کت

MORE BYعلی اکبر ناطق

    رفیق کا قد ساڑھے چھ فٹ اور چھاتی چوڑی تھی۔ اُس کے پاس بہت سی بھینسیں تھیں۔ ڈانگ لکڑ ہاتھ میں لے کر نہ چلتا لیکن سامنے شیر بھی آ جاتا تو فوراً ٹکرا جاتا۔ آنکھیں موٹی اور سُرخ انگارہ تھیں مگر کم لوگوں کے ساتھ اُس کا دنگا ہوا۔ ایک عیب اُس میں ضرور تھا۔ لوگوں کے کھیتوں سے چوری کاچارہ کاٹ کر لے جاتا۔ اگرچہ دن کے وقت بھی کسی کے کھیت کو ٹَک لگا دیتا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھامگر وہ سینہ زوری نہ کرتا۔ شمشیر خاں اُس کا ایک ہی دوست تھا، جس کے ساتھ اِس کا بیٹھنا اُٹھنا تھا۔ جُثے اور قد کاٹھ میں شمشیر خاں رفیق سے بھی نکلتا تھا۔ شمشیر کے ہاتھ میں ہر وقت پانچ فٹ لمبی ڈانگ ہوتی۔ جسے زمین پر کھڑ کھڑ بجاتا ہوا جاتا۔ بختو نام کی ایک کتیا ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتی۔ کتیا اتنی خطرناک اور کاٹنے والی تھی کہ دیو بھی اُس کے نزدیک آنے سے ڈرتا۔ بختو ایک قسم کی اُس کی روح تھی۔ رفیق کی نسبت شمشیرعقل کا موٹا اور ہاتھ کا تیز تھا۔ ذرا سی بات پر سامنے والے کو جھانبڑ لگا دیتا اور مار پیٹ کے بعدمعافی مانگ لیتا۔ یہ بھی ایک طرح سے لوگوں کی انا کو مجروح ہونے سے بچانا تھا۔

    شمشیر خاں رفیق کی طرح چوری تو نہ کرتا لیکن گاؤں میں ہلہ گلہ مچائے رکھتا۔ کمزوروں کی خدمت کا ایسا لپکا تھا کہ جو پہلے شکایت لے کر آ گیا، اُسی کے ساتھ ہو لیتا، پھر دنیا کی کوئی دلیل اُس کے سامنے مخالف کا حق پر ہونا ثابت نہ کر سکتی۔ اپنی خوشامد سُن کر پھول جاتا اورکچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا۔اکثر لوگ شغل میں ہی اُس کے ہاتھ سے ایک دوسرے کی دھلائی کرا دیتے۔ جس گدھے پر چارہ ڈھوتا، بعض اوقات اُسی سے زور آزمائی شروع کر دیتا۔ گدھا تو گدھا ہوتا ہے، کبھی اَڑ پھنس کی، یہ اُسے چت کرنے کے لیے کُشتی شروع کر دیتا۔ پھر آدھے گھنٹے بعد دونوں ہانپ کانپ کر گر جاتے۔

    کچھ دن سے یار لوگ شمشیر خاں کو رفیق سے بھِڑ جانے پر اُکسا رہے تھے اور ایسی ترکیب کی تلاش میں تھے کہ دونوں کا جوڑ پڑ جائے۔ ایک دن شمشیر خاں اپنی بختو کی زنجیر پکڑے مسجد کے بڑے کنویں کی منڈیر پر بیٹھا تھا کہ کچھ خوشامدیوں نے گھیر لیااور اُس پر پھِرکیاں چڑھانے لگے۔

    حبیب جٹ، میاں شیرے تمھاری کیا بات ہے۔ چاہو تو ہاتھی کی سونڈ پکڑ کرگاؤں کے چوک میں کھڑے پیپل سے باندھ دو اور شیر تمھارے سامنے کُتے کا پِلًا ہے۔ گینڈے اور سانڈ تک، تمھاری پھونک سے اُڑ جائیں۔ پھر دوسرے لوگوں کی طرف منہ کرکے، بھئی تمھیں شمشیر کی طاقت کا اندازہ نہیں۔ مَیں نے ایک دن اپنی اِن شیشے جیسی آنکھوں سے دیکھا، شیرے نے ہل جوتا ہوا تھا۔ دوپہر سر پر تھی۔ گرمی کی وجہ سے پسینے کی نہریں جاری تھیں۔ شیرا ہل کی اَرلی پکڑے ساڑیں لگا رہا تھا۔ ایک جگہ شیرے کا بیل لاکھا اَڑ گیا۔ اِس نے دُم کو مروڑا، چوب ماری، ہشکارابھرامگر وہ سوئر کی طرح وہیں اَکڑ گیا۔ نہ آگے جاتا ہے نہ پیچھے ہٹتا ہے۔مَیں دیکھ رہا تھا اور سوچے جا رہا تھا، لاکھے کی شامت آئی کہ آئی۔ کچھ دیر بعد وہی ہوا۔ شیرے نے غصہ کھا کے لاکھے کی کمر پر یہ زور کی کُہنی ماری کہ اللہ معاف کرے۔ میرے پاؤں کی زمین ہل گئی۔ میں سمجھا زلزلہ آگیا۔ کُہنی کی ضرب سے لاکھا نیچے ہی بیٹھتا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جو بے زبان کو ہوش آیا اور سُرت بحال ہوئی تو ایک دم اُٹھ کے بھاگا اور سہ پہر تک ایک ایکڑ زمین تلپٹ کردی۔ کیوں شیرے، بتا نا ذرا اِنہیں وہ قصہ۔

    اس بات کو چھوڑو، شمشیر نے بختوکی زنجیر اپنی ٹانگ سے باندھ کر ہاتھوں کو آزاد کیا اور بولا، ایک بار مَیں یونہی پگڈنڈی کنارے جا رہا تھا۔ یہ بھاگاں والی بختو آگے آگے مٹکتی جاتی تھی۔ ہم پگڈنڈی پر تھے اور دونوں جانب اُونچے اُونچے کماد کے کھیت تھے۔ اچانک ایک ہی بارجھٹکا سا ہوا اور میرے دیکھتے ہی بختوغائب۔ چوں تک نہ کی بیچاری نے۔ بس ایک جھپکے کی دیر میں کماد سے بگھیاڑ نکلا اور دیکھتے ہی بختو کو گردن سے دبوچ کر اُسی کماد میں جاگُھسا۔ تمھیں تو پتا ہے میری اِس کرماں والی میں جان ہے۔ مَیں نے آ ؤ دیکھا نہ تاؤ، پیچھے چھلانگ لگا دی۔اب جو دیکھا تو تین تین بگھیاڑ تھے۔بختو بچاری مدھولی جا چکی تھی۔ ایک منٹ مَیں نہ پہنچتا تو اس کی انتڑیاں کماد کی جڑوں سے لپٹی جا چکی ہوتیں۔

    جیسے ہی بگھیاڑوں نے مجھے دیکھا، آئے میری طرف۔ یہ بڑے بڑے ڈیلے نکال کر۔ لو جی اُس وقت مَیں نے بھی دلیری پکڑی اور اور بگھیاڑ ہی تو بن گیا۔ خون میری آنکھوں میں اُتر آیا اور جنگ شروع ہو گئی۔ کسی کا پنجہ بچاتا ہوں تو کسی کے دانت۔ ایک بگھیاڑ نے میری لُنگی کو اپنے جبڑوں میں ایسے دبوچ کر کھینچا کہ پَل میں لیرو لیر ہوگئی اور مَیں الف ننگا۔ وہ بچت یہ ہوئی کہ اُس کے جبڑوں میں میرا الف نہیں آیا ورنہ تو میں سرے سے ہی کام سے گیا تھا۔ جو اُن میں سب سے بڑا تھا، اُس کو آخر مَیں نے یہ جھانبڑ لگائی کہ تین قلابازیاں کھا گیا۔ دوسرا سیدھا اُستروں جیسے پنجے اور برچھی کی طرح دانت نکال کر میرے منہ کی طرف آیا۔ میں نے ٹوکی کا وار یوں اُس کے پیٹ میں اُتارا کہ وہ تو خنزیر وہیں ڈھیر ہو گیا۔ ایک جو پہلے والاتھا جس نے مجھے ننگا نچا دیا تھا، اُس کو بائیں ہاتھ سے دھوبی پٹڑا دیا اور دے زمین پہ مارا۔وہ بھی بہت تیز تھے۔ آنکھ جھپکتے ہی دوبارہ حملہ کر دیتے۔

    اور تمھاری بختونے ساتھ نہیں دیا؟ غلام محمد نے پوچھا۔

    شمشیر ہنس کر بولا، تم بھی بادشاہ ہو بھئی غلام محمد۔ یہ بچاری تو بے سُتی ہوئی پڑی تھی۔ مجھے تو فکر تھا کہیں مر ہی نہ گئی ہو۔ اِ س کو اُس وقت ساتھ دینے کے کہاں ہوش تھے۔ ظالموں نے ایک ہی منٹ میں اِسے رگڑ دیا۔ خیر بھئی، یہ لڑائی دو گھنٹے جاری رہی۔ دو کنال کماد کا صفایا ہو گیا۔ اللہ اللہ کر کے وہ تینوں بگھیاڑ مَیں نے اُسی ٹوکی سے کاٹے۔ میرا اپنا جسم بھی لہو لہان ہو گیا۔ بختوکو اُٹھا کر گھر لایا۔ شوہدی کو شام تک کہیں جا کر ہوش آیا۔

    شریف بولا، یہ بات تو ہے شیرے تم میں۔ ہم ہوتے تو وہیں مُوت نکل جاتا اور بختو کو بگھیاڑوں کے صدقے کرکے گھر کی طرف دُڑکی لگا دیتے۔ خدا کی قسم آج راجہ ارجن ہوتا تو تیرا پانی بھرتا اور ہنومان دُم دبائے دبائے پھرتا۔

    دلگیر جو ایک طر ف چُپ کھڑا تھا، شریف کی بات سُن کر بولا، واہ شریفے، تُو بھی کتنی اوچھی اور دُور کی کوڑی لایا ہے۔ بھلا ہنومان باندر اور ارجن پلًے دار کا شمشیر سے کوئی میل ہے؟ اپنا شمشیر شیروں کو پھاڑ کھانے والا اور وہ صرف رام کے چیلے چانٹے۔ پھرشمشیر کی طرف منہ کر کے بولا، پر ایک بات تمھیں بھی ماننی پڑے گی شیرے۔ جگرے والا اپنا رفیق محمد بھی بہت ہے۔ چاہے رام لشمن دونوں آ جائیں، ر فیق خاں، علی مولا کا نام لے کر دونوں کو اُنگلی پر اُٹھا لے گا۔ بھائی اُس کے ہاتھ کیا ہیں؟ لوہے کی سیخیں ہیں۔ بس یوں سمجھ لو کہ عزرائیل کے پنجے ہیں۔ جس پر جا پڑتے ہیں روح قبض کیے بِنا نہیں چھوڑتے اور دلیر ایسا کہ نادر شاہ کی فوجوں پر اکیلا جا چڑھے۔ پورا لشکر ایک طرف ہو جائے تو بھی ماں کا جنا پیٹھ دکھا کے نہیں بھاگتا۔

    ہاں، غلام محمد بولا، اور مَیں تو کہوں گا،