آئی لو یو

وفا نقوی

آئی لو یو

وفا نقوی

MORE BYوفا نقوی

    میں پوچھتی ہوں آپ اپنے کو سمجھتے کیا ہیں؟

    آپ کا عاشق!

    آج بھی؟

    اچانک اس کے منہ سے نکل گیا جی آج بھی!

    آپکو معلوم ہے میں تین بچوں کی ماں ہوں؟

    تیس کی بھی ہو جاؤ تب بھی۔

    یہ کیا بکواس ہے؟

    تمہارے لئے ہوگی!

    دیکھو!

    دکھاؤ!

    سنبھل جاو ورنہ۔۔۔

    ورنہ کیا؟ کیا کر لوگی؟ سنو!!! کسی اور کو دھمکانا۔ میں کل بھی تمہیں چاہتا تھا اور آج بھی چاہتا ہوں۔

    آخر تم مانتے کیوں نہیں؟

    نہیں مانتا میری مرضی!

    آپ کو۔ معلوم ہے میرے شوہر کون ہیں؟

    ہونگے کوئی! مجھ سے کیا؟

    سنیے جناب آپ اس طرح مجھے پریشان نہیں کر سکتے۔

    میں نے کیا پریشان کیا؟

    آپ میسنجر میں مجھے سلام لکھ کر کیوں بھیجتے ہیں؟

    سلام کرنا گناہ ہے کیا؟

    افففف!!!

    فیک آی ڈی سے مجھے ایف بی پر ریکویسٹ کیوں بھیجتے ہیں؟ میرے فوٹو شیرکیوں کرتے ہیں؟

    میں نے کب کیے؟

    آپ سمجھتے ہیں مجھے معلوم نہیں؟

    پروفیسر کلیم نے وجیہہ کی اس بات پر قدرے مسکراتے ہوے جواب دیا۔

    وجو صاحبہ! آپ مجھے نہیں روک سکتیں۔ میں آپ سے کل بھی پیار کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں۔

    بہت ہو گیا۔

    وجیہہ جھنجھلاتی ہوئی پروفیسر کلیم کے چیمبر سے باہر نکل آئی۔ آج وہ پہلی بار اپنے شوہر کو بغیر بتائے آئی تھی کہ کہاں جارہی ہے یہی وجہ تھی کہ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے دل میں بہت سے سوال گردش کر رہے تھے۔ اگر اس کے شوہر نے پوچھ لیا کہ کہاں سے آرہی ہو تو کیا بتائےگی؟ وہ اپنے شوہر کی انتہائی وفادار تھی۔ اس کی امانت میں خیانت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن اس کا ماضی اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔ اسے آج بھی یاد تھا کہ بیس سال پہلے جب اس نے ایم اے اردو میں داخلہ لیا تھا تو اس کی کلاس کا ایک سیدھا سادہ نوجوان لڑکا اس کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جا رہا تھا۔ ٹیچر کے آنے پر ہی اس کی توجہ وجیہہ کے چہرے سے ہٹی تھی۔

    صدیقی صاحب کرسی پر بیٹھ چکے تھے تاریخ ادب اردو ان کا سبجیکٹ تھا۔ لیکن شاید ہی وجیہہ کو کچھ سمجھ میں آیا ہو وہ کلاس میں ذہنی طور پر تھی ہی نہیں۔ وقت گزرتا گیا کلاس کا آخری دن بھی آ گیا۔ آج وجیہہ کو دل پر قابو تھا نہ آنکھوں پر۔ اسکی آنکھوں میں ایسے خواب لہو رو رہے تھے جن کی کوئی تعبیر ہی نہیں تھی۔ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ملا یا۔ ہیلو! میں۔۔۔ اس کی آواز نہ نکل سکی۔ میں کل دہلی جا رہی ہوں! وہاں سے پٹنہ کی ٹرین ہے۔۔۔ کیا تم مجھ سے اس وقت نقوی پارک میں ملنے آ سکتے ہو؟ کلیم مانو بت بن گیا ہو۔ وہ کہے تو کیا کہے۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ اس کو اس انداز میں پہلی بار کسی لڑکی نے فون کیا تھا۔ ہاں!!! ہاں۔۔۔ میں آ رہا ہوں۔

    شام کے پانچ بج رہے تھے گرمی کا موسم تھا لیکن ہلکی ہلکی بوندہ باندی کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو چکا تھا۔

    تم نے مجھے بلایا وجو؟

    وجو؟ میرا نام وجیہہ ہے۔

    لیکن میں پیار سے وجو ہی کہتا ہوں۔

    پیار سے؟ کیا مطلب؟

    مطلب یہ کے پیار سے جیسے کسی کا نام لیتے ہیں۔

    تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟

    نہیں ایسا نہیں ہے۔

    جھوٹ مت بولو۔

    ہاں کرتا ہوں۔

    اچانک کلیم کی آواز میں اعتماد نظر آنے لگا۔

    یہ جان کر بھی کے ہمارا مسلک الگ ہے؟

    ہاں وجو! میں مسلکی پابندیوں کو نہیں مانتا وجو۔

    میں بھی۔۔۔ تم۔۔۔ یہ کہہ کر وجیہہ نے اپنے آنسو پونچھ لئے سنیے کل میں علی گڑھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں۔۔۔ کل دوپہر تین بجے کی ٹرین ہے۔ کیا مجھے ہمیشہ کے لئے رخصت کرنے آوگے؟؟؟

    ضرور آوں گا۔

    اچھا اب مجھے جانا ہے سامان پیک کرنا ہے۔

    یہ کہتے ہوے وجیہہ نے آنکھوں سے آنسو پونچھے اور رکشہ لیکر آئی جی ہال کی طرف چلی گئی۔

    لیکن بہت دیر تک کلیم اسی جگہ گم سم بیٹھا رہا۔ اسے لگا مسکراتے ہوے پھول اس کے دل پر زخم لگانے کا کام کر رہے ہیں۔ ہوا نشتر چبھو رہی ہے تو فضا فسردگی کی دنیا آباد کئے ہوے ہے۔

    اگلے روز کلیم نے اپنے وجود کو علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر پایا۔ سامنے شتابدی کھڑی تھی۔ دروازے پر کھڑی وجیہہ مسکرانے کی بے سود کوشش کر رہی تھی۔ اسے کلیم کا انتظار تھا۔

    ٹرین نے رفتار پکڑ لی تھی لیکن اس کی رفتار میں ایک مصرع گونج رہا تھا۔

    ’’خواب تھا دیکھا کہ جو کچھ جو سنا افسانہ تھا‘‘۔

    وجیہہ کو اچانک ماضی سے حال میں آنا پڑا۔ اس کا گھر سامنے تھا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی۔ سامنے بیڈ پر اس کا بیمار شوہر لیٹا ہوا تھا جس کی آنکھوں میں بجھی ہوی زندگی کی راکھ پانی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ تم آ گئیں ملکہ؟

    وجیہہ کو گھر میں ملکہ ہی کہا جاتا تھا۔

    ہاں میں آ گئی۔۔۔ کہاں گیں تھیں؟

    پروفیسر کلیم کو سمجھانے۔

    کیا سمجھانے؟

    یہی کہ علی گڑھ میں بے شک ہم نئے ہیں لیکن۔۔۔ آپ پہلے دوا لیجئے۔ یہ کہہ کر وجیہہ نے دو تین ٹیبلیٹ آصف کے منہ میں رکھ کر پانی کا گلاس اٹھایا لیکن خود ہی گٹاگٹ پانی پی گئی۔ اچانک موبائل پر کسی کے میسج آنے کا احساس ہوا اس نے میسج باکس کھولا تو میسج تھا۔

    آی لو یو

    فروم کلیم۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے