ADVERTISEMENT

افسانہ پرصحت کی حفاظت

بانجھ

سعادت حسن منٹو

خود نوشت کے اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ بمبئی کے اپولو بندر پر سیر کرتے ہوئے ایک دن اس شخص سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران ہی محبت پر گفتگو ہونے لگی ہے۔ آپ چاہے کسی سے بھی محبت کریں، محبت محبت ہی ہوتی ہے، وہ کسی بچے کی طرح پیدا ہوتی ہے اور حمل کی طرح ضائع بھی ہو جاتی ہے، یعنی قبل از پیدائش مر بھی سکتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو چاہ کر بھی محبت نہیں کر پاتے ہیں اور شاید ایسے لوگ بانجھ ہوتے ہیں۔

پانچ دن

سعادت حسن منٹو

بنگال کے قحط کی ماری ہوئی سکینہ کی زبانی ایک بیمار پروفیسر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جس نے اپنے کریکٹر کو بلند کرنے کے نام پر اپنی فطری خواہشوں کو دبائے رکھا۔ سکینہ بھوک سے بیتاب ہو کر ایک دن جب اس کے گھر میں داخل ہو جاتی ہے تو پروفیسر کہتا ہے کہ تم اسی گھر میں رہ جاؤ کیونکہ میں دس برس تک اسکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا اس لیے انہیں بچیوں کی طرح تم بھی ایک بچی ہو۔ لیکن مرنے سے پانچ دن پہلے وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ہمیشہ سکینہ سمیت ان تمام لڑکیوں کو جنہیں اس نے پڑھایا ہے، ہمیشہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا ہے۔

ADVERTISEMENT

جانکی

سعادت حسن منٹو

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

تین موٹی عورتیں

سعادت حسن منٹو

طبقۂ اشرافیہ کی عورتوں کی دلچسپیوں، ان کے مشاغل اور ان کی مصروفیات کا عمدہ تذکرہ پر مبنی عمدہ کہانی ہے۔ اس کہانی میں تین ایسی عورتیں ایک ساتھ جمع ہیں جن کی باہمی دوستی کی وجہ صرف ان کا موٹاپا ہے۔ وہ سال میں ایک مہینے کے لیے موٹاپا کم کرنے کی غرض سے کربساد جاتی ہیں لیکن وہاں بھی وہ ایک دوسرے کی حرص میں مرغن غذاؤں سے پرہیز نہیں کرتیں اور برسہا برس گزر جانے کے بعد بھی ان کے موٹاپے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

ADVERTISEMENT

فرشتہ

سعادت حسن منٹو

زندگی کی آزمائشوں سے پریشان شخص کی نفسیاتی کیفیت پر مبنی کہانی۔ بستر مرگ پر پڑا عطاء اللہ اپنے اہل خانہ کی مجبوریوں کو دیکھ کر خلجان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نیم غنودگی کے عالم میں دیکھتا ہے کہ اس نے سب کو مار ڈالا ہے یعنی جو کام وہ اصل میں نہیں کر سکتا اسے خواب میں انجام دیتا ہے۔ 

ADVERTISEMENT

منظور

سعادت حسن منٹو

’’اپنی بیماری سے بہادری کے ساتھ لڑنے والے ایک مفلوج بچے کی کہانی۔ اختر کو جب دل کا دورہ پڑا تو اسے اسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات منظور سے ہوئی۔ منظور کے جسم کا نیچے کا حصہ بالکل بیکار ہو گیا تھا۔ پھر بھی وہ پورے وارڈ میں سب کی خیریت پوچھتا رہتا۔ ہر کسی سے بات کرتا۔ ڈاکٹر، نرس بھی اس سے بہت خوش تھے۔ حالانکہ اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے ماں باپ کے اصرار پر ڈاکٹروں نے اپنے یہاں داخل کر لیا تھا۔ اختر منظور سے بہت متاثر ہوا۔ جب اس کی چھٹی کا دن قریب آیا تو ڈسچارج ہونے سے پہلے کی رات کو ہی منظور کا انتقال ہو گیا۔‘‘

ماہی گیر

سعادت حسن منٹو

اس میں ایک غریب مچھوارے میاں بیوی کے جذبۂ ہمدردی کو بیان کیا گیا ہے۔ مچھوارے کے پانچ بچے ہیں اور وہ رات بھر سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر بڑی مشکل سے گھر کا خرچ چلاتا ہے۔ ایک رات اس کی پڑوسن بیوہ کا انتقال ہو جاتا ہے۔ ماہی گیر کی بیوی اس کے دونوں بچوں کو اٹھا لاتی ہے۔ صبح ماہی گیر کو اس حادثہ کی اطلاع دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ دو بچے اس کی لاش کے برابر لیٹے ہوئے ہیں تو ماہی گیر کہتا ہے پہلے پانچ بچے تھے اب سات ہو گئے۔ جاؤ انہیں لے آو۔ ماہی گیر کی بیوی چادر اٹھا کر دکھاتی ہے کہ وہ دونوں بچے یہاں ہیں۔

برف کا پانی

سعادت حسن منٹو

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی ایک مزاحیہ کہانی ہے جس میں بیوی کو ایک گمنام لڑکی کے خط سے اپنے شوہر پر شک ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے ان میں کافی دیر تک بحث و مباحثہ ہوتا ہے لیکن جب بیوی کو صحیح صورت حال معلوم ہوتی ہے تو ماحول رومانی اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔

مس فریا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے جو شادی کے ایک مہینے بعد ہی اپنی بیوی کے حاملہ ہو جانے سے پریشان ہو جاتا ہے۔ اس سے نجات پانے کے لیے وہ کئی ترکیبیں سوچتا ہے، لیکن کوئی سازگار نہیں ہوتی۔ آخر میں اسے وہ لیڈی ڈاکٹر مس فریا یاد آتی ہے، جو اس کی بہن کے بچہ ہونے پر ان کے گھر آئی تھی۔ جب وہ اسے اس کے دواخانے پر چھوڑنے گیا تھا تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ پھر معافی مانگتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب جب اسے پھر اس واقعہ کی یاد آئی تو وہ ہنس پڑا اور اس نے حالات کو قبول کر لیا۔

ADVERTISEMENT

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

بیمار

سعادت حسن منٹو

یہ ایک تجسس آمیز رومانی کہانی ہے جس میں ایک عورت مصنف کو مسلسل خط لکھ کر اس کے افسانوں کی تعریف کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتی جاتی ہے جو مسلسل شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دن وہ عورت مصنف کے گھر آ جاتی ہے۔ مصنف اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور تبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے ڈیڑھ برس پہلے اس نے نکاح کیا تھا۔

ADVERTISEMENT

کیمیا گر

محمد مجیب

یہ ترکی سے ہندوستان میں آ بسے ایک حکیم کی کہانی ہے، جو اپنے پورے خلوص اور اچھے اخلاق کے باوجود بھی یہاں کہ مٹی میں گھل مل نہیں پاتا۔ گاؤں کی ہندو آبادی اس کا پورا احترام کرتی ہے، مگر وہ انہیں کبھی اپنا محسوس نہیں کر پاتا ہے۔ پھر گاؤں میں ہیضہ پھیل جاتا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو لیکر گاؤں چھوڑ دیتا ہے۔ رات میں اسے سپنے میں کیمیا گر دکھائی دیتا ہے، جس کے ساتھ کی گفتگو اس کے پورے نظریے کو بدل دیتی ہے اور وہ واپس گاؤں لوٹ کر لوگوں کے علاج میں لگ جاتا ہے۔

مسز ڈی کوسٹا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسی عیسائی عورت کی کہانی ہے، جسے اپنی پڑوسن کے حمل سے بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ حاملہ پڑوسن کے دن پورے ہو چکے ہیں، پر بچہ ہے کہ پیدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ مسز ڈکوسٹا ہر روز اس سے بچہ کی پیدائش کے بارے میں پوچھتی ہے۔ ساتھ ہی اسے پورے محلے کی خبریں بھی بتاتی جاتی ہے۔ ان دنوں دیش میں شراب بندی قانون کی مانگ بڑھتی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے مسز ڈکوسٹا بہت پریشان تھی۔ اس کے باوجود وہ اپنی حاملہ پڑوسن کا بہت خیال کرتی ہے۔ ایک دن اس نے پڑوسن کو گھر بلایا اور اس کا پیٹ دیکھ کر بتایا کہ بچہ کتنے دنوں میں اور کیا (لڑکا یا لڑکی) پیدا ہوگا۔

ADVERTISEMENT

جان محمد

سعادت حسن منٹو

انسان کی نفسیاتی پیچیدگیوں اور تہہ در تہہ پوشیدہ شخصیت کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ جان محمد منٹو کے ایام علالت میں ایک مخلص تیماردار کے روپ میں سامنے آیا اور پھر بے تکلفی سے منٹو کے گھر آنے لگا۔ لیکن دراصل وہ منٹو کے پڑوس کی لڑکی شمیم کے چکر میں آتا تھا۔ ایک دن شمیم اور جان محمد گھر سے فرار ہو جاتے ہیں، تب اس کی حقیقت پتا چلتی ہے۔

دو مونہی

ممتاز مفتی

’’کہانی دوہرے کردار سے جوجھتی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے، جو ظاہری طور پر تو کچھ اور دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ اپنی اس شخصیت سے پریشان وہ بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کراتی ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر اس کی ایک سہیلی اسے تیاگ کلینک کے بارے میں بتاتی ہے اور وہ اپنے شوہر سے ہل اسٹیشن پر گھومنے کا کہہ کر اکیلے ہی تیاگ کلینک میں علاج کرانے کے لیے نکل پڑتی ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

ہمجنس با ہمجنس

حجاب امتیاز علی

یہ ایک ایسے جوڑے کی کہانی ہے جن کی شادیاں ادھیڑ عمر کے ساتھیوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ اتفاق سے ایک سفر کے دوران ان دونوں کی ملاقات ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کی زندگی پوری طرح سے بدل جاتی ہے۔

جنازہ

حجاب امتیاز علی

یہ مسجد کے ایک موذن کی کہانی ہے جسکا قیام مسجد میں ہی رہتا ہے۔ ایک روز مسجد میں نماز جنازہ کے لیے ایک جنازہ لایا جاتا ہے کہ اسی وقت تیز بارش ہونے لگتی ہے۔ لوگ جنازے کو اس کی تحویل میں دے کر چلے گیے کہ بارش کھلنے پر جنازہ کو دفن کیا جائے گا۔ رات کو جنازے کے پاس تنہا بیٹھے موذن کے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ صبح ہوتے ہی اس کی بھی موت ہو گئی۔