تالے

MORE BYصوفیہ کاشف

    وہ انیس بیس سال کی کچی کلی تھی اور میں عمر کی دہاییاں عبور کرتا چالیسویں کے آخری پیٹے میں جا پہنچا تھا مگر جوانی دل کی ہر رگ میں ڈیرہ جمان تھی۔ بچے جوان تھے اور بیوی بوڑھی۔ بالوں کے رنگ، مہنگے کپڑوں کی کریز، بےسلوٹ جوتوں کی چمک سے اور لمبی بڑی کالی کار کی امارت نے عمر کا حساب چھپا دیا تھا۔ ساٹھ ستر جوانوں کے سامنے سٹیج پر کھڑا لمبے لمبے لیکچر دیتا، طلبا اور طالبات کو گہری نظروں سے ٹٹولتا میں خود کو مہاراجہ سمجھتا۔ میں جیسے اپنی زات میں وجاہت کا خدا تھا، شرافت کا امین تھا اور خوابوں کی دنیا کا سب سے زیادہ چاہا جانے والا دیوتا تھا۔ یہ کل کے لونڈے جن کو داڑھی ڈھنگ سے نہ تراشنی آے، پینٹ کی کریز، شرٹ کی جدید ترین تراش خراش سے ناواقف، جیبوں میں چند سو یا ہزار کے نوٹ ڈالے کیمپس میں بھنورے بنے پھرتے مگر میری قابلیت اور ہنر، میری مہارتیں اورتجربہ، میری وزنی جیب اور سخاوت انکی جوانی کے چمکتے سکے کو پچھاڑ دیتیں۔ میں اپنے شعبہ میں دیومالائی ذات اور انداز کا ایک واحد کرشمہ تھا۔

    اور وہ پری سی، پھولوں کی شبنم سے دھلی، تتلی کے پروں سے نازک، سہانے خواب جیسی مدھوش کرنے والی لڑکی، جو میرے لیکچر بہت دھیان سے سنتی، کبھی لکھتی، کبھی رکتی کبھی پینسل اپنے گال پر رکھتی، نقطے سے حرف اور حروف سے جملے بناتی میری طرف تکتی، نجانے میرے درس سے کچھ اخذ کرتی یا میرے نقوش میں شہزادہ گلفام ڈھونڈتی۔ کلاس جیسے ایک ویرانہ ہو جاتی جس میں کھلی وہ واحد سرخ کلی تھی۔ باہر جیسے ایک دھندلکا تھا۔ پوری کائنات میں بس ایک وہ اور ایک میں رہ جاتا۔ اس کی پرسکون ٹھہری پلکوں پہ بےنیازی تھی اور میرے پاس اس بےنیازی کے سب مرہم تھے۔ اس کے شہد سے گالوں اور سمندر سی آنکھوں میں دوشیزگی تھی اور میرے پاس فتوحات کے سب ہنر تھے۔ بس کچھ ہی دنوں کی بات تھی۔ اس کی کتابیں اور میرے لیکچر سب اسی کلاس میں دھرے تھے جب میں نیی کڑکتی قمیض پہنے، مسحورکن خوشبو لگائے، بالوں پر نیا رنگ جمائے، جیب میں اس کی ملکیت کا دو ورقی کاغذ ڈالے اس کا ہاتھ تھامے دھنک رنگ دنیاوں کی سیر کو نکلا۔

    یہ دو تہی ورق اپنے اوپر کچھ شہادتیں لیے میرے حقوق کی دستاویز تھا جس پر سب شہادتیں میرے ہی رفقا کی تھیں۔ بیوی کو خبر دی کہ دفتری کام ہے، جانا اشد ضروری ہے۔ جلد ہی لوٹ آؤں گا۔ گاڑی میں ’’میرے رشک قمر‘‘ چلاے دھند بھری زمینوں سے میں سبزہ بھری وادیوں کی طرف اسے لیے نکلا۔ وہ کانچ کی گڑیا تھی جو ہاتھ لگنے سے ٹوٹ جاتی۔ چمکتے سورج سے دور رہنے والی، محفوط غاروں کی پیداور جو بھڑکیلے سورج کی حدتیں پہچان نہ پاتی تھی۔ میرے الفاظ میں کالے جادو کے سب کرشمے تھے اور اس کے کانوں میں توجہ تھی۔ میری تاثرات میں ہنر تھا اور اس کی نور سی نظروں میں معصوم قبولیت۔ وعدوں اور وعید کے سروں میں لپٹا ایک لمبا سفر تھا اور میری مٹھی میں بند اس کے نرم ہاتھ کا لمس تھا۔ میرے سنگ بیٹھی وہ ذرا ذرا سا ڈرتی، خوفزدہ ہوتی، کبھی ہونٹ چباتی، کبھی پلکوں کو تھپکتی۔ اپنے رشتے اور بندھن توڑ کر وہ میرے ساتھ نکلی تھی تو اب ہر منزل پہ ڈرتی تھی۔ میں اسکا دل بڑھانے کی خاطر کبھی کوئ شگوفہ چھوڑتا، کسی بات پر چھیڑتا تو وہ نمی زدہ سی آنکھوں میں اداس سا مسکراتی اور مسکراہٹ کے کناروں پر جیسے کوئی ان کہا دکھ جھانکنے لگتا۔ کبھی کبھی دھند اسقدر ثقیل ہو نے لگتی کہ راستہ اس کی سفیدی میں گم ہونے لگتا اور میرے ہاتھ کانپنے لگتے۔ مگر وہ نجانے کہاں تھی۔ میرے ساتھ ہوکر بھی جیسے کہیں کسی سوچ میں گم تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس کے موبایل کی مدہم سی بیپ بجتی، وہ کانوں سے لگاتی اور لہجہ کو سنبھال کر کہتی! ’’جی! ہاسٹل پہنچ گئی ہوں‘‘۔ پھر ہونٹ چبانے لگتی، خلاوں سے باتیں کرنے لگتی۔ اس کے چہرے پر جیسے گھٹائیں جھومنے لگتیں، پلکوں پہ برف پڑنے لگتی۔۔۔ یوں لگتا جیسے کچھ پچھتاوے اس کے وجود سے لپٹے ہیں، کوئی احساس جرم کچھ خوف اس کا ہاتھ دبوچے بیٹھا ہے۔ میرے چہرے پر اسے پا لینے کی مسرت تھی۔ آنے والے رنگین وقت کی سرخ حرارت تھی۔ میرے پاس برف پگھلانے کی طاقت تھی اور گھٹاوں کو پھونک مار کر اڑانے کا ہنر آتا تھا۔ ایک الاو میری طرف جلتا تھا اور ایک بھاپ اڑاتی برف اس کے چہرے پر گرتی تھی۔ لمبے طویل اور مشکل راستوں پہ میں اس کا ہاتھ تھامے رنگیں کہکشاؤں کی طرف لیے جاتا تھا اس قیامت خیز احساس کے ساتھ کہ یہ نور کا اجالا، صبح کی تازگی، پھول کی شبنم اور خوابنایک دوشیزہ اب میری تھی۔

    چند روز میں ایک واپسی کا سفر درپیش تھا۔ اس کی آنکھوں میں جادو بولتا، چہرے پر لگاو اترتا اور وہ خود کو میرے قریب قریب رکھتی۔ میری بازو تھامے کاندھے پہ سر دھرتی۔ اس کے وجود کے سب تالے کھل چکے تھے اور وہ اپنی وسعتوں سمیت میری ہو چکی تھی۔ میں کھڑکی سے باہر تکتا، ٹریفک کو کوستا، موسیقی کو دھیما رکھتا، گاڑیوں کے ہجوم میں سے جلد نکلنے کی سعی کرتا۔ چمکتے سورج مانند سے تھے، تھکا ہوا ڈھل چکا دن اب سکون کا متلاشی تھا۔ ہر طرف کالے اور گورے کا عکس تھا۔ پھولوں کا رنگ دکھتا نہ کلیوں کی خوشبو دل کھینچتی۔ جنت بریں سے ہو آیا تھا اب زمیں کی طرف لوٹنے کی جلدی تھی۔ گھر میں جواں بیٹی کی شادی اور بیٹے کے ایڈمیشن کے سو بکھیڑے تھے اور میری مجھ سے کچھ سال بوڑھی بیوی جوڑوں کی ماری میری راہ تکتی تھی۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی سرخ چہرہ لیے کبھی وہ میری بازو سے لپٹتی کبھی ہاتھ پکڑتی۔ اس کی نظروں سے میرے لیے پیار امنڈتا۔ وہ ایک کچی عمر کا پھول مہارتوں اور ہنر سے نابلد تھی۔ برف پگھلانا ہر کسی کے بس کا روگ کہاں ہوتا ہے۔ صحرا کو سمندر دکھانا، کھنڈرات پر محل بنانا اور سمندر پہ پل تعمیر کر دینا کچی عمر کے لوگوں کے کام کہاں۔ اس کے گالوں پر گیے دنوں کی سرخی تھی اور میری پلکوں پہ آتی رتوں کی برف جمی تھی۔ اس کو ہاسٹل کے سامنے اتار کر مجھے اپنی دنیا کی طرف لوٹنے کی جلدی تھی۔

    دنیا بہت ظالم ہے جینے کہاں دیتی ہے۔ فیصلے، عزتیں اور خاندان بیچ میں ٹپک ہی پڑتے ہیں کچھ جڑے تعلق توڑنے کو، کچھ ہوی غلطیاں مٹانے کو۔ کچھ لوگ میرے بھی پیچھے ہوئے تھے۔ میرے ہاتھوں میں ایک قلم تھا، بیٹھک میں وکیل کاغذات لیے اور کچھ لوگ چنگاری بھری آنکھوں والے بیٹھے تھے۔ مجھے فون پر وہ بار بار کہتی۔ ’’نہیں! پلیز نہیں!‘‘۔ میں اسے ایک دلاسہ دیتا اور دوسرا سامنے بیٹھے لوگوں کو۔ ٹو ٹے بیکار تالے فون کی دوسری طرف سسکتے تھے اور انکے نالے میری سماعتوں سے ادھر ہی اثر کھو جاتے تھے۔ شہر کے ایک بڑے شادی ہال میں میری بیٹی کی شادی تھی۔ مجھے نکلنے کی جلدی تھی۔ کاغذ پر اپنی نشانی ثبت کر کے میں نے کام نبیڑ دیا تھا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے