زبیدہ

مریم عرفان

زبیدہ

مریم عرفان

MORE BY مریم عرفان

    گزرے زمانوں کا ذکرہے کہ ملک عدم میں زیبارونام کی کوئی شہزادی تھی،سانولارنگ،کھڑی ناک،لمبوتراچہرہ،بڑی بڑی آنکھیں اوربائیں گال پرتل۔وہ اپنی آنکھوں سے دانائی کاکام لیتی تھی،بادشاہ کی بڑی بیٹی ہونے کے ناتے اس کی رسائی تخت تک تھی۔وزراء اورمشیراس کی عقل کے معترف تھے اوربادشاہ اسے اپنی سنتان سونپناچاہتاتھا۔سلطنت سونااگل رہی تھی،ہر طرف بہارہی بہارتھی،درخت میوؤں سے بھرے تھے اورعیش و عشرت نے نعمت کدوں کواپنے حصارمیں لے رکھاتھا۔شہزادی رات کے پچھلے پہرپائیں باغ کے سرہانے اپنے تانپورے سے سُرچھیڑتی تودددھیاچاندنی اس کے رخسارکی رونق بڑھانے لگتی۔سلطنت کے معاملات سنبھالتے ہوئے اسے محسوس ہونے لگاتھا کہ زندگی کسی منجدھارمیں پھنس چکی ہے۔اس کی حکمت اوردانائی کی پکاریں دوردورتک سنی جاسکتی تھیں ۔شہزادے اس کاہاتھ مانگنے کوبے تاب تھے۔شہزادی زیباروشکارکی بھی شوقین تھی،اس موقع پروہ اپنے دل پسندگھوڑے زرود کوساتھ رکھتی تھی۔نسواری رنگ کایہ چھیل چھبیلاگھوڑاسرجھکائے شہزادی کے پیچھے پیچھے چلتاتودریاکی لہریں پتھروں سے سرٹکرانے لگتیں۔زندگی کی یہ آسودگی اس کے لیے جسم پراگنے والی چیچک تھی جسے وہ کھرچ کھرچ کرخودکوزخمی کرنے لگی۔اسے اپنے تانپورے کی تاریں لَو دینے لگی تھیں ،راگ چھیڑتے ہوئے اب اس کی انگلیاں سنسناسی جاتیں۔فراغت کی تھکن اس کے اعصاب پرسوارہونے لگی تھی اس کے خوابوں کی کونپلیں خاردارہورہی تھیں۔انھی دنوں بادشاہ کوملک چیستان کاشہزادہ اپنی شہزادی کے لیے پسندآگیااورتانپورہ سفیدمرمریں تخت پردھرارہ گیا۔

    اپلوں سے بھری ان دیواروں اورزبیدہ میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔سوجے ہوئے منہ کے ساتھ وہ بھی بڑی خاموشی سے اپنے کمرے کی دیوار سے لگی ہوتی تھی۔بھائی جی اپنی شلوارنیفے تک اڑستے ہوئے اس پرپل پڑتے اوروہ ٹنڈمنڈپیڑکی شاخ جیسے فضامیں لہراجاتی۔میں نے کتنی دفعہ بھائی جی کواس کی ٹانگوں کے بیچوں بیچ ٹھڈے مارتے دیکھاتھا،وہ وحشی درندہ بن کراپنے شکارکوپنجوں میں جکڑتے ہوئے منہ میں لے لیتے۔زبیدہ اپنے پرپھڑپھڑاتی اورمیں کھڑکی کی سلاخوں سے ان پروں سے پیداہونے والی آوازیں سنتا،میرے چہرے پریہ پھڑپھڑاہٹ صرصرکرتی۔بھائی جی کوکس بات پراورکب غصہ آجائے کچھ کہانہیں جاسکتاتھا۔خبربس زدمیں آنے والی زبیدہ کوہوتی تھی جس کی ناؤمیں بیٹھاملاح چپوسے کھیلناجانتاتھا۔بھائی جی کویہ دیوانگی ورثے میں باپ سے ملی تھی ،جس کے لیے ماں بھی قینچے کی طرح تھی جسے وہ مٹھیوں میں خوب دگڑکرمٹی پرپٹخ دیتاتھا۔یہ قینچامٹیالی زمین پرپڑااپنی چکاچوندگنواچکاتھا کیونکہ کھیلنے والے ہاتھوں کی گرفت بہت سخت تھی۔میں نے آنکھ کھولتے ہی مردانگی کی جس قسم کوپروان چڑھتے دیکھاتھااس میں عورت گنے کاوہ پھوک تھی جس کی ساری مٹھاس چوس لی گئی ہو۔میری ماں بھی چوسے ہوئے اس پھوک کی گٹھربن گئی تھی۔میرے باپ کی دیوانگی نے اسے بھوسابناڈالاتھاپھر ایک دن اس کے جنون نے بھوسے کوآگ دکھادی۔اسے میری ماں کومارنے میں مزا آنے لگاتھااورماں کا پنڈا اس کی ٹانگوں اورگھونسوں کا عادی ہوگیاتھا۔پھرایک دن میرے باپ پربھوت سوارہوگیا،وہ دھڑدھڑدروازہ پیٹ رہاتھااوروہ مجھے چھاتی سے چمٹائے دودھ پلانے میں مگن تھی۔سورماہلکارے مارتاہوادروازہ توڑکراندرداخل ہوااورمیری ماں پرپل پڑا۔دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ دیوانے نے میری ماں کی چھاتیاں کاٹ ڈالی تھیں۔ان سے رسنے والاخون اوردودھ شیروشکرہوگئے تھے اورمیں ماں کے پہلو میں لیٹااسے ٹٹول رہاتھا۔یہ ان دیکھامنظرجب بھی میری آنکھوں کے سامنے آتاہے تو منہ میں دودھ کی جگہ خون کی تلخی لے لیتی ہے۔اب یہی حال زبیدہ کاہورہاتھا،وہ رات بھراذیتوں کے برمے اپنے ننگے پنڈے پرسہتی اورصبح اٹھ کرکبھی ٹانگوں کے درمیان گرم اینٹ کا سینکا لیتی اورکبھی پیٹ کے اوپرگرم پانی کی بوتل رکھ کرٹکوریں کرتی۔بھائی جی اس اذیت بھری زندگی سے بہت خوش تھے انھیں ہاتھ جوڑتی ،پاؤں پڑتی اورسی سی کرتی زبیدہ اچھی لگتی تھی۔وہ بھنے ہوئے دیسی مرغ کی ٹانگ بھی دانتوں کے درمیان رکھ کراس زورسے کھینچتے گویامنہ میں زبیدہ رکھی ہواوروہ اس کی رانوں پرپاؤں رکھ کراسے چیررہے ہوں۔

    شہزادی ملک عدم چھوڑچکی تھی ،اب وہ جس میں محل میں تھی اس کاماحول بہت اجنبی تھا۔شہزادہ نیل خرام اپنی دنیامیں مست تھا،اسے شہزادی کی ذہانت اورحکمت سے کوئی سروکارنہیں تھا،اس کے لیے زیباروفقط جام تھی جو اس کے لبوں کوسوکھنے نہیں دیتاتھا۔شہزادی کے لیے محل خوب صورت قیدخانہ بن گیاجہاں آسودگی ناآسودگی میں بدل چکی تھی۔یہاں اس کانسواری رنگ کاگھوڑابھی نہیں تھاجس کی پیٹھ پربیٹھ کراس نے اپنی زندگی کے کتنے ہی اعلیٰ شکارکھیلے تھے۔آج وہ خودکواس خرگوش کی جگہ بے دست وپاسمجھ رہی تھی جس کاشکارکرتے ہوئے زرودکے ٹاپوں کی دھمک مدھم ہوگئی تھی۔شکاری کتوں نے پلک جھپکتے اسے گردن سے دبوچ لیااورشہزادی اس مردہ خرگوش کواپنی چھڑی میں لٹکائے جیت کے نشے سے سرشارمحل کولوٹی تھی۔آج وہ شہزادہ نیل خرام کی چھڑی میں لٹکا ہواخرگوش تھی جس کی گردن کتوں کے بجائے خودشہزادے کے دانتوں میں تھی۔شہزادی کے حلق تک مردہ گوشت کا بدبودارذائقہ گھلنے لگتاتو اسے ابکائیاں آنے لگتیں۔شہزادی کی دانائی کوقسمت کی نظرلگ گئی اب وہ محل میں کھوٹے سکے کی طرح پڑی تھی۔محل کے دالان اورروشیں اس کے اندراترنے والے سناٹوں کے گواہ تھے۔اس کے جہازی کمرے میں بچھے اطلسی پلنگ کے اوپرلٹکتی سفیدچادروں کی نرمی بھی سختی میں بدل چکی تھی۔

    شہزادہ نیل خرام کوفتوحات کاشوق تھاسووہ اسے فتح کرکے اپنے علاقوں میں شمارکرتاہواآگے بڑھ گیا۔اس کے نرم گرم بستر کاساراٹھنڈاپن اب اس کی رگوں میں اترنے لگاتھا۔وہ شہزادے کی الفت کوتڑپنے لگی،اس کے پاس تنہائی کے سواکچھ نہیں تھاتوپھراس نے ایک طوطاپال لیا۔وہ اس سے باتیں کرنے لگی ،طوطااپنے پنجے چونچ سے صاف کرتے ہوئے ٹیں ٹیں کرتااورشہزادی کادل ان پنجوں کی خراشوں کوترسنے لگتا۔اس کے باغ آفریں میں بھی حدت جاں نہ رہی اوراسے اپناتنبورایادآنے لگا۔شہزادے کودیکھے مہینوں گزرجاتے اورشہزادی اپنے کمرے کی کھڑکی سے لگی سمندرکانظارہ کرتی رہتی۔جس میں چلنے والی بڑی کشتیاں لنگراندازہونے کے لیے رسے پھینکتیں تواس کابھی جی چاہتاآگے بڑھ کرکوئی رسا پکڑلے۔ایسے میں ایک دن وہ طوطے سے کہنے لگی:’’مٹھو،دعاکروشہزادہ مرجائے۔‘‘ٹیں ،ٹیں،ٹیں،چچ چچ چچ۔۔۔طوطااپنے پنجے کوچونچ سے صاف کرتے ہوئے آمین کہتااورشہزادی روزنِ دیوارسے سرٹیکتے ہوئے آنکھیں بندکرلیتی۔

    اس گھرکی دیواروں نے ایک عورت کی کٹی ہوئی چھاتیوں سے دودھ کشیدہوتے دیکھاتھا۔اس لیے یہاں زبیدہ کی سسکیوں کی کوئی وقعت نہیں تھی۔بھائی جی بپھرے ہوئے سانڈھ کی طرح ڈکارتے تواس کے ہاتھ سے دودھ کی پتیلی پھسلتے پھسلتے بچتی۔ان کی زندگی کادنگل سوائے مارپیٹ کے اورکچھ نہیں تھااوریہ دنگل وہ ہردوسرے تیسرے دن کھیلتے ہی رہتے تھے۔مارپیٹ کے بعدوہ اس سے معافی بھی مانگتے ان کی بھوری آنکھیں پانیوں سے لبالب ہوتیں اورزبیدہ دوپٹے کاپلومنہ میں دئیے پھسڑپھسڑروتے ہوئے ان کے جڑے ہوئے ہاتھ اپنے ماتھے پہ رکھ لیتی۔چونٹی پہاڑپرچڑھ کرقلعہ فتح ہونے کی نویدسناتی تومعلوم ہوتاکہ قلعے کاکوئی داخلی دروازہ ہے ہی نہیں ۔بھائی جی ہرلڑائی کے بعدزبیدہ کے کندھے دباتے،اپنے شکارکودوبارہ ہوش میں لاتے ہوئے ان کااندازدفاعی ہوتا۔مونچھوں کوتاؤدیتے ہوئے کہتے:’’تابعدارزنانی ایں۔ھم م م م ۔‘‘بھائی جی اس سے چمٹ کرسوتے اوروہ زندہ لاش کی طرح چارپائی پرپڑی لمبے لمبے سانس لے رہی ہوتی۔مجھے بھائی جی سے کبھی محبت اورنفرت محسوس ہی نہیں ہوئی شایدمیرے اندرکاہیجان زبیدہ کومارکھاتے دیکھ کرکم ہوتاتھا۔اس وقت میں سوچتاتھاکہ ماں بھی بالکل ایسے ہی میرے باپ کی مارکھاتی ہوگی۔اسے آخری عمر تک ماں کی موت کاصدمہ رہا،یہ صدمہ شکارکے ہاتھ سے نکل جانے کاتھا۔وہ اکثرفخرسے بتاتاکہ میری ماں بڑی جی دارعورت تھی، ایک دفعہ جب وہ بہت بیمارہواتواسے اپنے کندھوں پراٹھاکردواداروکے لیے ماری ماری پھری۔رات کے کسی پہراس کی ٹانگیں دباتے ہوئے اگراس کی آنکھ لگ جاتی تومیرابیمارباپ وہی ٹانگ اس کے سینے میں ٹھونک دیتا۔وہ دردسے بلبلاتی دوبارہ اس کی ٹانگیں دبانے لگ جاتی اورمیراباپ ’’کڑی یاوی‘‘کہتاہوااسے لوٹنے کھسوٹنے لگتا۔میرے گھرمیں ذہنی بیمارمردوں کی پنیری اگ چکی تھی اوربھائی جی اس پنیری کاپھل تھے ۔میری دیوانگی کی تسکین بھائی جی کی جارحیت اورزبیدہ کے آنسوؤں سے ہوتی تھی۔میں اب اس انتظارمیں تھاکہ کب بھائی جی زبیدہ کی چھاتیاں کاٹیں گے جہاں سے سوائے خون کی سرخی کے اورکچھ نہیں نکلے گا۔

    پھرایک دن محل میں کھلبلی مچ گئی کہ شہزادی زیباروکہیں نہیں تھی۔پیادے اسے ڈھونڈتے ہوئے محل سے باہرنکل چکے تھے،کشتیاں سمندرکی لہروں کے سپردکردی گئیں لیکن سب بے سودتھا۔شہزادہ نیل خرام نے اس کے سرکی قیمت مقررکردی تھی ،چرندپرندبھی اسی کی گمشدگی پربولیاں بولتے تھے کہ ملک چیستان کے نجومیوں نے عقدہ حل کرلیا۔ان کے خیال میں شہزادی کسی دیوکی قیدمیں تھی جوایک بڑے سے عقاب کے پروں کے درمیان بیٹھ کرسمندرکی سیرکوآیاتھا۔محل کی کھڑکی سے باہرجھانکتی شہزادی کی آنکھوں کی اداسی نے اسے اپنادیوانہ بنادیا۔ اکثررات کے پچھلے پہراچانک تنبورے پرکوئی راگ چھیڑدیتا تھا۔سرفضامیں بکھرتے ہی سمندرپرروشنیاں مسلط ہوجاتیں۔دورسے ایک روشن عقاب اڑتاہواآتاجس پربیٹھاہواحبشی دیواپنے سفیدچمکتے دانت کھولتا توگویا الاؤ سا روشن ہو جاتا۔ایسے میں شہزادی زیباروصاف شفاف سمندرکی لہروں پرکروٹ لیتے اٹھتی۔سیاہ دیوبہت بھیانکردکھائی دیتا اس کے بڑے بڑے کالے ہاتھ کوئلے کی کان تھے۔شہزادی ان ہاتھوں کے گڑھوں میں اپنے نازک ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیوکے کاندھے پراپناسررکھ دیتی۔روشنیوں سے مخمورعقاب چیاؤں کی آواز نکالتا اوردونوں اس پرسوارہوجاتے۔آہستہ آہستہ تنبورے کی تان مدھم پڑتی جاتی اورسمندرکانیلگوں پانی اندھیروں میں ڈوبنے لگتا۔

    کچھ دن بعدمیں نے محسوس کیاجیسے زبیدہ کے آنسوخشک ہونے لگے تھے ،اس دن بھی وہ صحن کی دیوارپرروٹیوں کاچھان بورامٹی کے پیالے میں ڈال رہی تھی کہ یکدم کوؤں کومنڈیرسے اڑاتے ہوئے بولی:’’فیکو،دعاکرئیں اے کاں مرجائے۔‘‘

    ’’کیوں بھرجائی۔‘‘

    ’’ویکھ ! نامراد اڈدا وی نئیں۔‘‘

    میں اس کے لفظوں میں کھوساگیا۔کوے تو بنیروں سے اڑجاتے ہیں انھیں تو بس اپنی روٹی اورپانی کی پیاس ہوتی ہے۔میرے بارہا سوال کرنے پربھی وہ بس یہی کہتی کہ دعاکر کاں مرجائے۔میں چارپائی کی پائینتی پربیٹھاہواحقے کی نالی زبان پررکھ لیتا۔تمباکوکی کڑواہٹ حلق چیردیتی تو میں گڑگڑکی آوازیں نکالنے لگتا۔بھائی جی اورزبیدہ بھی توحقے کی طرح ہی تھے ایک حصے میں تمباکوتھا،آگ تھی اوردوسرے پیالے میں پانی،اس ملاپ نے حقے میں جوگڑگڑاہٹ پیداکی تھی اب اس کاذائقہ کسیلاہوگیاتھا۔حقے کی یہ دو نالیاں دھواں پیداکرتی ہوئیں میرے منہ میں تن گئی تھیں اوربھاپ کی یہ کڑواہٹ حلق پرخنجربن کرچل رہی تھی۔میں جلتے ہوئے تمباکو کے نیچے کتنا ہی گڑ ڈال لیتا اس کی تلخی کو ختم نہیں ہونا تھا۔ اس رات بھی زبیدہ نے بہت مارکھائی،وہ کملی اس دیوانے کے سامنے قربانی کے دنبے کی طرح ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھی تھی۔میں نے پہلی مرتبہ کمرے کی نیم مردہ روشنی میں زبیدہ کوکپڑوں سے آزاددیکھا۔وہ چارپائی سے نیچے اکڑوں بیٹھی اپنے دونوں بازوسینے پررکھے بھائی جی کے تھپڑوں کامقابلہ کررہی تھی۔مجھے امیدبندھ گئی کہ شایدآج کی رات زبیدہ بھی میری ماں کی طرح تختہ دارپرلٹکائی جائے گی۔کتنا مزا آنے والا تھا ، بھائی جی نے اسے گردن سے دبوچ رکھا تھا، گردن پر چھری چلتے ہی اسے نیلے ڈرم میں پھینکا جاتا۔ مجھے اس کے کچے گوشت میں ملی ہوئی جسم کی خوشبو نے بے تاب سا کر دیا۔ زبیدہ کی سسکیاں سنتے سنتے میری آنکھ لگ گئی اورمیرازندگی بھرکانقصان ہوگیا۔

    صبح بھائی جی کی چیخ وپکارسے میری آنکھ کھلی، وہ صحن میں لوگوں کامجمع لگائے گالی گلوچ کررہے تھے:’’نکل گئی کڑی یاوی،اپنے یارنال۔‘‘مجھے لگاجیسے میں آسمان پراڑنے والے اس ہوائی جہازکی پشت پربیٹھاہوں جس نے کچھ دیر پہلے ہی اڑان بھری تھی۔تیزرفتار ہوانے میرے ان گنت ٹکڑے کردئیے ،میں جتناباقی بچاتھازمین پرپٹخ دیاگیااورگدھ میرے سرپرمنڈلانے لگے۔زبیدہ کوگھرسے بھاگے ہوئے مہینہ ہونے کوتھا،گھرخالی کھنڈربن گیا۔ میں ہرصبح صحن کی کچی منڈیرپررکھے مٹی کے پیالے میں روٹی کے ٹکڑے ڈالتالیکن کوے تو جیسے وہاں آناہی بھول گئے تھے۔وہ کاں بھی غائب تھاجس کے مرنے کی دعائیں زبیدہ مانگاکرتی تھی۔تو کیازبیدہ کووہ کالاکاگ اڑالے گیاتھاجس کی لمبی چونچ میں گیلی روٹی کے ٹکڑے ہوتے تھے اوروہ اپنے پنجے صاف کرتے ہوئے کائیں کائیں کرتاتھا۔اب میں خودکویہ سوچ کرتسلی دے لیتاہوں کہ بھائی جی کی زندگی میں آنے والی دوسری بیوی میری خواہش ضرورپوری کرے گی۔وہ اس کی چھاتیاں کاٹ کرمیرے دل کوتقویت پہنچائیں گے اورمیں دانت کچکچاتے ہوئے گوشت کے ان لوتھڑوں میں کبھی اپنی ماں کوڈھونڈوں گااورکبھی زبیدہ کی بے زبانی میرے لیے دودھ کی نہریں نکالے گی۔زبیدہ واپس آجاؤ،گھرمیں پڑے دو دیوانے تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ایک دیوانہ روزاپنی شلوارنیفے تک اڑس کرڈنڈاہاتھ میں لیے ڈنٹرپیلتاہے اوردوسرادیوانہ چارپائی کی سخت ادوائن میں سردئیے ،منہ زمین کی طرف کرکے تنکوں سے کھیلتاہے۔میرے بدن کاساراخون سراورمنہ کی طرف گردش کردیتاہے اورمیں اکھڑتی ہوئی سانسوں کے درمیان دونوں عورتوں کی چیخیں سننے میں مگن ہوجاتاہوں ۔زبیدہ بس ایک بارواپس آکراپنی چھاتیاں کٹوالوتاکہ میں بھی اپناسراس سخت ادوائن سے باہرنکال کرکھلی فضامیں سانس لے سکوں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY