دل کا روگ

MORE BYسہیل عظیم آبادی

    چمپا نگر سینی ٹوریم۔ سسکتی ہوئی روحوں کی بستی۔ لرزتی ہوئی زندگیوں کی دنیا۔ مضطرب اور جھلملاتی ہوئی شمعوں کی انجمن۔ پرفضا مقام، شاداب درختوں کے جھنڈ میں لمبا چوڑا میدان، میدان میں سبز گھاس کا نظر فریب فرش۔ ان میں لال رنگ کی صاف سڑکیں۔ خوب صورت عمارتیں۔ لیکن ان پر گہری اداسی چھائی ہوئی۔ جیسے قبرستان کا بھیانک سناٹا۔

    شام کے پانچ بجے سینی ٹوریم کی گھنٹی بجی، مرجھائی ہوئی زندگیوں نے کروٹ لی۔ جن مریضوں کو شام کے وقت ٹہلنے کی ہدایت تھی، وہ اپنے اپنے وارڈوں سے نکلے اور جدھر دل چاہا ٹہلنے چلے گئے۔ ایک نوجوان ریشمی قمیص اور اونی سوئیٹر پہنے اپنے وارڈ سے نکلا اور آہستہ آہستہ زنانہ وارڈ کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی مضمحل جوانی سے تو اتنا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کبھی طاقت ور اور خوب صورت نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر اداسی اور گہری سنجیدگی تھی، وہ سر جھکائے ہوئے جا رہا تھا جیسے کسی گہرے سوچ میں ہو۔

    نوجوان جیسے ہی زنانہ وارڈ کے پاس پہنچا ایک نوجوان لڑکی نے اس کا استقبال کرتے ہوئے مسکرا کر کہا کیا سوچ رہے ہو چندر؟‘‘

    چندر نے چونک کر سر اٹھایا اور ذرا کھسیانا سا ہو کر بولا۔

    ’’تمھارے ہی پاس آ رہا تھا۔‘‘

    لڑکی ہلکا سا قہقہ لگا کر بولی۔

    ’’کہاں کھوئے ہوئے ہو؟‘‘

    چندر نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

    ’’نہیں تو ۔‘‘

    لڑکی بولی۔

    ’’شاید تم کچھ سوچ رہے تھے چندر—!‘‘

    ’’ہاں‘‘ چندر نے جواب دیا۔ ’’سوچ رہا تھا کہ اس اداس اور بے مزہ زندگی کا کیا فائدہ؟ شیاما تمہیں بتاؤ کہ اس زندگی میں کون سی دل چسپی باقی رہ گئی ہے، جو اس کی حفاظت کے لیے زندگی کو موت سے بدتر بنایا جا رہا ہے۔‘‘

    چندر چپ ہو گیا، اس نے جواب کے انتظار میں اپنی نظریں شیاما کے ہونٹوں پر جما دیں۔ جیسے وہ جلد سے جلد جواب چاہتا تھا۔

    شیاما کی عمر سترہ سال ہو گی۔ اس کا پھیکا سفید چہرہ، حلقوں میں گھری ہوئی بڑی بڑی آنکھیں، پتلے ہونٹ اور مرجھائی ہوئی جوانی کو دیکھ کر آدمی آسانی کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ وہ بھی کبھی خوب صورت ہو گی۔ اب بھی اس کے چہرے پر حسن کا عکس اس طرح موجود تھا جیسے خزاں زدہ گلشن میں بہار کی پرگندہ کیفیتیں۔

    دونوں آہستہ آہستہ آگے بڑھے، چند قدم چل کر شیاما بولی ’’کدھر چلوگے چندر؟‘‘

    ’’وہ سامنے ٹیکری پر۔‘‘ چندر نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    دونوں اسی طرف بڑھے۔ سامنے ٹیکری کا منظر نہایت ہی خوش نما تھا، اونچی زمین پر ہرے بھرے درختوں کا ایک قدرتی باغ سا تھا جس کے تین طرف ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی ندی کے کنارے پر ایک قسم کی لمبی لمبی گھاس اگی ہوئی تھی۔ جس میں پیلے پیلے پھول کھلے ہوئے تھے۔ شیاما نے کہا۔

    ’’چندر! آج سردی کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے‘‘

    ’’ہاں‘‘ چندر نے جواب دیا۔

    شیاما نے اپنی شال کو ذرا سنبھال کر بدن پر ڈال لیا۔ دونوں آگے بڑھتے گئے، ہر طرف جنگلی جھاڑیاں تھیں بیچ میں تنگ راستے پر دونوں سنبھال سنبھال کر قدم بڑھاتے تھے۔ جھاڑیوں میں سے کبھی کبھی تیتر اور چکور کے بولنے کی آواز آ جاتی تھی۔ دونوں چپ تھے ، راستے میں ایک پر فضا جگہ دیکھ کر دونوں بیٹھ گئے۔ ان کے چاروں طرف ہری ہری جھاڑیاں تھیں۔ اور جنگلی پھولوں کی خوش بو۔ دونوں چپ چاپ بیٹھے رہے۔ اور اس طرح جیسے ایک کی دوسرے کو خبر نہ ہو۔ دونوں باتیں کرنا چاہتے تھے مگر چپ تھے۔ آخر چندر نے کہا۔

    ’’شیاما! میں کئی دن سے سوچ رہا ہوں کہ میری اس بے لطف زندگی کا کیا فائدہ؟ کس لیے اس کی حفاظت کروں؟ صرف سینکڑوں روپئے سینی ٹوریم کو دینے کے لیے؟ یہی روپے میرے عزیزوں کے کام آ سکتے ہیں۔ میں تو اس بے کیف زندگی سے اکتا گیا ہوں۔

    شیاما نے کہا۔

    ’’چندر! تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ بیکار باتیں ہیں جلد ہی اچھے ہو جاؤ گے، پھر دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں ہوں گی—‘‘

    چندر نے کہا۔

    ’’میں بچہ نہیں ہوں شیاما، تم بہلانا چاہتی ہو۔ میں سچ کہتا ہوں، سارا دن مسہری میں پڑے رہنا تاش کھیلنا اور کھانا پینا یہ کوئی زندگی ہے؟ سچ کہتا ہوں میں اب اس زندگی سے جلد ہی چھٹکارا پانا چاہتا ہوں۔‘‘

    شیاما نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔

    ’’یہ بالکل بیکار باتیں ہیں چندر۔ بلکہ مردوں کی شان کے خلاف۔ خوف ناک خطروں کا مقابلہ کرنا ہی— مردوں کا کام ہے۔ ساری فضا مصیبتوں اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے لیکن اس سے ڈر کر جان دے دینا تو بزدلی ہے۔ مردانگی تو یہ ہے کہ تمام مصیبتوں اور تکلیفوں میں گھر کر آدمی قہقہے لگائے جیسے بہادر سپاہی میدان جنگ میں جان دیتا ہے، جانتا ہے کہ موت سر پر منڈلا رہی ہے مگر پھر بھی لاشوں کے ڈھیر پر کھڑا ہو کر ہنستا ہے ہر قدم آگے بڑھتا ہے اور اسی طرح ہنستا اور قہقہے لگاتا ہوا خود بھی مر جاتا ہے......‘‘

    چندر نے بات کاٹ کر کہا۔

    ’’ہر آدمی کا خیال اپنے مشاہدات اور حسیات کے ماتحت بنتا ہے، تم اتنی دلیر ہو، لیکن میں نہیں ہوں۔ اب مجھ سے روز روز خون تھوکا نہیں جاسکتا۔ علاج ہو رہا ہے۔ مگر دل کا روگ ہر روز بڑھتا ہی جاتا ہے، اس سے جلد ہی چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ میری زندگی عذاب بن چکی ہے۔ تم کسی دن سن لو گی کہ میں نے خود کشی کر لی۔‘‘

    تھوڑی دیر تک چندر یاس کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا باتیں کرتا رہا اور شیاما اسے تسلی دیتی رہی، لیکن جب اس کی حسین آنکھوں میںآنسو پیدا ہونے لگے تو اس نے کہا۔

    ’’چندر اب چلنا چاہیے شام ہو رہی ہے۔‘‘

    وہ اٹھ کھڑی، چندر بھی اٹھا، دونوں سینی ٹوریم کی طرف چلے، آفتاب غروب ہو چکا تھا۔ پورب میں تاریکی اور پچھم میں ہلکی سی سرخی پھیلتی جا رہی تھی۔

