قفس میں میری پناہوں کو دیکھ حیراں تھاکہ میرے دل میں تھا مقتل کا زائچہ کیسے
غزل میں مستعمل قافیے
جو لکیر پانی پہ نقش تھی وہ کہاں گئیجو بنا تھا خاک پہ زائچہ وہ کہاں گیا