شاعرؔ عجیب رنگ سے گزری ہے اپنی عمر
دنیا میں نام بھی نہ سنا خیر_خواہ کا
تو ہرجائی نہ ہو گھٹ جائے_گا جوں زر عیاروں میں
یہ عزلتؔ بندہ اپنا فدوی اپنا خیر_خواہ اپنا
اور مجھے خلق سے امید ہی کیا تھی
میری نہیں تیری خیر_خواہ تو ہوتی
مجھے خوشی ہے مری اس سے رسم_و_راہ نہیں
وہ شخص دل سے کسی کا بھی خیر_خواہ نہیں
کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا