انتہا

صوفیہ کاشف

انتہا

صوفیہ کاشف

MORE BYصوفیہ کاشف

    بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خایک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ بہتے چشموں کی گنگنا ہٹ میں، جس کے لبوں کی سرگوشیوں پر کان دھرنے تھے، اونچی چوٹیوں سے بہت نیچے دکھتی سفید روئ کی نرم نرم بدلیوں پر قدم دھرنا تھا اور کالی گھٹاؤں سے ٹیک لگائے اس کی سانسوں کی حرارت پر سر دھننا تھا۔

    ‘‘میرا ہاتھ تھام لو ناں!’‘

    وہ بار بار اپنا ہاتھ میری سمت بڑھاتا، کبھی ڈانٹنا کبھی اصرار کرتا، میں ہنستی، جھٹک دیتی۔

    ‘‘مجھے چلنا آتا ہے‘‘

    میں ایک پتھر سے دوسرے پر کودتی اور پھسلتی، میرے پاؤں کئی پتھروں سے الجھتے اور وہ لپک کر مجھے گرنے سے بچاتا۔

    ‘‘میرے ساتھ ساتھ چلو ناں!‘‘

    ‘‘نہیں مجھے تم سے آگے چلنا ہے!‘‘

    میری بھی تو ایک ہی ضد تھی۔سمندر کی بہتی لہروں کے کناروں سے زرا پرے، ان اونچے پہاڑوں پر چڑھتے نہ مجھے تنہائیوں کا ڈر تھا، نہ آسیبی ہوائ مخلوق کا، نہ آس پاس بکھری جانوروں کی بچی کھچی ہڈیوں سے اپنے وجود کی گواہی دیتے درندوں کاصرف ایک احساس تھا کہ وہ ایک مضبوط سہارا ہوکر میرے ساتھ ہے ہر بار گرتے ہوے تھا نے کے لئے!

    خوشبو سے بھرے باغ کی پھولوں بھری کیاریوں میں دائیں بائیں اوپر نیچے لدے پھولوں میں سے گرتے بارش کے نرم نرم قطرے جب ہمارے گالوں اور بالوں کو نم کرتے جاتے اور چھت پر سجائ گئیں دھنک رنگ چھتریاں ہمیں بھیگنے سے بچانے کی ناکام کوشش کرتیں تو وہ اپنے ہاتھوں سے میرے چہرے پر گری گیلی لٹوں کو پرے ہٹاتا تھا۔

    ‘‘بس۔۔۔ اب تھک گئی ہوں!’‘

    ’’نہیں چلو وہاں تک چلتے ہیں۔۔۔ پھولوں کی آخری کیاریوں تک!‘‘

    ’’پھول تو سب ایک ہی جیسے ہوتے ہیں اتنے تو دیکھ چکی!‘‘

    ’’نہیں دیکھے ناں تم نے ابھی، ان پھولوں کے رنگ گہرے ہیں اور خوشبو مستانی!‘‘

    وہ میرا ہاتھ پکڑے ٹھنڈی بارش کی رم جھم میں بھیگی زمیں اور نم پھولوں کی مسحورکن خوشبو کے بیچ لئے جاتا تھا۔

    جب چاند کی نورانی خوابنایک چاندنی میں آس پاس کے تمام پھولوں اور درختوں کے رنگ خوابیدہ تھے اور خوشبوئیں پتے اوڑھے سستا رہی تھیں تو نرم گھاس پر اس کی بازو کو تکیہ بنائے ہم آسماں کی طرف تکتے ستارے گنتے تھے۔

    ’’تمھارا کون سا ہے ان میں سے؟‘‘

    ’’وہ جو سب سے روشن ہے!۔۔۔ اور تمھارا؟‘‘

    ’’میرا ان میں سے کوئی نہیں!‘‘

    ’’کیوں؟‘‘

    ’’میرا ستارہ اس وقت زمیں کی دوسری سمت ہے جہاں سے وہ روشنی بھیج کر ہمیشہ تمھارے ستارے کو چمکاتا رہےگا!‘‘

    میری نایک مروڑتے یہ ہی تو اس نے کہا تھا! مگر قریب سے، آسماں کو تکتے اور ستاروں سے برستے نور میں بھیگتے، انکی آغوش سے گرتے سپنوں کو چنتے!

    میرے دامن میں اس قدر ستارے، جگنو، خوشبوئیں اور پھول بھر چکے تھے کہ انکے رنگ چمک اور خوشبوؤں سے نڈھال ہوئے جاتی تھی۔میرا عشق معراج ہونے لگا تھا جب اس کا مضبوط مہربان ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹا اور میں ایک ظالم دیو کی قید میں بے دست و پا ہوکر رہ گئی اور مجھے ایک بلند و بالا محل کے سب سے اونچے مینار کی تاریک کوٹھڑی میں بند کر کے رنگ برنگے تالا لگا دیا گیا۔ ایک ایسی کوٹھری جس کی کوئ بھی کھڑکی، کوئی روزن کسی بدلی پر نظر کر پاتی، نہ ہوا کی سرگوشی کو ہی چھو پاتی، جس کی موٹی موٹی دیواروں کے پیچھے سے نجانے کتنے سوج بغیر ابھرے، سویرا کیے ڈوبنے لگے اور اس بلند وبانگ مینار کی تاریک کوٹھڑی میں ذندگی کے نام پر دکھائی دیتی محض ایک بھیانک دیو کی صورت، غراتی ہوئی، چنگھاڑتی ہوی، نگل جانے کو بیقرار، توڑ دینے پر قادر اور یہی زندگی اب میرا کل اثاثہ تھی۔ کوٹھری کے در پر موٹے لوہے کے رنگین تالے اور میرے قدموں میں چمکتی چاند سورج کے رنگوں میں لپیٹ کر بنائی گئیں خاردار بیڑیاں۔۔۔ اب میری چھت پر آسماں کا سایہ تھا نہ ہری نرم گھاس کی شفقت۔میری آنکھیں جاگتی یا سوتی مگر ان بھوت بنگلوں سے نہ باہر نہ دیکھ پاتیں نہ چشم تصور سے ہی جھانک پاتیں۔ دل دماغ کی آخری حدوں میں خواب اپنی زندگی کی رمق کے آخری سانس بھرتے تھے اور کانپے جاتے تھے۔ کمرے کا سناٹا اور اندھیرا مجھے روشنی کی بصیرت تک بھلا بیٹھا تھا اور اب نور کی سفیدی کو بھی پہچاننے سے قاصر تھا۔ خوابوں سے میرا تعلق کب سے بیوگی کا تھا اور ارمان مجھے طلاق دے کر گھر سے بےگھر کر چکے تھے۔ محض کچھ یاد نام کے بے رحم کانٹے پیروں پہ چھبھتے تھے اور کوٹھری کی زمیں کو لہو لہان کرتے تھے۔۔۔ لہو کا رنگ میری جائے پناہ میں چھلکنے والا واحد زندہ رنگ تھا۔

    ’’ایسے کیا گھورتی ہو مجھے؟‘‘

    ’’میں چاہتی ہوں تمھارے ایک ایک نقش کو ازبر کر لوں!‘‘

    ’’میرے چھن جانے کا خوف ہے کیا؟‘‘

    اور وہ مجھ سے چھن گیا تھا جسکے نقوش ازبر کرنے میں میں نے ایک عمر لگائی تھی۔

    اس تاریک اونچے مینار کے تالا ذدہ دروازوں اور کند کھڑکیوں کے پیچھے کچھ کبھی اس کے نقوش جگنو بن کر میری اندھیری چھت سے تکتے، کبھی سوتی جاگتی سماعتوں میں ایک آہنگ اس کے لفظوں کا ابھر آتا، کبھی اس کے ہاتھ کا مضبوط لمس میرے نڈھال ہاتھوں کو ایک زندگی کی سانس دینے اتر آتا اور میری دم گھٹتی سانسوں کو چند اور سانسیں زندگی کی بشارت دے جاتا۔

    پھر ایک روز مانند ہوے تھے اس کے نقوش؛ آواز دے کر بلاتے آہنگ؛ زندگی دیتے ہاتھ اور ہلکی تاریکیاں گھپ اندھیرے بن گئی، جگنو خایک ہوکر گر پڑے، ستارے سورج کی گمشدگی سے لاپتہ ہو گئے۔ خواب اور جگنوؤں کی، روشنی اور بہاروں کی، آس اور دلاسے کی ایک حد تھی مگر قید کی کوئ حد نہ تھی۔ وہ عذاب کی عادت بننے سے، مشکل کے آسانی ہونے تک، غلامی کے آذادی میں ڈھلنے سے نفرت کے محبت میں بدل جانے تک بے انتہا اور بےحد ہوتی ہے۔ قید ایسی کہ لال اور ہرے کا رنگ بھول جائے، بیٹھا اور کھڑا ایک سا ہو جائے۔ میں نے بھی زخموں کو پھول سمجھنا سیکھا اور بیٹڑیوں کو زندگی، اندھیر نگری کو حیات جانا اور اس اونچے تاریک مینار میں میرے ساتھ بستے دیو کو کوہ قاف کا شہزادہ۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے