اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا
سبب کیا ہے تجھے مجھ سے نمانے سے بہانے کا
شرم سے ڈوب مرے_گا علویؔ
خوش کہاں ہوگا ستانے والا
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
عذر کچھ چاہیئے ستانے کو
غزل میں مستعمل قافیے
حد ہو چکی ہے اب تو مرے انکسار کی
کمتر سمجھ کے مجھ کو ستانے لگے ہیں لوگ
اداسی اس کی خنجر سی چبھے ہے
مجھے کچھ یوں ستانے لگ گیا ہے
باز بھی آؤ یاد آنے سے
کیا ملے_گا ہمیں ستانے سے
ظلم کا شوق بھی ہے شرم بھی ہے خوف بھی ہے
خواب میں چھپ کے وہ آتے ہیں ستانے ہم کو
یہ کیسے خوف ہمیں آج پھر ستانے لگے
ہمارے پاس رہو تم کہ دل ٹھکانے لگے
لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرض
شوخیوں سے کام ان کو مسکرانے سے غرض