ہوگا
ایسے ایسے گل کھلائے اس بت گلفام نےمرغ کو الو بنا دیتی تھی میرے سامنے
کل بازار میں بھیا شافیپینے آئے ٹھنڈی کافیاک دو پیکٹ بسکٹ کھائےٹھونس گئے دو درجن ٹافیآلو چھولے کھا کر بولےبرفی ایک کلو ہے کافیامی جی کی بات نہ مانیابو سے کی وعدہ خلافیایسا کھٹکا پیٹ کا مٹکااللہ معافی اللہ معافیگڈو کا بھی حال سنائیںدودھ پئیں نہ انڈے کھائیںپھل ترکاری ایک نہ بھائےغصے میں بس ہونٹ چبائیںدیکھ کے دسترخوان پہ مچھلیپاؤں پٹختے بھاگے جائیںچاول روٹی گوشت کی بوٹیدیکھیں تو نخرے دکھلائیںدن کا ہو یا رات کا کھاناروئیں پیٹیں شور مچائیںدبلے پتلے روکھے سوکھےبات کرو تو لڑنے آئیںاتنے ہلکے پھلکے سے ہیںفین چلے تو اڑ ہی جائیں
طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےالو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائےککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیالقمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تالمور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےچڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھمموٹی بطخ چونچ سے ڈھولک پیٹے دھم دھم دھمبیا بجائے منجیرے اور بھونرا بھجن اڑائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےبلبل گل کی یاد میں رو رو گائے دیپک راگمست پپیہا دور سے نغموں کی بھڑکائے آگکوئل پہن کے پائل ساری محفل میں اٹھلائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےرنگ برنگی چڑیاں اب چھیڑیں ایسی قوالیپتا پتا بوٹا بوٹا تال میں دیوے تالیپھوپھی چیل وجد میں آ کر اونچی تان لگائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائےانگلستان کا سارس آ کر ناچے راک این رولمرغابی سے بولے میڈم انگلش گانا بولدیکھو دیکھو کتنی پیاری محفل ہے یہ ہائےطوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے
بربط نواز بزم الوہی ادھر تو آدعوت دہ پیام عبودی ادھر تو آ
میں کار جہاں سے نہیں آگاہ ولیکنارباب نظر سے نہیں پوشیدہ کئی رازکر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامددستور نیا اور نئے دور کا آغازمعلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقتکہہ دے کئی الو کو اگر رات کا شہباز
ہنسی کل سے مجھے اس بات پر ہے آ رہی خالوکہ خالہ کہہ رہی تھیں آپ کا ہے قافیہ آلواسی دن سے بہت ڈرنے لگا ہوں آپ سے خالہجب امی نے بتایا آپ کا ہے قافیہ بھالااگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا پھپیتو فوراً سامنے رکھ دوں گا لا کر تیل کی کپیاگر شاعر کہیں بے قافیہ ہے لفظ بہنوئیمرے بہنوئی سر پر شاعروں کے مارنا ڈوئیاگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا دادیتو ململ پھینک دینا اوڑھ لینا سر پہ تم کھادیبہت ہے گھومنے کا شوق تم کو اے بڑے بھیانہ مارو تو بتا دوں ہے تمہارا قافیہ پہیاتم اپنا قافیہ خود بن گئی ہو اے میری آپانظر لگ جائے گی تم سر پہ رکھ کر ہو ہو ٹایاتمہارا قافیہ کوئی نہیں ہے اے نحیف امییہی اچھا ہے تم چپکے سے بن جاؤ ردیف امی
چیل آئی چھنتائی لے کرلڈو الو بھائی لے کرخرگوش آئے دلائی لے کراور گدھے شہنائی لے کر
پورا چاند نکلتا ہے تو بھیڑیا اکثر روتا ہےرات کو کتا بھوں بھوں کرتا دن کو الو سوتا ہے
میں دیکھتا ہوںویران شاہراہوں پر رینگتی خاموشیسورج کے گھر لوٹتے ہیبے لباس ہو کر ناچنے لگتی ہےاور تلاش کرتی ہے کچھ مسکراتے چہرےاندھیرا چھانے لگتا ہےویرانی دالان میں بیٹھی بین کرتی اوراپنی محرومی کا اظہار کرتی ہےکرائے کے قبرستان میں دفن مردےرات بھر احتجاج کرتے ہیںاپنی نامکمل خواہشوں کو سڑکوں پر جلاتے ہیںجس کے دھوئیں سے آسمان کارنگ کالا پڑ جاتا ہےرات کی تاریکی منحوس آوازیں نکالتی ہےویران سڑک کے ایک طرف کھڑی بوڑھی طوائفاپنے گاہک کے رویے سے خوفزدہ ہےالو اور چمگادڑ بھی رات سے خفا ہو کراب دن میں سفر کرتے ہیںمردہ رات گہری ہو جاتی ہےجاڑے کی ٹھٹھراتی سردی میںفٹ پاتھ پر بیٹھی ایک ننھی کلیایک روٹی کے لیے خدا کے سگنیچر کی منتظر ہےمہنگی گاڑیوں کے سامنےگڑگڑاتی طوائف کا ایک آنسومیرے ذہن میںبے شمار سوالات چھوڑ گیا ہے
اک جنگل میں ہوئے اکٹھےسارے جانوروں کے بچےبھیڑ نے اپنا للا بھیجاگائے نے بھی بچھڑا بھیجاکتے کا پلا بھی آیاالو کا پٹھا بھی آیابکری نے بھی میمنے بھیجےاور بلی نے بلوٹے بھیجےمرغی کے چوزے بھی آئےبطخ کے بچے بھی آئےگھوڑے کا چالاک بچھیرابھینس کے کڑے کے ساتھ آیاباز کبوتر کوا چڑیاہاتھی اونٹ عقاب اور شکرابندر شیر ہرن اور کچھواتیتر مور بٹیر اور بگلاطوطا مینا فاختہ سب نےاپنے اپنے بچے بھیجےکہیں تھیں چیں چیں کہیں چیاؤںکہیں تھی میں میں کہیں میاؤںسب نے مل کر شور مچایااک خخیایا اک ممیایاکوئی چیخا کوئی بھونکاالو بھی سوتے میں چونکاخوب یہ جلسہ چمکا یعنیبات نہ سمجھا کوئی کسی کی
اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گےاک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گےلڑکوں سے کہیں گے آؤ گرامو فون فون تمہیں سنوائیں گےصندوق اور ڈبہ کھول کے پھر ناچیں گے شور مچائیں گےآج اپنے ہر ہمجولی کو ہم الو خوب بنائیں گے
کانٹوں کے تاج چنویاجب سچ کی راہ چلولفظوں کے پیچ و تاب میں الو نہ بنوشاعری مت کرو!موٹے جھوٹے یجمانوں کی جھڑکیاں ہوںیا کاہل ریاکار افسروں کا پھٹکاریںیا پھردبلی پتلی دق زدہ بیویوں کے طعنے ہوںیا طوطا چشم عیار رت بدلیمحبوباؤں کی جھوٹی مسکراہٹیںخاموش رہوہر شے کوقدرت کا کرشمہ سمجھو
گرما گرم پکوڑے چٹنی پھر املیوں کیآلو بڑے مزے کے مرچیں بھی تیز تیکھی
اور پھر ایک اتوار کواس کے دونوں بڑے بھائیوں بھابیوں نےحساب اور چولھے الگ جب کیےاس نے اماں کو خود اعتمادی سے دیکھاکہ اب اس کے اپنے دوپٹے قمیص اور شلوار چپل کے جوڑےنمک مرچ آلو مٹر پیاز لہسن چقندر ٹماٹرپودینہ، کڑھی پات زیرہ، مسالے،چنے مونگ ماش اور مسر، ساری دالیںمہینے میں دو بار قیمہ یا مرغی کا سالنچھٹی کلاس میں پڑھنے والے غبی چھوٹے بھائی کی ٹیوشنکتابوں کا خرچہیہ سب اس اکیلی کی ہے ذمہ داری
لو گھنٹہ بجا انٹرول کااب وقت آیا ہے ہلچل کااب جو چاہے وہ شور کرےاب ہر لڑکا خود ٹیچر ہےجس چیز کو پایا توڑ دیاہاتھوں میں سب کے سنیچر ہےگو آج کا دن ہے منگل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کادیکھو اک چھوٹے بچے سےوہ چھین رہا ہے لنچ کوئیکرسی کو پٹخ کر کرسی پروہ پھینک رہا ہے بنچ کوئیاسکول بنا گھر پاگل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کاکچھ اپنی صحت پر نازاںگاما کی طرح سے اکڑتے ہیںکچھ تال ٹھونک کر میداں میںرستم کی طرح سے لڑتے ہیںہر سمت ہے منظر دنگل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کاکچھ موسیقی کے متوالےکچھ فلمی گانے گاتے ہیںکچھ میر کے شعروں کے رسیاکچھ قومی ترانے گاتے ہیںکچھ قصہ آلھا اودل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کاکچھ چاٹ کی دوکانوں میں کھڑےپتوں میں کچالو کھاتے ہیںکچھ گرم پکوڑی کے طالبکچھ تازہ آلو کھاتے ہیںکچھ پاپڑ کھاتے ہیں کل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کاکچھ دولت مندوں کے لڑکےکھاتے ہیں اپنی بریانیکچھ بھوکے مفلس بچوں کےمنہ میں بھر آتا ہے پانیہے شوق کسی کو چاول کالو گھنٹہ بجا انٹرول کااس نیم کے نیچے میداں میںموسم ہے جہاں ٹھنڈا ٹھنڈااک گروہ کھلاڑی لڑکوں کاہے کھیل رہا گلی ڈنڈایہ لطف ہے بس پل دو پل کالو گھنٹہ بجا انٹرول کا
ان کی امی جان میں ان سے زیادہ جان ہےلذت آلو پس آلو بخارا دیکھنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books