ADVERTISEMENT

افسانے پریادیں

کالی شلوار

سعادت حسن منٹو

ایک پیشہ کرنے والی عورت سلطانہ کی روح کی الم ناکی اور اس کے باطن کے سناٹے کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے خدا بخش اسے پیار کا جھناسا دے کر انبالہ سے دہلی لے کر آتا ہے اور اس کے بعد شنکر محض کالی شلوار کے عوض اس کے ساتھ جس قسم کا فریب کرتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے کی ہے۔ اس کے دکھ، درد اور اس کے عورت پن کی اسے کوئی پروا نہیں۔

دھواں

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ بلوغت کی نفسیات پر مبنی ہے۔ ایک ایسے بچے کے جذبات کی عکاسی ہے جو جنسی بیداری کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہے اور اپنے باطن میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس تو کر رہا ہے مگر سمجھنے سے قاصر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے محسوسات کو درست سمت دینے والا کوئی نہیں ہے۔ 

چوری

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسےبوڑھے بابا کی کہانی ہے جو الاؤ کے گرد بیٹھ کر بچوں کو اپنی زندگی سے وابستہ کہانی سناتا ہے۔ کہانی اس وقت کی ہے جب اسے جاسوسی ناول پڑھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا اور اس شوق کو پورا کرنےکے لیے اس نے کتابوں کی ایک دکان سے اپنی پسند کی ایک کتاب چرا لی تھی۔ اس چوری نے اس کی زندگی کو کچھ اس طرح بدلا کہ وہ ساری عمر کے لیے چور بن گیا۔

پت جھڑ کی آواز

قرۃ العین حیدر

یہ کہانی کے مرکزی کردار تنویر فاطمہ کی زندگی کے تجربات اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تنویر فاطمہ ایک اچھے خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی ہے لیکن زندگی جینے کا فن اسے نہیں آتا۔ اس کی زندگی میں یکے بعد دیگرے تین مرد آتے ہیں۔ پہلا مرد خشوقت سنگھ ہےجو خود سے تنویر فاطمہ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ دوسرا مرد فاروق، پہلے خشوقت سنگھ کے دوست کی حیثیت سے اس سے واقف ہوتا ہے اور پھر وہی اسکا سب کچھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح تیسرا مرد وقار حسین ہے جو فاروق کا دوست بن کر آتا ہے اور تنویر فاطمہ کو ازدواجی زندگی کی زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے۔ تنویر فاطمہ پوری کہانی میں صرف ایک بار اپنے مستقبل کے بارے میں خوشوقت سنگھ سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور یہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی میں آئے اس پہلے مرد خشوقت سنگھ کو کبھی بھول نہیں پاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

وقفہ

نیر مسعود

ماضی کی یادوں کے سہارے بے رنگ زندگی میں تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ کا واحد متکلم اپنے مرحوم باپ کے ساتھ گزارے ہوے وقت کو یاد کر کے اپنی شکستہ زندگی کو آگے بڑھانے کی جد و جہد کر رہا ہے جس طرح اس کا باپ اپنی عمارت سازی کے ہنر سے پرانی اور اجاڑ عمارتوں کی مرمت کر کے قابل قبول بنا دیتا تھا۔ نیر مسعود کے دوسرے افسانوں کی طرح اس میں بھی خاندانی نشان اور ایسی مخصوص چیزوں کا ذکر ہے جو کسی کی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔

ADVERTISEMENT

وہ بڈھا

راجندر سنگھ بیدی

ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کی کہانی ہے جس کی مڈبھیڑ سر راہ چلتے ایک بوڑھے سے ہو جاتی ہے۔ بوڑھا اس کی خوبصورتی اور جوانی کی تعریف کرتا ہے تو پہلے تو لڑکی کو برا لگتا ہے لیکن رات میں جب وہ اپنے بستر پر لیٹتی ہے تو اسے طرح طرح کے خیال گھیر لیتے ہیں۔ وہ ان خیالوں میں اس وقت تک گم رہتی ہے جب تک اس کی ملاقات اپنے ہونے والے شوہر سے نہیں ہو جاتی۔

ملاقاتی

سعادت حسن منٹو

’’میاں بیوی کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں کو لیکر ہونے والی بحث مباحثوں کی عکاسی اس کہانی میں کی گئی ہے۔ صبح آنے والے کسی ملاقاتی پر شک کرتی ہوئی بیوی شوہر سے پوچھتی ہے کہ ان سے صبح کون ملنے آیا تھا؟ بیوی کے اس سوال کے جواب میں شوہر اس کے سامنے ہر طرح کی دلیل پیش کرتا ہے، مگر بیوی کو کسی بات پر یقین نہیں آتا۔‘‘

جب میں چھوٹا تھا

راجندر سنگھ بیدی

بچوں کی نفسیات پر مبنی کہانی ہے۔ بچوں کے سامنے بڑے جب اخلاق و عادات سنوارنے کے لئے اپنے بچپن کے واقعات سناتے ہیں تو ان واقعات میں ان کی شبیہ  ایک نیک اور انتہائی شریف بچے کی ہوتی ہے، درحقیقیت ایسا ہوتا نہیں ہے، لیکن مصلحتاً یہ دورغ گوئی بچوں کی نفسیات پر برا اثر ڈالتی ہے۔ اس کہانی میں ایک باپ اپنے بیٹے کو بچپن میں کی گئی چوری کا واقعہ سناتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس نے دادی کے سامنے اعتراف کر لیا تھا اور دادی نے معاف کر دیا تھا۔ لیکن بچہ ایک دن جب پیسے اٹھا کر کچھ سامان خرید لیتا ہے اور اپنی ماں کے سامنے چوری کا اعتراف نہیں کرتا تو ماں اس قدر پٹائی کرتی ہے کہ بچہ بیمار پڑ جاتا ہے۔ بچہ اپنے والد سے چوری کا واقعہ سنانے کی فرمائش کرتا ہے، باپ اس کی نفسیات سمجھ لیتا ہے اور کہتا ہے بیٹا اٹھو اور کھیلو، میں نے جو چوری کی تھی اس کا اعتراف آج تک  تمہاری دادی کے سامنے نہیں کیا۔

ADVERTISEMENT

مراسلہ

نیر مسعود

اس افسانہ میں ایک قدامت پسند گھرانے کی روایات، آداب و اطوار اور طرز رہائش میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر ہے، افسانہ کے مرکزی کردار کے گھر سے اس گھرانے کے گہرے مراسم ہوا کرتے تھے لیکن وقت اور مصروفیت کی دھول اس تعلق پر جم گئی۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب واحد متکلم اس گھر میں کسی کام سے جاتا ہے تو ان کے طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر حیران ہوتا ہے۔

ADVERTISEMENT

اس کے بغیر

احمد علی

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو موسم بہار میں تنہا بیٹھی اپنی پہلی محبت کو یاد کر رہی ہے۔ ان دنوں اس کی بہن کے بہت سے چاہنے والے تھے مگر اس کا کوئی محبوب نہیں تھا اور اسی بات کا اسے افسوس تھا۔ اچانک اس کی زندگی میں آنند آگیا جس نے اس کی پوری زندگی ہی بدل دی۔ انھوں نے مل کر ایک ٹرپ کا پروگرام بنایا۔ اس سفر میں ان دونوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعے ہوئے جن کی وجہ سے وہ اس سفر کو کبھی نہیں بھلا سکی۔

برف باری سے پہلے

قرۃ العین حیدر

ایک ناکام محبت کی کہانی جو تقسیم سے پہلے مسوری میں شروع ہوئی تھی۔ اپنے دوست کے ساتھ سیر کرتے ہوئے جب اس نے اس لڑکی کو دیکھا تھا تو اسے دیکھتے ہی یہ احساس ہوا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسکی اسے تلاش تھی۔ یہ محبت شروع ہوتی اس سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی اور پھر ملک تقسیم ہو گیا اور سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا۔

گزرے دنوں کی یاد

احمد علی

ہماری زندگی میں کبھی کبھی کوئی لمحہ ایسا آتا ہے جو بیتے دنوں کی ایک ایسی کھڑکی کھول دیتا ہے جس سے یادوں کی پوری بارات چلی آتی ہے۔ اس کہانی کا ہیرو بھی کسی ایسی ہی کشمکش کا شکار ہے۔ ایک دن اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ آواز کس کی ہے۔ ہیرو اپنی یادداشت کے مطابق کئی لڑکیوں کے نام بتاتا ہے اور فون کرنے والی لڑکی سے مسلسل باتیں کیے جا رہا ہے۔ ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود بھی یاد نہیں کر پاتا کہ آخر اس سے بات کرنے والی لڑکی کون ہے؟

قید خانہ

احمد علی

ایک ایسے شخص کی کہانی جو تنہا ہے اور وقت گزارنے کے لیے ہر روز شام کو شراب خانے میں جاتا ہے۔ وہاں روز کے ساتھیوں سے اس کی بات چیت ہوتی ہے اور پھر وہ درختوں کے جھرمٹ میں چھپے اپنے گھر میں آ جاتا ہے۔ گھر اسے کسی قید خانے کی طرح لگتا ہے۔ وہ گھر سے نکل پڑتا ہے، قبرستان، پہاڑیوں اور دوسری جگہوں سے گزرتے، لوگوں سے میل ملاقات کرتے، ان کے ساتھ وقت گزارتے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ زندگی ایک قید خانہ ہے۔

ADVERTISEMENT

بن بست

نیر مسعود

افسانہ میں دو زمانے اور دو الگ طرح کے رویوں کا تصادم نظر آتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار اپنے بے فکری کے زمانے کا ذکر کرتا ہے جب شہر کا ماحول پر سکون تھا دن نکلنے سے لے کر شام ڈھلنے تک وہ شہر میں گھومتا پھرتا تھا لیکن ایک زمانہ ایسا آیا کہ خوف کے سایے منڈلانے لگے فسادات ہونے لگے۔ ایک دن وہ بلوائیوں سے جان بچا کر بھاگتا ہوا ایک تنگ گلی کے تنگ مکان میں داخل ہوتا ہے تو اسے وہ مکان پراسرار اور اس میں موجود عورت خوف زدہ معلوم ہوتی ہے اس کے باوجود اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے لیکن یہ اس کے خوف کی پروا کیے بغیر دروازہ کھول کر واپس لوٹ آتا ہے۔

بڑھاپا

مجنوں گورکھپوری

ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو ایک ویشیا سے محبت کے باعث اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ اس کے اس طلاق میں مسجد کا مولوی دونوں فریقین کو خوب لوٹتا ہے۔ پچاس سال بعد جب وہ دوبارہ اس گاؤں میں آتا ہے تو مولوی اسے ساری باتیں سچ سچ بتا دیتا ہے۔ مولوی کا بیان سن کر وہ اپنی بیوی کی قبر پر جاتا ہے، لیکن چاہ کر بھی رو نہیں پاتا۔