    (۲)

    چندر اور شیاما ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے۔ ایک ہی کالم میں پڑھتے تھے، دونو ں کے باپ شہر کے مشہور وکیل اور گہرے دوست تھے، بچپن سے ایک دوسرے کے گھر آیا جایا کرتے تھے، کسی قسم کی غیرت نہیں تھی۔ مگر دونوں شرمیلے تھے۔

    شیاما نے ایف۔ اے پاس کیا تو اس کے باپ نے ایک جگہ اس کے بیاہ کی بات پکی کر لی۔ لڑکا وکیل تھا، گھر بھی اچھا تھا، اس کے باپ کو بڑی خوشی تھی۔ لیکن شیاما اس خبر کو سنتے ہی بدحواس سی ہو گئی۔ وہ سوچتے سوچتے تھک گئی۔ آخر وہ سیدھی چندر کے گھر پہنچی تاکہ ساری باتیں کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرے مگر چندر گھر پر نہ تھا دوسرے دن شیاما پھر شام کے وقت چندر کے گھر آئی۔ چندر اس وقت باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال سنوار رہا تھا۔ شیاما آ کر کھری ہو گئی۔ آئینے میں چندر نے اس کا عکس دیکھ لیا۔ لیکن خاموش رہا پہلے چندر تپاک سے اس کا استقبال کیا کرتا تھا۔ فوراً باتیں شروع کر دیتا تھا، لیکن آج اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ شیاما کو سخت حیرت تھی چندر خاموشی سے بال سنوارتا رہا۔

    شیاما نے کہا ’’چندر! میں آئی ہوں۔‘‘

    چندر نے بے پروائی کے ساتھ کنگھی پھیرتے ہوئے کہا۔

    ’’ہوں‘‘

    شیاما نے کہا۔

    ’’میں کل بھی آئی تھی چندر—‘‘

    ’’ہاں مجھے معلوم ہے۔ ماتا جی نے بتایا تھا۔‘‘ چندر نے جواب دیا۔

    بال سنوار نے کے بعد چندر غسل خانے میں گھس گی۔ شیاما ایک کرسی کے سہارے کھڑی رہی۔ غسل خانے میں جانے کا کیا مطلب۔ آج اس کے تیور بالکل بدلے ہوئے ہیں۔ پہلے وہ آتی تھی تو اسے دیکھ کر وہ پھول کی طرح کھل جاتا تھا۔ کبھی اپنے مضامین سناتا کبھی کسی بڑے مصنف کی تصنیف پر بحث چھیڑ دیتا۔ ایک دن چندر نے خود ہی فلسفہ محبت پر بحث چھیڑ دی تھی اور اس کے بحث میں حصہ نہ لینے پر بھی بحث کو خود ہی بڑھاتا جاتا تھا اور آخر کہنے لگا۔

    ’’شیاما میں ایک ناول لکھنا چاہتا ہوں، جس میں محبت کے فلسفے پر ایسی بحث کرنا چاہتا ہوں کہ کسی مصنف نے نہ کی ہو۔‘‘ اس کا جواب اس نے دیا۔

    تو پھر وہ فلسفے کی کتاب ہوگی، ناول نہیں‘‘ اس پر ایک دوسری بحث چھڑ گئی۔

    غسل خانے سے پانی بہنے کی آواز برابر آ رہی تھی، اکتا کر شیاما نے چاہا کہ آگے جاکر آواز دے۔ آگے بڑھی تو میز پر ایک لفافہ پڑا ملا۔ یہ چندر کے باپ کا خط تھا، شیاما نے اٹھا لیا۔

    ’’چندر! تمہارے بیاہ کی بات شام بابو ی بیٹی سے ہو رہی ہے، سمجھو کہ پکی ہو چکی ہے، صرف تمہاری ہاں کی دیر ہے۔ تمہیں اس مسئلے میں کامل آزادی دیتا ہوں، لڑکی کو تم خود بھی جانتے ہو یقین ہے کہ تم اس بات کو ناپسند نہ کرو گے—‘‘

    شیاما نے خط کو پڑھنے کے بعد لفافے میں بند کر کے اسی طرح رکھ دیا اور اپنی جگہ واپس آ گئی، چندر تولیہ سے منھ ہاتھ صاف کرتا ہوا غسل خانے سے نکلا اس کے چہرے پر اداسی تھی اور آنکھوں میں آنسووں کی چمک چندر نے کوشش کر کے اپنی نظروں کو شیاما کی طرف سے پھیرے رکھا اس کی طرف ذرا بھی متوجہ نہ ہوا، شیاما بولی۔

    ’’چندر! میں کل بھی آئی تھی۔‘‘

    ’’ہاں ماتا جی سے معلوم ہوا تھا۔‘‘ چندر نے جواب دیا۔

    شیاما پھر چپ ہو گئی، سوچنے لگی، اب کیا کہوں، دیر تک یہی سوچتی رہی مگر اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا تو جی کڑا کر کے بولی۔

    ’’چندر— میرا بیاہ ہونے والا ہے۔‘‘

    چندر نے اسی بے پروائی کے ساتھ جواب دیا۔

    ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘

    شیاما کو ایسے روکھے جواب کی امید نہ تھی۔ وہ چکرا سی گئی، اس کو یقین ہو گیا، کہ چندر اپنی بیاہ کی خوشی میں پھولا نہیں سماتا۔ شام بابو دولت مند آدمی ہیں، ان کی بیٹی سبھدرا خوب صور اور پڑھی لکھی ہے۔ پسند نہ ہونے کی کوئی وجہ ہی نہیں، تھوری دیر کے بعد کہنے لگی۔

    ’’اور سبھدرا دیوی کب آئیں گی؟‘‘

    ’’کبھی آ ہی جائے گی۔‘‘

    چندر نے جواب دیا، شیاما کے دل پر چوٹ سی لگی، اس کو ایسے جواب کی ہرگز امید نہ تھی وہ تلملا سی گئی۔

    ’’تو میں جا رہی ہوں چندر—‘‘

    شیاما کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا، وہ واپس جانے کے لیے پلٹی، لیکن دروازے کے پاس آکر پھر وہ رک گئی، چندر ٹینس ریکٹ ہاتھ میں لیے اس کے پاس سے کترا کر باہر چلا گیا۔ اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔

    شیاما کا دل بیٹھ گیا، سر چکرانے لگا، قریب تھا کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے، مگر کوشش کر کے اس نے اپنے کو سنبھالا۔ مہینوں سے اپنے بیاہ کے متعلق سن سن کر اس کا دل اور دماغ بے قابو ہو رہا تھا چندر کے جواب نے اس پر آخر اور بھاری چوٹ لگائی۔

    دوسرے ہی دن معلوم ہوا کہ شیاما کو سخت بخار ہے۔ بیاہ کے تھوڑے ہی دن باقی تھے، تاریخ بڑھ گئی مگر شیاما اچھی نہ ہوئی، بخار برابر رہنے لگا مسلسل چار مہینے بخار میں مبتلا رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے دق تجویز کی اور ان کی ہدایت سے وہ سینی ٹوریم بھیج دی گئی۔

    چندر کی زندگی بالکل بدل چکی تھی، زیادہ تر وہ اپنے کمرے ہی میں رہتا، شیاما کے گھر اور اس کے ماں باپ سے تو اس کو نفرت ہو گئی تھی، شیاما چار مہینے تک بخار میں جلتی رہی، لیکن وہ اس کو دیکھنے کے لیے بھی نہ گیا، پہلے اگر اس کو معمولی سا بخار بھی ہو جاتا تھا، تو دن میں چار مرتبہ اس کو دیکھنے جایا کرتا تھا۔ اس کی ماں برابر کہتی کہ جاکر دیکھ آؤ، مگر چندر نہ گیا، شیاما کے گھر والوں کو بھی حیرت تھی کہ چندر کیوں نہیں آتا۔

    جس دن شیاماسینی ٹوریم جا رہی تھی، سب جانے پہچانے لوگ اس کو رخصت کرنے آئے، لیکن چندر نہ گیا، چندر کی زندگی میں ایسی تبدیلی دیکھ کر اس کی ماں بہت گھبرائی وہ ہزار پوچھتی کہ بات کیا ہے مگر وہ کچھ بھی جواب نہ دیتا۔

    شیاما کے چلے جانے کے چند دنوں بعد چندر کے منھ سے بھی یکایک خون آ گیا، ڈکٹروں نے دق تجویز کی اور کہا کہ مرض پرانا ہے، علاج نہیں ہوا، اس لیے بڑھ گیا، مگر علاج ہوتا کیسے کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ چندر بیمار ہے۔ چندر نے کسی سے کچھ کہا ہی نہیں اس کو سخت بخار ہوتا تو ہاتھ میں ٹینس ریکٹ لے کر باہر چلا جاتا، طبیعت اچھی رہتی تو کھانا کھا لیتا، ورنہ کہہ دیتا کہ ہوٹل میں زیادہ ناشتہ کر لیا ہے، سوائے کمرے میں بیٹھے رہنے کے اور کوئی بات اس نے ظاہر نہ ہونے دی، جب ماں کمرے میں آتی تو کوئی کتاب پڑھنے لگتا۔ کچھ پوچھتی تو کہہ دیتا کہ کچھ اچھی کتابیں مل گئی ہیں۔ ختم کر کے جلدی واپس کر دینا ہے۔ وہ اس کے شوق کو جانتی تھی، اس کا جواب سن کر چپ ہو جاتی۔

    منھ سے خون آیا تو مرض کا پتہ چلا۔ اور چندر بھی سینوٹوریم بھیج دیا گیا۔

    (۳)

    دوسرے دن پھر چندر اپنے وارڈ سے نکلا۔ شیاما پہلے ہی سے اس کا انتظار کر رہی تھی، دونوں پھر ٹیکری کی طرف روانہ ہوئے۔ شیاما چندر کا چہر دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنی نظریں چندر کے دل کی انتہائی گہرائیوں میں ڈال کر دیکھنا چاہتی تھی کہ وہاں کیا ہے۔ آخر شیاما نے پوچھا۔

    ’’چندر! سبھدرا کی کیا خبر ہے؟‘‘

    اس کے انداز گفتگو میں طنز تھا، سبھدرا کی شادہ ہو چکی تھی، چندر نے جواب دیا۔

    ’’جہنم میں گئی۔‘‘

    شیاما کو اس کے جواب سے خوشی ہوئی وہ کچھ اور بولتی مگر چندر کے جواب سے لطف اٹھانے لگی۔

    چندر نے اس کے اس سوال کو طنز سمجھا، چندر نے کہا،

    ’’مسٹر مراری لال کس حال میں ہیں؟‘‘

    سبھدرا کے ساتھ وہ بھی گئے۔‘‘

    سبھدرا کی شادی مراری لال سے ہو گئی تھی، پہلے مراری لال کے بیاہ کی بات شیاما سے ہوئی تھی مگر دق کے مرض نے بات ختم کر دی، چندر بھی بیمار ہو گیا، آخر قسمت نے مراری لال کو شیاما سے اور سبھدرا کو چندر سے چھین کر ملا دیا۔

    کچھ دور جانے کے بعد شیاما نے کہا۔

    ’’میں تھک گئی ہوں چندر بیٹھ جاؤ—‘‘

    دونوں ایک جگہ بیٹھ گئے، جنگلی جھاڑیوں پر امرلتا کی بیل پھیلی ہوئی تھی، ایک ننھی سی چڑیا اس پر پھدکتی پھر رہی تھی۔ چاروں طرف جنگلی پھولوں کی بھینی اور نشیلی خوشبو پھیل رہی تھی، وہاں سے ایک میل دور ایک جھرنا بہتا تھا۔ اس سے پانی گرنے کی آواز برابر آ رہی تھی۔ شیاما نے کہا۔

    ’’چندر! آج کل میں ایک انگریزی ناول پڑھ رہی ہوں، ختم کر کے دوں گی، ضرور پڑھنا‘‘ چندر نے جواب دیا۔

    ’’شیاما ! میں آج کل ایک ناول لکھ رہا ہوں، ختم کر کے دوں گا ضرور پڑھنا۔‘‘

    شیاما نے مسکرا کر کہا۔

    ’’وہی محبت کی فلسفے والی کتاب ہو گی۔ تم ناول تو خواہ مخواہ لکھ رہے ہو، کیوں وہی ہے نا؟‘‘

    چندر نے کہا! ’’وہ نہیں شیاما! یہ صرف ناول ہوگا، ایک خونیں داستان، ایک نوجوان کی خون اور آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی کہانی، روح کی تڑپ اور دل کے زخموں کی تصویر، محبت کے الم ناک پہلو کا نفسیاتی مطالعہ، اب فلسفہ باقی نہیں رہ سکتا، اس میں صرف احساس ہو گا شیاما!‘‘

    شیاما نے اس کا چہرہ غور سے دیکھا اور کہا۔

    ’’پلاٹ کیا ہے چندر—؟‘‘

    چندر نے کہا ’’پلاٹ کیا ہو گا، وہی ایک نوجوان دوشیزہ سے محبت کرتا ہے، مگر معلوم نہیں کہ وہ دوشیزہ بھی نوجوان کو چاہتی ہے یا نہیں۔ دوشیزہ کی شادی ہونے والی ہوتی ہے، تو نوجوان افسردہ دل ہو کر اس سے ملنا جلنا ترک کر دیتا ہے، نہ جانے دوشیزہ اس کے بارے میں کیا خیال کرتی ہے، مگر وہ یکایک بیمار ہو جاتی ہے، نو جوان بھی بیمار ہو جاتا ہے، دونوں ایک ہی مرض کے شکار ہوتے ہیں دونوں میں پھر ملاقات ہوتی ہے، آخری منزل کے قریب، دونوں روز ملتے ہیں، پھر احساسات جاگ پڑتے ہیں، نوجوان آخر اپنی افسردہ زندگی سے تنگ آکر کود کشتی کر لیتا ہے۔‘‘

    شیاما خاموش ہو گئی۔ دیر تک دونوں چپ رہے۔

    ’’ہاں پلاٹ تو اچھا ہے، لیکن نا مکمل ہے، اور یہ اسی لیے کہ تم فلسفی ہو، کاش تم اس دوشیزہ کی آنکھوں میں محبت کے آنسووں کی جھلک دیکھ سکتے، تو اس ناول کا پلاٹ مکمل ہو جاتا۔ تمہیں دیکھنا چاہیے کہ دوشیزہ بھی نوجوان کو اس سے محبت نہیں رہی، مگر اس کا انجام کیا ہو؟ ایشور ہی بہتر جانتا ہے۔

    چندر سناٹے میں آ گیا، اس کی نگاہیں شیاما کے مردنی چہرے پر جم گئیں، وہ کچھ بولنا چاہتا تھا، لیکن بول نہ سکتا تھا، آخر شیاما نے پوچھا۔

    ’’بولو چندر اب کیا ہوگا—؟‘‘

    ’’واپس چلو۔ اب وقت ہو گیا‘‘ چندر مشکل سے اتنا کہہ سکا۔

    دونوں اٹھ کھڑے ہوئے، چندر کے پاؤں لڑکھڑا گئے۔ وہ سر تھام کر بیٹھ گیا، کھانسی شروع ہوئی اور اس نے خون تھوک دیا، اور دیر تک کلیجہ تھام کر تھوکتا رہا۔ شیاما گھبرا گئی، چندر کی طبیعت ذرا سنبھلی، تو بڑی مشکل سے سینی ٹوریم تک واپس آیا۔

    دوسرے دن سے چندر پھر بستر پر پڑ گیا، اور اسے ٹہلنے کی ممانعت ہو گئی، روز روز خون آنے لگا، اس کی زندگی تیز ہوا میں جلتے ہوئے چراغ کی طرح جھلملانے لگی۔

    شیاما ہر روز چندر کو دیکھنے آئی، دیر تک بیٹھ کر اس باتیں کرتی، ایک دن چندر نے اس سے کہا، شیاما اب میں بچ نہیں سکتا، مجھے اس کا یقین ہے۔‘‘

    شیاما نے کہا ’’بیکار باتیں ہیں چندر! ایشور پر بھروسہ کرو۔‘‘

    ’’ایشور کی یہی مرضی ہے شیاما‘‘ چندر نے کہا اور کروٹ بدل کر چپ ہو گیا؟

    دوسری صبح معلوم ہوا کہ چندر مر چکا ہے، شیاما اس کو دیکھنے کے لیے ہی آرہی تھی، کہ اس کو یہ خبر ملی، وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی، سر اور سینے میں سخت چوٹ آئی، منھ سے خون آیا اور آتا ہی رہا دیر کے بعد ہوش آیا، اس کے بعد ایسی غشی طاری ہوئی کہ پھر کبھی ہوش نہ آیا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY