۲۰ بہترین ترغیبی اشعار

ترغیبی شاعری زندگی کی مشکل گھڑیوں میں ایک سہارے کےطور پرسامنےآتی ہے اوراسے پڑھ کرایک حوصلہ ملتا ہے۔ یہ مشکل گھڑیاں عشق میں ہجرکی بھی ہوسکتی ہیں اورعام زندگی سے متعلق بھی۔ یہ شاعری زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرنے اورایک روشنی دریافت کرلینے کی قوت پیدا کرتی ہے۔

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

جگر مراد آبادی

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

عبد الحمید عدم

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

میر تقی میر

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

اصغر گونڈوی

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

مخدومؔ محی الدین

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

بیدم شاہ وارثی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

علامہ اقبال

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن

پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

ندا فاضلی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

امیر قزلباش

پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر

مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے

اقبال ساجد

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

مرزا غالب

رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ

کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے

عرفانؔ صدیقی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

علامہ اقبال

ترے ماتھے پہ یہ آنچل تو بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

اسرار الحق مجاز

تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

سید صادق حسین

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

منظور ہاشمی

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں

غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

ماہر القادری

Added to your favorites

Removed from your favorites