ان داتا

کرشن چندر

ان داتا

کرشن چندر

MORE BYکرشن چندر

    وہ آدمی جس کے ضمیر میں کانٹا ہے

    (ایک غیر ملکی قونصل کے مکتوب جو اس نے اپنے افسر اعلیٰ کو کلکتہ سے روانہ کئے)

    ۸ اگست ۱۹۴۳ء کلایو اسٹریٹ، مون شائین لا۔

    جناب والا،

    کلکتہ، ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ہوڑہ پل ہندوستان کا سب سے عجیب و غریب پل ہے۔ بنگالی قوم ہندوستان کی سب سے ذہین قوم ہے۔ کلکتہ یونیورسٹی ہندوستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ کلکتہ کا ’’سونا گاچی‘‘ ہندوستان میں طوائفوں کا سب سے بڑا بازار ہے۔ کلکتہ کا سندر بن چیتوں کی سب سے بڑی شکار گاہ ہے۔ کلکتہ جوٹ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ کلکتہ کی سب سے بڑھیا مٹھائی کا نام ’’رشوگلا‘‘ ہے۔ کہتے ہیں ایک طوائف نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن شومئی قسمت سے وہ اسے پیٹنٹ نہ کراسکی۔ کیوں کہ ان دنوں ہندوستان میں کوئی ایسا قانون موجود نہ تھا۔ اسی لئے وہ طوائف اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھیک مانگتے مری۔ ایک الگ پارسل میں حضور پر نور کی ضیافت طبع کے لئے دو سو ’’روشو گلے‘‘ بھیج رہا ہوں۔ اگر انھیں قیمے کے ساتھ کھایا جائے تو بہت مزا دیتے ہیں۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے۔

    میں ہوں جناب کا ادنٰی ترین خادم

    ایف۔ بی۔ پٹاخا

    قونصل مملکت سانڈ وگھاس برائے کلکتہ۔

    9 اگست کلایو اسٹریٹ

    جناب والا،

    حضور پر نور کی منجھلی بیٹی نے مجھ سے سپیرے کی بین کی فرمائش کی تھی۔ آج شام بازار میں مجھے ایک سپیرا مل گیا۔ پچیس ڈالر دے کر میں نے ایک خوبصورت بین خرید لی ہے۔ یہ بین اسفنج کی طرح ہلکی اور سبک اندام ہے۔ یہ ایک ہندوستانی پھل سے جسے ’’لوکی‘‘ کہتے ہیں، تیار کی جاتی ہے۔ یہ بین بالکل ہاتھ کی بنی ہوئی ہے اور اسے تیار کرتے وقت کسی مشین سے کام نہیں لیا گیا۔ میں نے اس بین پر پالش کرایا اور اسے ساگوان کے ایک خوشنما بکس میں بند کر کے حضور پر نور کی منجھلی بیٹی ایڈتھ کے لئے بطور تحفہ ارسال کر رہا ہوں۔

    میں ہوں جناب کا خادم

    ایف۔ بی ۔ پٹاخا

    ۱۰ اگست

    کلکتہ میں ہمارے ملک کی طرح راشننگ نہیں ہے۔ غذا کے معاملہ میں ہر شخص کو مکمل شخصی آزادی ہے۔ وہ بازار سے جتنا اناج چاہے خرید لے۔ کل مملکت ٹلی کے قونصل نے مجھے کھانے پر مدعو کیا۔ چھبیس قسم کے گوشت کے سالن تھے۔ سبزیوں اور میٹھی چیزوں کے دو درجن کورس تیار کئے گئے تھے۔ (نہایت عمدہ شراب تھی) ہمارے ہاں جیسا کہ حضور اچھی طرح جانتے ہیں پیاز تک کی راشننگ ہے اس لحاظ سے کلکتہ کے باشندے بڑے خوش قسمت ہیں۔

    کھانے پر ایک ہندوستانی انجینئر بھی مدعو تھے۔ یہ انجینئر ہمارے ملک کا تعلیم یافتہ ہے۔ باتوں باتوں میں اس نے ذکر کیا کہ کلکتہ میں قحط پڑا ہوا ہے۔ اس پر ٹلی کا قونصل قہقہہ مار کر ہنسنے لگا اور مجھے بھی اس ہنسی میں شریک ہونا پڑا۔ دراصل یہ پڑھے لکھے، ہندوستانی بھی بڑے جاہل ہوتے ہیں۔کتابی علم سے قطع نظر انھیں اپنے ملک کی صحیح حالت کا کوئی اندازہ نہیں۔ ہندوستان کی دوتہائی آبادی دن رات غلّہ اور بچے پیدا کرنے میں مصروف رہتی ہے۔

    اس لئے یہاں پر غلّے اور بچوں کی کمی کبھی نہیں ہونے پاتی، بلکہ جنگ سے پیشتر تو بہت سا غلہ دساور کو جاتا تھا اور بچے قلی بنا کر جنوبی افریقہ بھیج دیئے جاتے تھے۔ اب ایک عرصے سے قلیوں کا باہر بھیجنا بند کر دیا گیا ہے اور ہندوستانی صوبوں کو ’’ہوم رول‘‘ دے دیا گیا ہے۔ مجھے یہ ہندوستانی انجینئر تو کوئی ایجی ٹیٹر قسم کا خطرناک آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے چلے جانے کے بعد میں نے موسیوژاں ژاں تریپ ٹلی کے قونصل سے اس کا تذکرہ چھیڑا تو موسیوژاں ژاں تریپ ٹلی نے بڑے غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ہندوستانی اپنے ملک پر حکومت کی قطعاً اہلیت نہیں رکھتا۔ چوں کہ موسیوژاں ژاں تریپ کی حکومت کو بین الاقومی معاملات میں ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ اس لئے میں ان کی رائے وقیع سمجھتا ہوں۔

    میں ہوں جناب کا خادم

    ایف۔ بی۔ پی

    ۱۱ اگست

    آج صبح بولپور سے واپس آیا ہوں۔ وہاں ڈاکٹر ٹیگور کا ’’شانتی نکیتاں‘‘ دیکھا۔ کہنے کو تو یہ ایک یونیورسٹی ہے۔ لیکن پڑھائی کا یہ عالم ہے کہ طالب علموں کو بیٹھنے کے لئے ایک بنچ نہیں۔ استاد اور طالب علم سب ہی درختوں کے نیچے آلتی پالتی مارے بیٹھے رہتے ہیں اور خدا جانے کچھ پڑھتے بھی ہیں یا یوں ہی اونگھتے ہیں۔ میں وہاں سے بہت جلد آیا کیوں کہ دھوپ بہت تیز تھی اور اوپر درختوں کی شاخوں پر چڑیاں شور مچا رہی تھیں۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۱۲ اگست

    آج چینی قونصل کے ہاں لنچ پر پھر کسی نے کہا کہ کلکتہ میں سخت قحط پڑا ہوا ہے۔ لیکن وثوق سے کچھ نہ کہہ سکا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ ہم سب لوگ حکومت بنگال کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اعلان کے جاری ہوتے ہی حضور کو مزید حالات سے مطلع کروں گا۔ بیگ میں حضور پر نور کی منجھلی بیٹی ایڈتھ کے لئے ایک جوتی بھی ارسال کر رہا ہوں۔ یہ جوتی سبز رنگ کے سانپ کی جلد سے بنائی گئی ہے۔ سبز رنگ کے سانپ برما میں بہت ہوتے ہیں، امید ہے کہ جب برما دوبارہ حکومت انگلشیہ کی عملداری میں آ جائے گا تو ان جوتوں کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہو سکے گا۔

    میں ہوں جناب کا وغیرہ وغیرہ۔

    ایف۔ بی۔ پی

    ۱۳ اگست

    آج ہمارے سفارت خانے کے باہر دو عورتوں کی لاشیں پائی گئ ہیں۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتی تھیں۔ شاید ’’سکھیا‘‘ کی بیماری میں مبتلا تھیں ادھر بنگال میں اور غالباً سارے ہندوستان میں ’’سکھیا‘‘ کی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ اس عارضے میں انسان گھلتا جاتا ہے اور آخر میں سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو کر مر جاتا ہے۔ یہ بڑی خوفناک بیماری ہے۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی شافی علاج دریافت نہیں ہوا۔ کونین کثرت سے مفت تقسیم کی جا رہی ہے۔ لیکن کونین میگنیشیا یا کسی اور مغربی دوا سے اس عارضے کی شدت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دراصل ایشیائی بیماریوں کو نوعیت مغربی امراض سے مختلف ہے۔ بہت مختلف ہے، یہ اختلاف اس مفروضے کا بدیہی ثبوت ہے کہ ایشیائی اور مغربی دو مختلف انسان ہیں۔

    حضور پر نور کی رفیقۂ حیات کے باسٹھویں جنم دن کی خوشی میں بدھ کا ایک مرمر کا بت ارسال کر رہا ہوں۔ اسے میں نے پانسو ڈالر میں خریدا ہے۔ یہ مہاراجہ بندھو سار کے زمانے کا ہے اور مقدس راہب خانے کی زینت تھا۔ حضور پرنور کی رفیقۂ حیات کے ملاقاتیوں کے کمرے میں خوب سجے گا۔

    مکرر عرض ہے کہ سفارت خانے کے باہر پڑی ہوئی لاشوں میں ایک بچہ بھی تھا جو اپنی مردہ ماں سے دودھ چوسنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اسے ہسپتال بھجوا دیا ہے۔

    حضور پر نور کا غلام

    ایف۔ بی۔ پی

    ۱۴ اگست

    ڈاکٹر نے بچے کو ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بچہ ابھی سفارت خانہ میں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ حضور پر نور کی ہدایت کا انتظار ہے۔ ٹلی کے قونصل نے مشورہ دیا ہے کہ اس بچے کو جہاں سے پایا تھا۔ وہیں چھوڑ دوں۔ لیکن میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے حکومت کے صدر سے مشورہ کئے بغیر کوئی ایسا اقدام کروں جس کے سیاسی نتائج بھی نہ جانے کتنے مہلک ثابت ہوں۔

    ایف۔ بی۔ پی

    ۱۶ اگست

    آج سفارت خانے کے باہر پھر لاشیں پائی گئیں۔ یہ سب لوگ اسی بیماری کا شکار معلوم ہوتے تھے۔ جس کا میں اپنے گزشتہ مکتوبات میں ذکر کر چکا ہوں۔ میں نے بچے کو انہی لاشوں میں چپکے سے رکھ دیا ہے۔ اور پولیس کو ٹیلی فون کر دیا ہے کہ وہ انھیں سفار خانے کی سیڑھیوں سے اٹھانے کا بندو بست کرے۔ امید ہے آج شام تک سب لاشیں اٹھ جائیں گی۔

    ایف۔ بی۔ پی

    ۱۷ اگست

    کلکتہ کے انگریزی اخبار ’’سٹیٹسمین‘‘ نے اپنے افتتاحیہ میں آج اس امر کا اعلان کیا ہے کہ کلکتہ میں سخت قحط پھیلا ہوا ہے۔ یہ اخبار چند روز سے قحط زدگان کی تصاویر بھی شائع کر رہا ہے۔ ابھی تک وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فوٹو اصلی ہیں یا نقلی۔ بظاہر تو یہ فوٹو سوکھیا کی بیماری کے پرانیوں کے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن تمام غیر ملکی قونصل اپنی رائے ’’محفوظ‘‘ رکھ رہے ہیں۔

    ایف۔ بی۔ پی

    ۲۰ اگست

    سوکھیا کی بیماری کے مریضوں کو اب ہسپتال میں داخل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف کلکتہ میں روز دو ڈھائی سو آدمی اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اب یہ بیماری ایک وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ ڈاکٹر لوگ بہت پریشان ہیں کیوں کہ کونین کھلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مرض میں کسی طرح کی کمی نہیں ہوتی۔ ہاضمے کا مکچر میگنیشیا مکسچر اور ٹنکچر آیوڈین پورا برٹش فارما کوپیا بیکار ہے۔

    چند مریضوں کا خون لے کر مغربی سائنسدانوں کے پاس بغرض تحقیق بھیجا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ کسی غیر معمولی مغربی ایکسپرٹ کی خدمات بھی حاصل کی جائیں یا ایک رائل کمیشن بٹھا دیا جائے جو چار پانچ سال میں اچھی طرح چھان بین کر کے اس امر کے متعلق اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر ے۔ الغرض ان غریب مریضوں کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ شد و مد کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے کہ سارے بنگال میں قحط کا دور دورہ ہے اور ہزاروں آدمی ہر ہفتے غذا کی کمی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ لیکن ہماری نوکرانی (جو خود بنگالن ہے) کا خیال ہے کہ یہ اخبارچی جھوٹ بولتے ہیں۔ جب وہ بازار میں چیزیں خریدنے جاتی ہے تو اسے ہر چیز مل جاتی ہے۔ دام بے شک بڑھ گئے ہیں۔ لیکن یہ مہنگائی تو جنگ کی وجہ سے ناگزیر ہے۔

    ایف۔ بی۔ پی۔

    ۲۵ اگست

    آج سیاسی حلقوں نے قحط کی تردید کر دی ہے۔ بنگال اسمبلی نے جس میں ہندوستانی ممبروں اور وزراء کی کثرت ہے۔ آج اعلان کر دیا ہے کہ کلکتہ اور بنگال کا علاقہ ’’قحط زدہ علاقہ‘‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ بنگال میں فی الحال راشننگ نہ ہو گا۔ یہ خبر سن کر غیر ملکی قونصلوں کے دل میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اگر بنگال قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا جاتا تو ضرور راشننگ کا فی الفور نفاذ نہ ہوتا اور۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ اگر راشننگ کا نفاذ ہوتا تو اس کا اثر ہم لوگوں پر بھی پڑتا۔ موسیوسی گل جو فرنچ قونصل میں کل ہی مجھ سے کہہ رہے تھے کہ عین ممکن ہے کہ راشننگ ہو جائے۔ اس لئے تم ابھی سے شراب کا بندوبست کر لو۔ میں چندر نگر سے فرانسیسی شراب منگوانے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ سنا ہے کہ چندر نگر میں کئی سو سال پرانی شراب بھی دستیاب ہوتی ہے۔ بلکہ اکثر شرابیں تو انقلاب فرانس سے بھی پہلے کی ہیں۔ اگر حضور پرنور مطلع فرمائیں تو چند بوتلیں چکھنے کے لئے بھیج دوں۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۸ اگست

    کل ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں نے نیومارکیٹ سے اپنی سب سے چھوٹی بہن کے لئے چند کھلونے خریدے۔ ان میں ایک چینی کی گڑیا بہت ہی حسین تھی۔ اور ماریا کو بہت پسند تھی۔ میں نے ڈیڑھ ڈالر دے کر وہ گڑیا بھی خرید لی اور ماریا کو انگلی سے لگائے باہر آگیا۔ کار میں بیٹھنے کو تھا کہ ایک ادھیڑ عمر کی بنگالی عورت نے میرا کوٹ پکڑ کر مجھے بنگالی زبان میں کچھ کہا۔

    میں نے اس سے اپنا دامن چھڑا لیا اور کار میں بیٹھ کر اپنے بنگالی شوفر سے پوچھا،’’یہ کیا چاہتی ہے؟‘‘

    ڈرائیور بنگالی عورت سے بات کر نے لگا۔ اس عورت نے جواب دیتے ہوئے اپنی لڑکی کی طرف اشارہ کیا جسے وہ اپنے شانے سے لگائے کھڑی تھی۔ بڑی بڑی موٹی آنکھوں والی زرد زرد بچی بالکل چینی کی گڑیا معلوم ہوتی تھی اور ماریا کی طرف گھور گھور کر دیکھ رہی تھی۔

    پھر بنگالی عورت نے تیزی سے کچھ کہا۔ بنگالی ڈرائیور نے اسی سرعت سے جواب دیا۔

    ’’کیا کہتی ہے یہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ڈرائیور نے اس عورت کی ہتھیلی پر چند سکے رکھے اور کار آگے بڑھائی۔ کار چلاتے چلاتے بولا، ’’حضور یہ اپنی بچی کو بیچنا چاہتی تھی۔ ڈیڑھ روپے میں۔‘‘

    ’’ڈیڑھ روپے میں، یعنی نصف ڈالر میں؟‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

    ’’ارے نصف ڈالر میں تو چینی کی گڑیا بھی نہیں آتی؟‘‘

    ’’آج کل نصف ڈالر میں بلکہ اس سے بھی کم قیمت پر ایک بنگالی بچی مل سکتی ہے۔‘‘

    میں حیرت سے اپنے ڈرائیور کو تکتا رہ گیا۔

    اس وقت مجھے اپنے وطن کی تاریخ کا وہ باب یاد آیا۔ جب ہمارے آباو اجداد افریقہ سے حبشیوں کو زبردستی جہاز میں لاد کر اپنے ملک میں لے آتے تھے اور منڈیوں میں غلاموں کی خرید و فروخت کر تے تھے۔ ان دنوں ایک معمولی سے معمولی حبشی بھی پچیس تیس ڈالر سے کم میں نہ بکتا تھا۔ افوہ، کس قدر غلطی ہوئی۔ ہمارے بزرگ اگر افریقہ کے بجائے ہندوستان کا رخ کرتے تو بہت سستے داموں غلام حاصل کر سکتے تھے۔ حبشیوں کے بجائے اگر وہ ہندوستانیوں کی تجارت کرتے تو لاکھوں ڈالر کی بچت ہو جاتی۔ ایک ہندوستانی لڑکی صرف نصف ڈالر میں ! اور ہندوستان کی بھی آبادی چالیس کروڑ ہے۔ گویا بیس کروڑ ڈالر میں ہم پورے ہندوستان کی آبادی کو خرید سکتے تھے۔ ذرا خیال تو فرمائیے کہ بیس کروڑ ڈالر ہوتے ہی کتنے ہیں۔ اس سے زیادہ رقم تو ہمارے وطن میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔

    اگر حضور پرنور کی منجھلی بیٹی کو یہ پسند ہو تو میں ایک درجن بنگالی لڑکیاں خرید کر بذریعہ ہوائی جہاز پارسل کر دوں۔ تب شوفر نے بتایا کہ آج کل ’’سونا گاچی‘‘ جہاں کلکتہ کی طوائفیں رہتی ہیں۔ اس قسم کی بردہ فروشی کا اڈہ ہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں لڑکیاں شب و روز فروخت کی جا رہی ہیں۔

    لڑکیوں کے والدین فروخت کرتے ہیں اور رنڈیاں خریدتی ہیں۔ عام نرخ سوا روپیہ ہے۔ لیکن اگر بچی قبول صورت ہو تو چار پانچ بلکہ دس روپے بھی مل جاتے ہیں۔ چاول آج کل بازار میں ساٹھ ستر روپے فی من ملتا ہے۔ اس حساب سے اگر ایک کنبہ اپنی دو بچیاں بھی فروخت کر دے تو کم از کم آٹھ دس دن اور زندگی کا دھندا کیا جا سکتا ہے۔ اور اوسطاً بنگالی کنبے میں لڑکیوں کی تعداد دو سے زیادہ ہوتی ہے۔

    کل مئیر آف کلکتہ نے شام کے کھانے پر مدعو کیا ہے۔ وہاں یقیناً بہت ہی دلچسپ باتیں سننے میں آئیں گی۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۹ اگست

    میئر آف کلکتہ کا خیال ہے کہ بنگال میں شدید قحط ہے اور حالت بے حد خطرناک ہے۔ اس نے مجھ سے اپیل کی کہ میں اپنی حکومت کو بنگال کی مدد کے لئے آمادہ کروں۔ میں نے اسے اپنی حکومت کی ہمدردی کا یقین دلایا۔ لیکن یہ امر بھی اس پر واضح کر دیا کہ یہ قحط ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور ہماری حکومت کسی دوسری قوم کے معاملات میں دخل دینا نہیں چاہتی۔ ہم سچے جمہوریت پسند ہیں اور کوئی سچا جمہوریہ آپ کی آزادی کو سلب کرنا نہیں چاہتا۔ ہر ہندوستانی کو جینے یا مرنے کا اختیار ہے۔ یہ ایک شخصی یا زیادہ سے زیادہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کی نوعیت بین الاقوامی نہیں۔ اس موقعہ پر موسیوژاں ژاں تریپ بھی بحث میں شامل ہو گئے اور کہنے لگے۔

    جب آپ کی اسمبلی نے بنگال کو قحط زدہ علاقہ FAMINE AREA ہی نہیں قرار دیا تو اس صورت میں آپ دوسری حکومتوں سے مدد کیوں کر طلب کر سکتے ہیں۔ اس پر میئر آف کلکتہ خاموش ہو گئے اور رس گلے کھانے لگے۔

    ف۔ ب۔ پ

    30 اگست

    مسٹر ایمری نے جو برطانوی وزیر ہندو ہیں۔ ہاؤس آف کامنز میں ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستان میں آبادی کا تناسب غذائی اعتبار سے حوصلہ شکن ہے۔ ہندوستان کی آبادی میں ڈیڑھ سو گنا اضافہ ہوا ہے۔ در حالیکہ زمینی پیداوار بہت کم بڑھی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہندوستانی بہت کھاتے ہیں۔

    یہ تو حضور میں نے بھی آزمایا ہے کہ ہندوستانی لوگ دن میں دوبار بلکہ اکثر حالتوں میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں۔ لیکن اس قدر کھاتے ہیں کہ ہم مغربی لوگ دن میں پانچ بار بھی اس قدر نہیں کھاسکتے۔ موسیوژاں ژاں تریپ کا خیال ہے کہ بنگال میں شرح اموات کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کا پیٹو پن ہے۔ یہ لوگ اتنا کھاتے ہیں کہ اکثر حالتوں میں تو پیٹ پھٹ جاتا ہے اور وہ جہنم واصل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مثل مشہور ہے کہ ہندوستانی کبھی منھ پھٹ نہیں ہوتا لیکن پیٹ پھٹ ضرور ہوتا ہے بلکہ اکثر حالتوں میں تلی پھٹ بھی پایا۔ نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ہندوستانیوں اور چوہوں کی شرح پیدائش دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اکثر حالتوں میں ان دونوں میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ جتنی جلدی پیدا ہوتے ہیں اتنی جلدی مر جاتے ہیں۔ اگر چوہوں کو پلیگ ہوتی ہے تو ہندوستانیوں کو ’’سوکھیا‘‘ بلکہ عموماً پلیگ اور سوکھیا دونوں لاحق ہو جاتی ہیں۔ بہر حال جب تک چوہے اپنے بل میں رہیں اور دنیا کو پریشان نہ کریں۔ ہمیں ان کے نجی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔

    غذائی محکمے کے ممبر حالات کی جانچ پڑتال کے لئے تشریف لائے ہیں۔ بنگالی حلقوں میں یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آنر بیل ممبر پر اب یہ واضح ہو جائے گا کہ بنگال میں واقعی قحط ہے اور شرح اموات کے بڑھنے کا سبب بنگالیوں کہ انار کسٹانہ حرکات نہیں بلکہ غذائی بحران ہے۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۰ ستمبر

    آنریبل ممبر تحقیقات کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔ سنا ہے، وہاں حضور وائیسرائے بہادر سے ملاقات کریں گے اور اپنی تجاویز ان کے سامنے رکھیں گے۔

    ۲۵ ستمبر

    لندن کے انگریزی اخباروں کی اطلاع کے مطابق ہر روز کلکتہ کی گلیوں اور سڑکوں، فٹ پاتھوں پر لوگ مر جاتے ہیں۔ بہر حال یہ سب اخباری اطلاعیں ہیں۔ سرکاری طور پر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بنگال میں قحط ہے۔ سب پریشان ہیں۔ چینی قونصل کل مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ بنگال کے فاقہ کشوں کے لئے ایک امدادی فنڈ کھولنا چاہتا ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ کوئی کہتا ہے کہ قحط ہے کوئی کہتا ہے قحط نہیں ہے۔ میں نے اسے سمجھایا، بیوقوف نہ بنو۔ اس وقت تک ہمارے پاس مصدقہ اطلاع یہی ہے کہ غذائی بحران اس لئے ہے کہ ہندوستانی بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ اب تم ان لوگوں کے لئے ایک امدادی فنڈ کھول کر گویا ان کے پیٹوپن کو اور شہ دو گے۔ یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ لیکن چینی قونصل میری تشریحات سے غیر مطمئن معلوم ہوتا تھا۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۸ ستمبر

    دلی میں غذائی مسئلے پر غور کرنے کے لئے ایک کانفرنس بلائی جا رہی ہے۔ آج پھر یہاں کئی سو لوگ ’’سوکھیا‘‘ سے مر گئے۔ یہ بھی خبر آئی ہے کہ مختلف صوبائی حکومتوں نے رعایا میں اناج تقسیم کرنے کی جوا سکیم بنائی ہے۔ اس سے انھوں نے کئی لاکھ روپے کا منافع حاصل کیا ہے۔ اس میں بنگال کی حکومت بھی شامل ہے۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۰ اکتوبر

    کل گرانڈ ہوٹل میں ’’یوم بنگال‘‘ منایا گیا۔ کلکتہ کے یوروپین امراء و شرفاء کے علاوہ حکام اعلیٰ، شہر کے بڑے سیٹھ اور مہاراجے بھی اس دلچسپ تفریح میں شریک تھے۔ ڈانس کا انتظام خاص طور پر اچھا تھا۔ میں نے مسز جیولٹ تریپ کے ساتھ دو مرتبہ ڈانس کیا (مسز تریپ کے منھ سے لہسن کی بو آتی تھی۔ نہ جانے کیوں؟‘‘) مسز تریپ سے معلوم ہوا کہ اس سہن ماہتابی کے موقعہ پر یوم بنگال کے سلسلہ میں نو لاکھ روپیہ اکٹھا ہوا ہے۔

    مسز تریپ بار بار چاند کی خوب صورت اور رات کی سیاہ ملائمت کا ذکر کر رہی تھیں اور ان کے منھ سے لہسن کے بھپارے اٹھ رہے تھے۔ جب مجھے ان کے ساتھ دو بارہ ڈانس کرنا پڑا تو میرا جی چاہتا تھا کہ ان کے منھ پر لائی سول یا فینائل چھڑک کر ڈانس کروں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ مسز جیولٹ تریپ موسیو ژاں ژاں تریپ کی باوقار بیوی ہیں اور موسیوژاں ژاں تریپ کی حکومت کو بین الاقوامی معاملات میں ایک قابل رشک مرتبہ حاصل ہے۔

    ہندوستانی خواتین میں مس سنیہہ سے تعارف ہوا۔ بڑی قبول صورت ہے اور بے حد اچھا ناچتی ہے۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۶ اکتوبر

    مسٹر منشی حکومت بمبئی کے ایک سابق وزیر کا اندازہ ہے کہ بنگالی میں ہر ہفتے قریباً ایک لاکھ افراد قحط کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ سرکاری اطلاع نہیں ہے۔ قونصل خانے کے باہر آج پھر چند لاشیں پائی گئیں۔ شوفر نے بتایا کہ یہ ایک پورا خاندان تھا جو دیہات سے روٹی کی تلاش میں کلکتہ آیا تھا۔ پرسوں بھی اسی طرح میں نے ایک مغنی کی لاش دیکھی تھی۔ ایک ہاتھ میں وہ اپنی ستار پکڑے ہوئے تھا اور دوسرے ہاتھ میں لکڑی کا ایک جھنجھنا سمجھ نہیں آیا۔ اس کا کیا مطلب تھا۔ بیچارے چوہے کس طرح چپ چاپ مر جاتے ہیں اور زبان سے اف تک بھی نہیں کرتے۔

    میں نے ہندوستانیوں سے زیادہ شریف چوہے دنیا میں اور کہیں نہیں دیکھے۔ اگر امن پسندی کے لئے نوبل پرائز کسی قوم کو مل سکتا ہے۔ تو وہ ہندوستانی ہیں۔ یعنی لاکھوں کی تعداد میں بھوکے مر جاتے ہیں لیکن زبان پر ایک کلمۂ شکایت نہیں لائیں گے۔ صرف بے روح، بے نور آنکھوں سے آسمان کی طرف تاکتے ہیں۔ گویا کہہ رہے ہوں۔ ان داتا، ان داتا۔! کل رات پھر مجھے اس مغنی کی خاموش شکایت سے معمور، جا مدو ساکت پتھریلی بے نور سی نگاہیں پریشان کرتی رہیں۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۵ نومبر

    نئے حضور وائسرائے بہادر تشریف لائے ہیں۔ سنا ہے کہ انھوں نے فوج کو قحط زدہ لوگوں کی امداد پر مامور کیا ہے اور جو لوگ کلکتہ کے گلی کو چوں میں مرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان کے لئے باہر مضافات میں مرکز کھول دیئے گئے ہیں۔ جہاں ان کی آسائش کے لئے سب سامان بہم پہنچایا جائے گا۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۱۰ نومبر

    موسیوژاں ژاں تریپ کا خیال ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ بنگال میں واقعی قحط ہو اور سوکھیا کی بیماری کی اطلاعیں غلط ہوں۔ غیر ملکی قونصل خانوں میں اس ریمارک سے ہل چل مچ گئی ہے۔ مملکت گوبیا، لوبیا اور مٹرسلووکیا کے قونصلوں کا خیال ہے کہ موسیوژاں ژاں تریپ کا یہ جملہ کسی آنے والی خوفناک جنگ کا پیش خیمہ ہے۔ یورپی اور ایشیائی ملکوں سے بھاگے ہوئے لوگوں میں آج کل ہندوستان میں مقیم ہیں ۔

    وائسرائے کی اسکیم کے متعلق مختلف شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ وہ لوگ سوچ رہے ہیں۔ اگر بنگال واقعی قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا تو ان کے الاؤنس کا کیا بنے گا؟ وہ لوگ کہاں جائیں گے؟ میں حضور پر نور کی توجہ اس سیاسی الجھن کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جو وائسرائے بہادر کے اعلان سے پیدا ہو گئی ہے۔ مغرب کے ملکوں کے رفیوجیوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے کیا ہمیں سینہ سپر ہو کر نہ لڑنا چاہیے۔ مغربی تہذیب کلچر اور تمدن کے کیا تقاضے ہیں۔ آزادی اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ میں اس سلسلہ میں حضور پرنور کے احکام کا منتظر ہوں۔

    ف۔ ب۔ پ

    ۲۵ نومبر

    موسیوژاں ژاں تریپ کا خیال ہے کہ بنگال میں قحط نہیں ہے۔ موسیو فاں فاں فنگ چینی قونصل کا خیال ہے کہ بنگال میں قحط ہے۔ میں شرمندہ ہوں کہ حضور نے مجھے جس کام کےلئے کلکتہ کے قونصل خانے میں تعینات کیا تھا۔ وہ کام میں گزشتہ تین ماہ میں بھی پورا نہ کر سکا۔ میرے پاس اس امر کی ایک بھی مصدقہ اطلاع نہیں ہے کہ بنگال میں قحط ہے یا نہیں ہے۔ تین ماہ کی مسلسل کاوش کے بعد بھی مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ صحیح ڈپلومیٹک پوزیشن کیا ہے۔ میں اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہوں، شرمندہ ہوں۔ معافی چاہتا ہوں۔

    نیز عرض ہے کہ حضور پر نور کی منجھلی بیٹی کو مجھ سے اور مجھے حضور پر نور کی منجھلی بیٹی سے عشق ہے۔ اس لئے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ حضور پر نور مجھے کلکتہ کے سفارت خانے سے واپس بلالیں اور میری شادی اپنی بیٹی۔۔۔ مطلب ہے حضور پر نور کی منجھلی بیٹی سے کر دیں اور حضور پر نور مجھے کسی ممتاز سفارت خانے میں سفیر اعلی کا مرتبہ بخش دیں؟ اس نوازش کے لئے میں حضور پر نور کا تاقیامت شکر گزار ہو ں گا۔

    ایڈتھ کے لئے ایک نیلم کی انگوٹھی ارسال کر رہا ہوں۔ اسے مہاراجہ اشوک کی بیٹی پہنا کرتی تھی۔

    میں ہوں جناب کا حقیر ترین خادم

    ایف۔ بی۔ پٹاخہ

    قونصل مملکت سانڈوگھاس برائے کلکتہ

    وہ آدمی جو مر چکا ہے

    صبح ناشتہ پر جب اس نے اخبار کھولا تو اس نے بنگال کے فاقہ کشوں کی تصاویر دیکھیں جو سڑکوں پر، درختوں کے نیچے، گلیوں میں، کھیتوں میں بازاروں میں، گھروں میں ہزاروں کی تعداد میں مر رہے تھے۔ آملیٹ کھاتے کھاتے اس نے سوچا کہ ان غریبوں کی امداد کس طرح ممکن ہے۔ یہ غریب جو ناامیدی کی منزل سے آگے جا چکے ہیں اور موت کی بحرانی کیفیت سے ہمکنار ہیں۔ انھیں زندگی کی طرف واپس لانا، زندگی کی صعوبتوں سے دوبارہ آشنا کرنا، ان سے ہمدردی نہیں دشمنی ہو گی۔

    اس نے جلدی میں اخبار کا ورق الٹا اور توس پر مربہ لگا کر کھانے لگا۔ تو س نرم گرم اور کر کرا تھا اور مربے کی مٹھاس اور اس کی ہلکی سی ترشی نے اس کے ذائقہ کو اور بھی نکھار دیا تھا۔ جیسے غازے کا غبار عورت کے حسن کونکھار دیتا ہے۔ یکایک اسے سنیہ کا خیال آیا۔ سنیہ ابھی تک نہ آئی تھی۔ گو اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صبح کے ناشتہ پر اس کے ساتھ موجود ہو گی۔ سو رہی ہو گی بیچاری اب کیا وقت ہو گا۔ اس نے اپنی سونے کی گھڑی سے پوچھا جو اس کی گوری کلائی میں جس پر سیاہ بالوں کی ایک ہلکی سی ریشمیں لائین تھی۔ ایک سیاہ ریشمی فیتے سے بندھی تھی۔ گھڑی، قمیض کے بٹن اور ٹائی کا پن، یہی تین زیور مرد پہن سکتا ہے اور عورتوں کو دیکھیئے کہ جسم کو زیور سے ڈھک لیتی۔ کان کے لئے زیور، پاؤں کے لئے زیور، کمر کے لئے زیور، ناک کے لئے زیور، سر کے لئے زیور، گلے کے لئے زیور باہوں کے لئے زیور اور مرد بے چارے کے لئے صرف تین زیور بلکہ دو ہی سمجھئے کیوں کہ ٹائی کا پن اب فیشن سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ نہ جانے مردوں کو زیادہ زیور پہننے سے کیوں منع کیا گیا ہے۔ یہی سوچتے سوچتے وہ دلیا کھانے لگا۔ دلئے سے الائچی کی مہک اٹھ رہی تھی۔ اس کے نتھنے، اس کے پاکیزہ تعطر سے مصفٰی ہو گئے اور یکایک اس کے نتھنوں میں گزشتہ رات کے عطر کی خوشبو تازہ ہو گئی۔ وہ عطر جو سنیہ نے اپنی ساڑھی، اپنے بالوں میں لگا رکھا تھا۔ گزشتہ رات کا دلفریب رقص اس کی آنکھوں کے آگے گھومتا گیا۔ گرانڈ ہوٹل میں ناچ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اس کا اور سنیہ کا جوڑا کتنا اچھا ہے۔ سارے ہال کی نگاہیں ان پر جمی ہوئی تھیں۔

    دونوں کانوں میں گول گول طلائی آویزے پہنے ہوئے تھی۔ جو اس کی لوووں کو چھپا رہے تھے۔ ہونٹوں پر جوانی کا تبسم اور میکس فیکٹر کی لالی کا معجزہ اور سینے کے سمن زاروں پر موتیوں کی مالا چمکتی، دمکتی، لچکتی ناگن کی طرح سوبل کھاتی ہوئی۔ رمبا ناچ کوئی سنیہ سے سیکھے، اس کے جسم کی روانی اور ریشمی بنارسی ساڑی کا پر شور بہاؤ جیسے سمندر کی لہریں چاندنی رات میں ساحل سے اٹھکھیلیاں کر رہی ہوں۔ لہر آگے آتی ہے۔ ساحل کو چھو کر واپس چلی جاتی ہے۔ مدھم سی سرسراہٹ پیدا ہوتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ شور مدھم ہو جاتا ہے۔ شور قریب آ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ لہر چاندنی میں نہائے ہوئے ساحل کو چوم رہی ہے۔

    سنیہ کے لب نیم وا تھے۔ جن میں دانتوں کی لڑی سپید موتیوں کی مالا کی طرح لرزتی نظر آتی تھی۔۔۔ یکایک وہاں کی بجلی بجھ گئی اور وہ سنیہ سے ہونٹ سے ہونٹ ملائے، جسم سے جسم لگائے آنکھیں بند کئے رقص کے تال پر ناچتے رہے۔ ان سروں کی مدھم سی روانی، وہ رسیلا میٹھا تمون رواں دواں، رواں دواں موت کی سی پاکیزگی۔ نیند اور خمار اور نشہ جیسے جسم نہ ہو، جیسے زندگی نہ ہو، جیسے تو نہ ہو، جیسے میں نہ ہوں، صرف ایک بوسہ ہو۔ صرف ایک گیت ہو۔ اک لہر ہو۔ رواں دواں، رواں دواں۔۔۔ اس نے سیب کے قتلے کئے اور کانٹے سے اٹھا کر کھانے لگا۔ پیالی میں چائے انڈیلتے ہوئے اس نے سوچا سنیہ کا جسم کتنا خوب صورت ہے۔ اس کی روح کتنی حسین ہے۔ اس کا دماغ کس قدر کھوکھلا ہے۔ اسے پر مغز عورتیں بالکل پسند نہ تھیں۔

    جب دیکھو اشتراکیت، سامراجیت اور مارکسیت پر بحث کر رہی ہیں۔ آزادی تعلیم نسواں، نوکری، یہ نئی عورت، عورت نہیں فلسفے کی کتاب ہے۔ بھئی ایسی عورت سے ملنے یا شادی کرنے کی بجائے تو یہی بہتر ہے کہ آدمی ارسطو پڑھا کرے۔ اس نے بیقرار ہو کر ایک بار پھر گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ سنیہ ابھی تک نہ آتی تھی۔ چرچل اور اسٹالن اور روز ویلٹ طہران میں دنیا کا نقشہ بدل رہے تھے اور بنگال میں لاکھوں آدمی بھوک سے مر رہے تھے۔ دنیا کو اطلا نتک چار ٹر دیا جا رہا تھا اور بنگال میں چاول کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔ اسے ہندوستان کی غربت پر اتنا ترس آیا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ہم غریب ہیں بے بس ہیں نادار ہیں۔ مجبور ہیں۔ ہمارے گھر کا وہی حال ہے جو میرکے گھر کا حال تھا۔ جس کا ذکر انھوں نے چوتھی جماعت میں پڑھا تھا اور جو ہر وقت فریاد کرتا رہتا تھا۔ جس کی دیواریں سیلی سیلی اور گری ہوئی تھیں اور جس کی چھت ہمیشہ ٹپک ٹپک کر روتی رہتی تھی۔ اس نے سوچا ہندوستان بھی ہمیشہ روتا رہتا ہے۔ کبھی روٹی نہیں ملتی، کبھی کپڑا نہیں ملتا۔ کبھی بارش نہیں ہوتی۔ کبھی وبا پھیل جاتی ہے۔ اب بنگال کے بیٹوں کو دیکھو، ہڈیوں کے ڈھانچے آنکھوں میں ابدی افسردگی، لبوں پر بھکا ری کی صدا، روٹی، چاول کا ایک دانہ۔ یکایک چائے کا گھونٹ اسے اپنے حلق میں تلخ محسوس ہوا اور اس نے سوچا کہ وہ ضرور اپنے ہم وطنوں کی مدد کرے گا۔ وہ چندہ اکٹھا کرے گا۔سارے ہندوستان کا دورہ کریگا۔اور چیخ چیخ کر اس کے ضمیر کو بیدار کریگا۔ دورہ، جلسے، والنٹیر، چندہ، اناج اور زندگی کی ایک لہر ملک میں اس سر ے سے دوسرے سرے تک پھیل جائے گی۔ برقی روکی طرح۔ یکایک اس نے اپنا نام جلی سرخیوں میں دیکھا۔ ملک کا ہر اخبار اس کی خدمات کو سراہ رہا تھا اور خود، اس اخبار میں جسے وہ اب پڑھ رہا تھا۔ اسے اپنی تصویر جھانکتی نظر آئی ۔کھدر کا لباس اور جواہر لال جیکیٹ اور ہاں ویسی ہی خوب صورت مسکراہٹ۔ ہاں بس یہ ٹھیک ہے۔ اس نے بیرے کو آواز دی اسے ایک اور آملیٹ لانے کو کہا۔

    آج سے وہ اپنی زندگی بدل ڈالے گا۔ اپنی حیات کا ہر لمحہ ان بھوکے ننگے، پیاسے، مرتے ہوئے ہم وطنوں کی خدمت میں صرف کر دے گا۔ وہ اپنی جان بھی ان کے لئے قربان کر دیگا۔ یکایک اس نے اپنے آپ کو پھانسی کی کوٹھری میں بند دیکھا، وہ پھانسی کے تختے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا تھا۔ جلاد نے چہرے پر غلاف اڑھا دیا اور اس نے اس کھردرے موٹے غلاف کے اندر سے چلا کر کہا، ’’میں مر رہا ہوں۔ اپنے بھوکے پیاسے ننگے وطن کے لئے، یہ سوچ کر اس کی آنکھوں میں آنسو پھر بھر آئے اور دو ایک گرم گرم نمکین بوندیں چائے کی پیالی میں بھی گر پڑیں اور اس نے رومال سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے۔ یکایک ایک کا رپورچ میں رکی اور موٹر کا پٹ کھول کر سنیہ مسکراتی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھتی ہوئی دروازہ کھول کر اندر آتی ہوئی اسے ہیلو کہتی ہوئی۔ اس نے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کے رخسار کو پھول کی طرح اپنے عطر بیز ہونٹوں سے چومتی ہوئی نظر آئی، بجلی، گرمی، روشنی، مسرت سب کچھ ایک تبسم میں تھا اور پھر زہر، سنیہ کی آنکھوں میں زہر تھا۔ اس کی زلفوں میں زہر تھا۔ اس کی مدھم ہلکی سانس کی ہر جنبش میں زہر تھا۔ وہ اجنتا کی تصویر تھی، جس کے خد و خال تصور نے زہر سے ابھارے تھے۔

    اس نے پوچھا، ’’ناشتہ کروگی؟‘‘

    ’’نہیں میں ناشتہ کر کے آئی ہوں،‘‘ پھر سنیہ نے اس کی پلکوں میں آنسو چھلکتے دیکھ بولی،’’تم آج اداس کیوں ہو؟‘‘

    وہ بولا، ’’کچھ نہیں۔ یونہی بنگال کے فاقہ کشوں کا حال پڑھ رہا تھا۔ سنیہ، ہمیں بنگال کے لئے کچھ کرنا چاہیئے۔‘‘

    ’’Door Darlings‘‘ سنیہ نے آہ بھر کر اور جیبی آئینے کی مدد سے اپنے ہونٹوں کی سرخی ٹھیک کرتے ہوئے کہا، ’’ہم لوگ ان کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ ماسوا اس کے کہ ان کی روحوں کے لئے پر ماتما سے شانتی مانگیں۔‘‘

    ’’کانوونٹ کی تعلیم ہے نا آخر؟‘‘ اس نے اپنے خوب صورت سپید دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔

    وہ سوچ کر بولا،’’ہمیں ایک ریزولیوشن بھی پاس کرنا چاہیئے۔‘‘

    ’’وہ کیا ہوتا ہے؟‘‘

    سنیہ نے نہایت معصومانہ انداز میں پوچھا اور اپنی ساڑھی کا پلو درست کرنے لگی۔

    ’’اب یہ تو مجھے ٹھیک طرح سے معلوم نہیں۔‘‘ وہ بولا، ’’اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب کبھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے۔ ریزولیوشن ضرور پاس کیا جاتا ہے۔ سنا ہے ریزولیوشن پاس کر دینے سے سب کام خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے۔ بس ابھی ٹیلی فون کر کے شہر کے کسی رہنما سے دباغ فن کے بارے میں پوچھتا ہوں۔‘‘

    ’’رہنے بھی دو ڈارلنگ!‘‘ سنیہ نے مسکرا کر کہا۔

    ’’دیکھو، جوڑے میں پھول ٹھیک سجا ہے؟‘‘

    اس نے نیلراج کی نازک ڈنڈی کو جوڑے کے اندر تھوڑا سا دبا دیا۔

    ’’بے حد پیارا پھول ہے، نیلا جیسے کرشن کا جسم، جیسے ناگ کا پھن۔ جیسے زہر کا رنگ!‘‘

    پھر سوچ کر بولا،’’نہیں کچھ بھی ہو۔ ریزولیوشن ضرور پاس ہونا چاہیئے۔ میں ابھی ٹیلی فون کرتا ہوں۔‘‘

    سنیہ نے اسے اپنے ہاتھ کی ایک ہلکی سی جنبش سے روک لیا۔ گداز انگلیوں کا لمس ایک ریشمی رو کی طرح اس کے جسم کی رگوں اور عروق میں پھیلتا گیا۔ رواں دواں۔ رواں دواں۔۔۔ اس لہر نے اسے بالکل بے بس کر دیا اور وہ ساحل کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا۔

    ’’آخری رمبا کتنا اچھا تھا!‘‘ سنیہ نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔

    اور اس کے ذہن میں پھر چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔ بنگالی فاقہ مستوں کی قطار میں اندر گھستی چلی آ رہی تھیں۔ وہ انھیں باہر نکالنے کی کوشش میں کامیاب ہوا۔ بولا،’’میں کہتا ہوں سنیہ، ریزولیشن پاس کرنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔ میرے خیال میں اس کے بعد ہمیں قحط زدہ علاقے کا دورہ کرنا چاہیئے کیوں؟‘‘

    ’’بہت دماغی محنت سے کام لے رہے ہو اس وقت۔‘‘ سنیہ نے قدرے تشویشناک لہجہ میں کہا۔

    ’’بیمار ہو جاؤ گے! جانے دو۔ وہ بے چارے تو مر رہے ہیں۔ انھیں آرام سے مرنے دو تم کیوں مفت میں پریشان ہوتےہو ؟‘‘

    ’’قحط زدہ علاقے کا دورہ کروں گا۔ یہ ٹھیک ہے۔ سنیہ، تم بھی ساتھ چلو گی نا؟‘‘

    ’’کہاں؟‘‘

    ’’بنگال کے دیہات میں۔‘‘

    ’’ضرور۔ مگر وہاں کس ہوٹل میں ٹھہریں گے؟‘‘

    ہوٹل کا ذکر سن کر اس نے اپنی تجویز کو وہیں اپنے ذہن میں قتل، کر ڈالا اور قبر کھود کر وہیں اندر دفنا دیا۔ خدا جانے اس کا ذہن اس قسم کی کتنی ناپختہ تمناؤں اور آرزؤں کا قبرستان بن چکا ہے۔

    وہ بچے کی طرح روٹھا ہوا تھا، اپنی زندگی سے بیزار۔ سنیہ نے کہا، ’’میں تمہیں بتاؤں۔ ایک شاندار ناچ پارٹی ہو جائے۔ گرانڈ میں۔ دو روپیہ فی ٹکٹ اور شراب کے پیسے الگ رہے اور جو رقم اس طرح اکٹھی ہو جائے وہ بنگال ریلیف فنڈ میں۔۔۔‘‘

    ’’ارے رررے۔۔۔‘‘ اس نے کرسی سے اچھل کر سنیہ کو اپنے گلے لگایا۔ "اے جان تمنا، تمہاری روح کتنی حسین ہے۔‘‘

    ’’جب ہی تم نے کل رات آخری رمبا کے بعد مجھ سے شادی کی درخواست کی تھی۔‘‘ سنیہ نے ہنس کر کہا۔

    ’’اور تم نے کیا جواب دیا تھا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’میں نے انکار کر دیا تھا۔‘‘ سنیہ نے شرماتے ہوئے کہا۔

    ’’بہت اچھا کیا۔‘‘ وہ بولا، ’’میں اس وقت شراب کے نشے میں تھا۔ ‘‘

    کار،جیوتی رام، میونی رام، پیونی رام بھوندو مل تمباکو فروش کی دوکان پر رکی، سامنے گرانڈ ہوٹل کی عمارت تھی۔ کسی مغلئی مقبرے کی طرح وسیع اور پر شکوہ۔

    اس نے کہا، ’’تمہارے لئے کون سے سگریٹ لے لوں!‘‘

    ’’روز۔ مجھے اس کی خوشبو پسند ہے۔‘‘ سنیہ نے کہا۔

    ’’امی دو دن کھیتے پائی نی کی چھوکھیتے داؤ۔‘‘

    ایک بنگالی لڑکا دھوتی پہنے ہوئے بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔ میلی کچیلی، خاک میں اٹی ہوئی، آنکھیں غلیظ اور آدھ مندی ۔سنیہ نے کراہیت سے منھ پھیر لیا۔

    ’’میم صائب ایکٹاپوئے شاداؤ۔‘‘ لڑکا گڑ گڑا رہا تھا۔

    ’’تو میں روز ہی لے آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جیونی رام۔ میونی رام۔ بیونی رام، بھوندو مل تمباکو فروش کی دوکان کے اندر غائب ہو گیا۔

    سنیہ کار میں بیٹھی لیکن بنگال کی بھوکی مکھیاں اس کے دماغ میں بھن بھناتی رہیں۔ میم صاحب۔۔۔میم صاحب۔ میم صاحب۔ میم صاحب نے دو ایک بار انہیں جھڑک دیا۔ لیکن بھوک جھڑکنے سے کہاں دور ہوتی ہے۔ وہ اور بھی قریب آ جاتی ہے۔ لڑکی نے ڈرتے ڈرتے اپنے ننھے ننھے ہاتھ سنیہ کی ساڑی سے لگا دئیے۔اور اس کا پلو پکڑ کر لجاجت سے کہنے لگی، ’’میم صاحب۔۔۔ میم صاحب۔میم صائب بورڈ کھیدے پیچھ۔ کی چھودا۔‘‘

    سنیہ اب بالکل زچ ہو گئی تھی۔ اس نے جلدی سے پلو چھڑا لیا۔ اتنے میں وہ آ گیا۔ سنیہ بولی،’’یہ گدا گر کیوں اس قدر پریشان کرتے ہیں۔ کارپوریشن کوئی انتظام نہیں کر سکتی ہے کیا؟ جب سے تم دوکان کے اندر داخل ہوئے ہو۔یہ۔۔۔‘‘

    اس نے گدا گر لڑکے کو زور سے چپت لگایا اور کار گھبرا کر گرانڈ ہوٹل کے پورچ میں لے آیا۔

    بنگالی لڑکی جو ایک جھٹکے کے ساتھ دور جا پڑی تھی۔ وہیں فرش خاک پر کراہنے لگی۔ لڑکے نے چھوٹی بہن کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:

    ’’تمار کو تھاؤ لاگے نے تو۔‘‘

    لڑکی سسکنے لگی۔ ناچ عروج پر تھا۔ سنیہ اور وہ ایک میز کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔

    سنیہ نے پوچھا، ’’کتنے روپے اکٹھے ہوئے؟‘‘

    ’’ساڑھے چھ ہزار۔‘‘

    ’’ابھی تو ناچ عروج پر ہے۔ صبح چار بجے تک۔۔۔‘‘

    ’’نو ہزار روپیہ ہو جائے گا۔‘‘ وہ بولا۔

    ’’آج تم نے بہت کام کیا ہے!‘‘ سنیہ نے اس کی انگلیوں کو چھو کر کہا۔

    ’’کیا پیوگی؟‘‘

    ’’تم کیا پیو گے؟‘‘

    ’’جن اور سوڈا۔‘‘

    سنیہ بولی، ’’بیرا۔ صاحب کے لئے ایک لارج جن لاؤ اور سوڈا۔‘‘

    ’’ناچتے ناچتے اور پیتے پیتے پریشان ہو گئی ہوں۔‘‘

    ’’اپنے وطن کی خاطر سب کچھ کرنا پڑتا ہے ڈارلنگ۔‘‘ اس نے سنیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

    ’’اوہ مجھے امپریلزم سے کس قدر نفرت ہے۔‘‘ سنیہ نے پر خلوص لہجہ میں کہا۔

    ’’بیرا، میرے لئے ایک ورجن لاؤ۔‘‘

    بیرے نے’’ورجن‘‘ کا جام لاکر سامنے رکھ دیا۔ جن کی سپیدی میں ور موتھ کی لالی اس طرح نظر آتی تھی جیسے سنیہ کے عنبریں چہرے پر اس کے لب لعلیں۔ سنیہ نے جام ہلایا اور کاک ٹیل کا رنگ شفقی ہو گیا۔ سنیہ نے جام اٹھایا اور بجلی کی روشنی نے اس کے جام میں گھل کر یاقوت کی سی چمک پیدا کر دی۔ یاقوت سنیہ کی انگلیوں میں تھرا رہا تھا۔ یاقوت جو خون کی طرح سرخ تھا۔

    ناچ عروج پر تھا اور وہ اور سنیہ ناچ رہے تھے۔ ایک گت، ایک تال ایک لے، سمندر دور،بہت دور۔کہیں نیچے چلا گیا تھا۔اور زمین گم ہو گئی تھی۔اور وہ ہوا میں اڑ رہے تھے۔اور سنیہ کا چہرہ اس کے کندھے پر تھا اور سنیہ کے بالوں میں بسی ہوئی خوشبو اسے بلا رہی تھی۔ بال بنانے کا انداز کوئی سنیہ سے سیکھے۔ یہ عام ہندوستانی لڑکیاں تو بیچ میں سے یا ایک طرف مانگ نکال لیتی اور تیل چپڑ کر بالوں میں کنگھی کر لیتی ہیں۔ بہت ہوا تو دو چوٹیاں کر ڈالیں اور اپنی دانست میں فیشن کی شہزادی بن بیٹھیں ۔مگر یہ سنیہ ہی جانتی ہے کہ بالوں کی ایک الگ ہستی ہوتی ہے۔ ان کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ ان کی مشاطگی عورت کی نسائیت کی معراج ہے۔ جیسے کوئی مصور سادہ تختے پر حسن کی نازک خطوط کھینچتا ہے۔ اسی طرح سنیہ بھی اپنے بال سنوارتی تھی۔ کبھی اس کے بال کنول کے پھول بن جاتے کبھی کانوں پر ناگن کےپھن۔ وہ کبھی چاند کا ہالہ ہو جاتے کبھی ان بالوں میں ہمالیہ کی وادیوں کے سے نشیب و فراز پیدا ہو جاتے۔ سنیہ اپنے بالوں کی آرائش میں ایسے جمالیاتی ذوق اور جودت طبع کا ثبوت دیتی تھی کہ معلوم ہوتا تھا سنیہ کی عقل اس کے دماغ میں نہیں، اس کے بالوں میں ہے۔

    ناچ عروج پر تھا اور یہ بال اس کے رخساروں سے مس ہو رہے تھے۔ اس کے رگ و پے میں رقص کی روانی تھی اور نتھنوں میں اس خوشبو کا تعطر اس کا جسم اور سنیہ کا جسم پگھل کر ایک ہو گئے تھے اور ایک شعلے کی طرح ساز کی دھن پر لہرا رہے تھے۔ ایک شعلہ، ایک پھن، ایک زہر۔ایک لہر۔ لہریں۔لہریں، ہلکی ہلکی، گرم مدورسی لہریں ساحل کو چومتی ہوئی۔ لوریاں دے کر تھپک تھپک کر سلاتی ہوئی۔ سو جاؤ موت میں زندگی ہے۔ حرکت نہ کرو۔ سکون میں زندگی ہے۔ آزادی نہ طلب کرو۔ غلامی ہی زندگی ہے۔ چاروں طرف ہال میں ایک میٹھا سا زہر بسا ہوا تھا۔ شراب میں،عورت میں، ناچ میں۔ سنیہ کے نیلے سائے میں۔ اس کے پراسرار تبسم میں، اس کے نیم وا لبوں کے اندر کانپتی ہوئی موتیوں کی لڑی میں، زہر۔۔۔ زہر اور نیند اور سنیہ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے، بند ہوتے ہوئے لب، اور نغمے کا زہر، سو جاؤ۔سو جاؤ۔ سو جاؤ۔ یکایک ہال میں بجلی بجھ گئی اور وہ سنیہ کے ہونٹوں سے ہونٹ ملائے، اس کے جسم سے جسم لگائے۔ مدھم مدھم دھیمے دھیمے ہولے ناچ کے جھولے میں گہرے، گداز، گرم آغوش میں کھو گیا۔ بہہ گیا۔ سو گیا، مرگیا۔

    وہ آدمی جو ابھی زندہ ہے

    میں مر چکا ہوں؟ میں زندہ ہوں؟ میری پھٹی پھٹی بے نور بے بصر آنکھیں آسمان کی پہنائیوں میں کسے ڈھونڈ رہی ہیں؟ آؤپل بھر کے لئے اس قونصل خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاؤ اور میری داستان سنتے جاؤ۔ جب تک پولیس، سیواسمتی، یا انجمن خدا م المسلمین میری لاش کو یہاں سے اٹھا نہ لے جائیں۔ تم میری داستان سن لو۔ نفرت سے منھ پھیرو۔ میں بھی تمہاری طرح گوشت پوست کا بنا ہوا انسان ہوں۔ یہ سچ ہے کہ اب میرے جسم پر گوشت کم اور پوست زیادہ نظر آتا ہے اور اس میں بھی سڑاند پیدا ہو رہی ہے اور ناک سے پانی کے بلبلے سے اٹھ رہے ہیں۔

    لیکن یہ تو سائنس کا ایک معمولی سا عملیہ ہے۔ تمہارے جسم اور میرے جسم میں صرف اتنا فرق ہے کہ میرے دل کی حرکت بند ہو گئی ہے۔ دماغ نے کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور پیٹ ابھی تک بھوکا ہے۔ یعنی اب بھی اس قدر بھوکا ہے کہ میں سوچتا ہوں، اگر تم چاول کا ایک ہی دانا میرے پیٹ میں پہنچا دو تو وہ پھر سے کام شروع کر دیگا۔ آزما کر دیکھ لو۔ کدھر چلے۔ ٹھہرو، ٹھہرو، ٹھہرو نہ جاؤ۔ میں تو یونہی مزاق کر رہا تھا۔ تم گھر ا گئے کہ کلکتہ کے مردے بھی بھیک مانگتے ہیں؟ خدا کے لئے نہ جاؤ میری داستان سن لو۔ ہاں ہاں اس چاول کے دانے کو اپنی مٹھی میں سنبھال کر رکھو۔ میں اب تم سے بھیک نہیں طلب کروں گا۔ کیوں کہ میرا جسم اب گل چکا ہے۔ اسے چاول کی دانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب یہ خود ایک دن چاول کا دانہ بن جائیگا۔ نرم نرم گداز مٹی میں جس کے ہر مسام میں ندی کا پانی رچا ہوگا۔ یہ جسم گھل جائے گا۔ اپنے اندر دھان کی پنیری اگتے ہوئے دیکھے گا اور پھر یہ ایک دن پانی کی پتلی تہہ سے اوپر سر نکال کر اپنے سبز سبز خوشوں کو ہوا میں لہرائے گا، مسکرائے گا، ہنسے گا، کھلکھلائے گا۔ کرنوں سے کھیلے گا۔ چاندنی میں نہائے گا۔ پرندوں کے چہچہوں اور خنک ہوا کے جھونکوں کے شہد آ گیں بوسوں سے اس کی حیات کے بند بند میں ایک نئی رعنائی ایک نیا حسن، ایک نیا نغمہ پیدا ہو گا۔ چاول کا ایک دانہ ہو گا۔ صدف کے موتی کی طرح اجلا، معصوم اور خوب صورت۔۔۔ آج میں تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں۔ دنیا کا سب سے بڑا راز، وہ راز جو تمھیں ایک مردہ ہی بتا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا سے دعا کرو۔ وہ تمھیں انسان نہ بنائے۔ چاول کا ایک دانہ بنا دے۔ گو زندگی انسان میں بھی ہے اور چاول کے دانے میں بھی۔ لیکن جو زندگی چاول کے دانے میں ہے۔ وہ انسان کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ خوبصورت ہے۔ پاک ہے اور انسان کے پاس بھی اس زندگی کے سوا اور ہے کیا۔

    انسان کی جائیداد اس کا جسم، اس کا باغ اس کا گھر نہیں بلکہ یہی اس کی زندگی ہے۔ اس کا اپنا آپ، وہ ان سب چیزوں کو اپنے لئے استعمال کرتا ہے اپنے جسم کو، اپنی زمین کو، اپنے گھر کو اس کے دل میں چند تصویریں ہوتی ہیں۔ چند خیال آگ کے چند انگارے ایک مسکراہٹ وہ ان ہی پر جیتا ہے۔ اورجب مر جاتا ہے تو صرف انھیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

    چاول کے دانے کی زندگی تم دیکھ چکے۔ اب آؤ میں تمھیں اپنی زندگی دکھاؤں ،نفرت سے منھ نہ پھیر لو۔ کیا ہوا؟ اگر میرا جسم مردہ ہے۔ میری روح تو زندہ ہے میری روح تو بیدار ہے اور بیشتر اس کے کہ وہ بھی سو جائے، وہ تمھیں ان چند دنوں کی کہانی سنانا چاہتی ہے۔ جب روح جسم ایک ساتھ چلتے پھرتے ناچتے گاتے ہنستے بولتے تھے۔ روح اور جسم، دو میں مزا ہے، دو میں حرکت ہے، دو میں زندگی ہے، دو میں تخلیق ہے۔ جب دھرتی اور پانی ملتے ہیں تو چاول کا دانہ پیدا ہوتا ہے۔

    جب عورت اور مرد ملتے ہیں تو ایک خوبصورت ہنستا ہوا بچہ ظہور میں آتا ہے۔ جب روح اور جسم ملتے ہیں تو زندگی پیدا ہوتی ہے اور جب روح الگ ہوتی ہے تو اس میں دھواں اٹھتا ہے۔ اگر غور سے دیکھو گے تو تمہیں اس دھوئیں میں میرے ماضی کی تصاویر لرزتی، دمکتی، گم ہوتی ہوئی نظر آئیں گی۔۔۔ یہ تجلی کیا تھی۔ ۔۔یہ میری بیوی کی مسکراہٹ تھی۔ یہ میری بیوی ہے۔ شرماؤ نہیں سامنے آ جاؤ، اے جان تمنا۔ اسے دیکھا آپ نے؟ یہ سانولی سلونی مورت یہ گھنے بال کمر تک لہراتے ہوئے۔ یہ شرمیلا تبسم۔ یہ جھکی جھکی حیران حیران آنکھیں۔

    یہ آج سے تین سال پہلے کی لڑکی ہے۔ جب میں نے اسے اتا پارا کے ساحلی گاؤں میں سمندر کے کنارے دو پہر کی سوئی ہوئی فضا میں دیکھا تھا۔ میں ان دنوں اجات قصبے میں زمیندار کی لڑکی کو ستار سکھاتا تھا اور یہاں اتا پارا میں دو دن کی چھٹی لے کر اپنی بڑی موسی سے ملنے کے لئے آیا تھا۔ یہ خاموش گاؤں سمندر کے کنارے بانسوں کے جھنڈ اور ناریل کے درختوں سے گھرا ہوا اپنی اداسی میں گم تھا۔ نہ جانے ہمارے بنگالی گاؤں میں اتنی اداسی کہاں سے آ جاتی ہے۔ بانس کے چھپروں کے اندر اندھیرا ہے۔ سیلن ہے۔ بانس کی ہانڈیوں میں چاول دبے پڑے ہیں۔ مچھلی کی بو ہے۔ تالاب کا پانی کائی سے سبز ہے۔ دھان کے کھیتوں میں پانی ٹھہرا ہوا ہے۔ ناریل کا درخت ایک نکیلی برچھی کی طرح آسمان کے سینے میں گہرا گھاؤ ڈالے کھڑا ہے۔ ہر جگہ، ہر وقت درد کا احساس ہے۔ ٹھہرا کا احساس ہے۔ حزن کا احساس ہے۔ سکون،جمود اور موت کا احساس ہے۔ یہ اداسی جو تم ہماری محبت، ہمارے سماج ،ہمارے ادب اور نغمے میں دیکھتے ہو۔ یہ اداسی ہمارے گاؤں سے شروع ہوتی ہے اور پھر ساری دھرتی پرپھیل جاتی ہے۔ جب میں نے اسے پہلے پہل دیکھا تو یہ مجھے ایک جل پری کی طرح حسین نظر آئی۔ یہ اس وقت پانی میں تیر رہی تھی اور میں ساحل کی ریت پر ٹہل رہا تھا اور ایک نئی دھن میں سوچ رہا تھا۔ یکایک میرے کانوں میں ایک شیریں نسوانی آواز سنائی دی،

    ’’پرے ہٹ جاؤ، میں کنارے پر آنا چاہتی ہوں۔‘‘

    میں نے دیکھا آواز سمند رمیں سے آ رہی تھی۔ لانبے ریشمیں گھنے بال اور جل پری کا چہرہ۔ ہنستا ہوا۔ مسکراتا ہوا اور دور پرے افق پر ایک کشتی، جس کا مٹیالا بادبان دھوپ میں سونے کے پر ے کی طرح چمکتا نظر آ رہا تھا۔

    میں نے کہا، ’’کیا تم سات سمندر پار سے آئی ہو؟‘‘

    وہ ہنس کر بولی،’’نہیں میں تو اسی گاؤں میں رہتی ہوں۔ وہ کشتی میرے باپ کی ہے۔ وہ مچھلیاں پکڑ رہا ہے۔ میں اس کے لئے کھانا لائی ہوں۔۔۔ ذرا دیکھ کر چلو۔ تمہارے قریب ناریل کے تنے کے پاس کھانا رکھا ہے اور وہاں میری ساڑھی بھی ہے۔‘‘

    یہ کہہ کر اس نے پانی میں ایک ڈبکی لگائی اور پھر لہروں میں پھوٹتے ہوئے بلبلوں کی افشاں سی نہاتی ہوئی کنارے کے قریب آگئی۔ بولی،’’پرے ہٹ جاؤ اور وہ دھوتی مجھے دیدو۔‘‘

    میں نے کہا،’’ایک شرط پر۔‘‘

    ’’کیا ہے؟‘‘

    ’’میں بھی مچھلی بھات کھاؤں گا۔ بہت بھوک لگی ہے۔‘‘

    وہ ہنسی اور پھر سن سے ایک تیر کی طرح پانی کے سینے کو چیرتی ہوئی دور چلی گئی۔ جہاں اس کے چاروں طرف سورج کی کرنوں نے پانی میں طلائی جال بن رکھا تھا اور اس کا نازک چھریرا سبک اندام جسم اک نئی کشتی کی طرح ان پانیوں میں گھومتا نظر آیا۔ پھر وہ گھومی اور سیدھی کنارے کو ہولی۔ لیکن اب ہولے ہولے آ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ، ڈگمگ ڈگمگ۔۔۔

    میں نے پوچھا،’’کیا ہوا ہے تمھیں؟‘‘

    بولی، ’’آج کل بھات بہت مہنگا ہے۔ روپے کا دوسیر ہے۔ میں تمہیں بھات نںآ کھلا سکتی۔‘‘

    ’’پھر، میں کیا کروں۔ مجھے تو بھوک۔۔۔‘‘

    ’’سمندر کا پانی پیو۔‘‘ اس نے شوخی سے کہا اور پھر ایک ڈبکی لگائی۔

    جب وہ میری بیوی بن کر میرے گھر آئی تو بھات روپے کا دوسیر تھا اور میری تنخواہ پچاس روپے ماہانہ تھی۔ بیاہ سے پہلے مجھے خود صبح اٹھ کر بھات پکانا پڑتا تھا۔کیوںکہ زمیندار کی بیٹی اسکول جاتی تھی اور مجھے علی الصبح اسے ستار سکھانے کے لئے جانا پڑتا تھا۔ شام کو بھی اسے دو گھنٹے تک ریاض کراتا تھا۔ دن میں بھی زمیندار بلا لیتا تھا۔

    ’’ستار سناؤ جی۔ جی بہت اداس ہے!‘‘

    پھر یہ ننھی سی بچی ہمارے ہاں آ گئی۔۔۔ ادھر آؤ بیٹا۔۔۔ ہاں مسکرا دو۔ ہنس پڑو۔ ان سے کہہ دو میں بالکل معصوم ہوں، انجان ہوں، میری عمر دو سال کی بھی نہیں اور مجھے جھنجھنا بجاتے، گڑیا سے کھیلنے اور ماں کی چھاتی سے لگ کر دودھ پینے اور دودھ پیتے پیتے اس کے سینے سے اپنے ننھے منے ہاتھ چمٹائے اس گداز آغوش میں سو جانے کا بہت شوق ہے۔ میں اتنی پاکیزہ ہوں کہ خود بول بھی نہیں سکتی۔ بات بھی نہیں کرتی، صرف مٹر مٹر تکتی ہوں۔ اس آسمان کی طرف جس مالک نے مجھے اس زمین پر بھیجا ہے کہ میں اپنے باپ کے دل میں انسانی مسرت کی کرن بن کر رہوں اور بانس کی سیلی سیلی چھپریا میں خوشی کا گیت بن کر گھر کے آنگن کو اپنی ہنسی کے راگ سے بھر دوں۔۔۔ مسکرا دو بیٹا۔۔۔!

    ہاں تو جب یہ ننھی سی بچی پیدا ہوئی۔ اس وقت بھات روپے کا ایک سیر تھا۔ لیکن ہم لوگ اس پر بھی خدا کا شکر بجا لاتے تھے۔ جس نے چاول کے دانے بنائے اور زمیندار کے پاؤں چومتے تھے، جس نے ہمیں چاول کے دانے کھلائے اور سچ بات تو یہ ہے کہ بنانے اور کھانے کے بیچ میں جو چیز حائل ہے، وہ بجائے خود ایک پوری تاریخ ہے۔ انسانی زندگی کے ہزاروں سال کی داستان ہے۔ اس کی تہذیب و تمدن، مذہب اوہام فلسفہ اور ادب کی تفسیر ہے۔ بنانا اور کھانا بہت سہل الفاظ ہیں۔ لیکن ذرا اس گہری خلیج کو بھی دیکھیئے جو ان دو لفظوں کے درمیان حائل ہے۔

    بھات روپے کا یک سیر تھا۔

    پھر بھات روپے کاتین پاؤ ہوا۔

    پھر باات روپے کا آدھ سیر ہوا۔

    پھر بھات روپے کا ایک پاؤ ہوا۔

    اور۔۔۔ پھر بھات معدوم ہو گیا۔

    پھر درختوں پر سے آم۔ جامن، کٹہل، شریفے، کیلے ختم ہو گئے۔ تاڑی ختم۔ ساگ سبزی ختم۔ مچھلی ختم۔ ناریل ختم۔ کہتے ہیں۔ زمیندار کے پاس منوں اناج تھا اور بنیئے کے پاس بھی۔ لیکن کہاں تھا، کس جگہ تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا۔ اناج حاصل کرنے کی سب تدبیریں رائیگاں گئیں۔ گڑ گڑانا، منتیں کرنا، خدا سے دعا مانگنا، خدا کو دھمکی دیاص۔ سب کچھ ختم ہو گیا۔ صرف اللہ کا نام باقی تھا یا زمیندار اور بنیئے کا گھر۔

    اناج کی گرانی دیکھ کر زمیندار نے میرا ستار سکھانا بند کر دیا۔ جب لوگ بھوکے مر رہے ہوں اس وقت نغمہ کی کسے سوجھتی ہے۔ پچاس روپے دے کر ستار کون سیکھتا ہے۔

    بھوک، ناامیدی اور بلکتی ہوئی بچی!

    میں نے اپنی بیوی سے کہا،’’ہم کلکتہ چلیں گے۔ وہاں لاکھوں لوگ بستے ہیں۔ شاید وہاں کوئی کام چل جائے!‘‘

    ’’چلو کلکتہ چلو!‘‘

    ’’چلو کلکتہ چلو!‘‘ جیسے یہ صدا سارے گاؤں والوں نے سن لی ۔ گاؤں کی سماجی زندگی اک بند کی طرح مضبوط ہوتی ہے۔ یکا یک ’’چلو کلکتہ چلو‘‘ کی صدا نے اس بند کا ایک کنارہ توڑ دیا اور سارا گاؤں اس سوراخ کے راستہ سے بہہ نکلا۔

    ’’چلو کلکتہ چلو۔‘‘۔۔۔ ہر لب پر یہی صدا تھی۔۔۔ چلو کلکتہ چلو۔۔۔!‘‘

    سیکڑوں، ہزاروں آدمی اس سڑک پر چل رہے تھے۔ یہ سڑک جو کلکتہ کے مضافات میں سے بنگال کے دور دور پھیلے ہوئے گاؤں میں سے گھومتی ہوئی آ رہی تھی۔ یہ سڑک جو ان انسانوں کے لئے شہہ رگ کی طرح تھی۔

    چلو کلکتہ چلو۔۔۔ چیونٹیاں رینگ رہی تھیں۔ خاک و خون میں اٹی ہوئی لتھڑی ہوئی اور کلتہ کی لاش کی طرف جا رہی تھں۔ ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں اور اس قافلے کے اوپر گدھ گھوم رہے تھے۔اور ساری فضا میں مردہ گوشت کی بو تھی، چیخیں تھیں۔ فضا میں، آہ وبکا اور آنسوؤں کی سنلک اور لاشیں جو سڑک پر طاعون زدہ چوہوں کی طرح بکھری پڑی تھیں لاشیں جنھیں گدھوں نے کھا لیا تھا اور اب ان کی ہڈیاں دھوپ میں چمکتی نظر آتی تھیں۔ لاشیں جنھیں گیدڑوں نے کھا لیا تھا۔ لاشیں جنھیں کتے ابھی تک کھا رہے تھے۔ لیکن چیونٹیاں آگے بڑھتی جا رہی تھیں۔ یہ چیونٹیاں بنگال کے ہر حصے سے بڑھتی چلی آ رہی تھیں اور ان کے ذہن میں کلتہ کی لاش تھی۔ کوئی کسی کا پرسان حال کیسے ہوتا۔ ان لاکھوں آدمیوں میں سے ہر شخص اپنے لئے لڑ رہا تھا۔ جی رہا تھا۔ مر رہا تھا۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ شاید ایسا ہی ہونا تھا۔ ان لوگوں کی موت اسی طرح لکھی تھی۔ ان ہزاروں لاکھوں چیونٹیوں کی موت، پیٹ میں بھوک کا دوزخ اور آنکھوں میں یاسیت کی مہیب تاریکی لئےک۔ یہ انسانی چیونٹیاں اپنے بوجھل قدموں سے سڑک پر چل رہی تھیں۔ لڑ رہی تھیں۔ کراہ رہی تھیں۔ مر رہی تھیں۔ کاش ان انسانوں میں چیونیٹیوں کا ساہی نظم و نسق ہوتا تو بھی یہ صورت حال نہ ہوتی۔ چیونٹیاں اور چوہے بھی اس بری طرح نہیں مرتے۔

    راستہ میں کہیں کہیں خیرات بھی مل جاتی تھی۔ ہندو ہندوؤں کو اور مسلمان مسلمانوں کو خیرات دیتے تھے۔ لیکن خیرات سے کب کسی کا پیٹ بھرتا ہے۔ خیرات تو زندگی عطا نہیں کرتی۔ خیرات ہمیشہ دھوکا دیتی ہے۔ خیرات کرنے والے کو بھی اور خیرات لینے والے کو بھی۔ ہمیں بھی خیرات ملی اور ایک دن ایک سالم ناریل ہاتھ لگ گیا۔ بچی کب سے دودھ کے لئے چلا رہی تھی اور ماں کی چھاتیاں اس دھرتی کی طرح تھیں جس پر مدت سے پانی کی ایک بوند برسی ہو۔ اس کا پھول سا جسم جھلس گیا تھا۔ وہ بار بار بچی کو پچکارنے کے لئے اس کے ہاتھ میں جھنجھنا دے دیتی۔ بچی کو یہ جھنجھنا بہت پسند تھا۔ وہ اسے ہر وقت کلیجے سے لگائے رکھتی۔ اس وقت بھی وہ اس جھنجھنے کو زور سے اپنی مٹھی میں دبائے اپنی ماں کے شانے سے لگی بلک رہی تھی اور روئے جاتی تھی۔ جیسے کوئی بے بس زخمی جانور برابر چیخے جاتا ہے اور جب تک اسے موت نہیں آتی برابر اسی طرح، اسی انداز میں، اسی لے میں بین کئے جاتا ہے۔۔۔ لیکن اچھا ہوا عین اسی روز ہمیں ایک سالم ناریل مل گیا۔ ناریل کا دودھ ہم نے بچی کو پلایا اور ناریل ہم دونوں نے کھایا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے سارا جہاں جی اٹھا ہو۔

    اب کسی کے پاس کچھ نہ تھا۔ سب تجارت ختم ہو چکی تھی۔۔۔ صرف گوشت پوست کی تجارت ہو رہی تھی۔ اس کے تاجر شمالی ہند سے آتے تھے۔ ان میں یتیم خانوں کے منیجر تھے۔ جنھیں یتیموں کی تلاش تھی۔ ماں باپ اپنے ننھے منے بچے اور چھوٹے چھوٹے لڑکے ان کے حوالے کر کے انھیں یتیم بنا رہے تھے۔ دراصل غربت ہی تو یتیم پیدا کرتی ہے۔ ماں باپ کا زندہ رہنا یا مرجانا ایک خدائی امر ہے۔ ان تاجروں مں ودھوا آشرموں کے کارکن بھی تھے اور خالص تاجر جو ہر قسم کی اخلاقی مذہبی، تمدنی ریاکاری سے الگ ہو کر خالص تجارت کرتے تھے۔ نوجوان لڑکیاں، بکریوں کی طرح ٹٹولی جاتی تھی۔

    مال اچھا ہے۔

    رنگ کالا ہے۔

    ذرا دبلی ہے۔

    منھ پر چیچک ہے۔

    ارے اس کی تو بالکل ہڈیاں نکل آئی ہیں۔

    چلو۔ خیر، ٹھیک ہے۔

    دس روپے دے دو۔

    خاوند بیویوں کو، مائیں لڑکیوں کو، بھائی بہنوں کو فروخت کر رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اگر کھاتے پیتے ہوتے تو ان تاجروں کو جان سے مار دینے پر تیار ہو جاتے۔ لیکن اب یہی لوگ نہ صرف انھیں بیچ رہے تھے بلکہ بیچتے وقت خوشامد بھی کرتے تھے۔ دوکاندار کی طرح اپنے مال کی تعریف کرتے گڑگڑاتے۔ جھگڑا کرتے۔ ایک ایک پیسے کے لئے مر رہے تھے۔

    مذہب، اخلاقیات، مامتا، زندگی کے قوی سے قوی ترین جذبوں کے بھی چھلکے اتر گئے تھے اور ننگی بھوکی پیاسی خونخوار زندگی۔ منھ پھاڑے سامنے کھڑی تھی۔

    میری بیوی نے کہا،’’ہم بھی اپنی بچی بیچ دیں۔‘‘

    ڈرتے ڈرتے، شرمندہ، محجوب سی ہو کر اس نے یہ الفاظ کہے اور پھر فوراً ہی چپ ہو گئی۔ اس نےکنکھیوں سے میری طرف دیکھا۔ جیسے وہ اپنے الفاظ کے تازیانوں کا اثر دیکھ رہی ہو۔ اس کی نگاہوں میں ایک ایسا احساس جرم تھا۔ جیسے اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بچی کا گلا گھونٹ ڈالا ہو۔ جیسے اس نے اپنے خاوند کو ننگا کر کے اس کے بدن پر کوڑے لگادیےا ہوں۔ جیسے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے پھانسی کا پھندا تیار کیا ہو اور اب اس کی دبلی پتلی گردن اس میں لٹک رہی ہو۔

    مجھے یہ گلہ نہیں کہ وہ کیوں مر گئی۔ مرنے کو تو وہ اسی وقت مر گئی تھی۔ جس وقت اس نے یہ الفاظ کہے تھے۔ شاید ان الفاظ کے زبان تک آنے سے بہت عرصہ پہلے ہی وہ مرچکی تھی۔ لیکن اب بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ مر کر بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ غور کرنے پر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے منھ سے یہ الفاظ نکلے ، یہ کیوں کر ہوا؟ کس بھیانک قوت نے اس کی مامتا کو مار دیا تھا۔ اس کی روح کو کچل دیا تھا جیسا کہ میں نے ابھی کہا۔ مجھے اس کے مرجانے کا مطلق افسوس نہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس کی مامتا کیوں مر گئی۔ وہ مامتا جسے سب لازوال کہتے ہیں۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میں نے اس وقت اپنی بچی کو چھین کر اپنے سینے سے لپٹا لیا تھا۔

    میں نے خشمگیں نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ لیکن وہ اس طرح لاتعلقی کے انداز میں۔ میرے غم و غصہ کو نظر انداز کرتی ہوئی، لنگڑاتی ہوئی، میرے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔ کولہو کے اندھے بیل کی طرح۔ اس کے پریشان بال دھول میں اٹے ہوئے تھے۔ جسم پر دھوتی تار تار ہو چکی تھی۔ دائیں پاؤں کے زخم سے خون رستا تھا۔ اور وہ آنکھیں۔۔۔ ہائے وہ جل پری کہاں غائب ہو گئی تھی۔ وہ سمندر میں طلائی مچھلی کی طرح تیرنے والی سبک اندام بنگالی دوشیزہ۔۔۔ وہ پھول کا سا حسن جس میں تاج کا مرمر، ایلورا کے مندروں کی رعنائی اور اشوک کے کتبوں کی ابدیت کھلی ہوئی تھی۔ آج کدھر غائب ہو گیا تھا۔ کس لئے یہ حسن یہ مامتا۔ یہ روح اس سڑک پر اک روندی ہوئی لاش کی طرح پڑی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہ عورت ایک اعتقاد ہے۔ ایک معجزہ ہے، زندگی کی سچائی ہے۔ اس کی منزل اس کا مستقبل ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اعتقاد، یہ سچائی۔ یہ معجزہ چاول کے دانے سے اگتا ہے اوراس کے نہ ہونے سے مرجاتا ہے۔

    جل پری نے میری گود میں دم توڑ دیا۔ وہ تھکی ماندی، خاک میں اٹی ہوئی اسی سڑک کے کنارے سو گئی۔ میر ی آغوش میں، دو تین ہچکیاں لیں اور سانس غائبَ۔۔۔ نہ جانے میرے احساسات کیوں مجھے اس لمحہ کی طرف گھسیٹ کر لے گئے۔ جب میں نےپلی بار اس کے ہونٹوں کو چوما تھا اور اس کی مہکی ہوئی سانس نے مجھے سگندھ راج کے پھولوں کی یاد دلا دی تھی۔ اس وقت بھی وہی سگندھ راج کے پھولوں کی مہک تیزی سے میرے نتھنوں میں گھستی چلی آئی۔اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اس کے مردہ لبوں کی طرف تکنے لگا اور میرے آنسو، اس کے لبوں پر اس کی آنکھوں پر اس کے رخساروں پر گرنے لگے۔

    وہ میری گود میں مری پڑی تھی۔ جل پری جو انیس سال کی عمر میں مر گئی۔ خاک میں اٹی ہوئی، ننگی بھوکی پیاسی جل پری چڑیل بن کر مر گئی۔

    مجھے موت سے کوئی شکوہ نہیں۔ اپنے خدا سے کوئی شکایت نہں۔ زندگی سے، سڑک پر گزرتے ہوئے اندھے قافلے سے کسی سے کوئی بھی شکایت نہ تھی۔ صرف یہی جی چاہتا تھا کہ وہ اس طرح نہ مرجاتی۔ میں ایک بندے کی طرح نہیں۔ ایک دوست کی طرح اپنے خداؤں سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کیا برائی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتی۔ ایک طبعی عمر بسر کرتی۔ اس کا ایک چھوٹا سا گھر ہوتا۔ اس کے بال بچے ہوتے۔ وہ ان کی پرورش کرتی۔ اسے اپنے خاوند کی محبت میسر ہوتی۔ ایک عام اوسط زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتیں دناو کروڑوں ایسے معمولی چھوٹے آدمیوں سے بھری پڑی ہے جو زندگی سے ان چھوٹی چھوٹی مسرتوں کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔ نہ سلطنت نہ شہرت پھر بھی اسے یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں حاصل نہ ہوئیں۔ وہ کیوں اس طرح مر گئی اور اگر اسے مرنا ہی تھا۔تو وہ ساحل سمندر اور ناریل کے جھنڈ کو دیکھ کر ہی مرتی۔ یہ کیسی موت ہے کہ ہر طرف ویرانی ہے اور لاشیں ہیں اور خلا ہے اور آہ وبکا ہے۔ سڑک کی خاک ہے۔اور چپ چاپ چلتے ہوئے قدموں کی چاپ ہے اور۔۔۔ اور دور کہیں کتے رو رہے ہیں۔

    میں نے اسے دفن نہیں کیا۔ میں نے اسے جلایا بھی نہیں— میں نے اسے وہیں سڑک کے کنارے چھوڑ دیا اور اپنی بچی کو اپنی چھاتی سے چمٹائے آگے بڑھ گیا۔

    ابھی کلکتہ دور تھا اور میری بچی بھوکی تھی۔ وہ اب رو بھی نہ سکتی تھی۔ اس کے گلے سے آواز نہ نکلتی تھی۔ وہ بار بار اپنا منھ ایسے کھولتی جیسے مچھلی جل سے باہر نکل کر پانی کے گھونٹ کے لئے اپنے ہونٹ واکرتی ہے۔

    ہائے یہ ننھی سی جل پری اپنے چھوٹے سے کھلونے کو اپنے سینے سے چمٹائے ایک گھلتی ہوئی شمع کی طرح میری آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہی تھی۔ بجھ رہی تھی اور چلا جا رہا تھا۔ میرے ارد گرد، آمنے سامنے آگے پیچھے اور لوگ بھی تھے رواں دواں مردوں کا قافلہ ہر ایک کی اپنی دنیا تھی۔ لیکن ہر فرد اعلی موت کی وادی میں گزر رہا تھا اور آنکھوں میں چہروں پر، جسموں پر اسی مہیب کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ جو اس وادی کی خالق تھی۔ میں ہاتھ جوڑ کر دعا مانگنے لگا۔

    اے خالق ارض و سما اس معصوم بچی کی طرف دیکھ۔۔۔ کیا تیرے دربار میں اس کےلئے دودھ کی ایک بوند بھی نہیں۔ ان داتا۔۔۔ دیکھ یہ کس طرح بار بار منھ کھولتی ہے۔ بے قرار ہوتی ہے اور تڑپ کر رہ جاتی ہے۔

    اے خدا وند لایزال، تو نے خوب صورت موت بنائی ہے لیکن یہ موت تو خوب صورت نںول۔ یہ موت تو معصوم نہیں۔ یہ موت تو اس ننھی سی جان کے لائق نہیں۔

    سن لے اے کائنات کی پر اسرار مخفی قوت عظیم۔۔۔ اے خداؤں کے ظالم صدر اعظم۔۔۔۔ تو اس خوب صورت کلی کو ابھی سے کیوں کچل کر رکھ دینا چاہتا ہے۔ اس کی تمناؤں کی دنیاؤں کو دیکھ سمندر میں بلبلوں کی افشاں سبک خرام کشتی، ایک نغمہ اپنے معراج کو پہنچا ہوا ناریل کے جھنڈ میں عورت اور مرد کا پہلا بوسہ کمینے، سفلے، ذلیل!

    لیکن نہ دعائیں کام آ ئیں نہ گالیاں اور میری بچی بھی مر گئی۔ کس طرح تڑپ تڑپ کر اس نے جان دی۔ اس کا کرب اور ایزا وہ میری ان پتھریلی ساکن و جامد، بے نور، بے بصر آنکھوں سے پوچھو۔ وہ دودھ کی ایک بوند کے لئے مر گئی وہ بوند جو نہ آسمان سے برسی نہ زمین نے اگلی، بے حس آسمان، بے حس زمین اور یہ ظالم سڑک۔

    مرنے سے کچھ عرصہ پہلے میری بچی نے اپنا پیارا جھنجھنا مجھے دے دیا۔ دیکھو اب بھی میری مٹھی میں دبا پڑا ہے۔ یہ امانت اس نے میرے حوالے کی تھی۔ نہیں، نہیں یہ جھنجھنا اس نے مجھے بخش دیا تھا۔ لاپرواہی کے ساتھ۔ ایک ایسے معصومانہ انداز میں اس نے اسے میرے حوالے کر دیا تھا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس نے مجھے بخش دیا۔ مجھے معاف کردیا ہے۔ مجھے اپنے لطف و عنایت سے مالامال کر دیا ہے۔ اس نے وہ جھنجھنا میرے ہاتھ میں دے دیا۔اور پھر میری گود میں مر گئی۔

    یہ ایک لکڑی کا جھنجھنا ہے لیکن میرا اعتقاد ہے کہ اگر وہ کوین پیٹرا ہوتی تو اپنی محبت مجھے بخش دیتی۔ اگر وکٹوریہ ہوتی تو اپنی سلطنت میرے سپرد کر دیتی۔ اگر ممتاز محل ہوتی۔ تو تاج محل میرے حوالے کر دیتی۔

    لیکن وہ ایک غریب ننھی لڑکی تھی اور اس کے پاس صرف یہی ایک لکڑی کا چھوٹا سا جھنجھنا تھا جو اس نے اپنے غریب نادار ابا کے حوالے کر دیا۔ تم میں سے کون ایسا جوہری ہے جو اس لکڑی کے جھنجھنے کی قیمت کا اندازہ کر سکے۔ بڑے آدمیوں کی قربانیوں پر، واہ واہ کرنے والو، لے جاؤ اس لکڑی کے جھنجھنے کو، اور انسانیت کے اس معبد میں رکھ دو۔ جو آج سے ہزاروں سال بعد میری روح تمھارے لئے تعمیر کرے گی۔

    آخر کلکتہ آ گیا، بھوکی ویران بستی، سنگدل بے رحم شہر۔ کہیں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ کہیں روٹی کا لقمہ تک نہیں، سیالدہ اسٹیشن، شیام بازار، بڑا بازار، ہریش روڈ، ڈکریا اسٹریٹ، بود بازار، سونا گاچی، نیو مارکیٹ، بھوانی پور کہیں چاول کا ایک دانہ نہیں۔ کہیں وہ نگاہ نہیں جو انسان کو انسان سمجھتی ہے۔

    ہوٹلوں کے باہر بھوکے مرے پڑے ہیں۔ جھوٹی پتلوں میں کتے اور انسان ایک جگہ کھانا ٹٹول رہے ہیں۔ کتے اور آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک موٹر فراٹے سے گزر جاتی ہے۔

    ننگے بدن میں پسلیاں آہنی زنجیریں معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر روح کو کیوں قید کر رکھا ہے۔ اسے اڑ جانے دو۔ اس مہیب زنداں خانے کا دروازہ کھول دو۔۔۔ ایک موٹر فراٹے سے گزر جاتی ہے۔

    لیکن جسم روح کی فریاد نہیں سنتا۔۔۔ مائیں مر رہی ہیں۔ بچے بھیک مانگ رہے ہیں۔ بیوی مر رہی ہے۔ خاوند رکشا والے صاحب کی خوشامد کرتا ہے۔ یہ نوجوان عورت مادر زاد ننگی ہے۔ اسے یہ پتہ نہیں وہ جوان ہے۔ وہ عورت ہے۔ وہ صرف یہ جانتی ہے کہ وہ بھوکی ہے۔اور یہ کلکتہ ہے۔ بھوک نے حسن کو بھی ختم کر دیا ہے۔

    میں اس قونصل خانے کی سیڑھیوں پر مر رہا ہوں۔ بے ہوش پڑا ہوں۔ چند لوگ آتے ہیں۔ میرے سرہانے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہےگویا مجھے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھ رہے ہیں۔ پھر میرے کانوں میں ایک مدھم سی آواز آتی ہے، جیسے کوئی کہہ رہا ہے،’’حرامی ہندو ہوگا۔ جانے دو۔ آگے بڑھو۔‘‘

    وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اندھیرا بڑھ جاتا ہے۔

    پھر چند لوگ رکتے ہیں۔ کوئی مجھ سےپوچھ رہا ہے۔۔۔ ’’تم کون ہو؟‘‘

    میں بمشکل اپنے بھاری پپوٹے اٹھا کر آنکھیں کھول کر جواب دیتا ہوں۔

    ’’میں ایک آدمی ہوں۔ بھوکا ہوں۔‘‘

    وہ کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔’’سالا کوئی مسلمان معلوم ہوتا ہے۔‘‘

    بھوک نے مذہب کو بھی ختم کر دیا ہے۔

    اب چاروں طرف اندھیرا ہے۔ مکمل تاریکی، روشنی کی ایک کرن بھی نہیں، خاموشی، گہرا سناٹا۔

    یکایک کلیساؤں میں مندروں میں عبادت خانوں میں خوشی کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ ساری کائنات شیریں آوازوں سے معمور ہو جاتی ہے۔

    ایک اخبار فروش چلا چلا کر کہہ رہا ہے۔ ’’طہران میں بنی نوع انسان کے تین بڑے رہنماؤں کا اعلان، ایک نئی دنیا کی تعمیر!‘‘

    ایک نئی دنیا کی تعمیر!!

    میری آنکھیں حیرت اور مسرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ احساسات پتھر کی طرح جامد ہو جاتے ہیں۔

    میری آنکھیں اس وقت سے کھلی کی کھلی ہیں۔

    میں سیاست داں نہیں ہوں۔ ستار بجانے والا ہوں۔ حاکم نہیں ہوں۔ حکم بجالانے والا ہوں۔ لیکن شاید ایک نادار مغنی کو بھی یہ پوچھنے کا حق ہے کہ اس نئی دنیا کی تعمیر میں کیا ان کروڑوں بھوکے ننگے آدمیوں کا بھی ہاتھ ہو گا جو اس دنیا میں بستے ہیں؟ میں یہ سوال اس لئے پوچھتا ہوں کہ میں بھی ان بڑے رہنماؤں کی نئی دنیا میں رہنا چاہتا ہوں۔ مجھے بھی فسطائیت جنگ اور ظلم سے نفرت ہے اور گومیں سیاست داں نہیں ہوں۔ لیکن مغنی ہو کر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اداس نغمے سے اداسی ہی پیدا ہوتی ہے جو نغمہ خود اداس ہے، وہ دوسروں کو بھی اداس کر دیتا ہے۔ جو آدمی خود غلام ہے، وہ دوسروں کو بھی غلام بنا دیتا ہے۔

    دنیا کا ہر چھٹا آدمی ہندوستانی ہے۔ یہ غیر ممکن ہے کہ باقی پانچ آدمی کرب کی اس زنجیر کو محسوس نہ کرتے ہوں۔ جو ان کی روحوں کو چیر کر نکل رہی ہے اور ایک ہندوستانی کو دوسرے ہندوستانی سے ملا دیتی ہے۔ جب تلک میری ستار کا ایک تار بھی بے آہنگ ہوتا ہے اس وقت تک سارا نغمہ بے آہنگ و بے ربط رہتا ہے۔ میں سوچتا ہوں۔ یہی حال انسانی سماج کا بھی ہے۔ جب تک دنیا میں ایک شخص بھی بھوکا ہے، یہ دنیا بھوکی رہے گی۔ جب تک دنیا میں ایک آدمی بھی غلام ہے، سب غلام رہیں گے۔ جب تک دنیا میں ایک آدمی بھی مفلس ہے، سب مفلس رہیں گے۔

    اسی لئے میں تم سے یہ سوال پوچھ رہا ہوں۔

    تم مجھے مردہ نہ سمجھومردہ تم ہومیں زندہ ہوں اور اپنی پھٹی پھٹی بے نور، بے بصر آنکھوں سے ہمیشہ تم سے یہی سوال کیا کروں گاتمھاری راتوں کی نیند حرام کردوں گا۔ تمھارا اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، چلنا، پھرنا سب دوبھر ہو جائے گاتمھیں میرے سوال کا جواب دینا ہو گامیں اس وقت تک نہیں مر سکتا، جب تک تم میرے سوال کا تسلی بخش جواب نہ دو گے۔

    میں یہ سوال اس لئے بھی پوچھ رہا ہوں کیوں کہ میں نے جل پری کو بے گور و کفن سڑک پر چھوڑ دیا ہے اور میرے ہاتھ میں لکڑی کا ایک جھنجھنا ہے۔

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY