Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انٹرویو

انجم مانپوری

انٹرویو

انجم مانپوری

MORE BYانجم مانپوری

    انٹرویو کے قسموں میں ایک انٹرویو تو وہ ہوتا ہے جو پریس کے نمائندوں اور لیڈروں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ اب اگر لیڈر، مہاتما یا مولانا قسم کا ہے تو اخباری نمائندے اس کے گھر جا جا کر انٹرویو کے لیے خوشامدیں کرتے ہیں اور لیڈران کی صبح وشام کی حاضری سے پریشان رہتا ہے اور اگر اپر گریڈ کا نہیں بلکہ لور کلاس اور پروبیشنر قسم کا لیڈر ہے تو بجائے اس کے کہ پریس کے نمائندے اس کے پاس پہونچیں یہ غریب خودی ہی ان کے گھر پہونچ کر اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے انٹرویو قسم کے سوال وجواب حوالہ کرکے منتیں کرتا ہے کہ،

    بہر خدا ہمیں بھی کہیں چھاپ دیجیے

    ان دونوں قسموں کے انٹرویو کو اخباری انٹرویو کہتے ہیں۔ اس اخباری انٹرویو کے علاوہ ایک سرکاری انٹرویو ہوتا ہے جو سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں ’’اپوائنٹمنٹ افیسرس‘‘ اور امیدواروں کے درمیان ہوتا ہے۔ ان اخباری اور سرکاری انٹرویو میں منجملہ اور بہت سی باتوں کے سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر کی غرض ملک میں سیاسی بیداری پیدا کرکے جاہل اور نا اہلوں کو سیاسیات سمجھنے کا اہل بناکر انھیں ملکی کام کے لائق بنانا ہے اور دوم الذکر انٹرویو کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ’’ڈِس کوالیفائیڈ‘‘ اور نا اہل ثابت کرکے انہیں لکھنا، نکمّا، بیکار اور پست ہمت بنانا ہے۔

    بعض انٹرویو زدہ کنڈیڈیٹ بے سمجھے بوجھے یہ اعتراض کردیتے ہیں کہ امیدواروں کی درخواستوں کے ساتھ ان کی تعلیمی ڈگریاں اور دوسرے کوالیفکیشن کی سارٹیفکیٹس تو منسلک رہتی ہیں پھر کون سی ضروری اور نئی بات معلوم کرنے کے لیے خواہ مخواہ انٹرویو کی پخ لگادی گئی ہے۔ اب انہیں انٹرویو کی مصلحتوں کو کون سمجھائے۔ ان ناواقفوں کو یہ تو معلوم ہی نہیں کہ سرکاری ملازمتوں کی جگہیں صرف گنتی کی چند ہی ہوتی ہیں اور امیدواروں کی تعداد کی کوئی خاص حد ہی نہیں۔ اس پر سرکار کے اقبال سے سیکڑوں ان میں ایک سے ایک بڑھ کر قابل اور صاحب صلاحیت، اب ان میں سے ضرورت کے مطابق چند معہود فی الذہن مخصوص امیدواروں کو نامزد کرنے کی غرض سے ’’بقیہ کوالیفائڈ کنڈیڈیٹ‘‘ کو ڈس کوالیفائڈ بنانے کے لیے انٹرویو سے بڑھ کر اور کون سی خوبصورت ترکیب سوچی جاسکتی ہے۔ یونیورسٹی کی ڈگری تو قرق کی نہیں جاسکتی۔ ’’اعلیٰ کوالیفیکیشن‘‘ اور علمی حیثیت کی سارٹیفکیٹ نیلام والی سارٹیفکیٹ تو ہے نہیں جو کم حیثیت قرار دے کر مسترد کردی جائے۔ اب مخصوص امیدواروں یا دعویداروں کو ان سرکاری جگہوں پر قبضہ دلانے کے لیے بقیہ درخواست دینے والوں کو کس طرح غیرمستحق ثابت کیا جائے۔ انھیں دقتوں کو رفع کرنے کے لیے ایک مستقل انٹرویو کمیٹی ایجاد ہوئی، جس کے ذمّے کہنے کو تو برائے نام ’’انکوائری‘‘ ہے مگر درحقیقت سمری ٹرائل (Summary trial) کافل پاور (Full Power) دے کر امیدواروں کی قسمت کے ’’فائنل‘‘ فیصلہ کا بھی اختیار دیا گیا اور یہ سرسری سماعت اور اس پر فیصلہ کے لیے کسی خاص اصول یا ضابطہ کی پابندی کی ضرورت نہیں، صرف اختیار تمیزی کا ایسا بے پناہ حربہ اس کے سپرد کر دیا گیا ہے کہ جس کے ضر ب کی کوئی داد وفریاد نہیں۔

    چونکہ از ابتدائے ڈپٹی مجسٹریٹی بغایت ٹمپریری کلر کی بحیثیت ’’کنڈیڈیٹ‘‘ کے مجھے انٹرویو کے بیسوں مواقع ملے ہیں، اس لیے ایک سینئر کنڈیڈیٹ کی حیثیت سے اپنے انٹرویو کے دل چسپ تجربات پیش کرتا ہوں تاکہ عام دلچسپی کے علاوہ ممکن ہے کہ امیدواروں کو انٹرویو کے امتحان کے موقع پر ’’کی‘‘ (Key) کا کام دیں۔

    بی اے پاس کرنے کے بعد لاء کالج میں نام لکھوائے تقریباً ڈیڑھ سال ہوئے تھے کہ ڈپٹی مجسٹریٹی کی تقرری کا اعلان گزٹ میں دیکھ کر میں نے سوچاکہ بحیثیت وکیل ڈپٹیوں کو حضور ’’یوراونر‘‘ کہنے کے بجائے خود ہی ’’یور اورنر‘‘ بننے کی کیوں نہ کوشش کروں۔ چنانچہ میں نے بھی ایک درخواست مع تعلیمی سرٹیفکیٹ بذریعہ پوسٹ روانہ کردی۔ ایک ہفتہ کے بعد طلبی کا سمن جسے ایسے موقعوں پر انٹرویو کارڈ کہتے ہیں۔ کورٹ کے چپراسی کی بجائے جب ڈاکیہ نے مجھ پر تعمیل کیا تو انٹرویو میں ڈپٹی مجسٹریٹی کی صلاحیت جانچنے کے لیے جتنے سوالات کیے جاسکتے ہیں سب کے جوابات ذہن نشیں کر کے مقررہ تاریخ پر ہاف پینٹ اور ہاف شرٹ زیب تن کیے بنہم ڈپٹیائتی کی شان سے انٹرویو آفس کے باہرپہونچا۔ ساتویں کنڈیڈیٹ کے بعد جب میرا نمبر آیا، دل میں یہ مصرعہ؛

    اب قلم تھام کے بیٹھو مری باری آئی

    پڑھتا ہوا افسران انٹرویو کے سامنے حاضر ہونے کے بعد جیسے ہی کرسی پر سامنے جاکر بیٹھا تھا کہ پہلا سوال مجھ سے یہ کیا گیا۔

    سوال، آپ کا خاندانی پیشہ کیا ہے؟

    یہ بے جوڑ سوال سُن کر میں سوچنے لگاکہ آخر ڈپٹی مجسٹریٹی سے اس سوال کو لگاؤ کیا ہے، مگر ذہانت بھی عجیب خدا داد چیز ہے فوراً کڑی ملانے کے لیے میں نے جواب دی