وصال

MORE BYصوفیہ کاشف

    پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرپور ایک باغ تھا جس میں ہر طرف روپہلے، اودے، کاسنی، قرمزی، نارنگی جامنی اور گلابی پھول اوپر نیچے، دائیں بائیں بھرے ہوے تھے۔ روش کے گرد کھڑی مہرابیں، کناروں پر رکھے سینکڑوں گملے اور پرندوں کے مجسمے، طنابیں اور چھپریاں سب کی سب پھولوں سے یوں شرابور تھیں کہ جیسے اس بوندا باندی سے کچھ پہلے گل و گلزار کا موسم طوفانی بارشیں برساتا گزرا ہے اور اب ہر اوڑھ ہر نکڑ پر، ہر گملے اور ہر چبوترے پر ڈھیروں ڈھیر پھول دائیں بائیں ہوا کے سنگ بارش کے بعد والے قطروں کی مانند ٹپکتے ہیں۔ اسی باغ کی خوشبوؤں اور کلیوں سے لدی ایک چھپری میں میں اور وہ ایک ساتھ داخل ہوے تھے ایسے کہ ٹکراتے ٹکراتے سنبھل گئے تھے۔ بیلوں کی لچکیلی ٹہنیاں نیچے کو گرتیں اور پتوں سے جھڑتی بونداباندی قطرہ قطرہ بینچ کو گیلا کرتی تھیں۔ پاوں تلے ہری گھاس کا نرم ملائم غالیچہ بچھا تھا۔ پہلی نگاہ میں ہی اس کا چہرہ مجھے آشنا سا لگا تھا یوں جیسے اسی چہرے کو کسی پچھلے جنم میں بہت تکا ہو یا جیسے کوئی سات پشتوں پیچھے میرا اس سے کوئی گہرا ربط رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں بھی گمنام سی آشنائی کی رمق سی ابھری اور ابھر کر پھر سے آبس میں کھو گئی تھی۔

    ’’آپ یہاں بیٹھنا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔ وہ خوبصورت چوڑی پیشانی اور کتابی چہرے والا مؤدبانہ مسکراہٹ سے گویا ہوا تھا۔

    ’’جی ارادہ تھا مگر کوئی بات نہیں!آپ چلیئے میں پھر آ جاؤں گا‘‘۔

    ’’نہیں! اس کی ضرورت نہیں! مجھے آپ کے ساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں!” میں نے اسے فیاضانہ پیشکش کی تھی۔ اور ہم دونوں اس خوش رنگ پھولوں سے لدے ہٹ میں داخل ہوے تھے۔ ہٹ کے وسط میں کھڑے ہوکر اس نے آنکھیں بند کیں اور اندر کی خنک ہوا کا گہرا سانس بھرا جیسے نجانے کب سے ہوا کے ان چند سانسوں کی آس میں ترس گیا ہو اور میں نے بینچ کی گیلی سطح پر ہاتھ پھیرا تھا جیسے صدیوں سے اس لمس کے لیے میں نے تپسیا کاٹی ہو۔

    ’’آپ بھی کسی کو ڈھونڈنے آئی ہیں؟‘‘

    ’’ہوں۔۔۔‘‘ اس کے الفاظ نے مجھے چونکا دیا تھا۔ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ ”ہاں بہت عرصہ پہلے یہاں پر میرا کچھ کھو گیا تھا!‘‘

    میری نگاہیں دور کی کیاریوں میں سجے دھنک رنگ گلابوں پر رکتی تھیں اور پھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد لپک کر اس کی نگاہوں کی طرف لپکتی تھیں جیسے ان کا مرکز گلابوں میں نہیں اس کی آنکھوں کی گہرائیوں میں ہو۔

    ’’تو پھر ملا کیا وہ؟‘‘

    ’’سب تو نہیں بس ذرا سا! اور آپ؟‘‘ پھولوں سے خالی نظریں پھر اس کی نگاہوں کی اوڑھ لپکیں۔

    ’’ہاں میں بھی! کسی کو ڈھونڈتا یہاں تک آ پہنچا ہوں!‘‘

    ’’کیسے کھو گیا تھا؟”میں نے اس کے لہجے کی گہرائی میں اس کی دبی خموش آہوں کو سن لیا تھا!‘‘

    ’’بہت کمزور اور ناداں تھا میں زندگی کو محض مذاق سمجھتا تھا مذاق ہی مذاق میں اپنے آپ کو بھی کھو بیٹھا اس کے ساتھ! ”انجانے میں میں نے بیل کا ایک پتا توڑا اور مروڑا تھا۔

    ’’آپ؟‘‘

    اس کی سمت دیکھا پھر۔

    ’’میں زندگی کے لئے اسقدر سنجیدہ تھی جتنی وہ میرے لئے نہ تھی۔‘‘ ایک گونگی سِسکی میرے لبوں سے بھی پھسلی تھی۔ ”زندگی مجھ سے مذاق کرتی رہی اور میں اس کے مذاق کو محبت سمجھ کر گلے سے لگاتی رہی!‘‘

    ’’پھر؟‘‘

    “پھر میری محبت اس کے مذاق سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو گئی!”

    “اس کا کیا ہوا؟”میں متجسس تھا۔

    “وہ مذاق تھا قہقہوں کے سنگ بکھر گیا!”

    مدہم بارش کی مدھرِرِم جھم میں ہم وہاں بیٹھے ایک دوجے کے لیے دلوں میں ترس اور ہمدردی لئے اور دل میں اٹھتی ٹیسیں دبائے ایک دوجے کو دیکھتے رہے۔ میری آنکھوں سے ندیاں بپھرنے لگیں اور اس کے ضبط کے کنارے چھوٹنے لگے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

    “چلوتمھیں ایک جگہ دکھاتا ہوں’’ میرا ہاتھ پکڑے وہ مجھے چھپری سے باہر لے آیا اور ہم بوندا باندی سے بھیگتے گیلی لال اینٹوں کی راہداری پہ چلنے لگے۔ سڑک کنارے چند قدم پر کوئی رنگین ٹھیلا بھٹے کا، کوی ڈرائی فروٹ کا تو کوئی کپ کیک کا سجا تھا۔ روش کے آخر میں ایک پھیلے کھلے چوڑے اینٹوں سے بنے تختے پر سارسوں کے مجسموں کے ساتھ قدآدم سے بھی بڑے لال رنگ کی دھات سے بنے اور سرخ پھولوں سے سجے کچھ دل بنے تھے۔ اس نے مجھے ایک دل کے سامنے لے جاکر کھڑا کر دیا۔

    “یہاں کھڑی ہو کر اس نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا تھا!” اس دل کی طرف منہ کئے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں پر سر ٹکاکر جیسے خود کو سنبھالنے لگا۔

    “اسی کے سامنے مجھے اس نے ٹھکرایا تھا!” میری پلکوں سے کنارے چھلک چکے تھے اور میری گردن اور قمیض کا کالر بھیگنے لگا تھا۔

    “اس نے کہا وہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔”

    “اس نے کہا تھا اسے پیار پر بھروسہ ہی نہیں!”

    ‘’مجھے زندگی محض مذاق لگتی تھی” وہ اپنی ہی رو میں گم تھا میں اپنی سوچ میں غلطاں!

    “مجھے اس کے بغیر زندگی عذاب لگتی تھی!”۔

    “اس نے کہا، مجھے ہمیشہ کےلئے اپنے پاس رکھ لوکسی پرانی قمیض کی جیب میں!”

    “اس نے کہا، میری جیبوں میں سوراخ ہیںسب کچھ گرا بیٹھتی ہیں!”

    وہ بند ہتھیلیوں پر سر جھکائے جھکتا چلا گیا جیسے ایک توبہ کا سجدہ کرنا چاہتا ہو یا یا اپنے گناہوں کا سارا بوجھ صلیب پر کھنچے کرائسٹ کے کاندھوں پر الٹا دینا چاہتا ہو۔ میں اس کا جھکا سر دیکھ دیکھ گلے میں پڑے سکارف سے چہرہ اور آنکھیں رگڑتی رہی۔ ہماری نگاہیں ملیں تو ایک دوجے کا درد اپنی جھولی میں بھر لینے کو مچلیں، ہمارے دل ایک دوجے کے کاندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ رونے کو ترسے۔ عجب سی آشنائی تھی ہمارے بیچ اور عجیب سی بیگانگی!

    اب میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔

    “چلو میں تمھیں کچھ دکھاؤں!”

    میں اس کا ہاتھ تھامے تقریباً دھکیلتی ایک سمت چل پڑی۔ وہی بارش کی سرگوشیاں، وہی آس پاس مسکراتے گنگناتے لوگوں کی اٹھکیلیاں، وہی گیلی روشیں، مہکتی بیلیں۔ ہم ایک بڑی اونچائی کے قریب سبزے اور پھولوں سے بنے ایک بڑے گھڑیال کے کنارے جا پہنچے۔ لال جامنی اور گلابی پھولوں سے بنی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر دلنشین پتوں اور دھنک رنگ پھولوں سے یہ گھڑیال بنا تھا جس کی بڑی بڑی سفید سویاں بالکل ٹھیک ٹھیک وقت بتاتی تھیں۔ میری سانسوں کو کسی نے سختی سے مٹھی میں لیا تھا۔

    “یہاں وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا!”

    “پھر واپس بھی تو آیا تھا ناں یہیں!” اب سوال میرے تھے اور جواب اس کے۔

    ‘’تب لوٹ کر آیا تھا جب میں کہیں نہیں تھی۔‘‘

    اس کے آنے سے قبل ہی یہاں گر کر مر چکی تھی۔”

    “ہاں وہ کہیں نہیں تھا اس دن مجھے اس کی محبت کی بددعا لگی تھی۔ میں یہاں سے نکلا تو کہیں کا نہ رہا۔ میرے جیون کی ہر راہ ہر نکڑ نے اسے پکارا!”

    “بہت دیر کر دی تھی اس کی زیارت ہی میری زندگی تھی۔ وہ نہ رہی تو زندگی کی سانس ہی رک گئی ایک بھول ہوی تھی مگر میں توبہ کے لیے تڑپتا رہا! میں نے کتنے سجدے کئے، کیسی کیسی مرادیں مانگیں کہ ایک بار معافی مل جائے”۔

    “معافی کا وقت گزر چکا تھا کچھ دستکیں صرف ایک بار ہوتی ہیں۔”

    “دستک پر دروازہ نہ کھولنے والے بدنصیب ہوتے ہیں۔”

    وہ آستین سے آنکھیں پونجھنے لگا۔

    ‘’محبت ٹھکرا دینے والے ہمیشہ محبت کے لیے دربدر دھول بن جاتے ہیں۔”

    میں مڑکر اس کی طرف رخ کرکے گھٹنے ٹیک کر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا ایسے کہ میری بصارتوں میں سوائے اس کی آنکھوں کے جلتے دیوں کے اور کچھ نہ رہا۔ ساری کائنات منجمد ہو گئی۔ بلاآخر میں نے اس کی نگاہوں کی حدتوں کو پہچان لیا تھا اور وہ میرے لہجے کی تھکاوٹ سے آشنا نکلی تھی۔

    “آخر میری صدائیں تمھیں ڈھونڈ لائی ناں مجھے معاف کر دو سارا!۔ ”میں نے اس کا ہاتھ ایک مقدس سہارے کی طرح اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ اس کا بھیگا چہرہ کچھ نہ کہہ سکا۔ سارا نے اپنے باییں ہاتھ سے میری آنکھیں پونجھیں۔ میرے چہرے کو تھاما اور کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی ایسے کہ جیسے صدیوں کے پیاسے کی پیاس اب بجھنے کے قابل بھی نہ رہی ہو۔ اس کی نگاہوں میں وہی محبت تھی جو کبھی اس کا غرور اور میرا مذاق تھی اور میں آج بھی ایک مذاق ہی تو تھا اور وہ آج بھی ایک غرور ہی تھی۔ اس کے چہرے پر ندیوں کے نشاں تھے جو اب سوکھنے لگی تھیں۔ پھر اس نے میرے گیلے بکھرے بالوں کو سنوارا اور ایک آہ زدہ مسکراہٹ سے کہا۔

    “آج کے بعد بھٹکنا چھوڑ دینا!”

    اس کی مسکراہٹ پر میں سر پٹخ پٹخ کر رو سکتا تھا۔ میرے ہاتھوں میں اس کا نرم و نازک ہاتھ جیسے روی اور پھر روی سے ہوا ہونے لگا اور میرے قدم بھی زمیں سے اٹھ کر ایک ہوا سے ڈولتی بدلی سی بننے لگے۔ ہمارے سفید دھواں دھواں سے وجود کشش ثقل سے نکل کر اس سے پہلے کہ عالم غائب کی طرف پھر سے لوٹتے، اس کی بہار سی خوشبو سا وجود میں نے اپنی بدلی نما بانہوں میں لپیٹ لیا تھا۔ بادلوں سے آسمانوں کی سمت چلتے ایک روح میں ہمارے دو دل دھڑکتے تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے