Sher Examples
10 sher examples found

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا
سبب کیا ہے تجھے مجھ سے نمانے سے بہانے کا

غزل میں مستعمل قافیے

شرم سے ڈوب مرے_گا علویؔ
خوش کہاں ہوگا ستانے والا

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
عذر کچھ چاہیئے ستانے کو

حد ہو چکی ہے اب تو مرے انکسار کی
کمتر سمجھ کے مجھ کو ستانے لگے ہیں لوگ

اداسی اس کی خنجر سی چبھے ہے
مجھے کچھ یوں ستانے لگ گیا ہے

غزل میں مستعمل قافیے

باز بھی آؤ یاد آنے سے
کیا ملے_گا ہمیں ستانے سے

ظلم کا شوق بھی ہے شرم بھی ہے خوف بھی ہے
خواب میں چھپ کے وہ آتے ہیں ستانے ہم کو

غزل میں مستعمل قافیے

یہ کیسے خوف ہمیں آج پھر ستانے لگے
ہمارے پاس رہو تم کہ دل ٹھکانے لگے

لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرض
شوخیوں سے کام ان کو مسکرانے سے غرض

غزل میں مستعمل قافیے

تم نے جی بھر کے ستانے کی قسم کھائی ہے
میں نے آنسو نہ بہانے کی قسم کھائی ہے