اونٹ

MORE BYشموئل احمد

    افسانہ:

    مولانا برکت اللہ وارثی کا اونٹ سرکش تھا اور سکینہ رسی بانٹتی تھی۔ مولانا نادم نہیں تھے کہ ایک نامحرم سے ان کا رشتہ اونٹ اور رسی کا ہے، لیکن وہ مسجد کے امام بھی تھے اور یہ بات ان کو اکثر احساس گناہ میں مبتلا کرتی تھی۔

    جاننا چاہئے کہ اونٹ کی سرکشی کہاں سے شروع ہوتی ہے …؟

    اونٹ کی سر کشی آنکھ سے شروع ہوتی ہے۔

    پس آنکھ کو بچاؤ…

    آنکھ کنڈی کے سوراخ پر تھی اور سکینہ اکڑوں بیٹھی غسل کر رہی تھی۔ لا الٰہ پڑھتے ہوئے اس نے آخری بار پانی اجھلا اور کھڑی ہو گئی اور مولانا سکتے میں آ گئے …سکینہ کی خم دار پشت…؟

    سکینہ کی پشت الٹی محراب کی طرح بل کھائی ہوئی تھی …کچھ اس طرح کہ سینہ آگے کی طرف نکلا ہوا تھا اور کولھے پیچھے کی طرف نمایاں …جسم کا سارا گوشت جیسے کولھوں پر جمع تھا۔ سکینہ نے زلفوں کو ایک ذرا جھٹکا دیا اور مولانا نے دیکھا پانی کا قطرہ پشت کی محراب پر رول گیا اور کولھے پر ٹھیر گیا…

    مولانا گھر آئے، بیوی سے قربت کی اور غسل فرمایا۔

    مولانا اس دن رحمت علی کو تعویذ دینے ان کے گھر گئے تھے۔ ان کو واہمہ تھا کہ کسی نے ان کے گھر پر کچھ کر دیا ہے، جس سے خیرو برکت جاتی رہی ہے۔ ایک ہی بیٹا تھا حشمت علی وہ بھی جواری نکلا اور کہیں سے دو بچوں والی سکینہ کو اٹھا لایا۔ سکینہ نکاح نامہ لے کر آئی تھی۔ رحمت علی نے صبر کر لیا کہ بیٹے کی منکوحہ ہے، لیکن بیگم رحمت علی کا کلیجہ کٹتا تھا اور محلے والے تو دھڑلّے سے سکینہ کو حشمت علی کی رکھیل بتلاتے تھے۔

    رحمت علی کی انگلیوں کے پور پور میں جلن رہتی تھی۔ مرض ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آیا۔ رحمت علی نے مولانا سے رجوع کیا مولانا نے سورہ جن پڑھ کر کرتا ناپا۔ کرتا ایک انگل چھوٹا نکلا۔ تشویش ہوئی کہ کوئی پرانا آسیب ہے۔ دوسرے دن نقش سلیمانی لے کر رحمت علی کے گھر گئے۔ آنگن کا دروازہ کھلا تھا۔ کنڈی کھٹکھٹائی تو جواب نہیں ملا۔ کھانستے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ گھر میں کوئی نہیں تھا، لیکن غسل خانے سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آنگن میں چاپا نل کے قریب ہی غسل خانہ تھا، وہاں سے کسی کے گنگنانے کی بھی آواز آنے لگی تو تجسس ہوا …آنکھ کنڈی کے سوراخ سے لگا دی…! پس آنکھ کو بچانا چاہئے …!

    اور جاننا چاہئے کہ عورتیں امت کے معاملے میں بڑے فتنہ کی موجب ہوتی ہیں۔

    جب سے سکینہ آئی تھی ایک سے ایک فتنہ برپا ہوتا رہتا تھا۔ وہ اپنا حق جتاتی تھی کہ اس کے پاس نکاح نامہ تھا اور بیگم رحمت پھٹکار بتاتی تھیں۔ سکینہ گھر کی کسی چیز کو بھی ہاتھ لگاتی تو فوراً طوفان کھڑا ہو جاتا لیکن حشمت کی موجودگی میں ان کا کچھ چلتا نہیں تھا۔ سکینہ چائے بناتی اور بیگم رحمت علی کے کلیجے پر سانپ لوٹتا۔ وہ چھپ کر دیکھتیں کہ حرافن کہیں شکر تو نہیں چرا رہی ہے …؟

    آخر ایک دن پکڑی گئی۔ حشمت کہیں باہر گیا ہوا تھا۔ سکینہ کا راشن ختم ہو گیا تھا۔ بچہ بھوک سے بلک رہا تھا۔ مولانا اس وقت ڈیوڑھی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سکینہ دودھ لینے کچن میں گئی کہ بیگم رحمت علی نے کلائی پکڑ لی۔

    ’’حرامی کے لئے میں دودھ دوں …؟‘‘

    بھوک سے بلکتا معصوم بچہ …ماں شیرنی بن گئی۔ ایک جھٹکے سے کلائی چھڑا لی۔

    ’’جہنمی بڑھیا…!‘‘

    ’’خاموش! زبان لڑاتی ہے …!‘‘

    بیگم رحمت علی نے جھونٹا پکڑا۔

    ’’ارے …ارے …!‘‘رحمت علی دوڑ کر آئے۔

    ’’کنجڑے کباڑی کا گھر بنا دیا…کنجڑے کباڑی کا گھر…؟‘‘

    دونوں گتھم گتھا تھیں …رحمت علی نے کسی طرح دونوں کو الگ کیا۔

    سکینہ کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں …بال چہرے پر بکھر گئے تھے …وہ تن کر کھڑی تھی۔ اس کا یہ روپ دیکھ کر رحمت علی کانپ گئے۔ بیگم رحمت علی بھی سہم گئیں۔

    بچے کو دودھ مل گیا لیکن سکینہ کی آنکھوں میں عدم تحفظ کا رنگ گہرا گیا۔

    مولانا نے رحمت علی کو سمجھایا۔ ’’ حشمت نے با قاعدہ نکاح کیا ہے۔ اس کے ساتھ زیادتی مناسب نہیں ہے۔ ‘‘

    سکینہ آنگن میں آئی تو مولانا نے سب کی نظر بچا کر پچاس کا ایک نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔

    ’’بچوں کے دودھ کا انتظام کر لو۔ ‘‘

    سکینہ نے خاموش نگاہوں سے دیکھا۔

    ’’اسے قرض حسنیٰٰ سمجھ کر رکھ لو۔ حشمت آئے گا تو لوٹا دینا۔ ‘‘

    عورت لاکھ ان پڑھ سہی مرد کی آنکھوں میں بھوک بہت جلد پڑھ لیتی ہے اور مرد بھی عورت کی آنکھوں میں عدم تحفظ کا رنگ فوراً پہچان لیتا ہے

    دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا سکینہ نے پچاس کا نوٹ رکھ لیا

    کسی عورت کی چادر پر بھی نگاہ مٹ ڈالو کہ اس سے دل میں آرزو پیدا ہوتی ہے۔ عورتیں جو سفید چادر اوڑھتی ہیں اور سیاہ نقاب ڈالتی ہیں تو شہوت کو زیادہ تحریک ملتی ہے۔

    سکینہ باہر نکلتی تو سفید چادر اوڑھتی اور سیاہ نقاب ڈالتی اور اس کی چال ایسی تھی کہ سینہ تنا ہوا ہوتا، کمر ڈولتی اور بازو تلوار کی طرح لہراتے …حشمت جب اگلے ہفتے بھی لوٹ کر نہیں آیا تو سکینہ تلوار لہراتی مولانا کے حضور پہنچی۔ ان کی سانس جیسے رک گئی …لنا لٰہ…غسل خانے کا منظر نگاہوں میں گھوم گیا…مولانا نے اتھل پتھل سانسوں کے درمیان فال کھولا۔

    ’’خاطر جمع رکھ …مسافر تین دنوں بعد گھر لوٹے …‘‘

    حشمت واقعی تین دنوں بعد گھر آیا اور پیسے بھی لایا۔ سکینہ گدگد ہو اٹھی۔ پلاؤ اور مرغ چلا۔ مولانا نے بھی مرغ کی ٹانگ توڑی۔ اس دن سکینہ پہلی بار حشمت کی موجودگی میں ان سے مخاطب ہوئی۔

    ’’مولانا صاحب ! ایک ایسا تعویذ دیتے کہ یہ گھر پر کام دھندہ کرتے …‘‘

    ’’اب مر د تو روٹی روزی کے لئے گھر سے باہر جائے گا ہی…!‘‘مولانا مسکرائے۔

    ’’لیکن یہ بغیر کچھ کہے گھر سے باہر چلے جاتے ہیں اور مہینوں لگا دیتے ہیں اور خبر نہیں کرتے …!سکینہ نے پیار بھری شکایت کی

    مولانا نے الجامع کا نقش دیا۔ اس میں تین حروف نورانی تھے اور تین ظلمانی۔

    معلوم ہونا چاہئے کہ آنکھ بھی شرمگاہ کی طرح زنا کرتی ہے۔ مولانا غسل خانے کا منظر بھولتے نہیں تھے اور سکینہ تلوار لہراتی ہوئی نگاہوں کے سامنے سے گذرتی تھی۔ لیکن خدا شکر خورے کو شکر دیتا ہے۔ حشمت پھر گھر سے غائب ہو گیا اور سکینہ فال نکلوانے پہنچی۔ اس بار مسافر کسی دام میں گرفتار تھا۔

    ’’کہنا مشکل ہے کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے …‘‘

    سکینہ کے چہرے پر عدم تحفظ کا رنگ نمایاں ہوا۔ مولانا نے موضوع بدلا۔

    ’’اس دن تم نے کھانا بہت مزیدار بنایا تھا …!‘‘

    ’’مولانا صاحب ! پیسے میں برکت نہیں ہے …‘‘

    ’’نیت صاف رکھو۔ برکت بھی ہو گی۔ ‘‘

    ’’یہ کماتے بہت ہیں لیکن سب اڑا دیتے ہیں۔ ‘‘

    ’’کنٹرول رکھو۔ ‘‘

    ’’کیسے کنٹرول کروں …؟جوئے کی ایسی لت ہے کہ توبہ۔ سارا پیسہ اسی میں چلا جاتا ہے۔ پیسہ نہیں ملتا تو گھر کا سامان بیچنے لگتے ہیں۔ ‘‘

    ’’یہ بری بات ہے۔ ‘‘مولانا نے ریش پر ہاتھ پھیرا۔

    ’’آپ کوئی ایسا تعویذ دیتے کہ جوئے کی لت چھوٹ جاتی…‘‘

    ’’انشاء اللہ…!‘‘

    مولانا نے اس وقت تعویذ تو نہیں دیا، لیکن قرض حسنیٰ کا بوجھ بڑھایا پچاس کا نوٹ آگے بڑھاتے ہوئے بولے۔

    ’’اس کو رکھ لو…!‘‘

    سکینہ زیر لب مسکرائی…

    عورت یوں ہی نہیں مسکراتی۔ اس نے قرض حسنیٰ قبول کیا اور بے حد آہستہ سے سرگوشیوں کے انداز میں بولی۔

    ’’بعد ظہر گھر پر آئیے گا…!‘‘

    مولانا نے سہرن سی محسوس کی …کس طرح پھسپھسا کر بولی…؟بعد ظہر…؟ گھر پر آئیے گا…گھر پر…؟؟

    جہاں حسن و جمال ہو گا وہاں شوق وصال ہو گا…

    مولانا بعد ظہر سکینہ کے گھر پہنچے۔ گھر میں سناٹا تھا۔ سکینہ بال سنواررہی تھی …اور تنہائی میں عورت کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ مولانا کو دیکھ کر شیطان مسکرایا…

    ’’سب لوگ کہاں گئے …؟‘‘ مولانا نے پوچھا۔

    ’’میلاد النبی میں گئے ہیں۔ ‘‘

    ’’کہاں ؟‘‘

    ’’وکیل صاحب کے گھر…!‘‘

    شیطان نے مولانا کو اندر پلنگ پر بٹھایا۔

    ’’ابھی دو گھنٹے تک کوئی نہیں آئے گا…!‘‘سکینہ مسکرائی۔

    ’’اسی لئے بعد ظہر بلایا…؟‘‘ مولانا بھی مسکرائے۔

    ’’میرے کمرے میں کوئی نہیں آتا ہے …‘‘

    لیکن مولانا کے چہرے پر ایک طرح کی گھبراہٹ تھی۔

    ’’اگر کوئی آیا بھی تو تو آپ کو چور دروازے سے نکال دوں گی…‘‘

    ’’چور دروازہ…؟‘‘ مولانا چونکے۔

    شیطان نے چور دروازہ دکھایا۔ کمرے سے ملحق ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی جس کا دروازہ باہر گلی میں کھلتا تھا جو سڑک سے ملی ہوئی تھی۔ گلی میں کسی کا آنا جانا نہیں تھا یہ دوسری طرف سے بند تھی۔

    جاننا چاہئے کہ جماع کے شوق کو انسان کے دلوں پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں بہشت کی لذت کا نمونہ ہے۔ ابھی اصل گھڑی نہیں آئی تھی جس کا شیطان کو انتظار تھا…

    سکینہ نے مرغی کا سالن بنایا تھا۔ پراٹھے بھی تلے۔ اس بار کھانا زیادہ لذیذ تھا۔ مولانا نے انگلیاں تک چاٹیں سکینہ برتن اٹھانے کے لئے جھکی…! اور نگاہوں میں منظر لہرایا… بید مجنوں کی طرح ہلتی کمر، تھرکتے کولھے شیطان کو اسی گھڑی کا انتظار تھا…وہ انسان کے دلوں میں شہوت کے بیج بوتا ہے …اس نے بیج بویا اور مولانا نے سکینہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

    ’’ذرا بیٹھو تو…! بات تو کرو…!‘‘

    ’’برتن رکھ کر آتی ہوں …!‘‘ سکینہ بہت ادا سے بولی۔

    صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ سکینہ برتن رکھ کر آئی تو ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔ سکینہ ہنستی ہوئی گود میں دوہری ہو گئی…شیطان اڑن چھو ہو گیا۔ وہ اپنا کام کر چکا تھا…

    مولانا نے قربت کی …گھر آئے اور غسل فرمایا…!

    مولانا نادم نہیں تھے کہ سکینہ سے ان کا رشتہ…

    حشمت کا زیادہ وقت جوئے خانے میں گذرتا تھا یا باہر تسکری کے دھندے میں۔ مولانا دبی زبان میں اس کی وکالت کرتے اور گھر والوں کو شریعت کا خوف دلاتے سکینہ اب فال نہیں نکلواتی تھی وہ قدرے سکون سے تھی اور مولانا کی چاندی تھی۔ ہر دن عید اور ہر رات شب برات تھی۔

    جاننا چاہئے کہ شہوت کی آفتوں میں سے ایک آفت ہے عشق، جس کے باعث بہت سے گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ آدمی اگر ابتدا میں احتیاط نہ کرے تو سمجھو ہاتھ سے گیا…!

    اور مولانا نے دوسری بار سہرن محسوس کی۔ وہ کھانا کھا کر اٹھے تھے کہ سکینہ نے ہاتھ پکڑا اور آنکھوں میں جھانکتی ہوئی ٹھنکی۔

    ’’مولانا صاحب !‘‘

    مولانا دم بخود تھے …یا اللہ! یہ ادائے قاتلانہ…؟اس طرح تو پہلے کبھی مخاطب نہیں کیا۔

    سکینہ اپنی ناک کی طرف اشارہ کرتی ہوئی پہلے مسکرائی پھر اک ذرا کمر لچکاتی ادائے خاص سے بولی۔

    ’’دو دو آدمی کے رہتے ہوئے میری ناک میں نتھ نہیں ہے …!‘

    ’’دو دو آدمی…‘‘مولانا ریشہ خطمی ہو گئے ایک آدمی میں ہوں ایک حشمت…؟ کہاں ملے گی نتھ…؟‘‘

    زندگی میں کبھی نتھ نہیں خریدی تھی وہ بھی سونے کی زو جہ نتھ نہیں پہنتی تھی، وہ بلاق پہنتی تھی، ناک کے بیچوں بیچ چاندی کی بلاق…وہ خانقاہی تھی۔ بستر پر آتی تو دعائے مسنون پڑھتی اور مو لانا نے محسوس کیا تھا کہ سکینہ میں جست ہے اور زو جہ ٹھس ہے۔

    مولانا سونا پٹّی گئے۔ ڈیڑھ سو میں نتھ خریدی …نتھ کو ماچس کی ڈبیہ میں رکھا اور سکینہ کے گھر آئے …سب لوگ آنگن میں بیٹھے تھے۔ رحمت علی اور بیگم رحمت بھی اور پہلا آدمی بھی …پہلے آدمی نے دوسرے آدمی کے لئے کرسی لائی۔ سکینہ چاپا نل سے پانی بھر رہی تھی۔

    دوسرے آدمی نے سب کی آنکھیں بچا کر ماچس کی ڈبیہ دکھائی اور نتھ کا اشارہ کیا …سکینہ زیر لب مسکرائی۔ چولہا جلانے کے بہانے ماچس مانگنے آئی۔ مولانا نے ڈبیہ بڑھائی۔ سکینہ ماچس لے کر کچن میں جانے کی بجائے سیدھاکمرے میں گئی…

    جاننا چاہئے کہ عورتیں بڑے فتنے کی موجب ہوتی ہیں …ایک نیا فتنہ پیدا ہوا…

    رحمت علی کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ حشمت بھی حاجت میں بند ہوا۔ سکینہ زخمی ناگن کی طرح آنگن میں بیٹھی پھنکارتی رہی۔ مولانا بھی سہم گئے

    سب جال شیطان نے بچھائے۔ ہوا یہ کہ حشمت پھکّڑ ہو رہا تھا۔ جوا کھیلنے کے پیسے نہیں تھے۔ نظر نتھ پر پڑ گئی۔ سکینہ کے پیچھے پڑ گیا کہ نتھ دو…سکینہ بھلا کیوں دیتی۔ دونوں میں تو تو میں میں ہوئی۔

    ’’کہاں سے لائی نتھ…؟پہلے تو نہیں دیکھا…؟‘‘

    ’’روز کے خرچ سے بچائے۔ اپنے شوق کی چیز خریدی…!‘‘

    ’’پیسے تو میرے ہی ہیں۔ ۔ ۔ ‘‘

    ’’جی نہیں۔ ‘‘

    ’’مجھے دو۔ ۔ ۔ ‘‘

    ’’نہیں …!‘‘

    ’’بعد میں تمہیں بنا دوں گا۔ ‘‘

    ’’گھر کا سامان بییچئے۔ ‘‘

    حشمت کو غصّہ آ گیا۔

    ’’کیوں نہیں دوگی…‘‘

    ’’میں اپنی چیز کیوں دوں …؟‘‘

    ’’باپ کے گھر سے لائی ہے کیا؟‘‘

    ’’دیکھئے گالی مت دیجئے۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘ سکینہ کو بھی غصّہ آ گیا۔

    ’’بھونسڑی والی…!‘‘ حشمت نے ایک جھپٹا مارا اور نتھ کھینچ لیا۔ سکینہ درد سے چیخی۔ اس کی ناک لہو لہان ہو گئی۔ رحمت نتھ لے کر چمپت ہو گیا۔ سکینہ فرش پر گر گئی اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگی…‘‘ میں لٹ گئی، برباد ہو گئی…ہائے ہائے …!‘‘ رحمت علی دوڑ کر آئے۔ ان کو دیکھ کر سکینہ اور زور سے چیخنے لگی…لے گیا حرامی…!کیڑے پڑیں …!‘‘

    بیٹے کے لئے ایسے الفاظ سن کر رحمت علی کو بُرا لگا۔

    ’’کیوں پاگل کی طرح چیخ رہی ہے …؟‘‘

    سکینہ اور زور سے چیخی۔ ’’ہاں میں پاگل ہوں۔ باپ بیٹا سب مل کر مجھے مارو…مارو…اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سینہ پیٹنے لگی۔ رحمت علی گھبرا گئے۔ بیگم رحمت اوسارے پر کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھیں۔ سکینہ کی نظر پڑی تو ان کی طرف چپل پھینک کر چلّائی۔ ’’جہنمی بڑھیا!

    تیرا کلیجہ تو ٹھنڈا ہوا …؟‘‘بیگم رحمت جلدی سے کمرے میں گھس گئیں۔ سکینہ کچھ دیر بین کرتی رہی پھر تھانے پہنچ کر حشمت علی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دیا۔

    ’’گانجے کی تسکری کرتا ہے۔ میرے منع کرنے پر مارا پیٹا اور زیور لے کر بھاگ گیا۔ ‘‘

    پولیس پہنچ گئی۔ کمرے سے گانجے کا تھیلا بر آمد ہوا۔ حشمت علی تو فرار تھا۔ رحمت علی موجود تھے۔ پولیس نے گانجا ضبط کر لیا اور رحمت علی کو حوالات میں بند کر دیا۔ ایک گھنٹے کے بعد حشمت علی بھی گرفتار ہوا مولانا کو خبر ملی تو دوڑ کر آئے۔ بیگم رحمت علی کمرے میں بیٹھی رو رہی تھیں۔ ان کے ارد گرد محلّے کی عورتیں جمع تھیں۔ سکینہ آنگن میں بیٹھی سانپ کی طرح پھنکار رہی تھی

    مولانا تھانے گئے …رحمت علی سلاخوں کے پیچھے سر نگوں بیٹھے تھے۔ مولانا کو دیکھ کر پھوٹ پڑے۔

    ’’خدا کو یہ دن بھی دکھانا تھا…‘‘

    مولانا نے دلاسہ دیا۔ ’’سب ٹھیک ہو جائے گا…‘‘

    لیکن ٹھیک ہونا دشوار معلوم ہوا …تھانے دار نے پانچ ہزار کی رقم کا مطالبہ کیا۔

    ’’یہ تو بہت ہے۔ ‘‘ مولانا گھبرائے۔

    ’’جرم بھی تو بڑا ہے۔ ‘‘

    ’’رحمت صاحب کا کیا قصور ہے۔ ان کو تو چھوڑ دیتے …؟‘‘

    ’’انہیں کا تو قصور ہے۔ ‘‘ تھانے دار مسکرایا۔

    ’’کیسے …؟

    ’’ آپ تو انہیں کے لئے آئے ہیں۔ ‘‘

    ’’جی ہاں۔ ‘‘

    ’’ان کے لڑکے کے لئے تو آئے ہیں نہیں …؟‘‘

    ’’جی نہیں۔ ‘‘

    ’’پھر تو قیمت لگے گی…‘‘

    ’’کچھ رعایت کرتے …‘‘ مولانا گڑ گڑ ائے۔

    ’’بزرگ آدمی حاجت میں بند ہیں وہ بھی تسکری کے جرم میں کیسی بات ہے …؟‘‘

    ’’غضب ہو جائے گا…‘‘

    ’’پھر تو قیمت…؟‘‘

    مولانا بے نیل و مرام واپس آئے۔ اس رات سکینہ نے مولانا کو چور دروازے سے اندر بلایا۔ گھر میں سنّاٹا تھا۔ بیگم رحمت پڑوس میں سونے چلی گئی تھیں۔ سکینہ نے کمرے میں اندھیرا کر رکھا تھا۔ اوسارے پر روشنی تھی۔ دونوں بچے ایک طرف پلنگ پر سو رہے تھے۔

    ’’کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی …؟‘‘ مولانا نے شکایتی لہجے میں پوچھا۔

    ’’نتھ لے گیا۔ ‘‘سکینہ بلکتی ہوئی بولی۔

    ’’تو کیا ہوا میں دوسری لا دیتا۔ ‘‘

    ’’آپ بھی مجھے کوسئے …!‘‘ سکینہ بلک پڑی۔

    ’’ارے نہیں …! مولانا نے سکینہ کو لپٹا لیا… سکینہ سینے سے لگ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔ مولانا نے محسوس کیا کہ سکینہ کافی تناؤ میں ہے۔

    ’’ناک سے کھینچ کر لے گیا…‘‘ سکینہ سسکتی ہوئی بولی۔

    ’’ظالم ہے کمبخت…! مولانا نے ناک سہلائی پھر بوسہ لیتے ہوئے بولے۔

    ’’میں تمہیں دوسری لادوں گا۔ ‘‘

    ’’وہ بات تو پیدا نہیں ہو گی۔ ‘‘

    ’’کیوں نہیں …؟‘‘ جب میں ہی لا کر دوں گا تو ایک ہی بات ہے۔ ‘‘

    میری پہلی فرمائش تھی میرا پہلا تحفہ… میں اسے قبر تک ساتھ لے جاتی…!‘‘

    ’’اب بھول بھی جاؤ۔ ‘‘

    ’’کیسے بھول جاؤں …؟‘‘سکینہ سسکتی ہوئی مولانا کی بانہوں میں تھوڑا اور سمٹ آئی۔

    ’’زیادہ غم نہیں کرنا چاہئے۔ ‘‘ مولانا سکینہ کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ سکینہ کی خم دار پشت …مولانا کی انگلیاں زینہ زینہ نیچے اترنے لگیں …اور سکینہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں

    جاننا چاہئے کہ شہوت کی آفت عظیم ہے …!!

    بیگم رحمت کے پاس سونے کی چوڑیاں تھیں بیچ کر رحمت علی کو چھڑایا، لیکن حشمت دس دنوں بعد چھوٹ کر آیا۔

    سکینہ کو اب کوئی کچھ نہیں کہتا تھا، حشمت کا وہی رویہ تھا۔ دن بھر جوئے خانے میں پڑا رہتا اور کبھی اچانک گھر سے لا پتہ ہو جاتا۔ مولانا کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑھی میں تھا۔ وہ اب سامنے کے دروازے سے آتے تھے۔

    لیکن ایک دن دروازہ تنگ محسوس ہوا۔ وہ جنازے کی نماز پڑھا کر لوٹے تھے اور قیلولہ فرما رہے تھے۔ سکینہ کا سر ان کے سینے پر تھا۔ مولانا پشت پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ سکینہ کاکل میں انگلیاں پھیر رہی تھی کہ اچانک اس کو ڈاکو کی کہانی یاد آ گئی۔

    ایک ڈاکو تھا۔ وہ رات میں لوٹتا تھا اور دن میں سادھو کا بھیس بنا کر رہتا تھا۔ ایک بار ڈاکو سے چھپتا چھپاتا ایک شخص روپیوں کی پوٹلی لے کر اس کے پاس آیا۔

    ’’مہاراج میرے پیچھے ڈاکو لگے ہیں۔ آپ یہ رکھ لیں۔ خطرہ ٹل جانے کے بعد میں لے جاؤں گا۔ ‘‘

    سادھو نے پوٹلی رکھ لی۔ کچھ دنوں بعد وہ شخص اپنی امانت واپس لینے آیا۔ سادھو نے پوٹلی واپس کر دی اور ساتھ میں ایک آدمی بھی کر دیا کہ گھر تک بہ حفاظت چھوڑ دے …ڈاکو کے ساتھیوں نے حیرت ظاہر کی۔

    ’’سردار!آپ نے پیسے کیوں واپس کر دیئے …؟‘‘

    اس کو سادھوؤں پر عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کی حفاظت ضروری ہے ورنہ مذہب خطرے میں پڑ جائے گا…‘‘

    ’’عقیدہ…؟مذہب خطرے میں …؟‘‘ سکینہ اچانک بولی۔

    ’’مولانا صاحب…!‘‘

    مولانا چونکے …اس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔

    ’’کیا ہے …؟‘‘

    ’’آپ امامت سے استعفا دے دیجئے …!‘‘

    ’’کیوں …؟‘‘

    ’’اچھا نہیں لگتا ہے …!‘‘

    ’’کیا اچھا نہیں لگتا…؟‘‘

    ’’بحیثیت امام یہ زیب نہیں دیتا۔ ‘‘

    ’’کیوں …؟‘‘

    ’’آپ امام ہیں۔ قوم آپ کے پیچھے نماز پڑھتی ہے اور آپ کی یہ حرکت…؟‘‘

    ’’اور تمہاری حرکت کیسی ہے …؟‘‘ مولانا کو غصہ آ گیا۔

    ’’میں تو ہوں بری۔ لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں۔ لیکن آپ تو امام ہیں۔ ‘‘

    ’’امام ہوں تو کیا ہوا …؟‘‘

    ’’آپ کو لوگ اچھا سمجھتے ہیں۔ اس اچھائی کی حفاظت ضروری ہے …!‘‘

    ’’امام ہوں اس لئے محفوظ ہوں عام آدمی ہو گیا تو جینا دوبھر ہو جائے گا …‘‘

    ’’امام ایسی حرکت کرے گا تو تو مذہب خطرے میں پڑ جائے گا۔ ‘‘

    ’’چھورو ان باتوں کو …‘‘ مولانا نے بات بدلی اور سکینہ کو بانہوں میں سمیٹا۔ ۔ ۔

    ’’ اس لئے کہتی ہوں کہ امامت سے استعفیٰ دیجئے …‘‘ سکینہ مولانا کے بازوؤں میں کسمساتی ہوئی بولی

    ’’اب چھوڑو بھی…!‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY